أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَوَآءٌ مِّنۡكُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَ مَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۢ بِالَّيۡلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ۞

ترجمہ:

تم میں سے کوئی آہستہ سے بات کرتا ہے یا زور سے بولتا ہے، وہ رات کو چھپ جائے یا دن میں چلنے والا ہو اس کے علم میں برابر ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم میں سے کوئی آہستہ بات کرتا ہے یا زور سے بو لتا ہے وہ رات کو چھپ جاے یا دن میں چلنے والا ہو اس کے علم میں برابر ہے۔ (الرعد : 10) 

مشکل الفاظ کے معنی اور آیت سابقہ سے ربط :

مستخف کے معنی ہیں چھپا ہوا اور سارب کے معنی ہیں گلیوں میں پھرنے والا، راستہ میں چلنے والا، یہا یہ مراد ہے جو راستہ میں علانیہ اور کھلم کھلا چلنے والا ہو۔ 

اس پہلی آیت میں فرمایا تھا اللہ تعالیٰ غیب اور شہادت، اور مخفی اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ہے اور اس آیت میں فرمایا خواہ کوئی شخص آہستہ سے بات کرے یا زور سے بو لے، وہ رات کو چھپا ہوا ہو یا دن میں سب کے سامنے اپنے راستہ پر اجا رہا ہو اللہ کے علم میں سب برابر ہے اور اس کی دلیل پہلی آیت میں بیان فرمادی کیونکہ ہو ہر غیب اور ہر شہادت کو جاننے والا ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لوگ کسی بات کو اپنے دلوں میں چھپا لیں یا زبان سے اس کا اظہار کردیں، اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، مجاہد نے کہا کوئی شخص رات کے اندھیرے میں چھپ کر برے کام کرے یا دن کے اجالے میں سب کے سامنے برے کام کرے اللہ تعالیٰ کے علم میں برابر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 10