أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّظِلٰلُهُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ ۩‏ ۞

ترجمہ:

اور جو بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ سب خوشی سے اللہ ہی کے لیے سجدہ کررہے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کو۔ ۞

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو اسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ سب خوشی اور نا خوشی سے اللہ ہی کے لیے سجدہ کر رہے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح شام کو۔ (الرعد : 15) 

سجدہ کا لغوی اور اصلاحی معنی : 

سجدہ کا معنی اور تذلل اختیار کرنا، کسی کے سامنے جھکنا اور عجز کا اظہار کرنا اور عرف میں اللہ کے سامنے تذلل اختیار کرنے اور اللہ کی عبادت کرنے کو سجدہ کہتے ہیں، انسان، حیوانات اور جمادات سب کے لیے سجدہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سجدہ کو دو قسمیں ہیں : ایک سجدہ اختیاری ہے یہ انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی پر ثواپ مر تب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ( النجم : ٦٢) اللہ کے لیے سجدہ کرو اور (اس کی عبادت کرو۔

اور سجدہ کی دوسری قسم ہے اضطراری سجدہ اس کو سجدہ، تسخیر بھی کہتے ہیں جیسے اس آیت میں ہے :

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ( الرحمن : ٦) زمین پر پھیلنے والے پودے اور اپنے تنوں پر کھڑے ہوئے درخت (اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔

یہ سجدہ کا لغوی معنی ہے اور سجدہ کا اصطلاحی معنی ہے زمین پر اپنی پیشانی رکھنا اور اس سے بڑھ کر تذلل اور تواضع متصر نہیں ہے۔ (النہایہ ج 2 ص 309، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ) 

اصطلاحی معنی کے لحاظ سے ہر چیز کا اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونا : 

اس آیت میں سجدہ کا معنی یا لغوی معنی ہوگا یعنی اطاعت اور تواضع اور یا اصطلاحی معنی ہوگا یعنی پیشانی کو زمین پر رکھنا اور اس لحاظ سے آیت کے معددد محمل ہیں :

(1) سجدہ کا معنی اصطلاحی اور اور جو بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اس سے عموم مردانہ ہو بلکہ خصوصا مسلمان مراد ہوں اب اس آیت کا معنی ہے کہ بعض مسلمان فرحت انبساط اور خوشی سے اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں اور بعض مسلمان تنگ دلی یا بو جھل دل اور ناگواری سے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، یعنی ان کا دل تو عیش و آرام، دنیا کی سرنگینیوں یا اور کاموں لگا ہوتا ہے لیکن وہ نہ چاہتے ہوے بھی دوزخ کے عذاب کے ڈر سے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اس کے خلاف بعض لوگ وہ ہیں کہ وہ دنیاوی ذمہ داریوں میں مشغول ہوں پھر بھی ان کا دل نماز میں پڑ ارہتا ہے اور جیسے پرندہ قفس سے کلتے ہی اپنی طبعی خوشی سے فضا میں پرواز کراتا ہے اور بھی موقع ملتے ہی خوشی سے اپنے رب کو سجدہ کرتے ہیں۔ 

(2) سجدہ سے مراد اصطلاحی معنی ہو اور جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اس سے عموم مرادو ہو تو پھر اس آیت پر یہ اشکال ہوگا کہ فرشتے اور جنات اور انسانوں میں سے مومن تو اللہ کو سجدہ کرتے ہیں لیکن کافر اللہ کو سجدہ نہیں کرتے اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ جو بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے لیے سجدہ کریں اور اس اشکال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اس تقدیر پر سجدہ سے مراد ہے تعظی، اور اللہ کا اعتراف یعنی جو بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ خوشی یا نا خوشی سے اللہ کی بندگی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے رب ہونے کو مانتے ہیں اور کافر بھی اسی کو خا لق مانتے ہیں قرآن مجید میں ہے : 

وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ( لقمان : ٢٥) اگر آپ ان سے سوال کریں آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔ 

لغوی معنی کے لحاظ سے ہر چیز کا اللہ کی بار گاہ میں سجدہ ریز ہونا :

اور اگر سجدہ سے مراد لغوی معنی ہے یعنی اطاعت اور تذلل تو کائینات کی ہر چیز اللہ کے لیے مسخر ہے، سورج، چاند اور ستاروں کا طلوع اور غروب، سیاروں کی گردش، پہاڑوں کا جمود، دریاؤں اور سمندروں کی ردانی، غرض کائنات کی ہر چیز جو کچھ کر رہی ہے وہ سب اللہ کے بنائے ہوے نظام کے تابع ہو کر کر رہی ہے، انسان کے نبض کی رفتار، دل کی دھڑکن، اعضاء انہضام کی کار گردی یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے مطا بق کام کر ہے ہیں، آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطا عت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ ( البقرہ : ١١٦) بلکہ سب اسی کی ملکیت ہے، آومانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اس کے اطاعت گزار ہیں۔ 

وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ ( آل عمران : ٨٣) آسمانوں اور زمینوں میں سب اطاعت سے اس کے سامنے گردن جھکائے ہوئے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : طوعاوکر ھا یعنی خوشی اور نا خوشی سے کیونکہ بعض کام انسان خوشی کرتا ہے اور بعض کام نا خوشی سے کرتا ہے مثلا حکومت انسان خوشی سے کرتا ہے اور معمولی ملازمت نا خوشی سے کرتا ہے، کوئی خوشی سے عبا دت کرتا ہے کوئی ناخو شی سے عبادت کرتا ہے۔ 

سایوں کے سجدہ کرنے کی تو جیہ :

اور فرمایا ان کے س آئے بھی صبح اور شام کو۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ہر شخص خو اہ مومن ہو یا کافر اس کا سایہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے زجاج نے کہا کافر خود تو غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اس کا سایہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے اور ابن الانباری نے کہا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سایوں میں عقل وفہم پیدا کردی ہو اور وہ خصوع اور خشوع سے اللہ کو سجدہ کریں، جیسے بعض پتھر اللہ کے خوف سے ٹوٹ کر گرپڑتے ہیں اور کاء نات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتی ہے اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ سایہ ایک جانب سے دوسری جگہ میلان کرتا ہے اور سورج کے بلند ہونے اور نیچے ہونے کی وجہ سے س آئے لمبے اور چھوٹے ہوتے رہتے ہیں تو ان کا ایک جانب مڑنا، اور ان کی مقدار کا کم اور زیادہ ہونا ہی ان کا سجدہ کرنا ہے اور صبح شام کے وقت کی تخصیص اس لیے فرمائی ہے کہ ان دو وقتوں میں سایوں کا بڑا اور چھوٹا ہونا نمایا نظر آتا ہے۔ 

سجدہ کی فضیلت کے متعلق احادیث : 

قرآن مجید میں پہلا سجدہ تلاوت سورت الاعراف کے آخر میں ہے، سجدہ تلاوت کی تعداد اور اس کے حکم کے متعلق مذاہب فقہاء نے ہم نے وہاں بیان کر دء یے ہیں، یہاں ہم سجدہ کرنے کی فضیلت میں احادیث پیش کر رہے ہیں : 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بندہ اپنے رب کے ساتھ سب سے زیادہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کر رہا ہو پس تم (سجدہ میں) بہت دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :482، سنن ابو داؤدرقم الحدیث :875، سنن النسائی رقم الحدیث : 837) 

اس حدیث کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ( العلق : ١٩) اور سجدہ کر اور (ہم سے) قریب ہوجا۔ 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا مجھے وہ عمل بتاء یے جس سے اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے یا میں نے عرض کیا مجھے وہ عمل بتاء یے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کے لیے کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ تم جب اللہ کے لیے سجدہ کرو گے تو اللہ اس سجدہ کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :488، سنن الترمذی ررقم الحدیث :379، 388، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1423، سنن النسائی رقم الحدیث :1138 مسند احمد ابن خزیمہ رقم الحدیث :316, صحیح ابن حبان رقم الحدیث :1735 سنن کبری للبیہق ج 1 ص 485 شرح السنہ رقم الحدیث :388) 

حضرت ربیعہ (رض) بیان کرتے ہیں میں ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا میں آپ کے وضو اور طہارت کے لیے پانی لایا۔ آپ نے فرمایا : سوال کرو، میں نے عرض کیا میں آپ سے جنت میں آپ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا اور کسی چیز کا ؟ میں نے عرض کیا مجھے یہ کافی ہے۔ آپ نے فرمایا پھر کثرت سے سجدہ کر کے اپنے نفس کے اوپر میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :489 سنن ابوداؤدرقم الحدیث :1320، سنن النسائی رقم الحدیث :1137) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ابن آدم سجدہ تلاوت کی آیت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ جاکر رو تا ہے اور کہتا ہے آئے میرا عذاب ! ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا سو اس کو جنت مل ملے گی، اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کی سو مجھے دوزخ ملے گی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :18 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1052، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :549، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2759، شرح السنہ رقم الحدیث :653) 

حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک طویل حدیث مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اعضاء سجود کے جلانے کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ حرام کردیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 806، صحیح مسلم رقم الحدیث :182، سنن النسائی رقم الحدیث :1140 سننابن ماجہ رقم الحدیث :4326، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 11488، مسند احمد قرم الحدیث :7703، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :20856) 

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ کا جو حال اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ بندہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھے اور اس کا چہرہ مٹی میں لتھڑا ہو ہوا ( المعجم الاوسط رقم الحدیث :6072، ج 7 ص 44، مطبوعہ مکتب المعارف ریاض، 1415 ھ) 

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں افلح نامی ہمارا ایک غلام تھام جب وہ سجدہ کرتا تو مٹی کو پھونک ماکر کراڑاتا، آپ نے فرمایا : اے افلح ! اپنے چہرے کو خاک آلودہ کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :318، مسند احمد ج 6، ص 301، مسند ابو یعلی رقم الحدیث :6954، صحء ح ابن حبان رقم الحدیث : المعجم الکبیررقم الحدیچ :742، ، سنن کبری للبیہقیج 2 ص 252)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 15