أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہیں سنو ! اللہ کے ذکر سے ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہیں، سنو ! اللہ کے ذکر سے ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد : 28) 

اللہ کے ذکر سے دلوں کے مطمئن ہونے اور خوف ہونے کے درمیان تطبیق : 

اس آیت کا معنی ہے جن لوگوں کو اللہ ہدایت دیتا ہے ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہیں یعنی وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس آیات میں غور و فکر کرتے ہیں اور اپنی بصیرت سے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کو پہچان لیتے ہیں۔

مجاہد نے کہا وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں، اور اس کے حکم میں قیامت تک کے کامل مومن داخل ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سورت الانفال میں تو یہ فرمایا ہے کہ اللہ کے ذکر سے مومنوں کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں : 

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال : 2) وہی لوگ مومنوں ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجائیں۔ 

پس سورة الرعد میں فرمایا ہے اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور سورت الانفال میں فرمایا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دل خوف زدہ ہوتے ہیں اور یہ کھلا ہو تعارض ہے اس تعارض کو حسب ذیل وجوہ سے دور کیا گیا ہے : 

(1) وہ جب قرآن مجید میں سزا کی وعید کی آیات پڑھتے ہیں تو ان کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں اور جب وہ اجر وثواب کے عدہ کی آیات پڑھتے ہیں تو ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں۔

(2) جب وہ اپنے ایمان کی کفیت پر غور کرتے ہیں تو ان کا دل مطمئن ہوتا ہے اور جب وہ اپنی عبادات کی کیفیت پر غور کرتے ہیں تو ان کا دل خوف زدہ ہوتا ہے کہ ان کی عبادات کامل نہیں ہوں گی اور ان میں نقص ہوگا۔ 

(3) جب وہ اللہ تعالیٰ کی صفات رحمت میں غور کرتے ہیں تو ان کا دل مطمئن ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی صفات قہر وغضب میں غور کرتے ہیں تو ان کا دل خوف زدہ ہوتا ہے۔ 

(4) جب وہ اپنے گناہوں پر غور کرتے ہیں تو دل خوف زدہ ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت پر غور کرتے ہیں تو دل مطمئن ہوتا ہے۔ 

مطمئن دلوں کے مصداق : 

امام ابو الشیخ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے پو چھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ ( جن کے دل مطمئن ہیں) صحا بہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے اس کے رسول سے اور میر اصحاب سے محبت رکھیں۔ 

امام ابن مردویہ نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے، اس کے رسول سے اور میرے اہل بیت سے سچی محبت رکھتے ہیں۔ (الدرالمنشور ج 4 ص 642، مطبو عہ دارالفکر بیروت، 1414 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 28