أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَمۡحُوۡا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُ ‌ۖ ‌ۚ وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ‏ ۞

ترجمہ:

اللہ جس چیز کو چاہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ جس چیز کو چاہے متا دیتا ہے اور (اور جس چیز کو چاہے) ثابت رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔۔ (الرعد :39) 

محو اور اثبات میں متعدد اقوال : 

اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہے متا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھتا ہے اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(1) حضرت عمر، حضرت ابن مسعود (رض) اور ابو وائل، ضحاک اور ابن جریج نے کہا یہ آیت رزق، اجل سعادت اور شقاوت میں عام ہے۔ 

(2) حضرت ابن عباس (رض) ، سعید بن جبیر، قتادہ، قرطبی اور ابن زید نے کہا اس آیت سے مراد ناسخ اور منسوخ ہے اور آیت کو چاہتا ثابت رکھتا ہے۔۔ ابن قتیبہ نے کہا اللہ تعالیٰ جس آیت کو چاہتا ہے منسوخ کردیتا ہے اور جس آیت کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور وہ آیت محکوم ہوتی ہیں۔

(3) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سو روایت کیا ہے کہ شقاوت، سعادت اور موت اور حیات کے سوا اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے : 

حضرت حذیفہ بن اسید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نطفہ چالیس دن کے بعد رحم میں مستقر ہوجا تا ہے تو اس پر فرشتہ داخل ہوتا ہے اور پوچھتا ہے اے رب ! یہ شقی ہے یا سعید ہے، پھر اس کو لکھ دیتا ہے، پھر پوچھتا ہے اے رب ! یہ مذکر ہے یا مونث ؟ پھر اس کو لکھ دیتا ہے۔ اس کا عمل، اس کی مدت حیات اور اس کا رزق لکھ دیتا ہے پھر صحیفہ لپیٹ دیاجا تا ہے، اس میں کوئی زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2644) 

(4) مجاہد نے کہا شقاوت اور سعادت کے سوا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے۔ 

(5) حسن نے کہا جس کی موت آئے اس کو مٹا دیتا ہے اور جس کی موت نہ آئے اس کو ثابت رکھتا ہے۔ 

(6) سعید بن جبیر نے کہا اپنے بندوں میں سے جس کے گناہ چاہے مٹا دیتا ہے اور اس کو بخش دیتا ہے، اور جس کو چاہے اس کے گناہ ثابت رکھتا ہے اور اس کو نہیں بخشتا۔ 

(7) عکرمہ نے کہا جس کو چاہتا ہے اس کے گناہ تو بہ سے مٹا دیتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں ثابت کردیتا ہے۔ 

(8) ضحاک اور صالح نے کہا کہ فرشتوں کے صحیفوں یا نو شتوں سے ان کا موں کو ‏مٹا دیتا ہے جن میں ثواب ہے نہ عتاب اور ان کی جگہ ان کاموں کا ثابت جن میں ثواب یا تعاب ہے اور ابن السائب نے کہا ہر بات لکھی جاتی ہے حتی کہ کہ جب جمعرات کا دن آتا ہے تو ان کا موں کو مٹا دیا جاتا ہے جن میں ثواب ہے نہ عتاب ہے، جیسے کھانا پینا، آنا جانا وغیرہ اور ان کاموں کو ثابت رکھا جاتا ہے جن میں ثواب اور تعاب ہو۔ (زادالمسیر ج 4 ص 338، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ) 

امام ابو جعفر محدم بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

عبداللہ بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعو یہ کہتے تھے اے اللہ ! اگر تو نے مجھے نیک لوگوں میں لکھا ہوا ہے تو میرا نام نیک لوگوں میں ثابت رکھ کیونکہ تو جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور تیرے پاس ام الکتاب ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 15535) 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب رات میں تین ساعتیں رہ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ام لکتا کو کھولتا ہے، پہلی ساعت میں اس کتاب کی طرف فرماتا ہے جس کو اس کے سوا اور کوئی دیکھ سکتا، پس وہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے، پرھ آپ نے باقی دو ساعتوں کا ذکر فرمایا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :155448) 

قضاء معلق اور قضاے مبرم : 

اس آیت کی علماء نے ایک اور تقریر کی ہے اور وہ یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں : ای تقدیر معلق ہے اور ایک تقدیر مبرم ہے۔ تقدیر معلق میں محو اور اثبات ہوتا رہتا ہے اور تقدیر مبرم اللہ تعالیٰ کے علم سے عبادت ہے، اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا، مثلا ایک شخص کی قسمت میں اولاد نہیں ہے اور تقدیر معلق ہے لیکن کسی مرد خدا کی دعا سے اس کے لیے اولاد مقدر کردی جاتی ہے، پہلے اس کی قسمت میں لاولد لکھا تھا، اگر کسی مرد خدا نے دعا کردی تو لاولد کو مٹاکر صاحب اولاد لکھ دیاجا تا ہے اور اگر کسی نے دعا نہیں کی تو وہ لاولد اسی طرح ثابت رہتا ہے اور یہ تقدیر معلق ہے جس کی طرف یمحوا اللہ ما یشدویثبت میں اشارہ ہے، اور تقدیر مبرم کا مرتبہ جس کی طرف عندہ ام لکتاب سے اشارہ ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ وہ لاولد یا صاحب اولاد ہے اور ان کے علم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسی طرح انسان اگر ماں باپ رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرے تو اس کی عمر بڑھ جاتی ہے یا اسکے رزق میں وسعت ہوجاتی ہے اور اگر ان کے ساتھ نیکی نہ کرے تو پھر عمر میں یا رزق میں اضافہ نہیں ہوتا مثلا اس کی عمر پچاس سال لکھی ہوئی ہے اس نے رشتہ دارو‏ں کے ساتھ نیکی کی تو پچاس سے مٹاکر اس کی عمر ساٹھ سال لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ ان کے ساتھ نیکی نہ کرے تو اس کی عمر اسی طرح پچاس سال لکھی رہتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ان کے ساتھ نیکی کرنی ہے یا نہیں کرنی اور انجام کار اس کی عمر پچاس سال ہوگی یا ساٹھ سال اور ام الکتاب میں اس کی وہ عمر کھی ہوئی ہوتی ہے، اور یہی تقدیر مبرم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ حسب ذیل احادیث او تقریر پر دلالت کرتی ہیں : 

رزق میں وسعت اور عمر میں اضافہ کے متعلق احادیث : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو اس سے خوشی ہو کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے یا اس کی عمر میں اضافہ کی جائے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے مل جل کر رہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5985، صحیح مسلم رقم الحدیث :2557، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :1693، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11429) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کر رے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے خاندان اور ان رشتہ داروں کو جانو جن سے تم مل جل کر رہو کیونکہ رشتہ داروں سے ملنے کے سبب اہل محبت بڑھتی ہے مال میں زیادتی ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1979، مسند احمدج 2 ص 374، المستدرک ج 4 ص 161) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا جس شخص کو نرمی اور ملامت سے اس کا حصہ دیا گیا، اس کو دنیا اور آخرت کی خیر سے حصہ دیا گیا۔ رشتہ داروں سے ملن اور بڑوسیوں سے حسن سلوک کرنا گھروں کو آباد رکھتا ہے اور عمروں میں اضافہ کرتا ہے۔ (مسند احمد ج 6 ص 159، مسند احمد رقم الحدیث : 25773، عالم الکتب، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث :1523) 

امام حاکم اور امام بزار کی رعایت میں اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس سے بری موت دور ہوتی ہے۔ 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صدقہ کرنے اور رشتہ داروں سے میل جول رکھنے کے سبب اللہ تعالیٰ عمر میں اضافہ کر ات ہے اور اس سے بری موت دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے باپسند یدہ او وخطر ناک چیزوں کو دور کرتا ہے۔ (مسدن ابو یعلی رقم الحدیث س :4104، مجمع الزوائد ج 8 ص 151 ۔ المطالب العالیہ رقم الحدیث :875) 

ان احادیث کا قرآن مجید سے تعارض : 

ان احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صلہ رحم سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ احادیث قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہیں : 

لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ ( یونس : ٤٩) ہر گروہ کا ایک وقت مقرر ہے، جب ان کا وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک ساعت موخر ہو سکیں گے اور نہ ایک ساعت مقدم ہو سکیں گے۔ 

ان احادیث کے قرآن مجید سے تعارض کے جوابات : 

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت میں جس عمر کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور قضاء مبرم ہے، اس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی اور ان احآدیث میں جس عمر کے اضافہ کا ذکر ہے یہ عمر قضاے معلق ہیں مثلا اگر کسی نے صلہ رحم کیا اس کی عمر سو سال ہے اور اگر قطع رحم کیا تو اس کی عمر ساٹھ سال ہے پس اگر اس نے صلہ رحم کرلیا تو اس کی عمر ساٹھ سال کو مٹاکر سو سال لکھ دی جائے گی اگر قطع رحم کیا تو اس کی عمر ساٹھ سال لکھی رہے گی لیکن اللہ تعالیٰ کو قطعی طور پر علم ہوتا ہے کہ اس نے صلہ رح‏ کرنا ہے یا قطع رحم کرنا ہے اور اس کی عمر سو سال ہے یا ساٹھ سال اور اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ 

قرآن مجید کی اس آیت اور ان احادیث میں اس طرح بھی تطبیق دی گئی ہے، عمر میں اضافہ سے مراد عمر میں برکت اور عبادت کو توفیق ہے جیسا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گزشتہ امتوں کے مقابلہ میں اپنی امت کی عمر کم دیکھیں تو آپ کو لیلتہ القدر دے دی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ صلہ رح‏ سے عبادت کی توفیق ملے گی اور انسان گنا ہوں سے محفوظ رہے گا اور اس کے مرنے کے بعد دنیا میں اس کا نیکی اور اچھائی کے ساتھ ذکر کیا جائے گا، وہ علمی اور رفا ہے کام کرے گا جس سے قیامت تک فائدہ اٹھا یا جاتا رہے گا کیونکہ اس کا نام نیکی کے ساتھ زندہ رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 39