أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَـمَّا قُضِىَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَـقِّ وَوَعَدْتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ‌ؕ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِىۡ‌ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِىۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ‌ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِىَّ‌ ؕ اِنِّىۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَكۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ‌ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

جب حشر کی کاروائی پوری ہوگئی تو شیطان نے کہا نے بیشک اللہ نے تم سے جو وعدہ کی تھا وہ برحق وعدہ تھا، اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھا سو میں نے اس کے خلاف کیا، اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہیں تھا سو اس کے کہ میں نے تم کو گناہ کی دعوت دی پس تم نے میری دعوت قبول کرلی سو تم مجھ پر ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو تم نے مجھے جو اللہ کا شریک بنایا تھا میں پہلے ہی اس کا انکار کرچکا ہوں بیشک ظالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب حشر کی کاروائی پوری ہوگئی تو شیطانے کہا بیشک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ برحق وعدہ تھا اور میں نے جو تم سے ودعدہ کیا تھا سو میں اس کے خلاف کیا اور میرر تم پر کوئی غلبہ نہیں تھا سو اس کے سوا کے کہ میں نے تم کو گناہ کی دعوت دی پس تم نے میری دعوت قبول کرلی سو تم مجھ کو ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو نہ میں تمہاری فریادرسی کرنے والا ہوں اور نہ تم میری فریادرسی کرنے والے ہو تم نے مجھے جو اللہ کا شریک بنایا تھا میں پہلے ہی اس کا انکار کرچکا ہوں بیشک ظالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے۔ (ابراھیم : 22) 

مستقبل میں ہونے والے مکالمے کو ماضی کے ساتھ تعبیر کرنے کی توجیہ : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس منا ظر کا ذکر فرمایا تھا جو کافر سرداروں اور ان کے پیروکاروں کے درمیان ہوگا اور اس آیت میں اس مناظرہ کا ذکر فرمایا ہے جو شیطان اور عام انسانوں کے درمیان ہوگا۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے جب حساب کتاب ہوچکا ہوگا تو شیطانے کہا الخ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ابھی قیامت آئی ہے کہ حشر کا میدان قائم ہوا ہے اور شیطان کا انسانوں کو ساتھ یہ مکالمہ تو قیامت کے بعد ہوگا، تو بظاہر یوں فرمانا چاہیے تھا جب حساب کتاب ہوچکے گا تو شیطاب لوگوں سے کہے گا اس کا جواب یہ ہے کہماضی کا صیغہ کسی چیز کے تحقق وقوع پر دلالت کرتا ہے اس لیے جو چیزیں مستقبل میں یقینی اور حتمی طور پر ہونی ہو اس کو ماض کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں تاکہ ماضی کا صیغہ اس کے تحقق وقوع پر دلالت کرے دسراجواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے واقع ہونے کی خبر دی ہے اس کا وقوع صادق اور برحق ہے اور گویا کہ وہ چیز واقع ہوچکی ہے اس کی نظیر یہ ہے : 

وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ (الاعراف :50) اور ددزخ والوں نے جنت والوں کو آواز دی۔ 

حالانکہ یہ واقعہ حساب کتاب بلکہ جنت اور دوزخ میں دخول کے بعد ہوگا اور اسی طرح اس سے پہلی آیت میں تھا : 

وَبَرَزُوا لِلَّهِ (ابراھیم : 21) اور سب لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوئے۔ 

حالانکہ سب لوگ قیامت کے بعد حشر کے دن اللہ کے سامنے پیش ہو گے لیکن چونکہ سب لوگوں کا اللہ کے سامنے پیش ہونا یقینی امر ہے اس لیے اس کے تحقق وقوع پر متفبہ کرنے کے لیے اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر فرمایا۔ 

لما قضی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لماقضی الامرجب کام پورا ہوگیا اس کی تفسیر میں مفسرین کے کئی قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اور درزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے اس وقت شیطان دوزخ میں کھراہوکر دوزخیوں سے خطاب کرے گا دوسرا قول یہ ہے کہ جب حساب کتاب ختم ہوگیا اور پہلا قول زیادہ بہتر ہے اس لیے کہ محشر میں لوگوں کا آخری معاملہ یہ ہوگا کہ نیکو کار جنت میں پہنچ جائیں گے اور کفار دوزخ میں پہنچ جائیں اس کے بعد ہر ایک اپنی اپنی جگہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، تیسراقول یہ ہے کہ اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ ایمان والوں سے جن لوگوں نے گناہ کبیرہ کیے اور وہ بغیر توبہ کے مرگئے اور ان کو شفاعت نصیب نہیں ہوئ نہ وہ خصوصی فضل محض سے ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور اس وقت حشر کی تمام کاروائی پوری ہوجائے گی تمام مومنین جنت میں پہنچ جائیں اور تمام کفار درزخ میں ہو گے اس وقت شیطان دوزخیوں سے کہے گا۔ 

شیطان سے مراد ابلیس ہونا : 

ہر چند کہ شیطا کا لفظ کے تمام افراد کو شامل ہے لیکن اس آیت میں شیطان سے مراد ابلیس ہے۔ 

امام ابن جریر متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں یہ قیامت کے ابلیس کا قول ہے وہ کہے گا کہ نہ تم مجھے نفع پہنچاسکتے ہو نہ میں تمہیں نفع پہنچا سکتا ہوں اور تم نے اس سے پہلے جو مجھے شریک بنایا تھا اور میری عبادت کی تھی میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ (جا مع البیان رقم الحدیث 15644، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اولین آخرین کو جمع فرمائے گا اور ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور ان فیصلہ سے فارغ ہوجائے، تو مومنین کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوچکا ہے پس ہمارے رب کے پاس ہماری شفاعت کون کر گا ؟ چلو حضرت آدم کے پاس چلیں وہ ہمارے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور ان سے کلام کیا پس وہ حضرت آدم کے پاس جاکر ان سے کلام کریں گے اور ان سے شفاعت کی درخواست کریں گے وہ کہیں گے تم نوح کے پاس جاؤ وہ حضرت نوح کے پاس جائیں گے وہ ان کی حضرت ابراھیم کی طرف رہنمائی کریں گے وہ حضرت ابراھیم کے پاس جائیں گے وہ ان کی حضرت موسیٰ کی طرف رہمنائی کریں گے وہ کہیں گے میں نبی امی کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں پھر وہ میرے پاس آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ مجھے کھڑے ہونے کا اجازت دے گا اور وہ مجلس اتنی پاکیزہ خوشبو سے معطر ہوجائے گی کہ اس سے پہلے کسی نے ایسی خوشبو نہ سونگھی ہوگی۔ پھر میں اپنے تبارک وتعالی کے سامنے حاضر ہوں گا پس اللہ میری شفاعت قبول فرمائے گا اور میرے سر کے بالوں سے لے کر پیر کے ناخنوں تک کو منور کر دے گا پھر کفار کہیں گے کہ مومنوں نے تو اپنی شفاعت کرنے والوں کا پالیا ہمارے لیے شفاعت کون کرے گا پھر وہ کہیں گے وہ ابلیس کے سو اور کون ہوسکتا ہے جس نے ہیں گمراہ کیا تھا، پھر وہ اس کے پاس جاکر ہیں گے مومنوں نے تو اپنے شفاعت کرنے والے کو پالیا، اب اٹھوں تم ہماری شفاعت کرو۔ کیونکہ تم نے ہمیں گمراہ کیا تھا اوہ اٹھ کر کھڑا ہوگا تو اس مجلس میں اتنی سخت بدبوپھیل جائے گی کہ ایسی بدبو کسی نے کبھی نہ سونگھی ہوگی پھر وہ ان کو جہنم میں لائے گا اور اس وقت کہے گا بیشک اللہ نے تم سے جو عدہ کیا تھا وہ برحق تھا اور میں نے تم سے عدہ کیا تھا میں نے اس کے خلاف کیا۔ (المعجم الکبیر ج 17 ص 321، 220، رقم الحدیث :887، جامع البیان رقم الحدیث 1564، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :1225 الجامع لاحکام القرآن جز 9 ص 311، التذکرہ ج 381، تفسیر ابن کثیرج 2 ص 585، روح لمعانی جز 13 ص 301) 

اللہ کا وعدہ اور ابلیس کا وعدہ : 

ابلیس نے کہا اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا وہ وعدہ برحق تھا یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں اور بر کاموں سے بچنے والوں اور نیک کاموں کے کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کافروں اور بدکاروں کو آخرت میں عذاب دے گا اور ان کو دوزخ داخل فرمائے گا اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ سچاکر دیا اور مومنین اور نیک عمل کرنے والے جنت میں دخل ہوگئے اوکافر اور بدکار دوزخ میں داخل ہوگئے اور میں نے جو وعدہ کیا تھا کہ نہ قیامت قائم ہوگی نہ لوگ مر کر دوبارہ زندہ ہوں گے نہ حشر ہوگا نہ حساب و کتاب ہوگا نہ جنت ہوگی نہ دوزخ ہوگی سو میرا وعدہ جھوٹاہو گیا کیونکہ وہ تمام امور واقع ہوگئے جن کی میں تکذیب کی تھی۔ 

شیطان نے جو سلطان کی نفی کی اس کے دو محمل : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان کا یہ قول نقل فرمایا : اور میری تم پر کوئی سلطان نہ تھی سوا اس کے کہ میں نے تم کو گناہ دعوت دی پس تم نے میری دعوت قبول کرلی سو تم مجھ ملامت نہ کرو اور انے آپ کو ملامت کرو۔

سلطان کے دو معنی ہیں : ایک معنی ہے حجت اور دلیل اور دوسرا معنی ہے تسلط اور غلبہ یعنی زبر دستی اور جبر سے کسی سے کوئی کام کرادینا اگر شیطان کی سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہو تو اس کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ میرا کام تو تم کو صرف دعوت دینا اور وسوسہ ڈالنا تھا تم اللہ تعال کے دلائل سن چکے اور انبیاء (علیہم السلام) کے آنے کا مشاہدہ کرچکے تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کے صدق اور ان کے برحق ہونے پر معجزات کا مشاہدہ کرچکے تھے تم پر اللہ تعال کی نازل کی ہوئی کتابوں کی تلاوت بھی کی گئی تھی تو تم پر واجب تھا کہ تم میری باتوں کے دھو کے میں نہ آتے اور میری دعوت اور میرے وسوسہ کی طرف توجہ نہ کرتے اور جب کہ تم نے ان مضبوط اور قوی دلال کے مقابلہ میں میری باتوں کو ترجیح دی تو پھر تم ملامت کے لا ئق ہو تم دیکھ رہے تھے کہ میرے وسوسوں اور میری باتوں پر کوئی حجت اور برہان نہ تھی میں بغیر کسی دلیل کے تم کو شرک اور کفر پر اکسایا اور گناہوں پر برانگیختہ کی اور تم نے میری بےدلیل باتوں کو مان لیا اور انبیاء (علیہم السلام) نے براہین اور دلائل کے ساتھ جو کہا تھا اس کو مسترد کردیا تو پھر تم ہی لا ئق مذمت ہو نہ کہ میں !

اور اگر سلطان کا معنی تسلط اور غلبہ ہو یعنی ایسی طاقت جس کے ذریعہ زبردستی کسی سے کوئی کام کرایا جاسکے تو مطلب ہوگا میں تم کو بلا تا تھا اور تمہارے دلوں میں وسوسہ ڈالتا تھا تم نے اپنی خوشی سے میرے وسوسوں کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور انبیاء (علیہم السلام) کے پیغامات کو مسترد کردیا میں نے جبرا اور زبردستی تم سے یہ کام نہیں کر ائے کیونکہ مجھے تم پر کوئی تسلط اور غلبہ حاصل نہیں تھا تم نے اپنی خوشی سے میرے کہنے پر عمل کیا ہے لہذا اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔

برے کاموں کے ارتکاب پر شیطان کے بجائے خود مطعوں کیا جائے : 

جب آدمی کسی کام کو کرتا ہے یا کسی کام کو ترک کرتا ہے تو اس سے پہلے چند امور ضروری ہیں۔ کسی کام کو کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اس کام کا تصور اور علم ہو پھر اس کام کو کرنے یا اس چیز کو حاصل کرنے کا شوق ہو پھر وہ اس کام کو کرنے کا پختہ ارادہ کرے اس کے بعد وہ اس کام کو کر گزرتا ہے اور کسی کام کو ترک کرنے کے لیے بھی پہلے اس کام کا تصور ضروری ہے پھر اس کو یہ علم ہے کہ اس کام میں فلاں نقصان یا فلاں خطرہ ہے پھر وہ اس کام کو ترک کرنے کا پختہ ارادہ کرے اور اس کے بعد وہ اس کام کو ترک کردے گا۔ 

اس کی مثال یہ ہے کہ شیطان انسان کے ذہن میں یہ خیال ڈالے کہ فلاں جگہ آسانی سے چوری کی جاسکتی ہے پھر اس کو چوری کی طرف راغب کرے کہ اس کے پاس اپنی ضروت کے لیے پیسے نہیں ہیں اس کی جا ئز آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اگر اس چوری سے مال حاصل کرلیا تو اس کی فلاں فلاں ضروریات پوری ہوجائیں گی اور بہت آسائیشیں حاصل ہوجائیں گی جس کا مال چرانا ہے اسے کیا فرق پرے گا وہ تو بہت امیر آدمی ہے کوئی جرم اسی وقت جرم کہلاتا ہے جب وہ ظاہر ہوجائے اور جو کام ظاہر نہ ہو اس کو کون جرم کہے گا وہاں چوری کرنے کے ایسے مواقع ہیں کہ کسی کو پتا نہیں چل سکتا ایسا موقع زندگی میں باربار نہیں آتا۔ شیطان اس قسم کی ترغیب انسان کے ذہن میں ڈالتارہتا ہے حتی کہ کہ کچھ پس وپیش کے بعد انسان وہاں چوری کرنے کا پختہ ارادہ کرلیتا ہے اور جب عزم صمیم کر لیتا ہے تو اللہ تعال اس میں وہ فعل پیدا کردیتا ہے اسی طرح جو انسان مثلا حج کرنے کے لیے جانا چاہتا ہے شیطان اس کو سفر کے خطرات سے ڈراتا ہوائی حادثات ہوتے رہتے ہیں بالفرض سلامتی سے پہنچ بھی گیا تو منی میں اور طواف اور سعی میں انسان رش کے اندر کچلا جاتا ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا کیا فائدہ اور کون سا اس سال ہی حج کرنا ضروری ہے ابھی تو زندگی پری ہے پھر کسی سال حج کو چلے جانا۔ اس طرح کے خطرات اس کے ذہن میں ڈالتا ہے اور حج کے لیے جانے والے انسان کو حج سے روک دیتا ہے غرض یہ کہ وہ برائی کی ترغیبات اس کے ذہن میں ڈال کر انسان کو برائی کے کام پر آمادہ کرتا ہے اور انسان اس کے بہکانے میں ا جاتا ہے اور نیک کام کے خلاف خطرات اور خدشات ذہم میں ڈالتا ہے حتی کہ انسان نیک کام کرنے سے رک جاتا ہے اور ان امور میں شیطان کا صرف اتنا دخل ہوتا ہے کہ وہ صرف برے کام کرنے یا نیک کام کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہے باقی کام تو انسان خود کرتا ہے، پس ظاہر ہوگیا کہ شیطان اصلی تو خود انسان کا نفس ہے کیونکہ اگر انسان کا برائی کی طرف میلان اور رحجان نہ ہوتا تو شیطان کے وسوسوں سے کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ 

شیطان کے وسوسہ کی کیفیت : 

باقی رہا یہ امر کہ شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی کیا کیفیت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام رازی نے کہا ہے کہ ملائکہ اور شیاطین اجسام کثیفہ نہیں ہے بلکہ ان کے اجسام کا لطیفہ ہونا ضروری ہے اور اللہ سبحانہ نے ان کی عجیب و غریب ترکیب کی ہے اور جسم لطیف ہونے کہ باوجود جسم کثیف میں نفوذکر جاتے ہیں جسیا کہ انسان کی روح جسم لطیف اور وہ انسان کے بدن میں سرایت کر جارتی ہے اسی طرح آگ کو ئلہ میں نفوذک رجاتی ہے اور بتوں اور پھولوں کا پانی اور پھولوں میں سرایت کرجاتا ہے اور پستہ اور بادام اور تلوں کا تیل پستہ اور بادام اور تلوں میں سرایت کیا ہوا ہے اسی طرح شیطان انسان کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے اور وسوسے ڈالتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج 7 ص 88 ۔ 78، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ) 

شیطان انسان کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطان انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہوں میں سرایت کرجاتا ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ وہ تمہاے دلوں میں کوئی چیز ڈال دے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2038، سنن ابوداؤد رقم الحدیث سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 24770، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1779) 

انسان کے اعضاء پر جنات کے تصرف کی نفی : 

شیطان جو آخرت میں یہ کہے گا کہ میرا تم پر کوئی تسلط نہیں تھا میرا کام تو صرف تم کو برے کاموں پر راغب کرنا اور ان کی دعوت دیتا تھا اس سے امام رازی اور علامہ ابو لحیان اندلسی نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ عوام میں جو مشہور ہے کہ انسان پر جب مرگی کا دروہ پڑتا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوجاتے ہیں تو یہ انسان کے جسم پر جنات کا تصرف ہوتا ہے سو یہ بالکل بےاصل اور باطل بات ہے۔ (تفسیر کبیرج 7 ص 85، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بہروت 1415 ھ البحر المحیط ج 6 ص 428، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1412 ھ) 

علامہ آلوسی کا یہ نظریہ ہے کہ جنات انسان کے اغضاء پر تصرف کرتے ہیں اور جب کسی انسان پر جن چڑھ جاتا ہے تو اس کی زبان سے جن بولتا ہے اور اس کے ہاتھ پیروں میں جن کا تصرف ہوتا ہے وہ اس آیت کا یہ جواب دیتے ہیں کہ شیطان نے مطلقا تسلط کی نفی نہیں کہ بلکہ اس نے اس کے اعضاء پر جو جن تصرف کرتا ہے اس کی اس آیت میں نفی ہے۔ (روحلمعانی جز 13، ص 303، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ) 

علامہ آلوسی کا یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے وماکان لی علیکم من سلطان اور اس آیت میں نکرہ حیز نفی میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں مفید عموم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا تم پر کسی قسم کا تسلط اور تصرف نہیں ہے لہذا عوام الناس میں جو یہ مشہور ہے کہ جن انسان کے اعضاء پر قابض ہو کر تصرف کرتے ہیں انسان کی زبان سے جن بولتا ہے اور اس کے ہاتھ پیروں سے جن تصرت کرتا ہے یہ صحیح نہیں ہے اور اس پر قوی دلیل یہ ہے کہ اگر یہی امر جا ئز ہوتا تو ایک آدمی کسی کو قتل کردیتا اور بعد میں یہ کہتا اس میں نے قتل نہیں کیا جن نے قتل کیا ہے تو قانونا اور شرعا اس سے قصاص لینا جا ئز نہ ہوتا، حالا ن کہ قانوں میں اس کی گنجائش ہے نہ شریعت میں اس کی گنجائش ہے پس واضح ہوگیا کہ انسان کے اعضاء پر جنات کے تصرف کرنے کا قول صحیح نہیں ہے۔ 

صرخ کا معنی : 

قرآن مجید میں ہے : میں تمہارا مصرخ نہیں ہوں اور تم میرے مصرخ نہیں ہو، یہ لفظ صرخ سے بنا ہے یہ لغت اضداد سے ہے اس کا معنی چیخ کر فریاد کرنا بھی ہے اور فریاد کو پہنچنا بھی ہے اس آیت معنی ہے نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو اس کے بعد اس نے کہا تم نے مجھے عبادت میں اللہ تعالیٰ کا جو شریک بنایا تھا میں اسکا انکار کرتا ہوں اس کا معنی یہ ہے کہ شیطان کے پیروں کا رجو یہ اعتقاد رکھتے ہیں تھے کہ اس جہان کے بنانے اور اسکے چلانے میں شیطان اللہ کا شریک ہے اس نے کہا میں اس کا انکار کرتا ہوں یا معنی یہ ہے کہ لوگ نیک کامو‏ں میں اللہ کی اطاعت کرتے تھے اور برے کاموں میں شیطان کی اطاعت کرتے تھے شیطان نے کہا میں اس کا انکار کرتا ہوں کیونکہ اطاعت کے لائق اور اطاعت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 22