أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡ‌ ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الۡـفُلۡكَ لِتَجۡرِىَ فِى الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ‌ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الۡاَنۡهٰرَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے تمہارے رزق کے لیے پھلوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا تاکہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلیں اور تمہارے لیے دریاؤں کو مسخر کیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کی پیدا کیا اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے تمہارے رزق کے لیے پھلوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کیا جو مسلسل گردش کررہے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کر مسخر کیا۔ اور تمہاری مانگی ہوئی چیزوں میں سے تم کو بہت کچھ عنایت کیا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمارنہ کرسکو گے بیشک انسان بہت ظالم بہت ناسپاس ہے۔ (ابراھیم : 32، 34) 

مشکل الفاظ کے معانی : 

السموات : یہ سماء کی جمع ہے ہمیں آسمان کی حقیقت معلوم نہیں ہے ہر وہ چیز جو دوسری کی بہ نسبت بلند ہو اور جو کسی چیز کے لیے بمنزلہ سائبان ہو اس کو اہل عرب سماء کہتے ہیں۔ بارش کو سماء کہتے ہیں کیونکہ وہ بلندی سے نازل ہوتی ہے آسمان کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ ایک جسم کروی ہے جو تمام روئے زمین کو محیط ہے یہ نیلگوں سطح جو ہمیں نظر اتی ہے اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ ہوا کثیف کا ایک طبقہ ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی جانتا ہے کہ آسمانوں کی کیا حقیقت ہے۔ 

رزقالکم : ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق نفع حاصل کرے وہ رزق ہے خواہ وہ کھانے پینے کی چیز ہو یا پہننے کی۔ 

سخر : تسخیر کا معنی ہے کسی چیز کی مخصوص غرض کو اس چیز کے اختیار کے بغیر جبرا پورا کرنا جو چیز تابع کردی گئی ہو وہ مسخر ہے مخلوق کے لیے کسی چیز کے مسخر کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس چیز سے فوائد کو حصول کو مخلوق کے لیے آسان کردیا گیا۔ 

الفلک : اس کا معنی ہے کشتی یا جہاز واحد اور جمع دونوں کے لیے الفلک استعمال ہوتا ہے۔ 

وسخر لکم الانھار : تمہارے لیے دریاؤں میں تصرف کرنے کو اور دریاؤں سے فوائد کے حصول کو آسان بنادیا ہے اور دریاؤں کو تمہارے تصرف کے لیے تیار کردیا ہے۔ 

دائبین : داب کا معنی ہے کسی چیز کا ہمیشہ ایک حالت میں رہنا یہاں مراد یہ ہے کہ سورج اور چاند ہمیشہ ایک حالت پر حرکت کرتے رہتے ہیں یا ہمیشہ گردش کرتے رہتے ہیں۔ 

وسخر لکم اللیل والنھار : یعنی تمہارے منافع اور فوائد کے حصول کے لیے رات اور دن کے باری باری آنے کو جاری کردیا رات کو تمہاری نیند اور آرام کے لیے بنادیا اور دن کو تمہارے لیے کام کاج اور تلاش روزگار کے لیے اور سامان زیست کو فراہم کرنے کے لیے۔ 

واتاکم من کل ماسالتموہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ انسان کا ہر سوال تو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا نہیں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انسان کی ہر ضرورت اور مصلحت کو اللہ تعالیٰ نے پورا کردیا خواہ اس نے سوال کیا ہو یا نہ نیز اس کا معنی ہے تم نے زبان حال سے جو بھی سوال کی اوہ تمہیں عطاکر دیا، یعنی زندگی گزارنے کے لیے تمہاری ضرورت کی جتنی چیزیں تھیں وہ سب تم کو فراہم کردیں، تمہیں دن میں روشنی چاہیے تھی وہ تم کو مہیا کی، تمہاری فصلوں کو بارش کی ضرورت تھی سو آسمان سے بارش نازل کی تمہیں آلات اور مشینیں بنانے کے لیے لوہے، پیتل اور تانبے وغیرہ کی ضرورت تھی تو زمین میں معدنیات رکھے تمہیں ایندھن کی ضرورت تھی تو جنگلات اگائے، زمین میں پتھر کا کو ئلہ رکھا قدرتی گیس اور تیل رکھا، روئی کو پیدا کیا تاکہ تم اس سے پنا لباس بنا سکو، تمہاری غذائی ضروریات کے لیے اناج اور پھلوں کا پیدا کیا اور تمہارے علاج کے لیے جڑیں بوٹیوں کو پیدا کیا۔ 

اس آیت کا یہ معنی بھی ہے کہ تم نے زبان قال سے جو مانگا وہ بھی عطا کیا اور زبان حال سے جو مانگا وہ بھی تم کو عطا کیا اور اس آیت کا یہ بھی معنی ہے کہ تم جو سوال کیا وہ بھی تم عطا کیا اور جن کا تم نے سوال نہیں کیا لیکن وہ چیزیں تمہاری ضرویات اور تمہاری مصلحتوں سے متعلق تھیں وہ بھی تم کو عطا کردیں باقی رہا یہ کہ بعض دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان حضور قلب سے دعا نہیں کرتایا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کہ وہ معصیت کی دعا کرتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جس چیز کی وہ دعا کررہا ہے وہ انجام کار اس کے لیے مضر ہے یا وہ جلدی کررہا ہے یا اس دعا کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کو کوئی بہتر چیز عطا فرمائے گا یا اس سے کوئی مصیبت ٹال دے گا یا اگر وہ صبر کرے گا تو اس کو آخرت میں اجر عطا فرمائے گا۔ 

ان الا نسان الظلوم کفار : یعنی کافرکفر کرکے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے اپنے نفس پر بہت ظلم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے اور ناشکری کرتا ہے۔ 

اللہ کی غیرمتناہی نعمتیں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کروتو شمار نہ کرسکوگے۔ 

انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا لامحدود اور لامتناہی سلسلہ ہے، دیکھئے جب ہم ایک لقمہ اٹھاکر اپنے منہ میں رکھتے ہیں تو اس لقمہ کے بنانے سے پہلے اور اس لقمہ کو بناننے کے بعد نعمتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے لقمہ بنانے سے پہلے کی نعمتوں کی تفصیل یہ ہے کہ یہ لقمہ ہم روٹی اور سالن سے بناتے ہیں روٹی گندم کے آٹے سے بنتی ہے اور سالن سبزی اور گوشت سے تیار ہوتا ہے اور گوشت جن جانوروں کا ہوتا ہے وہ بھی گھاس کھاکر نشونما پاتے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ روٹی اور سالن کا حصول زمین کی زرعی پیداوار پر موقوف ہے اور زمین کی پیداوار زمین اور آسمان پر موقوف ہے کیونکہ اناج اور سبزیوں کی تیاری کے لیے سورج کی حرارت کی ضرورت ہے اس میں ذائقہ کے لیے چاند کی کرنوں کی ضرورت ہے ہواؤں کی ضروت ہے بادلوں اور بارشوں کی ضرورت ہے دریاؤں اور سمندروں کی ضرورت ہے کیونکہ سمندر دریا بارشیں اور ہوائیں اور سبزیوں کی روئیدگی اس ایک لقمہ میں یہ سب چیزیں اپنا اپنا رول ادا کررہی ہیں ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو فصلوں سے زرعی پیداوار حاصل نہیں ہوسکتی، پھر گندم کو پیس نے کے لیے اور سالن پکانے کے لیے لوہے کی مشینوں، تانبے کے برتنوں اور یندھن کی ضرورت ہے تو اللہ نے زمین میں تانبے پیتل اور لوہے کے معدنیات رکھے اور ایندھن کے حصول کے لیے زمین میں کو ئلہ رکھا، قدرتی گیس اور تیل پیدا کیا جنگلات میں درخت اگائے غور کیجیے اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو ہم ایک لقمہ بنا نہیں سکتے یہ تو وہ نعمتیں ہیں جن کا تعلق لقمہ کو منہ میں رکھنے سے پہلے ہے۔ پھر جب لقمہ کو منہ میں رکھا تو اس لقمہ سے لذت اندوزی کے لیے زبان میں ذئقہ کی حس پیدا کی زبان میں ایک لعاب پیدا کیا جو لقمہ کو ہضم کرنے میں معاون ہوتا ہے دانت بنائے جن سے ہم لقمہ کو جباتے ہیں پھر اس لقمہ کق حلق سے اتارنے کے بعد ہمارا اختیاری عمل ختم ہوجاتا ہے اب اس لقمے کو ہضم کرنے کے لیے ہمارے جو اعضاء کام کرتے ہیں معدہ اس لقمہ کو پیستا ہے، جگر اس سے خون بناتا ہے اسکا فضلہ انتڑیوں اور مثانہ میں چلا جاتا ہے، ہمارے تمام جسم اور جسمانی اعضاء کی نشونما اسی لقمہ سے ہوتی ہے آنکھ، ناک، کان ہاتھ اور پیر سن کو اسی غذاحاصل ہوتی ہے ہمیں کچھ بتا نہیں ہوتا اور ہمارے سارے اعضاء پروان چڑھتے رہتے ہیں اسی سے چربی بنتی ہے اسی سے گوشت بنتا ہے اسی سے ہڈیاں بنتی ہیں اسی سے خون بنتا ہے۔ سبحان وہ ذات جس نے ایک لقمہ سے رنگا رنگ چیزیں بنادیں ہم لقمہ کھاکر اٹھ جاتے ہیں اور انہیں سوچتے کہ اس لقمہ کے دامن سے غیر متناہی نعمتیں لپٹی ہوئی ہیں۔ ہم اس کی نعمتو‏ کو گن سکتے ہیں نہ ان کا شکر ادا کرسکتے ہیں۔ لقہ تو بڑی چیز ہے ہم تو ایک سانس لینے کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتے اللہ تعالیٰ نے فضا میں ہواؤں کو سمندررواں دواں کیے ہوئے ہیں اگر وہ یہ ہوا پیدا نا کرتا تو ہم کیسے سانس لے سکتے تھے سانس لینے کے لیے منہ ناک اور پھپھڑے بنائے یہ سب اعضاء نہ ہوتے تو ہم کیسے سانس لیتے ہم مکان بناکر ان میں رہتے ہیں، گرمی سردی اور بارش سے محفوظ رہتے ہیں مکان بنانے کے لیے جس سامان اور جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ کس نے پیدا کی ہیں اور اس میں کتنی چیزو‏ں کارول ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ درختوں کو نہ پیدا کرتا، لوہے کو نہ پیدا کرتا بجری چونے اور پتھروں کو نہ پیدا کرتا وہ ذرائع پیدانہ کرتا جن سے بجلی حاصل ہوتی ہے اور مشینیں بنتی ہیں تو مکان کیسے بنتا یہی حال لباس کا ہے کتنی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا جن کے نتیجہ میں لباس حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں جو چھت کا سایہ میسر ہے ہم نے جو لباس پہنا ہوا ہے اور ہم جو کھانا کھاتے ہیں ان سب کے ساتھ غیر متناہی نعمتیں وابستہ ہیں۔ اگر ہم کسی ایک چیز کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو نہیں گن سکتے ان کا شکر ادا کرنا تو بہت دور کی بات ہے ! 

بندوں کی جفا کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی وفا : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے بیشک انسان بہت ظالم بہت ناسپاس ہے اور سورة نحل میں فرمایا ہے : 

وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ ( النحل : ١٨) اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک اللہ ضرور بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سورة ابراھیم میں اس سے پہلے کفار کی بداعمالیوں کا ذکر ہورہا ہے کہ کافر اللہ تعال کی نا شکری کرتا ہے اور شرک کرتا ہے اس کے مناسب یہ تھا کہ یہاں فرمایا انسان بہت ظالم ہے اور سب سے بڑاظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس لیے یہاں نعمتوں کے بعد ظلم کا ذکر فرمایا جس سے مراد شرک ہے اور سورة جحل کی اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا کیا فضیلتیں عطا فرمائی ہیں سو ان ہی فضیلتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحمت سے متصف ہو تاکہ انسان مغفرت اور رحمت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتایا کہ جب میں نے تجھے بیشمار نعمتیں عطا کیں تو اس کے نتیجہ میں تجھ سے دو صفتیں ظاہر ہوئیں اور میری دو صفتوں کا ظہور ہوا، تیری جودو صفتیں ظاہر ہوئیں وہ یہ ہیں کہ تو نے میری نعمتیں حاصل کرکے میری نافرمانی کرکے اپنی جان پر ظلم کیا اور ان نعمتوں کا کفر ان کیا یعنی ان کی ناشکری کی اس لیے سورة ابراھیم میں انسان کی ان دو صفتوں کا ذکر فرمایا اور ان غیر متناہی نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جن دو صفتوں کا ظہور ہوا وہ یہ ہیں کہ وہ بہت بخشنے والا اور بےحد رحم فرمانے والا ہے اور سورة النحل میں اپنی ان سو صفتوں کا ذکر فرمایا ہے اور اس مقصود یہ ہے کہ گو یا اللہ فرماتا ہے اے انسان ! میں نے تجھے لاتعداد نعمتیں عطافر مائیں، تو پھر بھی ظلم کرتا ہے اور نافرمانی کرتا ہے اور میں معاف کردیتا ہوں اور بخش دیتا ہوں اور تو نے ان نعمتوں کی نہ شکری کرتا ہے اور میں تجھ پر رحم کرتا ہوں تو اپنے عجز اور کوتاہیوں کو دیکھ میں تیری کوتاہیوں کے مقابلہ میں فیاض سے کام لیتا ہوں اور تیری جفا کا صلہ وفا سے دیتا ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 32