أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبِّ اجۡعَلۡنِىۡ مُقِيۡمَ الصَّلٰوةِ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ‌‌ ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ‏ ۞

ترجمہ:

اے میرے رب ! مجھے ہمیشہ نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری بعض اولاد کو بھی، اے ہمارے رب ! اور میری دعا قبول فرما۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (حضرت ابراھیم نے دعا کی) اے ہمارے رب ! مجھے (ہمیشہ) نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری بعض اولاد کو بھی اے ہمارے رب ! اور میری دعاقبول فرما۔ اے ہمارے رب ! میری مغفرت فرما ! اور میرے والدین کی اور سب مومنوں کی جس دن حساب ہوگا۔ (اربراھیم :40، 41) 

امن اور سلامتی کا ایمان اور اسلام پر مقدم ہونا : 

سابقہ آیت اور ان آیتوں میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر ہے ان آیتوں میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) اپنے رب سے ساتھ دعائیں کی ہیں ان کی تفصیل حسب ذیل ہے :

(1) پہلی دعا کی کہ اے میرے رب ! اس شہر کو امن والا بنادے ! اور امن کا حاصل ہونا سب سے بڑی نعمت ہے ایمان بھی تب ہی سلامت رہ سکتا ہے جب شہر میں امن ہو جان، مال اور عزت محفوظ ہو دیکھیے جب اندلس میں امن نہ رہا اور مسلمانوں کی جانیں عیسائی حکمرانوں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں تو کتنے مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور کتنے مسلمانوں کو جبرا عیسائی بنادیا گیا اذن، نماز باجماعت اور دیگر اسلامی شعائر اسی وقت قائم کیے جاسکتے ہیں جب ملک میں مسلمانوں کو امن حاصل ہو بھارت میں کتنے مسلمانوں شدھی کردیا گیا وہاں گائے کی قربانی نہیں کی جاسکتی مسلمان بچوں کو ہندی اسکولوں میں بند ماترم کا ترانہ پڑھنا پڑتا ہے مسلما نوں کی مساجد محفوظ نہیں ہیں بابری مسجد کو ہندوؤں کا شہید کرنا ابھی دور کا سانحہ نہیں ہے اس لیے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ کہ مسلمانوں کے ملک میں امن قائم ہو صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے لیکن صحت کے حصول کے لیے ہسپتالوں اور ڈاکٹرتک پہنچنا بھی تب ہی ممکن ہے جب ملک میں امن ہو ہمارے شہر کراچی میں لسانی ہنگاموں اور اس کے نتیجہ میں مسلسل کئی کئی دن تک پہیہ جام ہڑتالوں کے نتیجہ میں ایسے واقعات بھی پیس آئے کہ لوگ جاں بلب مریضوں کو فورا ہسپتال نہ پہنچاسکے، کتنی اموات کو بر وقت دفنا یا نہ جاسکا کتنے لوگوں کو سامان خورد ونوش کی ضرورت تھی اور ہڑتالوں کی وجہ سے وہ کھانے پینے کا سامان نہ خرید سکے کئی لوگ روز مرہ دہاڑی پر کام کرتے ہیں اور ان کی خوراتک کا ذریعہ ہے کئہ پردیسی لوگ بےگھر ہیں صرف ہوٹلوں سے کھانا کھاتے ہیں ہوٹل بند ہوجانے سے اور روزی نہ ملنے سے یہ تمام لوگ مصائب کا شکار ہوئے اور یہ سب ہڑتالوں کا نتیجہ ہے پھر السانی اور فرقہ ورانہ فسادات میں کتنے یتیم ہوجاتے ہیں یعنی گھروں میں ایک ہی شخص سب کا کفیل ہوتا ہے وہ فساد ات میں مارا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پورا گھر مصائب کا شکار ہوجاتا ہے غرض بدامنی سے دین کا بھی نقصان ہوتا ہے اور دنیا کا بھی نقصان ہوتا ہے ہنگاموں میں لوگ ڈاکخانے اور بینک جلادیتے ہیں گاڑیا جلا دیتے ہیں ٹریفک سگنل توڑ دیت ہیں کہ کس کا نقصان ہے یہ ہمارا ہی نقصان ہے لیکن صدمہ یہ ہے کہ ہم میں اجتماعی سوچ نہیں رہی ! غرض یہ کہ امن نہ ہونے سے دین اور دنیا دونوں خطرے میں ہیں۔ دین اور دنیا میں کامیابی اسی وقت حاصل ہوگی جب مسلمانوں کے ملک میں امن وامان قائم ہو یہی وجہ ہے کہ جس ملک میں مسلمانوں کی جان اور ان کا ایمان خطرہ میں ہو وہاں کے مسلمانوں پر ہجرت کرنا فرض اور اسی سبب سے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے سات دعائیں کیں ہر دعا اپنی جگہ لیکن انہوں نے ملک میں سلامتی اور امن کے حصول کو سب پر مقدم کیا اور فرمایا اے میر رب ! اس شہر کو امن والا بنادے ! 

ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی چاند دیکھ کر دعا کی تو امن اور سلامتی کا ذکر ایمان اور اسلام سے پہلے کیا طلحہ بن عبید اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند دیکھ کر دعا کی : 

اللھم اھلہ علینا بالا والا یمان والسلامتہ والا سلام ربی وربک اللہ : اے اللہ ! ہمیں اس چاند میں امن اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ رکھ میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ (عمل الیوم واللیلہ لابن سنی رقم الحدیث :64، المستدرک ج 41 ص 285 سنن الدارمی رقم الحدیث :1687، سنن الترمذی رقم الحدیث :3451 مسند احمد ج 1 ص 162، مسند احمد رقم الحدیث :1397، شرح السنہ رقم الحدیث :1335، امام ترمذی امام احمد اور امام احمد امام بغوی کی روایت میں امن کی جگہ یمن کا لفظ ہے۔ ) 

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی بقیہ دعاؤں کی تشریح :

(2) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی دوسری دعایہ مانگی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے بیٹوں کو توحید پر قائم رکھے اور بت پرستی سے محفوظ رکھے۔ 

) 3 (حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی تیسری دعا اپنی امت کے گناہ کبیرہ کے مرتکبین کے لیے تھے آپ نے ان کے لیے مغفرت طلب کی اور یہ گناہ گاروں کے لیے سفاعت ہے۔ 

(4) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی چوتھی دعا اپنے اولاد کو یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو بےآب وگیاہ وادی میں یعنی تیرے حرمت والے گھر کے نزدیک ٹھرادیا ہے۔ اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو کچھ لوگوں کو ایسا کردے کہ وہ ان کی طرف مائل رہیں اور ان کو پھلوں سے روزی دے تاکہ وہ شکرا داکریں اور بےآب وگیاہ کہنے میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ اس زمین کو سرسبز و شاداب کردے۔ 

(5) پانچویں دعایہ تھی کہ اللہ ان کو اور ان کی اولاد کی حوادث اور مصائب سے محفوط رکھے کیونکہ تیرے بتائے بغیر ہمیں مستقبل میں پیش آنے والی آفتوں کا اور غیب کی باتوں کا علم نہیں ہے اس لیے انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! بیشک تو ان باتوں کو جانتا ہے جن کو ہم چھپاتے ہیں اور جن کو ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں۔ 

) 6 ( چھٹی دعا یہ تھی کہ اے اللہ ! ہماری ان دعاؤں کو قبول فرما اس میں یہ تعلیم ہے کہ بندہ اپنی دعائیں کرنے کے بعد آخر میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ اللہ ان سب دعاؤں کو قبول فرمائے۔ 

نبی معصوم کی دعاء مغفرت کے محامل :

(7) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے مغفرت کی دعا کی حالانکہ وہ معصوم ہیں اور نبی اء (علیہم السلام) جب اپنے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو اس سے مراد ترقی درجات ہوتی ہے یا انبیاء (علیہم السلام) مغفرت کی دعا کر کے اپنی تواضع اور انکساری کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے کوئی مستغنی نہیں ہے اور جب انبیاء (علیہم السلام) بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کر رہے ہیں تو عام لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے کی کتنی احتیاج ہے اور یا یہ استغفار اس لیے کرے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا پورا شکر ادا نہیں کرسکے کیونکہ اس کی نعمتیں غیر متناہی اور ان کا شکر متناہی ہے اور وہ اس کی عبادت کا حق نہیں ادا کرسکے اور یا یہ استغفار کرتے ہیں حالانکہ وہ کام ان کی حق میں فرض کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ امت کو تعلیم دینا اور کسی مکرو وہ کام کا جو از بیان کرنا فرائض نبوت سے ہے اور یا استغفار کی وجہ یہ ہے کہ ابرار نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک خطاء کے حکم میں ہوتی ہیں اور یا ان کا استغفار اجتہادی خطا پر ہوتا ہے ہرچند کہ وہ اجتہادی خطا پر قائم نہیں رہتے اور ان کو اس پرد ثواب ملتا ہے۔ 

(8) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کی اور اس میں ہم کو دعا کا طریقہ بتایا ہے کہ سب سے پہلے اپنے لیے دعا کرنی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو کہ میں سب سے زیادہ اللہ کی مغفرت کا محتاج ہوں اور اگر وہ صرف دوسروں کے لیے دعا کرے اور اپنے لیےء دعا نہ کرے تو اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ اہ پنے آپ کو دعا سے مستغنی سمجھتا ہے اور اگر وہ دوسروں کے لیے دعا کرے اور اپنے لیے دعا کرے تو اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ وہ دوسری کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ سے دعا کا کم محتاج ہے۔ 

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے والدین کے مومن ہونے پر دلائل :

(9) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کے لیے جو دعا کی ہے اس کی تفسیر میں امام فخرالدین رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے ماں باپ کافر تھے اور کافروں کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں ہے سو اس اعتراض کے متعدد جوابات ہیں، پہلاجواب یہ ہے کہ جس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی اس وقت ان کو یہ علم نہیں تھا کہ کافروں کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ والدین سے ان کی مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواعلیہما السلام ہیں تیسراجواب یہ ہے کہ ان کی دعاء سے مراد تھی بہ شرط اسلام اور بعض مفسرین نے یہ جواب دیا ہے کہ ان کی والدہ مومنہ تھیں صرف باپ کافر تھے اسی وجہ سے قرآن مجدی میں خصوصیات سے باپ کے متعلق یہ آیتیں ہیں۔ 

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (١١٣) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (١١٤ ایمان والوں اور نبی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشریکن کے لیے استغفار کریں، خواہ وہ ان کے رشتہ دارہوں، جب ان پر یہ ظاہر ہوچکا ہو کہ وہ درزخی ہیں۔ اور ابراھیم نے اپنے (عرفی) باپ کے لیے جو استغفار کیا تھا وہ صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے جب ان کو یہ معلوم ہوگا ی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے بیشک ابراھیم بہت نرم دل اور بہت حلم والے تھے۔ (تفسیر کبیرج 7 ص 107 مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ) 

امام رازی بہت بڑے عالم ہیں ہم ان کے شاگردوں کے علوم کو بھی نہیں پہنچتے اور علمی اعتبار سے ہم ان کی گردراہ بھی نہیں ہیں ہم نے اپنی تفسیر میں ان کی تحقیقات اور نکات آفرینی سے بہت استغفار کیا ہے ہمارے دل میں میں ان کی بہت زیادہ توقیر اور تکریم ہے لیکن انبیاء (علیہم السلام) کی تعظیم و تکریم اس سے کہیں زیادہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کے والدین کافر تھے سورة التوبہ کی یہ آیت) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے چچا آزر کے متعلق ہے اور اس آیت میں باپ کا اظلاق چچا پر ہے اور عرب میں یہ معروف ہے ہم یہ نہیں مانتے کہ) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو یہ علم نہیں تھا کہ مشریکن کے لے استغفار کرنا جا ئز نہیں ہے اور سورة توبہ کی اس آیت سے بہر حال آپ کو معلوم ہوگیا تھا کہ مشرکین کے لیے استغفار کرنا جا ئز نہیں ہے اور سورة ابرا ھیم : 41 کی اس آیت میں جو) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے یہ بہت بعد کا واقعہ ہے جب) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیداہو ہوچکے تھے، اس دعا سے پہلے) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور کہا : 

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ( ابراھیم : ٣٩) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑ ھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے بیشک میرا رب ضرور دعا سننے والا ہے۔ 

اور اس کے بعد حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی ہے : 

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ( ابراھیم : ٤١) اے ہمارے رب میری مغفرت فرما اور میرے والدین کی اور سب مومنوں کی جس دن حساب ہوگا۔ 

امام ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ حضرت بن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو آزر کی زندگی میں اس کے ایمان لانے کی امید تھی اس وجہ سے وہ اس کے لیے استغفار کرتے تھے جب آزر مرگیا تو انہوں نے اس کے لیے استغفار نہیں کیا اس بےزار ہوگئے وہ مرگیا اور ایمان نہیں لایا (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث 10060، مکتبہ نزار المصطفی الباز مکہ مکرمہ 1417 ھ) 

آزر نے 205 سال کی عمر پائی اور اس کی وفات شام کے مشہور وقدیم شہر حرا میں ہوئی۔ (عہد نامہ قدیم التکوین باب : 11 آیت :30 دائرلمعارف الا سلامیہ ج 1 ص 115) 

امام ابو سعد متوفی 230 ھ لکھتے ہیں : 

ہشام بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے بابل سے شام کی طرف ہجرت کی وہاں سارہ نے اپنے آپ کو حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے لیے ہبہ کردیا حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے ان سے نکاح کرلیا وہ ان کے ساتھ گئیں اس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر سینتیس سال تھی وہ ان کے ساتھ حران گئے اور ایک طویل عرصہ تک وہاں رہے، پھر وہاں سے اردن چلے گئے اور وہاں بھی ایک طویل عرصہ رہے پھر مصر چلے گئے اور وہاں بھی ایک طویل عرصہ تک رہے پھر شام لوٹ ائے اور وہاں ایلیا اور فلسطین کے درمیان السبح کے علاقہ میں رہے وہاں ایک کنواں کھودا اور مسجد بنائی وہاں کچھ لوگوں نے آپ کو ستایا تو آپ فلسطین اور ایلیا کے درمیان ایک مقام پر چلے گئے وہاں بھی ایک کنوں کھودا اور اقامت کی اللہ نے آپ کو بہت مال اور بہت علام عطا کیے تھے، آپ وہ پہلے شخص ہیں جس نے مہمان نوازی کی اور پہلے شخص ہیں جس نے ثرید (سالن میں روٹی کے ٹکڑے) بنایا اور پہلے شخص ہیں جس نے سفید بال دیکھے۔ (الطبقات الکبری ج 1 ص 39، 40، مطبوعہ دارال کتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ) 

امام محمد بن سعد محمد بن عمر اسلمی سے روایت کرتے ہیں جب حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر نوے سال ہوگئی تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اس کے تیس سال بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ ( الطبقات الکبری ج 1 ص 40، 41، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سارہ کے ساتھ ایک جابر بادشاہ کے ملک میں پہنچے۔ (حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ نے لکھا ہے وہ مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا نام عمروبن امرء القیس بن سبا تھا۔ فتح لباری ج 6 ص 392 اس بادشاہ کو یہ بتایا گیا کہ اس کے ملک میں ایک شخص بہت حسین عورت کے ساتھ داخل ہوا ہے اس نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو بلوایا اور پوچھا یہ عورت کون ہے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا یہ میری بہن ہے پھر آپ سارہ کے پاس گئے اور کہا اے سارہ اس وقت ورئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے اور اس بادشاہ نے مجھ سے تمہارے متعلق پوچھا تو میں نے کہا یہ میری بہن ہے تم میری تکذیب نہ کرنا (یعنی تم میری دینی بہن ہو، حضرت ابراھیم (علیہ السلام) یہ توریہ اس لیے کیا تھا کہ جب ظالم بادشاہ نے سارہ کو بلوایا اور ان کے اپنے ہاتھ سے پکڑنے لگا، تو اس کا ہاتھ شل ہوگیا، اس نے کہا تم اللہ سے میرے لیے دعا کرو میں تم کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا جب حضرت سارہ نے دعا کی تو اس کا ہاتھ ٹھیک ہوگیا اس نے دوبارہ حضرت سارہ کو پکڑا تو دوبارہ اس کا ہاتھ سی طرح شل ہوگیا یا پہلے سے بھی زیادہ، نے اس نے کہا تم اللہ سے میرے لیے دعا کرو میں تم کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا حضرت سارہ نے دعا کی تو پھر اس کو چھوڑ دیا گیا پھر اس نے اپنے بعض کارندوں کو بلایا اور کہا تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو بلکہ ایک جنیہ کو لائے ہو پھر اس نے حضرت سارہ کی خدمت کے لیے ھاجرہ ان کو دی (حضرت ھاجرہ کے والد قبیطیوں کے بادشاہوں میں سے تھے اور وہ مصر کے ایک شہر حفن کی رہنے والی تھیں خلاصہ یہ کہ وہ شہزادی تھیں (فتح الباری ج 6 ص 394، ) حضرت سارہ، حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں وہ اس وقت کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے ہاتھ کے اشارہ سے پوچھا کیا ہوا ؟ حضرت سارہ نے کہا اللہ نے کافر کے مکر کو رد کردیا اور خدمت کے لیے ھاجرہ دے دی، حضرت ابوہریرہ نے کہا یہی (حضرت ھاجر) تمہاری ماں ہیں اے زمزم کے بیٹو ! (صحیح البخاری رقم الحدیث :3358 صحیح مسلم رقم الحدیث : 2371، سنن الترمذی رقم الحدیث : 3166، مسند احمد رقم الحدیث : 9230 عالم لکتب) 

ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ آذر شام کے قدیم شہر حران میں مرگیا تھا اور حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ایک طویل عرصہ حران میں رہنے کے بعد اردن گئے اور اردن میں ایک طویل عرصہ رہنے کے بعد حضرت سارہ کے ساتھ مصر گئے اور مصر میں حضرت ھاجرہ دی گئیں جیسا کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کی شرح فرح الباری کے حوالے سے ہم بیان کرچکے ہیں اور امام ابن سعد نے بھی یہ روایت کیا ہے کہ حضرت ھاجر قبطیہ تھیں اور مصر کے ایک شہر کی رہنے والی تھیں ومصر کے ایک ظالم اور سرکش فرعون کے پاس تھیں جس نے جس نے حضرت سارہ کی عزت پر ہاتھ ڈالنا چاہا تھا۔ اللہ نے اس کو نامراد کیا پھر اس نے حضرت ھاجر کو بلایا اور حضرت سارہ کو بخش دیا۔ (الطبقفات الکبری ج 1 ص 41، مطبوعہ دارلکتب العلمیہ بیروت) 

اور حضرت ھاجر کے بطن سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اس کے تیس سال بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کے بعد حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی : اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب ضرور سننے والا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے ہمیشہ نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری اولاد کو بھی اے ہمارے رب ! اور میری دعا قبول فرما !۔ اے ہمارے رب ! میرے مغفرت فرما اور میرے والدین اور سب مومنوں کی جس دن حساب ہوگا۔ (ابراھیم : 39 ۔ 41) 

اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ آزر کے مرنے کے بعد حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے اس سے بیزار ہونے کے بہت عرصہ گزرنے کے بعد اور کم وپیش پچاس سال گزرنے کے بعد حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کے لیے مغفرت کی ددا کی ہے اور کافروں کے لیے دعا کرنے سے خصوصا آزر کے لیے مغفرت کی دعا کرنے سے آپ کو منع کردیا گیا تھا اور آپ نے اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے تو روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ آپ کے والدین مومن تھے اور آزر آپ کا باپ نہ تھا کیونکہ وہ تو بہت سال پہلے مرچکا تھا اور آپ سے بیزار ہوچکے تھے تو جن والدین کے لیے مغفرت کی یہ دعا کی ہے وہ مومن تھے۔ 

اللہ کا بےپایاں شکر ہے کہ اس نے مجھے اس ترتیب سے باحوالہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے والدین کے ایمان کے ثابت اور بیان کرنے کی توفیق عطاکی۔ (الانعام :74) میں بھی میں نے انبیاء (علیہم السلام) کے والدین کریمین کے ایمان کو تفصیل سے لکھا ہے لیکن ابراھیم : 41 کی یہ تقریر تفصلی اور تحقیق کے اعتبار سے منفرد اور شاید کہ قارین کو یہ تقریر اور کسی کتاب میں نہیں ملے گی۔ 

نماز میں دعامانگنے کے آداب : 

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے جو دعا کی کہ مجھے اور میری اولاد کو ہمیشہ نماز پڑھنے والا بنا اور اے میرے رب ! قیامت کے دن میری مغفرت فرما اور میرے والدین کی اور تمام مومنین کی اکثر اور بیشتر مسلمان اپنی نما ازوں میں یہی دعا کرتے ہیں۔ 

علامہ سید محمد امین عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ حصکفی نے کہا ہے کہ نماز میں اپنے لیے اور اپنے ماں باپ کے لیے اپنے ستاد کے لیے اور مومنوں کے لیے دعا کرے علامہ شامی فرماتے ہیں مومنین کی قید سے کفار سے احتراز کرلیا کیونکہ کافروں کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جا ئز نہیں ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا ہاں اگر وہ زندہ ہوں تو ان کے لیے ہدیت کی اور توفیق کی دعا کرے اور دعا میں مومنین کے ساتھ مومنات کا بھی اضافہ کردے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : 

وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ( محمد : ١٩) اپنے ذنب بظاہر خلاف اولی کاموں اور مومنین اور مومنات کے گناہوں کے لیے مغفرت طلب کیجئے۔ 

اور یہ حدیث میں ہے جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں مومنین اور مومنات کے لیے دعا نہیں کی اس کی نماز ناقص ہے۔ ( معرفتہ التذ کرہ فی الاحادیث الموضہ عہ رقم الحدیث :687، اس کی سند میں عمرو بن محمد بن الا عشم کذاب ہے اور ایک اور حدیث میں ہے حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بندہ کی سب سے زیادہ محبوب دعایہ ہے کہ وہ کہے کہ اے اللہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر بالعموم رحمت فرما۔ (الکامل لابن عدی ج 5 ص 506 دارلکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ تذکرہ الموضوعات لابن قیسر انی رقم الحدیث :691، تاریخ بغداد ج 6 ص 157، کنز العمال رقم الحدیث :3212، الضعفاء للعقیلی ج 2 ص 350 امام ابن عدی نے اس حدیث کو منکر قرادیا ہے) اور ایک روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ میری مغفرت فرما تو آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے اگر تم عام لوگوں کے لیے دعا کرتے تمہاری دعاقبول ہوتی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے دعا کی اے اللہ میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما تو آپ نے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا اپنی دعا میں تعہیم کرو کیونکہ خاص اور عام میں اتنا فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں فرق ہے اور البحر میں الحادی القدسی سے منقول ہے کہ نماز کے قعدہ اخیرہ کی سنتوں میں سے یہ ہے کہ اپنے لیے اپنے والدین کے لیے اپنے اساتذہ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دین اور دنیا کی بھلائی کی دعا کرے اور یوں کہے اللھم اغفر لی ولو الدی واستاذی و جمیع المو منین۔ ہرچند کہ کہ استاذی کا لفظ قرآن مجید میں نہیں ہے، لیکن اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی اور کسی چیز کی دعانہ کرے مثلا یہ دعا کرے کہ مجھے جنت میں انبیاء (علیہم السلام) کا مقام ملے یا یہ دعا کرے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں کبھی بھی کسی قسم کا ضرر لا حق نہ ہو کیونکہ یہ محال عادی ہے انسان کو کچھ نہ کچھ ضرر ضرور لاحق ہوگا اور نہ دعا میں حد سے تجاوز کرے حضرت عبدا للہ (رض) بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے اس کی دائیں جانب سفید رنگ کا محل عطا فرمانا تو حضرت عبداللہ بن مغفل نے کہا اے بیٹے اللہ سے بس جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب اس امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو دعا میں اور وضو میں حد سے تجاوز کریں گے۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6764، مسند احمد ج 4 ص 87، مصنف ابن ابی شیبہ ج 10 ص 288) 

دعاء حرام : 

علامہ حصکفی حنفی متوفی 1088 نے لکھا ہے کہ میں تمام عمر عافیت سے رہوں یا مجھے دین اور دنیا کی تمام بھلائیاں حاصل ہوں اور تمام برائیاں مجھ سے دور ہوں ہوں محال عادی کا سوال کرے مثلا مجھ پر دسترخوان نازل ہو یامحال شرعی کا سوال کرے مثلا کافر کی مغفرت کا سوال کرے تو یہ تمام دعائیں حرام ہیں (علامہ شامی فرماتے ہیں کیونکہ جو شخص کافر کی مغفرت طلب کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی تکذیب طلب کرتا ہے اور اگر یہ دعا کرے کہ اللہ تمام مومنوں کو تمام گناہوں کو معاف کردے تو یہ بھی حرام ہے کیونکہ اس دعا میں ان احادیث صحیہ کی تکذیب ہے جن میں یہ تصریح ہے کہ بعض مومنوں کو دوزخ میں عذان دیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ ان کو شفاعت سے یا محض اپنے فضل سے دوزخ سے نکال لے گا، لیکن کافر کی مغفرت کی دعا کرنا کفر ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تکذیب ہے اور ثانی الذکر دعا کفر نہیں ہے کیونکہ اس میں اخبار آحاد کی تکذیب ہے۔ 

تمام مسلمانوں کی مغفرت کی دعا کرنا آیا خلف وعید کو مستلز ہے ؟ 

تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی مغفرت کا معاملہ ایک مشہور پر مبنی ہے وہ یہ ہے کہ آیا خلف وعید جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے جن گناہ گاروں کو عذاب دینے کی وعی سنائی ہے اللہ تعالیٰ اس کے خلاف کرسکتا ہے یا نہیں اشاعرہ کہتے ہیں کہ خلف وعید جائز ہے کیونکہ سزا کی وعید سناکر سزا نہ دینا جود اور کرم شمار کیا جاتا ہے اور علامہ تفتازانی نے تصریح کی ہے اور اسی طرح علامہ ضفی نے تصریح کی خلف وعید محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

قَالَ لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ (٢٨) مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ (ق :29، 29) اللہ ارشاد فرمائے گا میرے سامنے جھگڑا نہ کرو میں تمہارے پاس پہلے ہی عذاب کی وعید بھیج چکا ہوں۔ اور میری بات تبدیل نہیں ہوتی۔ 

وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ رَبِّكَ كَأَلْفِ (الحج :47) اور اللہ اپنی وعید کے ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ 

حق کے قریب تر یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں خلف وعید جائز ہے اور کفار کے حق میں محال ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا بَعِيدًا (النساء :116) بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک کیا جائے اور اس سے کم گناہوں کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ 

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ کافر اور مشرک کی تو بہر حال بخشش نہیں ہوگی اور مسلمان گناہ گاروں میں سے اللہ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور سی طرح سورت ابراھیم : 41 میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے تمام مسلمانوں کی مغفرت کے لیے دعا کی ہے اور سورت محمد : 19 میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر عمل کرکے یہ دعا کی اے اللہ ! عائشہ کے اگلے اور پچھلے اور ظاہر اور خفی ذنب کو معاف فرمادے اور فرمایا میں یہی دعاہر نماز میں اپنی امت کے لے بھی کرتا ہوں (صحیح ابن حبان رقم الحدیث :7111، مسند البزار رقم الحدیث : 2658، المستدرک ج 4 ص 11، مجمع الزوائد ج 9 ص 243) اور یہ دعان نصص کے خلاف نہیں ہے جن میں مذکور ہے کہ بعض گناہ گار مسلمان دوزخ میں داخل ہوں گے کیونکہ مقصود یہ ہے کہ تمام گناہ گار مسلمانوں کے تمام گناہوں مغفرت جائز اور ممکن ہے نہ اس جزم اور یقین کرنا کہ یہ مغفرت تمام مسلمانوں کو حاصل ہوگئی اور اس دعا کا جواز اس کے وقوع کے جواز اور مکان پر موقوف ہے نہ کہ اس کے وقوع کے جزم اور یقین پر۔ 

علامہ ابی اور نوعی نے یہ کہا ہے کہ اسپر اجماع ہے کہ بعض گناہ گار مسلمانوں میں وعید ضرور نافذ ہوگی اور جب کوئی شخص یہ دعا کرے گا اے اللہ تمام مسلمانوں کی مغفرت کردے تو یہ ایسا ہو جیسے کوئی یہ دعا کرے کہ اے اللہ ہم پر نماز اور روزہ واجب نہ کر یا جیسے کوئی مردہ کافر کے لیے مغفرت کی دعا کردے البتہ اس جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے میں اپنے مسلمانوں بھائیوں کے لیے سفقت کا اظہار کرے گا کہ اے اللہ ہم پر نماز اور روزہ فرض کر تو اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت گریز اور بیزاری کا اظہار ہے لہذا وہ اس دعا سے گناہ گار ہوگا لیکن کافر نہیں ہوگا اور جب مردہ کافروں کے لیے مغفرت کی دعا کرے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں س محبت کا اظہار ہے اور قرآن مجید کا نصوص صریحہ انکار ہے اس لیے یہ کفر ہے اور تمام مومنوں کے لیے دعا کرنا اس طرح نہیں ہے۔ (ردامحتار ج 1 ص 351، 350، ، مطبوعہ داراحیاء الترث العربی بیروت، 1407، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1419 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 40