أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجرت :9)

اللہ تعالیٰ کو واحد اور جمع کے صیغوں کے ساتھ تعبیر کرنے کی تو جیہہ۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے حالان کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے۔ اس کی تو جیہہ میں امام فخرالدین محمد بن عمررازی متوفی 606 ھ فرماتے ہیں :

ہرچند کہ یہ جمع کا صیغہ ہے لیکن بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی عظمت کا اظہار کرنے کے لیے خود کو جمع کے صیغے سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی بات کہتا ہے تو وہ اس یوں کہتا ہے کہ ہم نے یہ کام کیا یا ہم نے یہ بات کہی۔ (تفسیر کبیرج 7 ص 123، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت۔ 1415)

اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے اور اس کی صفات کثیر ہیں۔ جب اس کی تعبیر میں صرف اس کی ذات کا لحاظ ہو تو اس کو واحد کے صغیے کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے اور جب ذات مع صفات ملحوظ ہو تو اس کی جمع کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے اسی طرح تعبیر کرنے والے کے ذہن میں اگر اس کی واحدانیت کا غلبہ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کو واحد کے صیغے کے ساتھ تعبیر کرتا ہے اور اگر اس کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے ادب اور احترام کا غلبہ ہو تو وہ اس کو جمع کے صیغے کو ساتھ تعبیر کرتا ہے یہ دونوں تعبیریں جائز ہیں اور ان کی تعبیر کا مدار تعبیر کرنے والے کی اس وقت کی کیفیت پر ہے۔

اس آیت میں قرآن مجید کی حفاظت مراد ہے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ؟

اس آیت میں لہ کی ضمیر کی مرجع میں دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ ضمیر الذکر کی طرف لوٹتی ہے اس صوسرت میں معنی یہ ہے کہ بیشک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور دوسراقول یہ ضمیر منزل علیہ یعنی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے اب اس طرح ہے کہ بیشک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کرنے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائد : ٦٧) اور اللہ آپ لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ لیکن نظم قرآن کے زیادہ موافق اور اس مقام کے زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ ضمیر الذکر کی طرف راجع ہے یعنی بیشک ہم قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی محافظ ہیں۔

قرآن کی حفاظت کے ظاہر اسباب۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ قرآن مجید کا محافظ ہے تو صحابہ کرام اس کو جمع کرنے اور اس کو مرتب کرنے میں کیوں مشغول ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حفاظت کے ظاہری اسباب مقرر فرمائے تھے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ قرآن مجید کو لکھ کر محفوظ کیا گیا اور اس کی اشاعت کی گئی اور جتنی اس کی اشاعت کی گئی تھی اتنی دنیا کسی کتاب کی اشاعت نہیں گئی اور قرآن مجید کو حفظ کیا گیا اور یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس کو اول سے آخر تک پورا حفظ کیا جاتا ہے اور ہر دور میں میں دنیا میں اس کے بیشمار حافظ ہیں اگر کسی مجلس میں کوئی پڑھنے والا کسی سورت یا کسی آیت سے ایک لفظ کم کردے یا اس میں میں اپنی طرف سے کوئی زیادہ کردے تو اسی مجلس میں لوگ بول اٹھیں گے آپ نے یہ لفظ چھوڑ دیا ہے آپ نے جو لفظ پڑھا ہے وہ قرآن مجید کا لفظ نہیں ہے اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن مجید کا چھاپے اور اس میں کوئی لفظ کم یا زیادہ کر دے یا کسی نقطہ میں کی و پیشی کردے یا کسی زیر زبر میں تغیر کردے تو سینکڑوں آدمی آکر اس غلطی کی نشاندہی کریں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلا مِنْ خَلْفِهِ (٤٢) اس قرآن کے پاس باطل نہیں آسکتا نہ اس کے سامنے سے نہ اس کے پیچھے سے۔

علامہ عبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : ابو لحسن علی بن خلف نے اپنی سند کے ساتھ یحییٰ بن الکثم سے روایت ہے کہ کہ جب مامون رشید حکمران تھا تو اس نے ایک علمی مجلس منعقد کی۔ اس مجلس میں ایک یہودی آیا جس نے عمدہ لباس پہنا ہوا تھا اور بہترین خشبو لگائی ہوئی تھی۔ اس نے بہت نفیس اور ادیبانہ گفتگو کی جب مجلس ختم ہوگئی تو مامون نے اس کو بلاکر پوچھا۔ آیا تم اسرائیلی ہو ؟ اس نے کہا ہاں ! مامون رشید نے کہا تم مسلمان ہوجاؤ، میں تمہیں بہت انعام واکرام دوں گا اور بہت بڑے منصب پر فائز کروں گا۔ اس نے کہا یہ میرا دین ہے اور میرے آباء اجداد کا دین ہے اور یہ کہہ کر چلا گیا پھر ایک سال کے بعد وہ پھر آیا اس وقت وہ مسلمان ہوچکا تھا اس فقہی مسائل پر کلام کیا اور بہت عمدہ بحث کی۔ جب مجلس ختم ہوگئی تو مامون نے اس کو بلاکر پوچھا کیا تم پچھلے سال ہماری مجلس میں نہیں تھے اس کہ کیوں نہیں مامون نے پوچھا پھر تمہارے اسلام لانے کا کیا سبب ہے ؟ اس نے کہا جب میں تمہاری مجلس سے اٹھاتو میں سوچا کہ میں ان مذہب کا امتحان لوں اور آپ نے دیکھا کہ میرا خط (لکھائی) بہت خوبصورت ہے میں پہلے تورات کا قصد کیا اور اس کے تین نسخے لکھے اور اس میں اپنی طرف سے کمی پیشی کردی میں یہودیوں کے معبد میں گیا تو انہوں نے تورات کے ہو نسخے مجھ سے خرید لیے پھر میں انجیل کا قصد کیا، میں نے اس کے بھی تین نسخے لکھے اور ان میں کمی پیشی کردی پھر عیسائیوں کے گرجے میں گیا تو انہوں نے مجھ سے وہ نسخے خرید لیے پھر میں نے قرآن مجید کا قصد کیا میں نے اس کے تین نسخے لکھے اور ان میں کمی پیشی کردی پھر میں ان کو فروخت کرنے کے لیے اسلامی کتب خانہ میں گیا اور ان پر وہ نخ سے پیش کئے انہوں نے ان کو پڑھا اور ان کی تحقیق کی اور جب وہ میری کی ہوئی زیادتی اور کمی پر مطلع ہوئے تو انہوں نے وہ نسخے مجھے واپس کردیئے اور ان کو نہیں خریدا اس سے میں نے یہ جان لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اس میں کوئی تغیر نہیں کیا جاسکتا تو یہ میرے اسلام لانے کا سبب ہے ! یحییٰ بناکثم نے کہا یہ خبر سچی ہے اور قرآن مجید میں اس کی تصدیق ہے انہوں نے کہ اللہ تعالیٰ ن تورات اور انجیل کی حفاظت ان کی علماء کے سپرد کردی ہے فرمایا : إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ (المائد : ٤٤) بیشک ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہے جس کے مطابق انبیاء فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے تابع فرمان تھے ان لوگوں کا (فیصلہ کرتے رہے) جو یہودی تھے اور (اسی کے مطابق) اللہ والے اور علماء (فیصلہ کرتے رہے) کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ یہود اور نصارا کو تورات اور انجیل کا محافظ بنادیا گیا تھا اور قرآن مجید کا محافظ خود اللہ تعالیٰ جیسا کہ اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( الحجر : ٩) بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن جز 10 ص 7 ۔ 6 مطبو عہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) ہمارے پاس تورات کا 1927 کا ایڈیشن ہے۔ اس میں ہے ہزاروں قدسیوں کے ساتھ آیا ص 192 اور موجودہ ایڈیشن میں ہے لاکھوں قدسیوں کے ساتھ آیا۔ ص 184 ۔

محافظ الشئی لنفسہ کا جواب۔

اس آیت پر حضرت پیر مہر علی شاہ قدس سرہ العزیز نے ایک اشکال قائم کیا ہے جس کا مولانا فیض احمد صاحب نے ان کے سوانح میں ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں : ایک مولوی صاحب نے مناظرانہ رنگ میں سوال کیا کہ قرآن مجید فرماتا ہے میں کتب سابقہ کا مصداق ہوں مصدقالما معکم) مگر کتب سابقہ بھی کلام الہی ہیں اور قرآن کریم جس سے تصدیق الشئی لنفسہ کا اشکال لازم آتا ہے۔ حضرت نے فرمایا : قرآن مجید اور کتب سابقہ میں تو زمان ومکان اور لغت اور محل نزول کا اختلاف موجود ہے آپ کے لیے موجب اشکال تو یہ چیز ہونی چاہیے کہ قرآن کی محافظت الہیہ کی مثبت ایک ہی آیت : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( الحجر : ٩) (ہم نے ہی قرآن نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں وراد ہوئی ہے جو اپنی محافظت کی دلیل بھی آپ ہے پس فرائیے آپ کے اعتراض کی روشنی میں اس محافظتہ الشئی لنفسہ کے اشکال کا حل کیا ہوگا ؟ (مہر منیرص 460، مطبوعہ پاکستان انٹر نیشنل پر نٹرز لاہور) میرے خیال میں اس اشکال کا یہ جواب ہے کہ الذکر سے مراد قرآان مجید ہے اور الذکر میں اجمالی طور پر پورا قرآن مجید موجود ہے اور پورے قرآن میں یہ آیت یعنی إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( الحجر : ٩) یہ بھی موجود ہے لہذا یہ آیت تفصیلی طور پر محافظ یا محافظت کی مثبت اور دلیل ہے اور اذکر کے ضمن میں اجمالی طور پر جو یہ آیت ہے وہ محفوظ ہے یعنی پورے قرآن کے ضمن میں جس کی حافظ کی گئی ہے لہذا اجمال اور تفصیل کے فرق کی وجہ سے محافظتہ الشئی لنفسہ لازم نہیں آئی چونکہ وہ شخص حضرت سے مناظرناہ گفتگو کر رہا تھا اسلیے آپ نے خود اس کا جواب نہیں ذکر فرمایا۔

قرآن مجید کی حفاظت کا ظاہر سبب حضرت عمر (رض) ہیں۔

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ قرآن مجید کی حفاظت کا ظاہری سبب اس کا بہت زیادہ چھپنا اور بہت زیادہ حفظ کرنا اور قرآن مجید کو لوگ تراویح میں قرآن مجید سنانے یا سننے میں حفظ کرتے ہیں اور جو لوگ تراویح میں قرآن مجید سننا یا سنانا چھوڑ دیتے ہیں انہیں قران مجید بھول جاتا ہے ہے اور جس فرقے کے لوگ تراویح نہیں بڑھتے ان میں کوئی حافظ قرآن بھی نہیں ہوتا اور قرآن مجید کو مصحف میں لکھ کر محفوظ کرنے کا مشورہ حضرت عمر نے دیا تھا اور تراویح میں قرآن مجید پڑھ کر سنانے کا طریقہ بھی حضرت عمر کی ایجاد ہے اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کا حقیقی محافظ تو اللہ تعالیٰ ہے لیکن اس کی حفاظت کے ظاہر سبب حضرت عمر (رض) ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 9