أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ‌ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ ان کو کھانے میں اور (دنیاوی) فائدہ اٹھاتے ہیں چھوڑ دیں اور ان کہ ان کی امیدوں میں مشغول رہنے دیں یہ عنقریب جان لیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ ان کو کھانے میں اور (دنیاوی) فائدہ اٹھانے میں چھوڑدیں اور ان کی امیدوں میں مشغول رہنے دیں یہ عنقریب جان لیں گے۔ (الحجر : 3)

مشکل الفاظ کے معانی

یلھھم اس کا مادہ لھو ہے لھو کا معنی ہے کسی ایسے غیر کام میں مشغول ہونا جس کی وجہ سے مفید کام ترک ہوجائے۔ قرآن مجید میں ہے : رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ( النور : ٣٧) ایسے مرد جنہیں، تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر اور نماذ قائم کرنے اور زکوت دینے سے غافل نہیں کرتی۔ (مجمع بحارالا نوار ج 1 ص 106، دارالا ایمان المد ینہ المنورہ۔ 1415 ھ)

آیت مذکورہ کا خلاصہ۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ کفار کو ان کے حال پر چھوڑ دیں وہ دنیا کے عیش ونشاط اور زیب وزینت سے جو اپنا حصہ لینا جاہتے ہیں ان کو وہ حصہ لینے دیں انہوں نے دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے لمبی لمبی امیدیں باندھ رکھی ہیں انہیں اس میں مشغول رہنے دیں اور ان کو ایمان لانے اور عبادت کرنے سے غافل رہنے دیں عنقیریب جب وہ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور اپنے کرتوتوں کی سزا بھگتیں گے تو وہ خود جان لیں گے کہ آپ جو کچھ فرماتے تھے وہ صحیح اور حق تھا اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہتے اور کرتے تھے وہ غلط اور باطل تھا،

دنیا میں مشغولیت اور لمبی امیدوں کی مذمت میں احادیث۔

لمبی امید رکھنا نفسیاتی بیماری ہے اور جب بیماری دل میں جگہ پکڑلے تو اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے لمبی امید کی حقیقت دنیا کی محبت اور اس پر اندھے منہ گر جاتا ہے اور آخرت سے اعراض کرنا ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چاراچیزیں بدبختی کی علامت ہیں آنکھوں کا خشک ہوجانا دل کا سخت ہونا لمبی امید رکھنا اور دینا کی حرص کرنا۔ ( مسند البزار رقم الحدیث : 3230، اس کا ایک راوی ہانی بن توکل ضعیف ہے مجمع الزوائد ج 10 ص 226)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس امت کے پہلے لوگوں کی نیکی زہد اور یقین کی وجہ سے تھا اور اس امت کے آخر کی ہلاکت بخل اور امید کی وجہ سے ہوگی۔ المعجم الاوسط رقم الحدیث : 7646، اتحاف السادہ المتقین ج 10 ص 239)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں میں جوان رہتا ہے دنیا کی محبت اور لمبی امید۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6460، صحیح مسلم رقم الحدیث 1046 السنن الکبری رقم الحدیث 13324 مسند احمد رقم الحدیث 10521 عالم الکتب بیروت)

حضرت انس (رض) بیاب کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے اور اس میں دو چیزیں بڑھ جاتی ہیں مال اور لمبی عمر کی محبت۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6421 صحیح مسلم رقم الحدیث :1047 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : 1258 مسند احمد رقم الحدیث : 12166 سنن الترمذی رقم الحدیث : 2339 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4234 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :3229)

امام الولید بنت عمر بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا اے لوگوں ! کیا تم حیا نہیں کرتے ! مسلما نوں نے کہا : یارسول اللہ ! کس چیز سے ؟ آپ نے فرمایا : تم ان چیزوں جمع کرتے ہو جن کو کھا نہیں سکتے اور ان مکانوں کو بناتے ہو جن میں تم نہیں رہو گے اور تم ان چیزوں کی امید رکھتے ہو جن کو تم پا نہیں سکتے کیا تم اس سے حیا نہیں کرتے۔ (المعجم الکبیر ج 5 ص 172، اس کی سند میں وازع بن نافع متروک ہے مجمع الزوائد ج 10 ص 2874)

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دونوں کند ھوں کو پکڑکر فرمایا : دنیا میں اس طرح رہوں جیسے تم مسافر ہو یا راستہ عبور کرنے والے، ارحضرت ابن عمریہ کہتے تھے کے ایام میں ہو عبادت کرلو جو تم بیماری کے ایام میں نہیں کرسکو گے) اور اپنی زندگی سے اپنی موت کا حصہ لو۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : 6416 سنن الترمذی رقم الحدیث :2333 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4114 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :698 مسنداحمد ج 2 ص 41، 24 السنن الکبری للبیہقی ج 3 ص 369)

حضرت عبداللہ بن عمرورض اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے اس وقت میں اور میری ماں دیوار پر مٹی لیپ کر رہے تھے، آپ نے پوچھا اے عبداللہ یہ کیا کر رہے ہو ؟ میں نے کہا یارسول اللہ ! اس دیوار میں دراڑپڑ گئی ہے تو ہم اس کے ٹھیک کر ہے ہیں۔ آپ نے فرمایا معاملہ اس سے زیادہ جلد ہوگا۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث :5236، 5235 سنن الترمذی رقم الحدیث : 2335 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ص 416 حیح ابن حبان رقم الحدیث 2997 ۔ 2996 مسند احمد ج 1 ص 161)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چوکورخط کھینچا اور اس چوکور کے وسط میں ایک خط کھینچا جو اس چوکور سے باہر نکلاہوا تھا اس کے وسط میں چھوٹے چھوٹے خطوط کھنچے جو اس متوسط خط کی جانب تھے۔ پھر فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جس نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے اور یہ خط جو اس چوکور سے باہر نکالا ہوا ہے یہ اس کی امیدیں ہیں اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط اس کو عارضی ہونے والے مصائب ہیں اگر اس مصیبت سے بچ نکلا تو یہ مصیبت اس کو ڈس لے گی اور اگر اس سے بچ نکلا تو یہ مصیبت اس کو ڈس لے گی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھنچے ہوئے

خط کی شکل یہ ہے

AbdullahBinMasoodKhatTibyanulQuran

(صحیح البخاری رقم الحدیث :6117، سنن الترمذی رقم الحدیث :2454، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4231، مسنداحمد، ج 1 ص 385)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خط کھینچا اور فرمایا یہ انسان ہے پھر اس کے پہلوں میں خط کھینچا اور اور فرمایا یہ اس کی موت ہے پھر اس کے پہلوں میں اس سے لمبا خط کھنچا اور فرمایا یہ اس کی امید ہے پھر فرمایا انسان اسی حال میں ہوتا ہے کہ قریب ولی چیز ہے وہ اس کو آملتی ہے۔ (صحیح البخاریرقم الحدیث :6418)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ابن آدم ہے اور یہ اس موت ہے آپ اپناہاتھ اپنی گدی پر رکھا پھر اس کو پھیلادیا اور فرمایا اس کی امید ہے اور پھر اس کی امید ہے (سنن الترمذی رقم الحدیث :2334، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 2998، مسند احمد ج 3 ص 123، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4232، المعجم الکبیر الاوسط رقم الحدیث 4092)

انسان اپنی زند گی میں لمبی لمبی امیدیں رکھتا ہے اور طویل منصوبے بناتا ہے میں یہ کام کروں گا پھر یہ کام کروں گا پھر یہ کام کروں گا تجارت سفر ملازمت بچوں کی تعلیم پھر ان کی شادی بیاہ اس کے پروگرام کا یک تسلسل ہوتا ہے اور اس کو پتا نہیں ہوتا کہ کب اچانک موت آجائے گی اور اس کے سارے منصوبے اور تمام کام پروگرام دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

مستقبل سے امیدیں وابستہ کرنے کے جواز اور عدم جو از کا محمل۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ منشاء نہیں ہے کہ انسان مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ نہ بنائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا حدیبیہ میں ان شرائط پر صلح کی تھی کہ مسلمان اس سال واپس چلے جائیں، اگلے سال آئیں اور صرف تین دن قیام کرکے چلے جائیں اس طرح کی اور بھی شرائط تھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زرہ گروی رکھ کر طعام خریدا۔ آپ نے مختلف علاقوں میں وفود اور مکاتب بھیجے دشمن کے علاقوں میں جاسوس روانہ کیے جہاد کے لیے لشکرکو بھیجا۔ آپ نے جب غزوہ موتہ کی طرف لشکر روانہ کی تو اس کا امیر حضرت زید بن حارثہ کو بنایا اور فرمایا اگر وہ شیہید ہوجائیں تو لشکر پھر حضرت جعفر بن ابی طالب کو امیر بنالینا اور اگر وہ شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنالینا جب فتوحات کی کثرت ہوئی اور مسلمانوں میں خو شحالی آگئی تو آپ ازواج مطہرات میں سے رہ ایک کو سال کی خوراک مہیا فرمادیتے اور ایسی بہت مثالیں ہے۔ قرآن، مجید میں ہے کہ جب تم مدت معین کرکے ادھار خریدو فروخت کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مستقبل کے لیے پس اندازہ کرنا اور منصوبے بنانا اور امیدیں رکھنا اسلام میں مطلقا ممنوع نہیں ہے۔ ممنوع صرف یہ چیز ہے کہ انسان صرف دنیا کمانے اور دنیاوی زیب وزینت سے بہرہ اندوز ہونے میں مشغول رہے اور آخرت کی طرف اس کی کوئی توجہ نہ ہو اور جب انسان کا مقصد صرف آخرت ہو اور وہ دنیاوی امور کی صرف اخروی کامیابی کے حصول کا وسیلہ گردانے اور اخروی ثواب کو حاصل کرنے کے لیے دنیاکو حاصل کرے۔ اس منصوبے بنائے اور اس کی امیدیں رکھے تو یہ نہ صرف جا ئز ہے بلکہ مستحسن اور کار ثواب ہے۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں میں نماز میں بھی لشکر کی صفیں ترتیب دیتا ہوں حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) مالدار تھے لیکن وہ اپنے مال کو دین کے لیے خرچ کرتے تھے سو اگر کوئی شخص مال کمانے کے لیے تجارتی منصوبے بنائے اور اس میں کامیابی کی امید رکھے لیکن اس مال کو وہ دین کے لیے خرچ نہ کرنا چاہتا ہو یا کوئی شخص اعلی تعلیم حاصل کرے اور اس منصوبہ یہ ہو کہ اسے کوئی اچھی ملازمت مل جائے بیرون ملک کوئی عمدہ جاب مل جائے اور وہ اس آمدنی کی وجہ سے لوگوں کا دوست نگران رہے، اور اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کی کفالت کرسکے تو اس کا یہ منصوبہ اور یہ نیت بھی کار ثواب ہے اس طرح جو شخص لوگوں کے آگے دوست سوال دراز کرنے سے بچنے کے لیے محنت مزدوری کرے اس منصوبے بنائے اور روزگار کی امید رکھے تو اس کی یہ امید بھی اسلام میں مطلوب ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اوپر جن کی کفالت کی ذمہ داری رکھی ہے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے تک ودو کرنا اور اس میں کا میابی کے حصول کی امید رکھنا بھی دین اور عبادت ہے اسلام میں جو لمبی لمبی امیدیں رکھنا ممنوع ہے وہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو صرف دنیا کا ہو کر رہ جائے اور اس کے پیش نظر آخرت نہ ہو اور زیادہ امیدیں کی مذمت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء یہ تھا کہ انسان موت کو یادرکھے کیونکہ جب انسان موت کو یاد رکھے گا تو گناہوں سے بچتا رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 3