أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ مِّنۡ شَىۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہمارے ہی پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم اس کو صرف معین اندازے کے مطابق نازل کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور ہمارے یہ پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم اس کو صرف معین اندازے کے مطابق نازل کرتے ہیں۔ اور ہم نے بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی ہو ائیں بھیجیں پھر آسمان سے بارش باسائی سو ہم نے تم کو وہ پانی پلایا اور تم اس پانی کا ذخیرہ کرنے والے نہ تھے۔ اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی روح قبض کرتے ہیں اور ہم ہی سب کے بعد باقی ہیں۔ (الحجر :23 ۔ 21)

مشکل الفاظ کے معانی

خزائن کی جمع ہے خزانہ اس جگہ کو کہتے ہیں جس میں انسان اپنی چیزیں چھپاکر رکھتا ہے یا جس جگہ انسان اپنی چیزوں کو ‏محفوظ کر کے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو رزق اور معیثت کے اسباب جمع کرکے رکھے ہوئے ہیں عام مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس خزانہ سے مراد بارش ہے کیونکہ انسانوں، حیوانوں اور پرندوں کو رزق کی فراہمی بھی بارش کے ذریعے ہوتی ہے۔ بارش سے سبزا اگتا ہے اور فصل تیار ہوتی ہے جس میں انسانوں حیوانوں اور پرندوں سب کے لیے غذا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر سال سب جگہ یکساں بارش نازل نہیں فرماتا ہے کسی جگہ زیادہ اور کسی جگہ بالکل بارش نازل نہیں فرماتا اس لیے فرمایا : ہم اس کو صرف معین اندازے کے مطابق نازل کرتے ہیں ایک اور جگہ فرمایا :

وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأرْضِ وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ (٢ الشوری :27) اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کے لیے رزق کشادہ کردیتا تو وہ ضرور زمین میں فساد کرتے لیکن وہ اپنے اندازہ کے مطابق جتنا چاہتا ہے رزق نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی بہت خبر رکھنے والا اور انہیں خوب دیکھنے والا ہے۔

لواقح لاقحہ کی جمع ہے اس کا معنی ہے حاملہ۔ عرب کہتے ہیں کہ لقحت النا قتہ اونٹنی حاملہ ہوگی۔ لقحت الشجرہ : درخت پھل دار ہوگیا اس لیے لواقح کا معنی ہے وہ ہوائیں جو پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہوں لقحتہ دودھ دینے والی انٹنی کو کہتے ہیں اس کی جمع لقاح ہے اور انٹنیوں کے پیٹوں میں جو بچے ہوتے ہیں ان کو ملاقبح کہتے ہیں اور انٹوں کی پشت میں جو ان کے بچوں کا مادہ ہوتا ہے اس کو مضامین کہتے ہیں اور نر کے مادہ منویہ کو لقاح کہتے ہیں نیز کہتے ہیں القح فلان النخلتہ واستلقحت النخلتہ یعنی فلاں شخص نے کھجور کے شگو فے مادہ کھجور پر ڈال دیئے اور ان کو حامل ثمر کردیا اس کا معنی ہے اس کے کھجور کے درخت میں پیوند لگایا۔ (المفر دات ج 2 ص 583، مطبع عہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

ایک اور جگہ فرمایا۔ وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ( الاعراف : ٥٧) وہی ہے جو اپنی رحمت کی بارش سے پہلے خو شخبری دیتی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بادل کو اٹھاکر لاتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی بنجر زمین کی طرف لے جاتے ہیں، پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس سے ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں۔

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (٦٨) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (٦٩) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلا تَشْكُرُونَ ( الواقعہ : ٧٠) بھلا بتاؤ وہ پانی جس کو تم پیتے ہو۔ کی تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرنے والے ہیں۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو سخت کڑوا بنا دیتے پھر تم کیو‏ں شکر نہیں کرتے ؟

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے وہ اپنی حکمت اور مثبت کے مطابق اور مشیت کے مطابق لوگوں میں رزق تقسیم فرماتا ہے، مخلوق کے رزق اور ان کی تمام نفع آور چیزوں کے خزانے اس کے پاس ہیں جیسے وہ بارش نازل فرماتا ہے جس کے ذریعے ززمین سے پیدا وار حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے رزق کے حصول کے اسباب فراہم کردیے ہیں ان اسباب اور ذرائع میں سے وہ ہوائیں جو بادل کو اٹھائے ہوئے پھرتی ہیں تاکہ لوگ اس پانی کو پئیں اور اپنے جانوروں کو پانی پلائیں اور اس سے اپنے باغوں اور کھیتوں کو سیراب کریں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی روح قبض کرتے ہیں اور ہم ہی سب کے بعد باقی ہیں یعنی ہم ہی مخلوق کو عدم سے وجود میں لاتے ہیں پھر ہم اس پر موت طاری کریں گے پھر حشر کے دن ہم ہی سب کو زندہ کریں گے۔

کھجوروں میں پیوند کاری کی ممانت کی احادیث

ہم نے لواقھ کے معنی میں یہ بیان کیا ہے کہ تلقیح کا معنی ہے نر کھجور کا شگوفہ مادہ کھجور میں ڈال دینا۔ عر بی میں تلقیح اور تابیر کا ایک ہی معنی ہی اس سلسلہ میں یہ حدیث مشہور ہے :

موسیٰ بن طلحہ اپنے والد (رض) سے روایت ہے کرتے ہیں کہ کچھ لوگ کھجوروں کے پاس تھے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان لوگوں کے پاس سے گزرا۔ آپ نے فرمایا یہ کیا کررہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ لوگ کھجوروں میں پیوند لگا رہے ہیں یعنی نر کھجوروں کو مادہ کھجور کے ساتھ ملاتے ہیں جس سے وہ پھل دار ہوجاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے گمان میں یہ عمل ان کو کسی چیز سے منع نہیں کرے گا جب ان صحا بہ کو آپ کے اس ارشاد کی خبر ہوئی تو انہوں نے یہ عمل ترک کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عمل کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا اگر ان کو اس عمل میں فائدہ ہے تو کرتے ہیں میں نے اپنے گمان سے ایک بات کہی تھی سو تم میرے گمان پر عمل مت کرو۔ البتہ جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو اس پر عمل کرو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ بولنے والا نہیں ہوں۔ (صحیح مسلم فضائل : 139 ۔ (2361) 6011، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 2470)

حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس وقت مدینی میں تشریف لائے تو صحابہ کرام کھجوروں میں پیوند لگاتے تھے۔ آپ نے فرمایا تم یہ عمل کس لیے کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا شاید تم کہ کرو تو اس میں زیادہ بہتری ہو۔ انہوں نے اس عمل کو ترک کردیا تو پھر کھجوروں کی پیداوار کم ہوگئی۔ انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا میں صرف بشر ہوں ( یعنی خدا نہیں ہوں) جب میں تمہارے دین کے متعلق کسی جیز کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو ! اور جب میں اپنی رائے سے تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو میں صرف بشر ہوں (خدا نہیں ہوں (صحیح مسلم، الفضائل، رقم بلا تکرار :2362، الرقم المسلل 6012)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم یہ نہ کرو تو اچھگا ہوگا۔ اس کے بعد روی کھجوریں پیدا ہوئیں۔ پھر کچھ دنوں بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا۔ آپ نے پوچھا : اب تمہاری کھجوروں کی کیا کیفیت ہے ؟ انہوں نے کہا آپ نے اس اس طرح فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا تم اپنی دنیا کے معاملات میں خود ہی زیادہ جانتے ہو ! ( صحیح مسلم الفضائل 141، رقم بلاتکرار 2363، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 2471)

اس شکال کا جواب کہ آپ کے ارشاد پر عمل کرنے سے پیداوار کم ہوئی۔

اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان صحابہ سے یہ فرمایا تھا کہ تم کھجوروں میں پیوند کاری نہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا اور جب انہوں نے آپ کے اس ارشاد پر عمل کیا تو اس کے نتیجہ میں پیداوار کم ہوئی۔ متعدد علماء نے اس اشکال کے جواب دیئے ہیں۔ ہم یہاں ان علماء جوابات پیش کر رہے ہیں :

قاضی عیاض بن موسی مالکی اندلسی متوفی 544 ھ لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہما السلام) کا دنیاوی دیناوی معاملات میں حکم دینا اور ان کی رائے عام لوگوں کے حکم اور ان کی رائے کی طرح ہے اور اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی رائے واقع کے مطابق نہ ہو اور اس میں کوئی نقص اور عیب نہیں ہے کیونکہ انبیاء (علیہما السلام) کی فکر آخرت اور عالم بالا سے متعلق ہوتی ہے اور وہ اس طرف متوجہ رہتے ہیں کہ شریعت نے کیا حکم دیا ہے اور کس منع کیا ہے اور دنیاوی امور کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی اس کے بر خلاف عام لوگ دنیاوی معاملات میں مستغرق رہتے ہیں اور آخرت سے غافل رہتے ہیں۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج 7 ص 335 ۔ 334، مطبو عہ دارا لو فاء بیروت)

حافظ ابو لعباس بن عمر مالکی قرطبی اند لسی متوفی 656 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق پر معجزات دلالت کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خبریں دیتے ہیں اور جو احکام بیان کرتے ہیں خطاء محال ہے اور رہے وہ امور جن کا تعلق دنیا سے ہے تو ان میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام انسانوں میں سے انسان ہیں جیسا کہ آپ نے فرمایا اس کے سوا اور کوئی بات نہیں ہے کہ میں ایک بشر ہوں اور اس طرح بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو (صحیح بخاری رقم الحدیث 401 صحیح مسلم رقم الحدیث 572، سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 1020، سنن النسائی رقم الحدیث :1243، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1211) اور یہ ایسا ہی ہے کہ آپ نے فرمایا ہے اپنی کے معاملات کو تم خو دہی زیادہ جاتنے ہو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 2363) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور میں پیوند لگانے والوں کے متعلق جو فرمایا تھا کہ میرے گمان میں یہ عمل ان کو کسی چیز سے مستغنی نہیں کریگا اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقت میں ایک چیز کو مستغنی کرنے و الا اللہ تعالیٰ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ یہ ہے کہ اس نے بعض چیزوں کا عادتا اسباب بنائے ہیں اور ان اسباب میں میں اپنی قدرت کی تاثیر مخفی رکھا ہے تاکہ جو سعادت مند لوگ ہیں ان کا غیب پر ایمان بر قرار ہے اور جو گمراہ لوگ ہیں وہ اپنی گمراہی میں ڈوبے رہیں۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ جو فرمایا ہے کہ میں نے اپنے گمان سے ایک بات کہی تھی سو تم میرے گمان پر عمل مت کرو۔ یہ آپ نے اس لیے فرمایا کہ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ آپ نے تو فرمایا تھا کہ اگر تم اس پیوند کاری کو ترک کردو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا حالانکہ یہ ان کے لیے بہتر نہیں ہوا تو آپ نے بطور عذر کے فرمایا یہ بات میں نے اپنے گمان اور اپنی رائے سے کہی تھی یہ بات میں وحی الہی سے نہیں کہی تھی اور کھیتی باڑی، باغبانی کے معاملات میں وہی شخص صحیح بات کہہ سکتا ہے جو کام کرتارہتا ہے اور اس کو اس کا تجربہ ہو اور ظاہر ہے کہ میں نے یہ کام کئے ہیں اور نہ مجھے ان کا تجربہ ہے اس لیے ان دیناوی معاملات کو تم ہی خوب جانتے ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ عذر پیش کرنا بھی ان لوگوں کے لیے تھا جن کی عقل ضعیف ہو کیونکہ ایسے لوگوں پر آپ کو یہ خدشہ تھا کہ شیطان ان کو گمراہ کر دے گا اور ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دے گا کہ انہوں نے جو بات کہی تھی وہ جھوٹی نکلی اور جو شخص آپ جھوٹا سمجھے گا وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی ایسی بات صادر نہیں ہوتی تھی جس پر عذر پیش کرنے کی ضرورت ہو (المفہم ج 6 ص 169 ۔ 167، مطبوعہ دارا بن کثیر بیروت، 1417 ھ)

علامہ بن یحییٰ بن شرف نوادی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں

علماء نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا اور معاش سے متعلق بغیر تشریع کے جو بات کہیں اس پر عمل کرنا واجب نہیں ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اجتہاد سے بہ حثیت تشریع کے جو کچھ فرمائیں اس پر عمل اور آپ نے کھجور میں پیوند لگانے کے ترک کرنے جو حکم دیا تھا وہ بہ حیثیت تشریع کے نہیں تھق بطور مشورہ تھا۔ پیوند لگانے کو کو ترک کرنے سے کھجوروں کی پیداوار کم ہوئی اس پر آپ نے فرمایا : انتم اعلم بامور دنیا کم اپنے دنیاوی امور کو تم ہی زیادہ جانتے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی توجہ اور فکر آخرت اور معاف الہیہ کی طرف مبذل رہتی تھی اور دنیا کی طرف زیادہ توجہ نہ کرنا کوئی نقص نہیں ہے۔ ( شرح مسلم ج 2 ص 264، مطبوعہ تور محمد لمطابع کراچی 1375 ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیاوی امور کی طرف زیادہ توجہ نہیں فرماتے تھے۔ (مرقات ج 1 ص 223، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1390 ھ)

نیز ملا علی قاری لکھتے ہیں

یہاں پر یہ اشکال کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو کھجور کے درختوں میں پیوند لگاتے ہوئے دیکھا آپ نے فرمایا : کاش تم یہ طریقہ ترک کردو انصار نے اس کو ترک کردیا پھر کوئی پیداوار نہیں ہوئی یاردی کھجوریں پیدا ہوئیں۔ تب آپ نے فرمایا تم اپنے دنیاوی معاملات کو خودی ہی زیادہ جانتے ہو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے یہ گمان سے کہا تھا وحی سے نہیں کہا تھا۔ اور شیخ سیدی محمد سنوسی نے کہا ہے کہ آپ صحابہ کو توکل پر بر انگیختہ کرنا چاہتے تھے جب انہوں نے آپ کے کہنے پر عمل نہیں کیا تو آپ نے فرمایا تم اپنے معاملات کو خود زیادہ جانتے ہو اور اگر وہ آپ کے کہنے پر عمل کرتے اور ایک یا دو سال تک نقصان برداشت کرتے تو وہ اس مشقت سے بچ جاتے۔ یہ جواب انتہائ لطیف ہے۔ (سید الشفاء علی ھامش نسیم الر یاض ج 3 ص 263، مطبوعہ دارا لفکر بیروت)

شیخ عبدالحق محدش دہلوی متوفی 1052 ھ لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ جاہلیت کا عمل اور اس کی پھلوں کے کم یا زیادہ ہونے کیئی تاثیر اور معقول وجہ نہیں ہے اور آپ نے اس کی طرف توجہ نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ یہ ہے کہ وہ اس عمل سے پھل زیادہ کردیتا ہے آپ نے ان کو منع تو کیا تھا مگر سختی سے منع نہیں کیا تھا بکہ یہ فرمایا تھا اگر تم پیوند نہ کرو تو بہتر ہے اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح کے دنیاوی معاملات کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے کیونکہ اس عمل کے کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ کوئی سعادت متعلق نہیں تھی لیکن جب آپ نے اس طرف توجہ کی کہ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ کے مطابق اس عمل کو تاثیر ہوتی ہے تو پھر آپ نے اس پر سکوت فرمایا اور بعض روایات میں جو ہے کہ دنیاوی امور کو تم ہی زیادہ جانتے ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ان دنیاوی امور کی طرف توجہ نہیں کرتا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پیوند کرنے والے انصار مدنیہ سے آپ کا علم معاذ اللہ کم تھا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا اور آخرت کے تمام معاملات کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ (اثعتہ اللمعات ج 1 ص 423، مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور، 1401 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 21