أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَجَعَلۡنَا عَالِيـَهَا سَافِلَهَا وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍؕ‏ ۞

ترجمہ:

پس ہم نے ان کی بستیوں کے اوپر کے حصہ کو نیچے کا حصہ کردیا اور ہم نے ان پر کھنگر کے سنگریرے برسائے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جب ان پر سورج چمک رہا تھا تو ایک زبردست چیخ نے ان کو پکڑ لیا۔ پس ہم نے ان کی بستیوں کے اوپر کے حصہ کو نیچے کا حصہ کردیا اور ہم نے ان پر کھنگر کے سنگریز برسائے۔ (الحجر :75 ۔ 74) 

قوم لوط پر عذاب کا نزول 

امام ابن جوزی نے لکھا ہے یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی چیخ تھی۔ (زاد المسیر ج 4 ص 409)

امام رازی نے فرمایا اس آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ حضرت جبرائیل کی چیخ تھی اگر یہ قول کسی دلیل قوی سے ثابت ہو تو اس کو اختیار کیا جائے ورنہ آیت سے تو صرف اتنا معلوم ہوا ہے کہ ایک زبردست اور ہولناک چیخ نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر تین قسم کے عذاب آئے تھے ایک تو زبر دست ہولناک چنگھاڑ تھی دوسرے ان کی زمین کو پلٹ دیا گیا اور تیسرا ان پر کھنگر کی کنکریاں برسائی تھیں اس کی تفسیر ہم نےھود :82، میں بیان کردی ہے۔

بعض علماء نے کہا کہ سجیل کا معنی ہے پکی ہوئی مٹی کے پتھر بعض علماء نے کہا کہ ہر پتھر پر ایک شخص کا نام تھا او اسی پر جاکر یہ لگتا تھا بعض نے کہا ہے یہ عذاب الہی کے مخصو ص پتھر تھے۔

مختصرا یہ کہ حضرت جبرائیل نے ان بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب سے نیچے پٹخ دیا اور اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا جس طرح کہ اپنے جنس مردو کو پلٹ کر ان سے لذت کشید کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اسی طرح ان پر ان کی بستیوں کو پلٹ دیا پھر ان کی ذلت اور رسوائی کے لیے ان کے پر کنکر اور پھتر برسائے گئے اور ہر پتھر نشان زدہ تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 74