أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ اس کا برملا اعلان کردیں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے اعراض کیجئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ سے کا بر ملا اعلان کردیں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے اعراض کیجئے۔ آپ کا مذاق اڑانے والوں سے ( بدلہ کے لیے) ہم کافی ہیں، جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو ( بھی) معبود قرار دیتے ہیں سو وہ عنقریب جان لیں گے۔ (الحجر : 96 ۔ 94) 

اسدع کا معنی 

صدع کا معنی کسی ٹھوس جسم مثلا لوہے یا شیشہ وغیرہ میں شگاف پڑنے اور اس کے شق ہوجانے کے ہیں اور شق ہونے کو اس چیز کا کھلنا لازم ہے اس اعتبار سے کسی چیز کے کھلم بیان کرنے کے لیے بھی صدع لا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اصدع کا معنی ہے آپ کھلم کھلا بیان کر دیجئے اور برملا کہہ دیجئے۔

مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کہا نماز میں بلند آواز سے قرآن پڑھئے (جامع البیان رقم الحدیث : 1617)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھپ کر تبلیغ کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ اور آپ کے اصحاب باہر نکل آئے اور علانیہ تبلیغ کرنے لگے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : 16173) 

جن مذاق اڑانے والے مشرکوں سے بدلہ لیا گیا 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

اور مشرکین سے اعراض کیجئے

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ حکم جہاد کے فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ مذاق اڑانے والوں سے (بدلہ کے لیے) ہم کافی ہیں۔ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی معبود قرار دیتے ہیں وہ عنقریب جان لیں گے۔

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے آپ اللہ کھ احکام کو کھل کر بیان کیجئے اور ان لوگوں کی پر واہ نہ کیجئے جو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا آپ کسی سے نہ ڈریے کیونکہ آپ کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے والے قریش کے معروف سردار تھے ان کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا مذاق اڑانے والے یہ تھے ولید بن المغیرہ اسودبن عبدیغوث اسود بن عبدالمطلب حارث عیطل السمی اور العاص بن وائل السمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے تو آپ نے ان کی شکایت کی۔ آپ نے حضرت جبریل کو ولید بن مغیرہ دکھا یا تو حضرت جبریل نے اس کے ہاتھ کی اندرونہ رگ کی طرف اشارہ کیا آپ نے فرمایا تم نے کیا کیا حضرت جبریل نے کہا میں نے اس سے آپ کا بدلہ لے لیا پھر آپ نے ان کو الحارث بن عیطل دکھا یا حضرت جبریل نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا، آپ نے فرمایا تم نے کیا کیا حضرت جبریل نے کہا میں نے اس سے آپ کا بد لہ لے لیا پھر آپ نے ان کو العاص بن وائل دکھایا۔ حضرت جبریل اس تلوے کی طرف اشارہ کیا آپ نے فرمایا تم نے کیا کیا ؟ حضرت جبریل نے کہا میں نے اس سے آپ کا بدلہ لے لیا رہا ولید بن مغیرہ تو وہ خزاعہ کے ایک شخص کے پاس سے گزرا وہ اپنا تیر درست کررہا تھا وہ تیر اس کو لگ گیا اور اس کے ہاتھ کی رگ کٹ گئی رہا اسوبن عبدالمطلب تو وہ اندگا ہوگیا، اس کی آنکھ میں ایک درخت کا کا نٹا جبھ گیا جس وہ اندھا ہوگیا اور رہا اسود بن عبدیغوث تو اس کے سر میں پھنسیاں ہوگئیں جس سے وہ مرگیا اور الحارث بن عیطل تو اس کے پیٹ میں زرد پانی پر گیا اس کے منہ سے پاخانہ آنے لگا اور وہ اسی مرض میں مرگیا اور رہا العاص بن وائل تو اس کے پیر کے تلوے میں کانٹا چبھا اور اس کا زخم پورے پیر میں پھیل گیا جس سے وہ مرگیا۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : 4983 ۔ مکتبہ المعارف ریاض)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 94