أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَاؕ اِنَّ اللّٰهَ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک اللہ ضرور بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک اللہ ضرور بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ (النحل : 18)

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا عموم اور اس کے ساتھ مغفرت کا ارتباط 

اس دنیا میں کئی قسم کے لوگ ہیں، بعض دہریے ہیں جو سرے سے اللہ کی وجود کے قائل ہی نہیں ہیں، بعض مشرکین ہیں جو اللہ کے وجود کے تو قائل ہیں لیکن انہوں نے اور بہت سی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے رکھا ہے۔ بعض عصاۃ مومنین (گناہگار مسلمان) ہیں جو اغوا شیطان یا نفسانی لغزشوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں اور بعض اطاعت شعار مسلمان ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اطاعت شعار بندوں کو ہی نعمتیں عطا فرماتا اور اپنے منکروں، مشرکوں اور گناہ گاروں کو محروم رکھتا ہے، مذکور الصدر آیات میں جن نعمتوں کا بیان ہے ان میں مومن اور کافر اور مطیع اور عاصی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا گیا، انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہوا کی ہے، اگر چند منٹ کے لیے بھی ہوا نہ ملے تو انسان مرجائیں، اللہ تعالیٰ کا بےپایاں کرم ہے کہ اس نے ہوا کو سب سے زیادہ آسان، عام اور ارزاں بنادیا ہے، فضا میں ہوا کے سمندر رواں دواں ہیں اور ہر شخص کو بغیر کسی کوشش اور اجرت کے سانس لینے کے لیے ہوا میسر ہے، اس کے بعد زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے، اس کی ضرورت ہوا کی بہ نسبت کم ہے تو اس کی ارزانی بھی ہوا کی بہ نسبت کم ہے، اسی حکمت سے بتدریج دوسری نعمتوں کا فیضان ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی غیر متناہی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اپنی مغفرت اور رحمت کا بھی ذکر فرمایا ہے اور اس میں یہ بتایا ہے کہ کوئی دہریہ یا مشرک جو ساری عمر انکار خدا اور شرک میں زندگی گزارتا رہا ہو اگر مرنے سے پہلے صرف ایک مرتبہ دہریت اور شرک سے تائب ہو کر کلمہ پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی ساری عمر کے کفر اور شرک کو اس ایک کلمہ کی وجہ سے معاف کردیتا ہے اور اس پر اپنی جنت حلال کردیتا ہے، اسی طرح حرص و ہوا اور نفس پرستی میں ڈوبا ہوا گناہگار انسان جب صدق دل سے تائب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیتا ہے اور اگر توبہ کے بعد وہ پھر لغزش میں پڑجائے اور پھر معافی مانگے تو وہ پھر معاف فرما دیتا ہے، یہ کتنی عظیم نعمت ہے اور کتنی عظیم مغفرت ہے۔

نعمتوں کے بعد مغفرت اور رحمت کا اس لیے بھی ذکر فرمایا ہے کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ نعمتوں کا شکر ادا کرے اور نعمتیں جتنی ہوں شکر بھی اتنا ہی کرنا چاہیے اور جب اس کی نعمتیں غیر متناہی ہیں تو اس کا شکر بھی غیر متناہی کرنا چاہیے، اور انسان متناہی وقت میں غیر متناہی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا، یہ اس کی استطاعت میں ہی نہیں ہے، اس لیے ساتھ ہی اپنی مغفرت اور رحمت کا بھی ذکر کیا کہ اگر تم اس کی نعمتوں کا کماحقہ شکر ادا نہ کرسکو تو وہ غفور رحیم ہے، نیز اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگر کوئی بندہ بجائے شکر کرنے کے ناشکری کرے یا بجائے اطاعت کرنے کے گناہوں کا مرتکب ہوجائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے مایوس نہ ہو، وہ صدق نیت سے معافی مانگے، اللہ اس کو معاف کردے گا، نہ صرف معاف گا بلکہ مزید نعمتوں اور انعامات سے بھی نوازے گا۔

اس آیت کی مزید تفصیل جاننے کے لیےابراہیم :43 کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 18