أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ‌ فَسۡــئَلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں ہی کو رسول بنایا تھا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل ذکر (اہل کتاب) سے پوچھ لو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں ہی کو رسول بنایا تھا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل ذکر (اہل کتاب) سے پوچھ لو۔ (ان رسولوں کو) واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ بھیجا تھا۔ (النحل : ٤٣ )

انسان اور بشر کو نبی اور رسول بنانے کی تحقیق :

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں مشرکین مکہ کا یہ پانچواں شبہ ہے جس کا یہاں ذکر کر کے اس کا رد کیا جارہا ہے، مشرکین یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند اور بالا ہے کہ وہ کسی بشر اور انسان کو رسول بنائے اور اپنا پیغام دے کر بھیجے، اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجنا ہوتا تو وہ فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا جو انسان کی بہ نسبت بہت معزز اور مکرم مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس اعتراض کا قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، اور اس کا ازالہ فرمایا ہے :

وقالوا لو لا انزل علیہ ملک، ولا انزلنا ملکا لقضی الامر ثم لا ینظرون۔ ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا و للبسنا علیھم ما یلبسون۔ (الانعام : ٨، ٩) اور انہوں نے کہا اس رسول پر فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا، اور اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو ان کا کام پورا ہوچکا ہوتا پھر انہیں مہلت دی نہ دجاتی۔ اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بنا دیتے تب بھی اسکو (صورتا) مرد بناتے اور ان پر وہی اشتباہ ڈال دیتے جو اشتباہ وہ اب کر رہے ہیں۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں آتا تو وہ نہ اس کا کلام سن سکتے، نہ اس کو دیکھ سکتے اور نہ اس کو چھو سکتے تو اس کو اصلی شکل میں بھیجنا بالکل عبث ہوتا، اور اگر ہم اس کو انسانی پیکر اور بشر کی صورت اور مرد کے لباس میں بھیجتے وہ اس پر یقین نہ کرتے کہ یہ فرشتہ ہے اور ہرگز نہ مانتے کہ وہ اللہ کا رسول ہے، سو جو شبہ ان کو لاحق ہے وہ پھر بھی لاحق ہوتا ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس۔ (یونس : ٢) کیا لوگوں کو اس پر تعجب ہے کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد پر وحی کی ہے کہ آپ لوگوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈائیں۔

و قال الملا من قومہ الذین کفروا و کذبوا بلقاء الاخرۃ و اترفنھم فی الحیوۃ الدنیا ماھذا الا بشر مثلکم یا کل مما تاکلون منہ و یشرب مما تشربون۔ والئن اطعتم بشرا مثلکم انک اذا لخسرون۔ (المومنون : ٣٣، ٣٤) اور نبی کی قوم کے ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا تھا، اور آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تھی، اور ہم نے ان کو دنیاوی زندگی میں خوشحالی عطا فرمائی تھی، یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے یہ ان چیزوں میں سے کھاتا ہے جن سے تم کھاتے ہو اور ان چیزوں سے پیتا ہے جن سے تم پیتے ہو۔ اور اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کرلی تو اس وقت تم ضرور نقصان اٹھانے والے لوگوں میں سے ہو گے۔

سو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی ان کے اس اعتراض کا جواب دیا اور ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا تھا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، خلاصہ یہ ہے کہ مخلوق کی آفرینش کی ابتدا سے اللہ تعالیٰ کی یہ عادت جاریہ رہی ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے صرف انسان اور بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ظاہر ہے کہ بشر اور انسان کی ہدایت کے لیے اس کی جنس سے ہی رسول بھیجا جائے گا۔ چونکہ اس زمین پر انسان رہتے ہیں اس لیے ان کی ہدایت کے لیے بشر اور انسان کو رسول بنا کر بھیجا گیا، اگر یہاں فرشتے رہتے ہوتے تو ان کی ہدایت کے لیے کسی فرشتے ہی کو رسول بناکر بھیجا جاتا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

قل لو کان فی الارض ملئکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا۔ (بنی اسرائی : ٩٥) آپ کہیے اگر زمین میں (رہنے والے) فرشتے ہوتے جو اس میں اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔

اس لیے کفار مکہ کا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یہ اعتراض لا یعنی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام دے کر کسی کو بھیجنا تھا تو چاہیے تھا کہ وہ کسی فرشتے کو پیغام دے کر اور اپنا رسول بنا کر بھیجتا، امام رازی اور علامہ قرطبی وغیرہ نے کہا ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور بالبینات والزبر آیت کے پہلے اجزا کے ساتھ مربوط ہے اور معنی یوں ہے : اور ہم نے آپ سے پہلے واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ صرف مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، سو اگر تم کو یقین نہ ہو تو اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو، نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی صرف مرد کو بنایا جاتا ہے عورت کو نہیں بنایا جاتا۔

اھل الذکر کا مصداق :

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

اہل الذکر کی تفسیر میں چار قول ہیں۔

(١) ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد اہل التوفۃ والانجیل ہیں۔

(٢) مجاہد نے کہا اس سے مراد اہل تورات ہیں

(٣) ابن زید نے کہا اس سے مراد اہل قرآن ہیں

(٤) الماوردی نے بیان کیا اس سے مراد ہے پہلے لوگوں کی خبر رکھنے والے۔

اور اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : اگر تم نہیں جانتے ہو تو اس کی تفسیر میں بھی دو قول ہیں :

(١) اگر تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے بشر میں سے کسی کو رسول بنایا ہے اس بنا پر معنی یہ ہے کہ اگر تم یہ نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو خواہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں، کیونکہ اہل کتاب اور تاریخ کا علم رکھنے والے سب اس پر متفق ہیں کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بشر سے مبعوث کیے گئے۔

(٢) اگر تم یہ نہیں جانتے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو اہل کتاب سے جو ایمان لائے ہیں ان سے پوچھ لو اور مجاہد سے روایت ہے کہ اہل الذکر سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ہیں اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد حضرت سلمان فارسی ہیں۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٤٤٩، ٤٥٠، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

میرے نزدیک امام ابن جوزی کی ذکر کی ہوئی یہ دوسری تفسیر صحیح نہیں ہے کیونکہ سورة النحل مکی ہے اور اس آیت میں مکہ کے مشرکین سے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ نے کسی بشر کو رسول بنایا ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو، اور حضرت عبداللہ بن سلام تو ہجرت کے بعد مدینہ میں اسلام لائے تھے، اس لیے اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے مشرکو ! اگر تم کو اس بات میں شک ہے کہ بشر رسول ہوتا ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو، کیونکہ تمام اہل کتاب اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کو نہیں چھپاتے۔

مسئلہ تقلید پر فسئلوا اھل الذکر سے استدلال :

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

علامہ جلال الدین سیوطی نے الاکلیل میں لکھا ہے کہ اس آیت سے عام آدمی کی فروعی مسائل میں تقلید پر استدلال کیا گیا ہے، علامہ سیوطی نے فروعی مسائل کی جو قید لگائی ہے اس پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس آیت کا ظاہر عموم ہے، خاص طور پر جب ہم یہ کہیں کہ اس آیت میں جس چیز کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق اصول سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ انسان اور بشر سے رسول بناتا ہے، اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ جلال الدین محلی سے منقول ہے کہ غیر المجتہد عام ہو یا خاص اس کو مجتہد کی تقلید کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اگر تم لوگ نہیں جانتے تو وہل ذکر سے پوچھ لو، اور صحیح یہ ہے کہ مسائل اعتقاد یہ اور غیر اعتقادیہ میں کوئی فرق نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی فرق ہے کہ مجتہد زندہ ہو یا مردہ۔

علامہ سیوطی اور دیگر علماء نے کہا ہے کہ صحیح ی ہے ہ کہ مجتہد کے لیے تقلید کرنا منع ہے، خواہ اس کے پاس کوئی قطعی دلیل ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ بالفعل مجتہد ہو یا اس کے پاس اجتہاد کی اہلیت ہو، اور ان کے اس کلام کا تقاضا یہ ہے کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے میں یا ان کے علاوہ کسی اور کی تقلید کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ہاں علامہ ابن حجر وغیرہ نے یہ لکھا ہے کہ غیر کی تقلید کرنے میں یہ شرط ہے کہ اس کا مذہب مدون ہو اور اس کی شرائط اور معتبرات محفوظ ہوں، اور علامہ سبکی نے جو کہا ہے کہ جو ائمہ اربعہ کا مخالف ہو وہ اجماع کے مخالف کیمثل ہے یہ ان مجتہدین پر محمول ہے جن کے مسائل محفوظ اور مدون نہیں ہیں اور ان کی شرائط معروف نہیں ہیں اور ان کی کتابیں گم ہوچکی ہیں جیسے ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلی وغیرہم کے مذاہب (یعنی ان لوگوں کی تقلید نہیں کرنی چاہیے، ائمہ اربعہ کے غیر کی تقلید کا جواز صرف عمل میں ہے، اور افتاء اور قضا کے لیے ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کے مزہب کا متعین کرنا ضروری ہے۔ (روح المعانی ج ١٤، ص ٢١٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

آیت مذکورہ سے استدلال پر نواب صدیق حسن خان کے اعتراضات :

مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ تقلید کے رو میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں اہل ذکر سے مطلقا سوال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ ایک خاص چیز کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ ہے کہ کسی بشر اور انسان کو رسول بنانا۔ امام ابن جریر، امام بغوی اور اکثر مفسرین کا یہی مختار ہے، علامہ سیوطی نے ان تمام اقوال کو الدر المنثور میں جمع کیا ہے اور سیاق اور سباق سے بھی یہی معنی متعین ہے اور اگر بالفرض یہ مان لیاجائے کہ یہاں کسی بھی چیز کے متعلق اہل ذکر سے سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تب بھی یہاں کتاب اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے متعلق سوال کرنے کا حکم مراد ہے اور ان کے علاوہ اور کسی چیز کے متعلق سول کرنے کا حکم مراد نہیں ہے، اور میں مخالف کے متعلق یہ گمان نہیں رکھتا کہ وہ اس سے اختلاف کرے گا، اس لیے کہ شریعت مطہرہ یا تو اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور وہ قرآن کریم ہے اور یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے اور وہ آپ کی سنت مطہرہ ہے، ان کے علاوہ کوئی تیسری چیز شریعت نہیں ہے۔ اور جبکہ لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اہل قرآن اور حدیث سے سوال کریں، تو یہ آیت کریمہ مقلدین کے خلاف ہے، ان کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ وہ اہل الزکر سے سوال کرتے تھے اور وہ ان کو جواب دیتے تھے، پس جن سے سوال کیا جاتا تھا ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ وہ کہیں کہ اللہ اس طرح فرماتا ہے، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح فرماتے ہیں، پھر سول کرنے والے اس پر عمل کرتے ہیں اور یہ وہ چیز نہیں ہے جو مقلدین کی مراد ہے اور جس کا وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں، کیونکہ وہ اس آیت سے لوگوں کے اقوال پر عمل کرنے کے جواب پر استدلال کرتے ہیں اور ان کے اقوال کی دلیل کے متعلق سوال نہیں کرتے، اور اسی چیز کو تقلید کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے تقلید کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ بغیر دلیل کے غیر کے قول کو قبول کرنا ہے۔

تقلید کا خلاصہ یہ ہے کہ مقلد کتاب اللہ سے سوال کرتا ہے اور نہ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے بلکہ وہ فقط اپنے امام کے مذہب کو معلوم کرتا ہے اور جب وہ امام کے مزہب سے متجاوز ہو کر کتاب اور سنت کے متعلق سوال کرے تو پھر وہ مقلد نہیں ہے اور اس بات کو ہر مقلد تسلیم کرتا ہے اور اس کا انکار نہیں کرتا، اور جب یہ ثابت ہوگئی کہ جب مقلد اہل ذکر سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے متعلق سوال کرے گا تو وہ مقلد نہیں ہوگا، تو تم نے جان لیا کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ اس آیت میں کسی خاص چیز کے سوال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ شریعت سے متعلق ہر چیز کے سوال کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ مقلد کا زعم ہے تو اس کا قول اس کے منہ پر مار دیا جائے گا اور اس کی ناک خاک آلودہ کی جائے گی اور اس کی کمر توڑ دی جائے گی، کیونکہ جس سوال کرنے کو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے وہ یہ ہے کہ عالم سے حجت شرعیہ کا سوال کیا جائے اور اس کو معلوم کیا جائے، پس وہ عالم حدیث کا راوی ہوگا اور وہ سائل روایت کا طالب ہوگا اور مقلد خود اس کا اقرار کرا ہے کہ وہ عالم کے قول کو قبول کرتا ہے اور حجت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ پس یہ آیت اتباع کی دلیل ہے تقلید کی دلیل نہیں ہے، پس اس تقریر سے تم پر ظاہر ہوگیا ہوگا کہ مقلد اس آیت کو جو اپنی حجت کے طور پر پیش کرتا ہے تو یہ حجت ساقط ہے، جبکہ اس آیت کا مفہوم خاص چیز کے متعلق سوال کرنے کا حکم دینا ہے نہ کہ عام چیزوں کے متعلق، تو یہ آیت مقلد کے خلاف ہے نہ کہ اس کے حق میں۔ (فتح البیان، ج ٧ ص ٢٤٦، ٢٤٧، مطبوعہ المکتبۃ العصریہ، ١٤١٥ ھ)

اعتراضات مذکورہ کے جوابات اور اس پر دلائل کے اعتبار خصوصیت مورد کا نہیں عموم الفاظ کا ہوتا ہے :

نوا صدیق حسن خان نے پہلی بات یہ کہی ہے کہ اس آیت کا مورد اور شان نزول خاص ہے یعنی اس چیز کے متعلق سوال کرنا کہ پہلی امتوں میں انسان اور بشر سے رسولوں کو بھیجا جاتا رہا ہے، اور اس کو عموم پر محمول کرنا جائز نہیں ہے یعنی جس چیز کا بھی علم نہ ہو اس کے متعلق سوال کیا جائے، اس کا جواب یہ ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی آیت کے مورد کی خصوصیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ الفاظ کے عموم کا اعتبار کیا جاتا ہے، قرآن مجید میں ہے :

یا ایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ۔ (الحجرات : ١) اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔

نواب صدیق حسن خان نے اس آیت کے دو شان نزول ذکر کیے ہیں :

حضرت عبداللہ بن الزبیر بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے کچھ سوار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت ابوبکر نے کہا ان پر قعقاع بن معبد بن زرارہ کو امیر بنادیں، حضرت عمر نے کہا بلکہ ان پر اقرع بن حابس کو امیر مقرر کردیں، حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا تم نے صرف میری مخالفت کرنے کا ارادہ کیا ہے، حضرت عمر نے کہا میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا، دونوں بحث کرنے لگے حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : یا ایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ۔ اس حدیث کو امام بخاری اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣٦٧، سنن الترمزی، رقم الحدیث : ٣٢٦٦، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦٢٣٢) حضرت ابن عباس نے کہا مسلمانوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بحث کرنے سے منع کردیا گیا، یہ ممانعت رائے کے ساتھ کتاب و سنت کے معارضہ کو بھی شامل ہے اور تقلید سے ممانعت کو بھی شامل ہے۔ (فتح البیان، ج ١٣ ص ١٣٠، مطبوعہ المکتبہ العصریہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)

دیکھئے اس آیت کا شان نزول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے حضرت ابوبکر اور عمر کے ساتھ خاص ہے، لیکن حضرت ابن عباس نے اس آیت کے الفاظ کے عموم کی وجہ سے فرمایا : یہ ممانعت تمام مسلمانوں کو شامل ہے اور خود نواب صاحب نے تو اس کو اور بھی عام کردیا کہ یہ ممانعت رائے کے ساتھ کتب و سنت کے معارضہ کی ممانعت اور تقلید کی ممانعت کو بھی شامل ہے، حالانکہ تقلید کی ممانعت کا تو اس آیت میں دور کا اشارہ بھی نہیں ہے کیونکہ مقلدین جن مسائل میں اپنے ائمہ کی تقلید کرتے ہیں وہ کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ کتاب و سنت کے موافق ہیں، اور مذاہب اربعہ کی فقہی کتابیں اس پر شاہد عادل ہیں۔ بہرحال نواب صاحب کے خود اپنے بیان سے ثابت ہوگیا کہ خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ عموم الفاط کا عتبار ہوتا ہے اور اسی قاعدہ کے مطابق انہوں نے یہ تفسیر کی ہے۔

اور اس آیت کا دوسرا شان نزول انہوں نے یہ بیان کیا ہے :

امام بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ مسلمان رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ٖفتح البیان ج ١٣، ص ١٣١، مطبوعہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

نواب صاحب نے اس مورد اور شان نزول کے ساتھ اس آیت کو خاص نہیں کیا بلکہ الفاظ کے عموم کا اعتبار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں اس آیت میں مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کتاب اور سنت کے خلاف نہ کہیں اور یہی زیادہ ظاہر ہے، یا اللہ اور رسول کی اجازت کے بغیر کوئی قطعی حکم نہ دیں یا جس طرح علامہ خازن نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانے سے پہلے کوئی بات نہ کہو یا آپ کے فعل کرنے سے پہلے کوئی فعل نہ کرو اور علامہ بیضاوی نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم دینے سے پہلے کسی چیز کا قطعی فیصلہ نہ کرو۔ (فتح البیان ج ١٣، ص ١٢٩، ١٣٠، ملخصا مطبوعہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

بہرحال یہ واضح ہوگیا کہ خود نواب صاحب کی تفسیر اسی قاعدہ پر مبنی ہے کہ قرآن عظیم کی آیات میں خصوصیت مورد کا لحاظ نہیں ہوتا بلکہ عموم الفاظ کا لحاظ ہوتا ہے لہذا ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) کا تعلق ایک خاص سوال سے ہے یعنی یہ معلوم کرو کہ بشر اور انسان سے رسول مبعوث ہوتے ہیں اور اس میں عام نامعلوم چیزوں کے متعلق سوال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ْ

آیت مذکورہ کا تمام مسائل کے لیے عام ہونا خواہ ان کا علم ہو یا نہ ہو :

دوسری بات جو نواب صاحب نے کہی وہ یہ ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہاں پر عموم مراد ہے یعنی جو چیز بھی معلوم نہ ہو اس کے متعلق سوال کرو تو اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کا شرعی حکم تم کو معلوم نہ ہو تم اس کے متعلق اللہ عزوجل کا ارشاد اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم معلوم کرو اور یہ بات مقلدین کے حق میں نہیں ہے کیونکہ وہ اس آیت سے یہ مراد لیتے ہیں کہ جس چیز کے متعلق تمہیں شرعی حکم معلوم نہیں اس چیز کے متعلق اپنے امام کا قول معلوم کرو۔ 

نواب صاحب نے جو یہ لکھا ہے یہ واقع کے خلاف ہے مقلدین علماء اس آیت سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جس چیز یا جس کام کا تمہیں شرعی حکم معلوم نہیں ہے اس کے متعلق اہل علم سے سوال کرو پھر وہ جو کہیں اس پر عمل کرو خواہ وہ تمہیں اس کی دلیل بتائیں یا نہ بتائیں۔

امام علی بن محمد آمدی مالکی متوفی ٦٣١ ھ اس آیت (النحل : ٤٣) سے تقلید کے جواز پر استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے سوال کرو۔

یہ آیت تمام مخاطبین کے لیے عام ہے اور واجب ہے کہ ہر اس چیز کے سوال کے لیے عام ہو جس کا مخاطب کو علم نہ ہو اور تخصیص خلاف اصل اور بلا دلیل ہے اور جب یہ آیت تمام اشخاص اور تمام نامعلوم مسائل کے لیے عام ہے تو اس آیت میں جو سوال کرنے کا حکم ہے اس کا ادنی درجہ جواز ہے۔ (الاحکام فی اصول الاحکام ج ٤ ص ٢٣٤، مطبوعہ دار الکتب العربی، بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ آمدی نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہیں یہ نہیں لکھا کہ مقلد اپنے امام کا قول معلوم کرے بلکہ یہ استدلال کیا ہے کہ جس شخص کو کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو وہ اہل علم سے اس کے متعلق سوال کرے۔

علامہ ابن ہمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ اور ا کی عبارت کی شرح میں علامہ ابن امیر الحاج حنفی متوفی ٨٧٩ ھ تقلید کے جواز پر استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ہماری دلیل اس آیت کا عموم ہے فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) یہ آیت اس شخص کے متعلق عام ہے جو کسی چیز کا شرعی حکم نہ ہو جانتا ہو خواہ وہ محض عام شخص ہو، یا بعض مسائل کا عالم ہو اور کسی ایک مسئلہ کا شرعی حکم نہ جانتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ پیش آمدہ مسئلہ کا حکم معلوم کرنے کے لیے اہل علم سے سوال کرے، سوال کرنے کی علت علم نہ ہونا ہے، پس جب بھی علم کا نہ ہونا ثابت ہوگا تو اس کے متعلق سوال کرنے کا وجوب متحقق ہوگا، لہذا جو شخص کسی مسئلہ کا عالم نہ ہو اس پر اس مسئلہ کے متعلق سوال کرنا واجب ہے اور ہمیشہ سوال کرنے والے مفتیوں کی اتباع کرتے رہے ہیں خواہ مفتیوں نے اس شرعی حکم کی دلیل نہ بتائی ہو اور یہ ہر دور میں رائج رہا ہے اور اس پر کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ لہذا عالم مجتہد کے اقوال کی اتباع پر اجماع سکوتی ہوگیا اور بلا دلیل علماء کے اقوال کی اتباع کا عدم جواز ان علما کے لیے ہے جو اجتہاد کے اہل ہوں، ہاں اگر سوال کرنے والا ان کے قول کی دلیل کا سوال کرے تو ان پر دلیل کا بیان کرنا واجب ہے الا یہ کہ اس مسئلہ دلیل بہت غامض اور دقیق ہو اس وقت سائل پر اس دلیل کو ظاہر کرنے سے تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا، ایسی صورت میں علما اس دلیل کو ظاہر نہ کرنے میں معذور ہیں۔ (التقریر والتحریر ج ٣ ص ٤٥٧، ٤٥٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

مقلدین تقلد کے جواز پر فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) سے استدلال کرتے ہیں، مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے اس استدلال پر جو اعتراضات کیے تھے ہم ان کے جوابات سے فارغ ہوگئے، اب ہم پہلے تقلید کی تعریف کریں گے پھر تقلید کے ثبوت پر قرآن مجید، احادیث، آثار صحابہ اور اقوال تابعین سے استدلال کریں گے اور پھر علماء متقدمین نے تقلید کے جواز پر جو دلائل پیش کیے ہیں ان کو پیش کریں گے، فنقول وباللہ التوفیق۔

تقلید کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور اس کی وضاحت :

علامہ محمد یعقوب فیروز آبادی متوفی ٨١٧ ھ تقلید کا لغوی معنی لکھتے ہیں :

کسی کے گلے میں ہار ڈالنا، حاکموں کا کسی کے ذمہ کوئی کام سپرد کرنا، اونٹنیوں کے گلے میں کوئی ایسی چیز لٹکانا جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ھدی ہیں۔ (القاموس ج ١ ص ٦٢٥، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٢ ھ)

علامہ سید علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ تقلید کا اصطلاحی معنی لکھتے ہیں :

انسان اپنے غیر کی اس کے قول اور فعل میں اتباع کرے اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ برحق ہے، دلیل میں غور و فکر اور تامل کیے بغیر گویا کہ اتباع کرنے والے نے اپنے غیر کے قول اور فعل کا قلادہ (ہار) اپنے گلے میں لٹکا لیا اور بلا دلیل غیر کے قول کو قبول کرنا تقلید ہے۔ (التعریفات ص ٤٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ بحر العلوم عبدالعلی بن نظام الدین متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں :

بغیر حجت اور دلیل کے غیر کے قول کو قبول کرنا تقلید ہے، حجت مراد ہے کتاب، سنت، اجماع اور و قیاس، ورنہ مجتہد کا قول مقلد کی دلیل ہے جیسے عام آد میں مفتی اور مجتہد سے مسئلہ معلوم کرے۔ (فواتح الرحموت ج ٢ ص ٤٠٠، مطبوعہ امیریہ کبری بولاق مصر ١٣٢٤ ھ)

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ فرماتے ہیں :

عام آدمی پر لازم ہے کہ وہ اسی شخص سے مسئلہ معلوم کرے جو علم اور پرہیزگاری میں معروف اور مشہور ہو، اور جو شخص جہل میں مشہور ہو اس سے بالکل سوال نہ کرے اور جو آدمی فسق و فجور میں معروف ہو اس سے بھی بالکل سوال نہ کرے۔ (المستفی ج ٢ ص ٣٩٠، مطبوعہ امیریہ کبری بولاق مصر ١٣٢٤ ھ)

قرآن کریم سے تقلید پر استدلال :

ہم اس سے پہلے النحل : ٤٣ سے تقلید کے جواز پر استدلال اور مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کے اعتراضات اور ان کے جوابات لکھ چکے ہیں، اس سلسلہ میں دوسرا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے :

فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون۔ (التوبہ : ١٢٢) ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت علم دین کے حصول کے لیے نکلتی تاکہ جب وہ واپس آتی تو اپنے گروہ کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراتی تاکہ وہ گناہوں سے س بچتے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف بعض مسلمانوں پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کے بعد اپنی پوری قوم کو احکام پہنچائیں یعنی صرف بعض مسلمان دین کا علم اور فقہ کو حاصل کریں اور ان کی قوم کے باقی مسلمان ان کے اقوال پر عمل کریں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ فقہا کے اقوال کو واجب العمل قرار دیا ہے کیونکہ ان پر عمل کر کے اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے۔ اور اسی کا نام تقلید ہے۔

احادیث سے تقلید پر استدلال :

ابو جمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض ادا کیا کرتا تھا، حضرت ابن عباس نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ نے فرمایا یہ کون سا وفد ہے یا فرمایا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا ہم ربیعہ ہیں آپ نے فرمایا اس قوم کو یا اس وفد کو خوش آمدید ہو، یہ رسوا ہوں گے نہ شرمندہ ہوں گے، انہوں نے کہا آپ کے پاس بہت دور سے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفر مضر کا قبیلہ حائل ہے اور ہم سوا حرمت والے مہینوں کے آپ کے پاس آنے کی طاقت نہیں رکھتے، آپ ہمیں ایسے احکام بتایئے جن کی ہم ان کو خبر دیں جو ہمارے پیچھے ہیں اور اس وجہ سے جنت میں داخل ہوجائیں، سو آپ نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے روکا، آپ نے ان کو صرف عزوجل وحہد پر ایمان لانے کا حکم دیا، پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ وحدہ پر ایمان لانے کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور ان کو خشک کھوکھلے کدو، سبز گھڑے اور تارکول ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا اور بسا اوقات آپ نے ان کو کھوکھلی لکڑی کے برتن کے استعمال سے بھی منع فرمایا۔ آپ نے فرمایا ان احکام کو یاد کرلو اور جب لوگ تمہارے پیچھے ہیں ان کو ان حکام کی خبر دو ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٦٩٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١١، ١٥٩٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧)

حضرت مالک بن الحویرث بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے، ہم آپ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے، پھر آپ نے یہ گمان فرمایا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد آرہی ہے، آپ نے ہم سے سوال کیا کہ ہم اپنے گھروں میں کس کس کو چھوڑ کر آئے ہیں، ہم نے آپ کو بتایا آپ بہت رفیق اور رحیم تھے آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ اور ان کو تعلیم دو اور ان کو (نیک کاموں کا) حکم دو ، اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ الحدیث۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٠٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٩٣٣، عالم الکتب بیروت)

یہ صحابہ کرام جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے دین سیکھ کر گئے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جاکر دین کی تبلیغ کریں اور اپنی قوم کو دین کی تعلیم دیں اور نیک کاموں کے احکام دیں اور اب ان کے علاقہ کے لوگ ان کے اقوال پر عمل کریں گے اس اعتماد پر کہ یہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے دین سیکھ کر آئے ہیں، اور جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ کتاب اور سنت کے مطابق کہہ رہے ہیں اور کسی شخص کے قول پر اس اعماد سے عمل کرنا کہ وہ کتاب اور سنت کے مطابق کہہ رہا ہے یہی تقلید ہے۔

آثار صحابہ اور اقوال تابعین سے تقلید پر استدلال :

عن عکرمۃ ان اھل المدینۃ سالوا ابن عباس عن امرۃ طافت ثم حاضت قال لھم تنفر قالوا لا ناخذ بقولک وندع قول زید قال اذا قدمتم المدینۃ فاسئلوا فقدموا المدینۃ فکان فی من سالوا ام سلیم فذکرت حدیث صفیۃ۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٧٥٩، ١٧٥١) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت ابن عباس سے یہ سوال کیا کہ جس عورت نے طواف (زیارت) کرلیا ہو پھر اس کو حیض آجائے (تو آیا وہ طواف وداع کے بغیر واپس جاسکتی ہے ؟ ) حضرت ابن عباس نے فرمایا : جاسکتی ہے، اہل مدنہ نے کہا : ہم آپ کے قول کی وجہ سے حضرت زید بن ثابت کے قول کو ترک نہیں کریں گے، (حضرت زید کہتے تھے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر نہیں جاسکتی) حضرت ابن عباس نے فرمایا جب تم مدینہ جاؤ تو اس مسئلہ کی تحقیق کرلینا، جب وہ مدینہ گئے تو انہوں نے اس کی تحقیق کی، اور حضرت ام سلیم سے بھی پوچھا انہوں نے حضرت صفیہ کی (یہ) حدیث بیان کی : (کہ ایسی صورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ کو طواف وداع کیے بغیر جانے کی اجازت دی تھی)

جب اہل مدینہ کو حضرت صفیہ کی حدیث مل گئی تو انہوں نے حضرت ابن عباس کے پاس جاکر حق کا اعتراف کرلیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

فرجعوا الی ابن عباس فقالوا وجدنا الحدیث کما حدتنا۔ پھر اہل مدینہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے اور کہا جس طرح آپ نے ہمیں حدیث سنائی تھی ہمیں اسی طرح حدیث مل گئی۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٥٨٨، طبع لاہور)

اور حضرت زید بن ثابت کو جب یہ حدیث مل گئی تو انہوں نے بھی رجوع فرما لیا۔

حافظ ابن عسقلانی، امام مسلم اور امام نسائی کے حوالے سے لکھتے ہیں :

قال فرجع الیہ : فقال ما اراک الاقد صدقت لفظ مسلم وللنسائی کنت عند ابن عباس فقال لہ زید بن ثابت انت الذی تفتی وقال فیہ فسالھا چم رجع وھو یضحک فقال : الحدیث کما حدثتنی۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٥٨٨، طبع لاہور) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت زید بن ثابت نے رجوع کرلیا اور حضرت ابن عباس سے فرمایا مجھے یہ یقین ہے کہ آپ نے سچ کے سوا کچھ نہیں کہا، یہ صحیح مسلم کی عبارت ہے اور سنن نسائی سے یہ عبارت ہے، عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس بیٹھا تھا، ان سے حضرت زید بن ثابت نے پوچھا آپ یہ فتوی دیتے ہیں ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس انصاری خاتون سے اس کے متعلق حدیث معلوم کرلو، حضرت زید نے ان سے حدیث پوچھی اور ہنستے ہوئے (اپنے قول سے) رجوع کرلیا اور کہا جس طرح آپ نے بیان کیا تھا، اسی طرح حدیث ہے۔

اس حدیث میں تقلید شخصی کا بھی ثبوت ہے کہ اہل مدینہ حضرت زید بن ثابت کے فتوی کی تقلید کرتے تھے اور یہ بھی دلیل ہے کہ اگر امام کے قول کے خلاف دلیل مل جائے تو حدیث پر عمل کرنا تقلید شخصی کے خلاف نہیں ہے۔ 

اب ہم صحابہ اور تابعین کے ایک سو آثار پیش کر رہے ہیں، لوگوں نے ان سے متعدد معاملات اور مختلف مسائل میں سوالات کیے اور انہوں نے ان کے جوابات میں قرآن مجید اور احادیث کی تصریحات کے بجائے اپنے اقوال پیش کیے ہرچند کہ ان کے اقوال قرآن اور سنت پر ہی مبنی تھے اور سائلین کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ یہ لوگ کتاب اور سنت کے ماہر ہیں اور ہمیں اس کے خلاف نہیں بتائیں گے اور اسی کا نام تقلید ہے اور مقلدین بھی اپنے ائمہ کی اسی معنی میں تقلید کرتے ہیں۔

١۔ عبدالرحمن الاعرج بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب سے سوال کیا گیا کہ محرم اپنی چادر میں بٹن لٹکا سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٦٦٦، مطبوعہ دار الکتب العربیہ، ١٤١٦ ھ)

حضرت ابی بن کعب نے سائل کو قرآن اور حدیث بیان کرنے کے بجائے صرف اپنا قول بیان کیا اور سائل نے اس پر عمل کیا اور یہی تقلید ہے۔

٢۔ عمرو بن ھمر بیان کرتے ہیں کہ جاب بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کھڑا ہوا نماز پڑح رہا ہے اور دوسرا شخص اس کے قریب کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا ہے اس نے آیت سجدہ پڑحی تو پہلے شخص نے اس آیت کو سن لیا تو کیا وہ سجدہ کرے گا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٤٣٠٨)

٣۔ عمرو بن ھرم کہتے ہیں کہ جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ حائضہ عورت کے کپڑے پر خون لگ جائے وہ اس کے دھولے اور اس میں خون کا نشان باقی رہے تو وہ اس میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٠٢٠ )

٤۔ عمرو بیان کرتے ہیں کہ جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ طلوع آفتاب کے وقت یا غروب آفتاب کے وقت یا جب سورج کچھ غروب ہوا ہو اس وقت جنازہ دفن کیا جاسکتا ہے ؟ کہا نہیں۔ (ہمارے نزدیک اس وقت نماز جنازہ نہیں پڑھی جاسکتی البتہ دفن کیا جاسکتا ہے۔ سعید غفرلہ) (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١١٣٢٥ )

٥۔ یونس بیان کرتے ہیں کہ حسن سے سوال کیا گیا کہ سفر میں دو نمازوں کو جمع کیا جاسکتا ہے ؟ وہ اس کو بغیر عذر کے مستحسن نہیں سمجھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : ٨٢٤٩ )

٦۔ عبدالملک بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر سے سوال کیا گیا کہ کیا عمرہ واجب ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں، (ہمارے نزدیک عمرہ کرنا سنت ہے، سعیدی غفرلہ) (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٣٦٥٤ )

٧۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم نے کہا جس شخص پر رمضان کے قضا روزے ہوں وہ نفلی روزے نہ رکھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٩٨٢٦ )

٨۔ مالک بن انس بیان کرتے ہیں کہ سلیمان بن یسار اور سعید بن المسیب سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نفلی روزے رکھتا ہے اور اس پر رمضان کے روزوں کی قضا ہے ؟ ان دونوں نے اس کو مکروہ قرار دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : ٩٢٨٩)

٩۔ عمرو بن الحریث بیان کرتے ہیں کہ مردہ بھینسوں کی کھالوں کی بیع کے متعلق شعبی سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا دباغت (رنگ) سے پہلے ان کی بیع مکروہ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : ٢٠٣٧٥)

١٠۔ الصلت بن راشد بیان کرتے ہیں کہ طاؤس سے نماز میں پانی پینے کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٨٣٥٩ )

١١۔ عبدالملک بیان کرتے ہیں کہ عطا سے سوال کیا گیا کہ کیا محرمہ شلوار پہن سکتی ہے، انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٥٧١٦)

١٢۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطا سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں بچہ ہو اور مرد اس کو پیٹ سے نکال لے ؟ انہوں نے کہا یہ مکروہ ہے۔ (ہمارے نزدیک مردہ عورت سے زندہ بچہ کو نکالنا ضروری ہے۔ سعیدی غفرلہ) (مصنف ابن ابی شعیبہ قم الحدیث : ٢٣٧٠٤)

١٣۔ حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی سے سوال کیا گیا کہ کیا اہل ایلہ پر جمعہ ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٥٠٦٢ )

١٤۔ سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر سے سوال کیا گیا کہ فصل اچھی ہونے تک کے ادھار پر ایک بکری کی دو بکریوں کے عوض بیع کی جائے، آیا یہ جائز ہے، حضرت عمر نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٠٤٣٨)

١٥۔ سلیمان بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حسن سے پوچھا ایک آدمی قل ھو اللہ احد اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا، کیا وہ اپنی قوم کو نماز پڑھائے اور پھر دہرالے ؟ انہوں نے کہا ہاں (ایسی صورت میں ہمارے نزدیک صحیح قاری کو امام بنانا ضروری ہے۔ سعیدی غفرلہ) (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٨٧٦٦ )

١٦۔ حصین بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے سوال کیا آیا میں حج کے چھ دن بعد عمرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے کہا اگر تم چاہو تو عمرہ کرلو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٣٠١٨)

١٧۔ جعفر بن بحیج بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے طاؤس سے سوال کیا میں نے عجلت سے دو دن میں حج کرلیا، کیا میں عمرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : ١٣٠١٩)

١٨۔ عبید اللہ بن ابی یزید بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عبید بن عمیر سے سوال کیا آیا کوئی شخص جہاد پر جاسکتا ہے جبکہ اس کے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک ناپسند کرتے ہوں ؟ انہوں نے کہا، نہیںْ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٣٤٥١ )

١٩۔ یونس بن خباب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے سوال کیا آیا بچوں کے گلوں میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، انہوں نے اس کی اجازت ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٤١ )

٢٠۔ بسام بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے سوال کیا آیا نرد (ایک قسم کا کھیل) کھیلنا جائز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (یہ اس صورت میں ہے جب اس میں ہار جیت پر شرط لگائی جائے) (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٦١٤٦ )

٢١۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ اہل واسط کے ایک بوڑھے نے ابو عیاض سے سوال کیا، آیا چوپائے کے زخم پر خنزیر کے بال رکھنا جائز ہے ؟ انہوں نے اس کو مکروہ کہا (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٦٨٨)

٢٢۔ خالد حذا بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ سے بیان کیا کہ ایک معلم تعلیم دیتا ہے اور اس پر اجرت لیتا ہے۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٠٨٢٤ )

٢٣۔ منصور بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم سے سوال کیا آیا میں دو سجدوں کے درمیان کچھ قرآت کروں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : ٨٨٤٣ )

٢٤۔ حماد بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ آیا سوئے ہوئے شخص کو نماز کا سترہ قرار دیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا نہیں، میں نے سوال کیا اور بیٹھے ہوئے شخص کو، کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٨٨٢)

٢٥۔ زید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا بہن کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٠٥٣٨)

٢٦۔ مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا ایک شخص نے دوسرے شخص کو بکری فروخت کی پھر اس سے پہلے کہ وہ بکری پر قبضہ کرتا اس نے کہا اس بیع کو واپس کرلو، خریدار نے انکار کیا اور کہا مجھے ایک درہم دو تو میں بیع فسخ کرلوں گا، آیا یہ جائز ہے ؟ تو ابراہیم نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٠٤٠٩)

٢٧۔ حمادبیان کرتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا آیا محرم چوہے کو مارسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ،۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٨٢٢ )

٢٨۔ الصباح بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن جبیر سے سوال کیا آیا محرم کپڑے فروخت کرسکتا ہےَ ؟ انہوں نے کہا ہاں ،۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٧٨٤)

٢٩۔ ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے سوال کیا آیا معصیت کی نذر کو پورا کیا جائے گا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٢١٥٤ )

٣٠۔ طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے مغرب کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے منع نہیں کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٧٣٨٦)

٣١۔ ہشام معیطی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الدرداء سے حج کے بعد عمرہ کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے حج کے بعد عمرہ کرنے کا حکم دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٣٠١٤)

٣٢۔ الصباح بن عبداللہ البجلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے سوال کیا آیا محرم ذبح کرسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٥١٨)

٣٣۔ ابو الزبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے پوچھا آیا محرم خوشبو سونگھ سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٦٠٥)

٣٤۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا آیا گندم کی آتے کے بدلہ میں بیع جائز ہے تو دونوں نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٠٢٥٩ )

٣٥۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا کہ ایک شخص دشمن کے علاقہ میں چلا جائے تو آیا وہ ان کی عورت سے نکاح کرسکتا ہے ؟ ایک نے کہا ہاں، دوسرے نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٧٦٨٧)

٣٦۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا آیا پیتل کو لوہے کے بدلہ میں ادھار فروخت کرنا جائز ہے ؟ ضماد نے کہا مکروہ ہے، اور حکم نے کہا کوئی حرج نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٢٥٣٨)

٣٧۔ ابو المنبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا ایک شخص کو بارش یا سخت سردی کی وجہ سے اہل زمہ کے ہاں جانے کی ضرورت پیش آجائے تو آیا وہ ان سے اجازت طلب کرے انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٥٩٧٨)

٣٨۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا آیا خنزیر کے بالوں کو استعمال کرنا جائز ہے تو دونوں نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٥٢٧٠)

٣٩۔ سلیمان بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ ایک شخص نے اہل ذمہ کی ایک عورت سے بیع کی، اس عورت کی کچھ رقم اس کے پاس بچ گئی اس نے اس عورت کو تلاش کیا وہ نہیں ملی آیا وہ اس رقم کو مسلمانوں کے بیت المال میں داخل کردے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣١٥٨٩)

٤٠۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا آیا کسی شخص کے لیے یہ جازئ ہے کہ وہ اپنے اور قبلہ کے درمیان مصحف رکھ لے ؟ تو دونوں نے کہا اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٤٥٨٠)

٤١۔ شعبہ کہتے ہیں میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا جب امام جمعہ کے خطبہ کے لیے باہر نکل آئے اور خطبہ شروع کردے اور جب منبر سے اتر آئے اور ابھی نماز شروع نہ کی ہو آیا ان دونوں وقتوں میں کلام کرنا جائز ہے ؟ حکم نے کہا مکروہ ہے اور حما نے کہا کوئی حرج نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٥٣١٧)

٤٢۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا سر پر کتنی بار مسح کیا جائے دونوں نے کہا ایک مرتبہ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٣ )

٤٣۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا آیا حائضہ عورت تسبیح، تہلیل اور تکبیر پڑھ سکتی ہے ؟ تو ان دونوں نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٧٢٦٨ )

٤٤۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا آیا نماز میں ناک کو ڈھانپنا جائز ہے ؟ تو ان دونوں نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٧٣١٤)

٤٥۔ یعقوب بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ ایک شخص کو روزے میں قے آجائے تو آیا وہ اس روزے کی قضا کرے گا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٩١٩٤)

٤٦۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حماد اور منصور سے سوال کیا آیا بغیر وضو کے بیت اللہ کا طواف کرنا جائز ہے ؟ تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٤٣٤٩ )

٤٧۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا کہ ایک عورت کسی شخص سے خلع کرے اور اس نے جو کچھ اس عورت کو دیا ہے وہ خلع کے عوض اس سے زیادہ طلب کرے تو آیا یہ جائز ہے، تو دونوں نے اس کو مکروہ کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٨٥١٥)

٤٨۔ زیاد بن ابی مسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے سوال کیا آیا زمین کو دراہم اور طعام کے عوض کرایہ پر دینا جائز ہے تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢١٤٦٢ )

٤٨۔ زیاد ابن اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے سوال کیا آیا زمین کو دراہم اور طعام کے عوض کرایہ پر دینا جائز ہے تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢١٤٦٢ )

٤٩۔ خصیف بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو آیا وہ (عدت سے پہلے) گھر سے نکل سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٨٨٦١ )

٥٠۔ حجاج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا آیا بیت اللہ کے گرد طواف کرتے ہوئے قرآن عظیم پڑھنا جائز ہے تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٥١٩٠)

٥١۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ایک انسان نے عطا سے سوال کیا کہ ایک روزہ دار نے سحری کی پھر نماز سے پہلے اس کو معلوم ہوا کہ اس کے دانتوں میں کوئی چیز ہے عطا نے اس میں اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٧٥٠٤)

٥٢۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عطا سے سوال کیا کہ میں مسجد میں آیا اور امام فرض پڑھا چکا تھا، آیا میں اس وقت فرض پڑھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لوں، انہوں نے کہا نہیں، بلکہ پہلے فرضح پڑھو، حق پہلے ادا کرو، پھر جو چاہو پڑھو میں نے کہا اگر میں جنگل میں ہوں ؟ انہوں نے کہا جنگل میں فرض سے پہلے جو چاہو پڑھ لو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٤٣٧)

٥٣۔ ابن طاؤس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا آیا ایک اونٹ کو دو انٹوں کے عوض ادھار خریدنا جائز ہے ؟ انہوں نے کہ انہیں اور اس بیع کو مکروہ کہا، پھر میرے والد نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا انہوں نے کہ کبھی ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہوتا ہے۔ (مصنف عبدالرزق رقم الحدیث : ١٤١٤٠، سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص ٢٨٧)

٥٤۔ ایوب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن المسیب سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے معصیت کی نذر مانی آیا وہ اس نذر کو پورا کرے ؟ ابن المسیب نے کہا وہ اس نذر کو پورا کرے، اس شخص نے پھر عکرمہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنی اس نذر کو پورا نہ کرے، وہ شخص دوبارہ ابن المسیب کے پاس گیا اور عکرمہ کے قول کی خبر دی، ابن المسیب نے کہا عکرمہ سے کہو کہ باز آجائے ورنہ میں اس کی پیٹھ پر کوڑے ماروں گا، وہ شخص پھر عکرمہ سے پاس گیا اور بتایا کہ ابن المسیب نے کیا کہا ہے، تب عکرمہ نے کہا جب تم نے اس کی بات مجھے پہنچائی ہے تو میرا جواب بھی اس کو پہنچا دو ، اسے کہو اس کو تو مدینہ کے امراء دھوپ میں کھڑا کر کے کوڑے مار چکے ہیں، پھر اس کو اپنی نذر بیان کر کے پوچھو کہ آیا یہ اللہ کی اطاعت ہے یا اس کی معصیت ہے ؟ اگر وہ کہے کہ یہ معصیت ہے تو اس سے کہو کہ تم نے اللہ کی معصیت کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ کہے کہ یہ اللہ کی اطاعت ہے تو اس سے کہو کہ تم نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ اللہ کی معصیت کو اللہ کی اطاعت گمان کیا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١ٍ ٥٨٢٦ )

٥٥۔ اسود بیان کرتے ہیں کے کعب کے پاس وحشی گدھے کے شکار کا گوشت لایا گیا انہوں نے اس کو کھانے کے متعلق حضرت عمر سے سوال کیا کہ وہ لوگ محرم تھے اور اس کو غیر محرم نے شکار کیا تھا کعب نے کہا ہم لوگوں نے اس کو کھالیا، حضرت عمر نے فرمایا اگر تم لوگ اس کو چھوڑ دیتے تو میں یہ سمجھتا کہ تم لوگوں میں تفقہ بالکل نہیں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٣٤١ )

٥٦۔ سالم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ میرے والد (حضرت ابن عمر) سے کہہ رہے تھے مجھ سے محرم لوگوں نے سوال کیا کہ غیر محرم لوگوں نے ان کو شکار کا گوشت ہدیہ کیا میں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کو کھا لیں، پھر میری حضرت عمر سے ملاقات ہوئی تو میں تو ان سے اس کے متعلق سوال کیا، حضرت عمر نے فرمایا تم نے ان کو کیا فتوی دیا تھا میں نے ان کو بتایا حضرت عمر نے فرمایا اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور فتوی دیتے تو میں تم کو کوڑے مارتا۔ ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا آپ کی اس میں کیا رائے ہے، حضرت ابن عمر نے کہا میں اس میں کیا کہوں عمر مجھ سے بہتر ہیں اور ابوہریرہ مجھ سے بہتر ہیں، عمرو بن دینار کہتے ہیں حضرت ابن عمر کی رائے یہ تھی کہ محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ ( مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٣٤٢، السنن الکبری ج ٥ ص ١٨٩)

٥٧۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ شام کے ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ وہ محرم ہو اور اس کو شکار کا گوشت دیا جائے تو آیا وہ اس کو کھا سکتا ہے ؟ حضرت ابوہریرہ نے اس کو فتوی دیا کہ تم اس کو کھا سکتے ہو، پھر میری حضرت عمر سے ملاقات ہوئی میں نے ان کو اس کا سوال اور اپنا جواب بتایا، حضرت عمر نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضۃ وقدرت میں میری جان ہے اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور فتوی دیتے تو میں تمہیں کوڑے مارتا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٣٤٤، السنن الکبری ج ٥ ص ١٨٨)

٥٨۔ حیات بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے سحری کے متعلق سوال کیا کہ ابھی رات تھی اور اس نے فجر کی اذا سنی حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ کھاتا رہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٧٣٧٠)

٥٩۔ مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ اہل زمہ کو دشمن نے قید کرلیا پھر مسلمانوں نے ان کو حاصل کرلیا، ان کا اب کیا حکم ہے، ابراہیم نے کہا ان کو غلام نہیں بنایا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٣٦٤ )

٦٠۔ ابن ابی نجیع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ جب تم حبشیوں کے علاقے میں گئے تو وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے، مسلمانوں نے کہا وہ ہم سے ہماری چیزوں کا دسواں حصہ وصول کرتے تھے، فرمایا جتنا وہ تم سے وصول کرتے تھے تم بھی ان سے اتنا وصول کرو۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠١٢١ )

٦١۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ آیا خصی آزاد عورت سے نکاح کرسکتا، ابن شہاب نے کہا کہ اگر عورت راضی ہو تو اس نکاح میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٧١٨)

٦٢۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ابن شہاب سے سوال کیا گیا کہ ایک نصرانی کے پاس باندی تھی اس سے اولاد ہوگئی پھر وہ مسلمان ہوگئی، ابن شہاب نے کہا اسلام کی وجہ سے ان کے درمیان علیحدگی ہوجائے گی اور اس کو اور اس کی اولاد کو آزاد قرار دیا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٩٥٨ )

٦٣۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے الصائبین کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے کہا وہ یہود اور نصاری کی ایک درمیان قوم ہے، ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان سے نکاح کرنا حلال ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٢٠٨)

٦٤۔ زہری بیان کرتے ہیں کہ ابن مسیب سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص پر حد لگائی گئی پھر کسی شخص نے اس حد کی وجہ سے اس کی مذمت کی انہوں نے کہا اگر اس نے سچی توبہ کی تھی تو اس مذمت کرنے والے کو تعزیر لگائی جائے گی۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٣٧٥٧ )

٦٥۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ابن شہاب سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا اور وہ اس وقت حاملہ تھی اس کا نفقہ (کھانے پینے کا خرچ) کس پر ہوگا ؟ ابن شہاب نے کہا حضرت ابن عمر کی رائے یہ تھی کہ اس کا خرچ اس کے خاوند کے ترکہ سے لیا جائے گا خواہ وہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ، لیکن ائمہ نے اس کا انکار کیا اور کہا اس کا خرچ اس کے ذمہ نہیں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٠٩٤، المحلی ج ١٠، ص ٢٨٩)

٦٦۔ مورق العجلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے سفر میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے کہا دو ، دو رکعت نماز پڑھو جس نے سنت کے خلاف کیا اس نے کفران نعمت کیا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٤٢٨١)

٦٧۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا گیا آیا ٹڈی کا کھانا جائز ہے، انہوں نے کہا وہ مکمل ذبح شدہ ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٧٥٣ )

٦٨۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے پنیر کے متعلق سوال کیا گیا جس کو مجوس بناتے ہیں، انہوں نے کہا میں نے اس کو مسلمانوں کے بازار میں نہیں پایا، میں نے اس کو خرید لیا اور اس کے متعلق سوال نہیں کیا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٧٨٥)

٦٩۔ ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے میت پر مشک لگانے کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے کہا کیا وہ تمہاری بہترین خوشبو نہیں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦١٣٩)

٧٠۔ ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا گیا کہ اگر ناتمام مردہ بچہ ساقط ہوجائے تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، انہوں نے کہا نہیں حتی کہ وہ آواز سے روئے جب وہ آواز سے روئے گا تو اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی اور اس کو وارث بھی بنایا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٥٩٩، سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٩ )

٧١۔ عبدالملک بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص کسی عورت کو اس کے خاوند کے لیے حلال کرنے کے قصد سے حلال کرے اس کا کیا حکم ہے فرمایا یہ زنا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٧٧٦، سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٨)

٧٢۔ حضرت ابن عمر سے متعہ کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے کہا یہ زنا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٤٠٤٢ )

٧٣۔ شعبی سے سوال کیا گیا آیا عورت نماز جنازہ پڑھ سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا عورت نماز جنازہ نہ پڑھے خواہ وہ حائضہ ہو یا پاک ہو۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٢٩٧)

٧٤۔ ابن طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میرے والد سے بچہ کے ذبیحۃ کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے کہا اگر وہ چھری پکڑ سکتا ہے تو جائز ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٥٥٥ )

٧٥۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عم سے استمناء کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے کہا وہ شخص اپنے نفس سے زنا کرنے والا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٣٥٨٧)

٧٦۔ عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا پھر اس نے اس عورت سے نکاح کا ارادہ کیا، آیا یہ جائز ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا اس کے لیے اس سے افضل توبہ نہیں ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح کرلے، وہ دونوں زنا سے نکل کر نکاح کی طرف آگئے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٧٩٥)

٧٧۔ موسیٰ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے زمین کو کرائے پر دینے کے متعلق سوال کیا گیا، انہوں نے کہا میری زمین اور میرا اونٹ برابر ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٤٤٥٨، سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ١٣٣)

٧٨۔ معمر بیان کرتے ہیں کہ حسن سے سوال کیا گیا آیا صراف کا طعام کھانا جائز ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہود اور نصاری کے بعد مبعوث کیا ہے، وہ سود کھاتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان کا طعام حلال کردیا ہے۔ (ہمارے نزدیک اس سے بچنا چاہیے کیونکہ صراف سونے چاندی کی ادھار بیع بھی کرتے ہیں اور یہ ممنوع ہے۔ سعیدی غفرلہ) (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٤٦٨١)

٧٩۔ صاعد بیان کرتے ہیں کہ شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص ایک جماعت کو نماز پڑھا رہا تھا، اس نے ایک یا دو رکعت نماز پڑھائی پھر وہ کسی چیز کو دیکھ کر ڈر گیا اور اس نے اپنی نماز توڑ دی۔ شعبی نے کہا وہ از سرنو نماز پڑھیں۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٣٦٥٨ )

٨٠۔ معمر بیان کرتے ہیں کہ زہری سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی تلوار سے ذبح کیا اور اس نے ذبیحہ کا سر کاٹ ڈالا۔ زہری نے کہا اس نے برا کام کیا، اس شخص نے پوچھا آیا وہ ذبیحہ کو کھالے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٦٠٠)

٨١۔ معمر بیان کرتے ہیں کہ زہری سے سوال کیا گیا کہ یتیم کے مال کے ساتھ کیا کیا جائے، زہری نے کہا اس کے مال میں سب صورتیں جائز ہیں، بعض لوگ اس کے مال سے قرض لے کر اس کی حفاظت کرتے تھے، تاکہ وہ مال ضائع نہ ہو اور بعض یہ کہتے کہ اس کا مال امانت ہے میں اس مال کو صرف اس کے مالک کو ادا کروں گا، اور بعض اس کے مال کو مضاربت میں لگا دیتے، ان میں سے ہر صورت نیت پر موقوف ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٧٠٠٠)

٨٢۔ علی بن حاکم بیان کرتے ہیں کہ شعبی سے سوال کیا کہ ایک شخص نے تکیہ کے اوپر اپنی بیوی کو طلاق لکھ دی ؟ انہوں نے کہا یہ جائز ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١١٤٤٠ )

٨٣۔ ابو خالد بیان کرتے ہیں کہ شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق واقع کرنے کا اختیار دیا وہ خاموش رہی، اس نے دوسری مرتبہ اختیار دیا وہ خاموش رہی اس نے تیسری بار اختیار دیا تو اس عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا، شعبی نے کہا اب وہ عورت اس کے اوپر حلال نہیں ہے حتی کہ وہ شوہر کے علاوہ کسی اور شخص سے نکاح کرلے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١١٩٩٥)

٨٤۔ ثوری بیان کرتے ہیں کہ شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے ایک معین جگہ تک کے لیے سو اوری کو کرایہ پر لیا، پھر اس جگہ کے آنے سے پہلے اس کا کام ہوگیا، شعبی نے کہا وہ اس جگہ کے حساب سے اجرت دے گا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٤٩٣٦)

٨٥۔ معمر بیان کرتے ہیں کہ زہری سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کسی کے ہاں مہمان ہوا اس نے ان کے ہاں خیانت کی، زہری نے کہا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٨٨٦٥ )

٨٦۔ عبید اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ سے سوال کیا گیا کہ بچہ کو حد کب لگائی جائے گی انہوں نے کہا جب اس کے زیر ناف بال نکل آئیں۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٨٧٣٦)

٨٧۔ ثوری بیان کرتے ہیں کہ حماد سے سوال کیا گیا کہ آیا میت کے ناخن کاٹنا جائز ہے، انہوں نے کہا یہ بتاؤ کہ اگر وہ غیر مختون ہو تو کیا تم اس کا ختنہ کرو گے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٢٣٣)

٨٨۔ ہمام بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ سے نشرہ (افسوں، منتر) کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا یہ شیطان کے عمل سے ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٧٦٢ )

٨٩۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے سوال کیا گیا کہ آدمی نے جس جگہ فرض نماز پڑھی ہو آیا وہیں نفل پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٣٩٢٤ )

٩٠۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنے منہ کو ڈھانپ کر نماز پڑھتا ہے ؟ انہوں نے کہا میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ وہ منہ کھول کر نماز پڑھے، کیونکہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے رب سے سرگوشی کرتے ہو۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٤٠٥٩ )

٩١۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے سوال کیا گیا کہ آیا نابینا شخص لوگوں کی امامت کرا سکتا ہے ؟ عطاء نے کہا اگر وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ فقیہ ہو تو وہ کیوں نہ نماز پڑھائے، ایک شخص نے عطاء سے کہا کہ الا یہ کہ وہ قبلہ میں خطا کرے، عطاء نے کہا اگر وہ خطاء کرے تو تم اس کو درست کردو، جب وہ زیادہ فقیہ ہو تو اسی کو نماز پڑھانی چاہیے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٣٨٣١)

٩٢۔ ابن حرملہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب سے سوال کیا گیا اگر محرم چچڑی کو قتل کردے تو اس پر کیا تاوان ہے، انہوں نے کہا ایک یا دو کھجور صدقہ کردے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٤٠٤)

٩٣۔ ابو عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سلمان سے سوال کیا گیا کہ آیا پنیر، جنگلی گدھے اور گھی کو کھانا جائز ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کا حلال وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے قرآن عظیم میں حلال کردیا اور اللہ کا حرام وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے قرآن مجید میں حرام کردیا، ان کے ماسوا جو چیزیں ہیں وہ مباح ہیں۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٧٦٥ )

٩٤۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے سوال کیا گیا کہ جو عورت اعتکاف میں بیٹھی ہو آیا وہ بناؤ سنگھار کرے ؟ انہوں نے کہا نہیں کیا وہ ارادہ کرتی ہے کہ اس کا خاوند اس کے ساتھ مباشرت کرے، انہوں نے کہا وہ ایسا کیوں کرتی ہے۔ اعتکاف تو عبادت ہے اور عورت اپنے خاوند کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے اور خوشبو لگاتی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨١٠٤)

٩٥۔ بکار بیان کرتے ہیں کہ طاؤس سے سوال کیا گیا کہ فریضہ حج ادا کرنے کے بعد مزید حج کرنا افضل ہے یا صدقہ کرنا ؟ انہوں نے کہا، کہاں احرام باندھنا، سفر کرنا، شب بیداری کرنا، اللہ کی راہ میں تھکنا، بیت اللہ کا طواف کرنا، حرم میں نماز پڑھنا، میدان عرفات میں وقوف کرنا، مزدلفہ میں وقوف کرنا، رمی جمار کرنا، گویا وہ کہتے تھے حج افضل ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٨٢٢ )

٩٦۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی مشرک کسی مسلمان کے پاس بغیر کسی معاہدہ کے آجائے ؟ انہوں نے کہا اس کو اختیار ہے چاہے اسے اپنے پاس رکھ لے اور چاہے اس کو اس کے ٹھکانے پر پہنچا دے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٦٥٢ )

٩٧۔ علقمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے عزل کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے کہا اگر اللہ نے آدم کی پشت میں کسی روح سے میثاق لے لیا ہے تو اگر وہ اپنے نطفہ کو پتھر پر گرا دے تو اللہ تعالیٰ اس پتھر سے بچہ پیدا کردے گا، تم عزل کرو یا نہ کرو۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٥٦٨ )

٩٨۔ ابو الضحی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن معقل سے سوال کیا گیا کہ کسی شخص نے کسی کانے کی کانی آنکھ نکال دی ؟ انہوں نے کہا اس میں نصف دیت ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٧٤٣٥)

٩٩۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ ایک ماہ تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا، پھر وہ پانچ ماہ تک اس کے قریب نہیں گیا ؟ انہوں نے کہا یہ ایلاء نہیں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١١٦٢٠ )

١٠٠۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے سوال کیا گیا کہ کسی شخص کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنے نوکر کو رمضان میں روزے نہ رکھنے پر مجبور کرے ؟ انہوں نے کہا نہیں، اس نے کہا کیا بکریاں چرانے والے کے لیے روزنہ رکھنے کی رخصت ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے اس کے لیے رخصت نہیں سنی۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٧٥٦٩ )

غیرمقلد علماء کی عبارات سے تقلید پر استدلال :

ہم نے فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) سے تقلید پر استدلال کیا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ جب تمہیں کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اس کے متعلق اہل علم سے سوال کر اور ہم نے جو ایک سو آثار صحابہ اور اقوال تابعین پیش کیے ہیں ان میں اسی چیز کا بیان ہے اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین اور ان کے اتباع سب یہی سمجھتے تھے کہ اس آیت کا یہی معنی ہے اس کے برخلاف غیر مقلدین یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس آیت میں مطلق سوال کرنے کا حکم ہے یا عام چیزوں کے متعلق سوال کرنے کا حکم ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ تم پیش آمدہ مسائل میں اہل علم سے کتاب اور سنت کے دلائل یا کتاب اور سنت کی تصریحات کا سوال کرو، حالانکہ ان مذکور الصدر آثار سے واضح ہوگیا ہے کہ تابعین اور تبع تابعین ان سے اپنے پیش آمدہ مسائل میں رجوع کرتے تھے اور ان سے کتاب اور سنت سے دلائل دینے کا مطالبہ نہیں کرتے تھے کیونکہ انہیں ان پر اعتماد تھا کہ وہ اپنے اجتہاد سے جو بھی فتوی دیں گے وہ کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہوگا اور اسی معنی میں مقلدین اپنے ائمہ کی تقلید کرتے ہیں۔

حافظ عبداللہ روپڑی متوفی ١٣٨٤ ھ تقلید کے خلاف بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اور تقلید فی نفسہ بھی بدعت ہے محدث ہے کیونکہ ہم قطعا جانتے ہیں کہ صحابہ کے زمانہ میں کسی شخص کا مذہب معین نہیں تھا، جو اس کو حاصل کیا جائے یا اس کی تقلید کی جائے اور سوا اس کے نہیں کہ حادثوں میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے تھے جبکہ کتاب و سنت میں دلیل نہ ملتی، اور اسی طرح تابعین کی حالت تھی وہ بھی کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے تھے، پس اگر کوئی مسئلہ کتاب و سنت میں نہ پاتے تو اس بات کو دیکھتے جس پر صحابہ کا اجماع ہے، اگر اجماع بھی نہ پاتے تو اپنے طور پر اجتہاد کرتے اور بعض صحابی کے قول کو لیتے اور اس کو اللہ کے دین میں اقوی سمجھتے۔ (فتاوی اہل حدیث ج ١ ص ٦١۔ مطبوعہ ادارہ احیاء السنہ النبویہ سرگودھا، ١٤٠٤ ھ)

حافظ روپڑی نے لکھا ہے پیش آمدہ مسائل میں صحابہ اور تابعین کا عام اور غالب طریقہ یہ تھا کہ وہ کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے تھے یعنی کسی کے قول پر عمل نہیں کرتے تھے اور ہم نے جو ایک سو آثار صحابہ اور اقوال تابعین پیش کیے ہیں ان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ حافظ روپڑی کا یہ کہنا خلاف واقع ہے۔ 

ظاہر ہے کہ غیر مقلدین عوام میں سے ہر شخص قرآن و سنت سے براہ راست مسائل کا استخراج نہیں کرسکتا اور وہ پیش آمدہ مسائل میں اپنے علماء کی طرف رجوع کرتا ہے اور ان سے فتوے طلب کرتا ہے اور وہ بھی ہر فتوی میں قرآن و حدیث سے دلائل پیش نہیں کرتے بلکہ اس مسئلہ کا حکم بتاتے ہیں، سو غیر مقلدین بھی اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان علماء کا علم امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کے پائے کا نہیں ہوتا تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ان عام علماء کی بجائے ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک تقلید کرلی جائے۔

ہم نے ابھی حافظ روپڑی کی یہ عبارت نقل کی ہے کہ حادثوں (پیش آمدہ مسائل) میں کتاب و سنت یا اجماع کی طرف رجوع کرنا چاہیے، حافظ روپڑی کا فتاوی اہل حدیث کے نام سے ایک مجموع فتاوی ہے ہم نے یہ دیکھا ہے کہ حافظ روپڑٰ نے بہت سے سوالات کے جوابات میں صرف اپنا قول نقل کیا ہے اور قرآن و سنت سے دلائل نہیں دیے، اور سائلین نے ان کے اقوال پر ہی عمل کیا ہوگا۔ علماء غیر مقلدین کے دیگر مجموع ہائے فتاوی کا بھی یہی حال ہے تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ حافظ روپڑی، شیخ نذیر حسین دہلوی اور شیخ عبدالستار کے اقوال کی تقلید کرنے کی بجائے عوام غیر مقلدین ائمہ اربعہ میں سے کسی امام کی تقلید کریں جن کے اقوال پر کتاب و سنت سے دلائل موجود ہیں اور اس موضوع پر بیسیوں کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔

اب ہم فتاوی اہل حدیث سے چند مثالیں پیش کر رہے ہیں جن میں حافظ روپڑی نے کتاب و سنت سے دلائل پیش کرنے کی بجائے صرف اپنے اقوال پیش کیے ہیں :

١۔ سوال : پانی میں پاک شے پڑجائے اور اس کا رنگ، بو، مزا بدل جائے کیا اس پانی سے غسل و وضو ہوسکتا ہے ؟

جواب : پانی میں پاک شے پڑنے سے بعض دفعہ اس کا نام کچھ اور ہوجاتا ہے۔ مثلا شربت یا عرق یا لسی وغیرہ تو اس سے وضو اور غسل نہیں ہوگا، ہاں اگر پانی کا نام نہ بدلے جیسے کنویں میں پتے گرنے سے رنگ بو، مزا بدل جاتا ہے مگر اس کا نام پانی ہی رہتا ہے، دوسرا نام اس پر نہیں بولا جاتا اس لیے اس سے وضو یا غسل وغیرہ بالاتفاق درست ہے۔ (فتاوی اہل حدیث : ج ١ ص ٢٣٥، مطبوعہ سرگودھا)

٢۔ سوال : کوئی شخص اپنی دکان کا سامان خریدنے کے لیے دوسرے شہروں کو جاتا ہے کیا وہ دوگانہ پڑھ سکتا ہے۔ اگر پڑھ سکتا ہے تو اپنے شہر سے کتنے فاصلے پر جاکر دوگانہ پڑھے ؟

جواب : دکان کے لیے سامان خریدنے کے لیے یا کسی اور ضرورت کے تحت سفر پر وانہ ہو تو وہ دوگانہ پڑھے سکتا ہے۔ سفر خواہ ریل کا ہو یا لاری کا، جب اپنے گاؤں یا شہر کی حدود سے نکل جائے تو وہ دوگانہ شروع کردے کیونکہ حدود سے نکلتے ہی دوگانہ شروع ہوجاتا ہے۔ (فتاوی اہل حدیث۔ ج ١ ص ٥٩٠، مطبوعہ سرگودھا)

٣۔ سوال : جن گھڑوں اور برتنوں کی مٹی لید یا گوبر کے ساتھ گوندھی گئی ہو تو ان کا استمال جائز ہے یا نہیں ؟

جواب : جن گھڑوں اور برتنوں کی مٹی لید اور گوبر سے گوندھی جائے تو وہ برتن پاک ہیں اول تو پکنے سے وہ چیز جل جاتی ہے، صرف مٹی رہ جاتی ہے دوسرے گوبر وغیرہ کو ماکول اللحم جانور کا پاک ہے۔ (فتاوی اہل حدیث : ج ١ ص ٥٩٠، مطبوعہ سرگودھا)

٤۔ سوال : کارخانہ یا مشین پر زکوۃ ہے ؟

جواب : کارخانہ یا مشین جس میں مال تیار ہو کر نکلتا ہے، اس کی قیمت مال تجارت میں نہیں لگائی جائے گی، کیونکہ یہ ذریعہ کسب ہے جیسے اوزار ہوتے ہیں، پس اس میں صرف تیار شدہ مال اور غیر تیار شدہ مال کی قیمت لگائی جائے گی۔ (فتاوی اہل حدیث : ج ١ ص ١٨٧، مطبوعہ سرگودھا)

٥۔ سوال : جو شخص مقروض ہو کیا اس پر زکوۃ ہے ؟

جواب : اگر اور جائیداد ہو جس سے قرض ادا ہوسکتا ہو تو زکوۃ دینی پڑے گی ورنہ نہیں۔ (فتاوی اہل حدیث : ج ٢ ص ١٩٠، مطبوعہ سرگودھا)

٦۔ سوال : بیر بہوٹی، کچھوا، جونک، قضیب گاؤ (بیل کا آلہ تناسل) قضیب ریچھ، چربی شیر مذکور بالا اشیاء کا استعمال بطور دوائی جائز ہے ؟

جواب : بیر بوٹی، کیچوے، جونکیں اور اسی قسم کی دوسری اشیاء جن میں دم سائل (وہ خون جو ذبح کے وقت بہہ جاتا ہے) نہیں وہ سب پاک ہیں اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مکھی برتن میں یا کھانے میں گرجائے تو اس کو ڈبو دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے دوسرے میں بیماری ہے۔ (الی قولہ) سانڈھا گوہ کی قسم ہے اس کا استعمال بھی ہر طرح سے جائز ہے، نیز کچھوے کا کھانے کے علاوہ استعمال میں کوئی حرج نہیں، قضیب گاؤ، حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے مگر یہ مذہب صحیح نہیں ہے بلکہ ماکول اللحم کا گوبر پیشاب تک پاک اور حلال ہے، ریچھ اور شیر چونکہ قطعا حرام ہیں اس لیے ریچھ کی قضیب (آلت) اور شیر کی چربی وغیرہ بھی اسی حکم میں ہیں، ہاں کھانے کے علاوہ کسی اور طریق سے استعمال منع نہیں کیا جاتا۔ (فتاوی اہل حدیث : ج ١ ص ٥٦٦، مطبوعہ سرگودھا)

فتاوی اہل حدیث سے جوابات نقل کیے گئے ہیں ان میں جوابات پر کتاب و سنت سے تصریحات پیش نہیں کی گئیں اور نہ ان پر اجماع صحابہ سے استدلال کیا گیا ہے یہ محض غیر مقلدین علماء کے اقوال ہیں۔ سو ان اقوال پر جو لوگ عمل کریں گے وہ بھی مقلد ہیں ہوں گے، غیر مقلد نہیں ہوں گے، یہ اور بات ہے کہ ہم ائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں اور یہ اس زمانہ کے مولویوں کی تقلید کرتے ہیں جن کے علم و فضل اور زہد وتقوی کی ائمہ اربعہ کے علم و فضل اور زہد وتقوی کے مقابلہ میں کوئی نسبت نہیں ہے اور کوئی صاحب انصاف اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکے گا۔

اب ہم پہلے تقلید کی ضرورت کو بیان کریں گے، پھر تقلید شخصی پر دلائل دیں گے اور اس کے بعد تقلید کے جواز پر مستند علماء کی تصریحات اور تقریرات کو بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق و بہ الستعانۃ یلیق۔

تقلید کی ضرورت :

یہ صحیح ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر تمام احکام بیان کردیئے ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہر شخص کے لیے یہ عادتا ممکن نہیں ہے کہ وہ بذات خود تمام احکام شرعیہ قرآن مجید کی آیات سے مستنبط کرسکے، کیونکہ اول تو قرآن مجدی کو سمجھنے کے لیے لغت عربی، صرف و نحو اور علم بلاغت کو حاصل کرنا ایک طویل اور صبر آزما کام ہے، پھر قرآن مجید میں بعض جگہ تو احکام صراحتا امر اور نہی کے صیغہ سے بیان کیے گئے ہیں اور بعض جگہ امر اور نہی کا صیغہ نہیں استعمال کیا گیا بلکہ مختلف اسالیب سے کسی چیز کا وجوب یا تحریم سمجھ میں آتی ہے، جس کو جاننے کے لیے بہت باریک بینی اور دقت نظری کی ضرورت ہے۔ مثلا قرآن مجید میں شراب اور جوئے کو صراحتا حرام نہیں فرمایا بلکہ ایک خاص اسلوب سے فرمایا :

یا ایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاف والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلم تفلحون۔ انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون۔ (المائدہ : ٩٠، ٩١) اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں پر جانوروں کی بھینٹ اور پانسے پھینکنا یہ سب محض ناپاک اور شیطانی کام ہیں ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو۔ شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرے اور تم کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکے، کیا اب تم باز آجاؤ گے ؟

قرآن مجید بعض اوقات کسی مسئلہ کی لم اور علت بیان کردیتا ہے اس کی شرائط اور موانع ذکر نہیں کرتا، نہ اس کی تمام جزئیات بیان کرتا ہے۔ مثلا خمر (انگور کی شراب) کے بیان میں اس کے نشہ آور ہونے کا ذکر فرمایا ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے نہ یہ فرمایا ہے کہ نشہ آور چیز کو مقدار نشہ تک پینا حرام ہے یا اس کا مطلقا پینا حرام ہے ؟ نشہ آور چیز پر حد ہے یا نہیں ؟ اگر حد ہے تو کتنی ہے ؟ ان تمام جزئیات اور تفصیلات کو جاننا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔

قرآن مجید میں کبھی کوئی حکم اجمالا بیان کیا جاتا ہے جس کی تفصیل متعین کرنے کے لیے دلائل کی چھان بین کرنا عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وامسحوا بروسکم۔ (المائدہ : ٦١) اپنے سروں کا مسح کرو۔

اس آیت سے یہ پتا نہیں چلتا کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے یا چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے یا ایک بال پر مسح کرنے سے بھی فرض ادا ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید میں کہیں ایک حکم کو مطلقا بیان کیا جاتا ہے اور کہیں وہی حکم مقید کا ذکر ہوتا ہے، مثلا قرآن مجید میں ہے :

انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ۔ (البقرہ : ١٧٣) تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے حرام کیا گیا ہے۔

اس آیت میں مطلقا خون کو حرام قرار دیا ہے اور ایک جگہ یوں ہے :

الا ان یکون میتۃ او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس۔ (الانعام : ١٤٥) مگر یہ کہ مردار ہو یابہنے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت کیونکہ یہ ناپاک ہیں۔

اس آیت میں مطلقا خون نہیں بلکہ بہنے والا خون حرام فرمایا ہے، اسی طرح کفارہ ظہار میں غلام آزاد کرنے اور دو ماہ تک مسلسل روزوں کے ساتھ قبل از مباشرت کی قید ہے اور کھانا کھلانے کے ساتھ یہ قید نہیں ہے، ان صورتوں میں کیا مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا یا نہیں، یہ ایک بہت مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ 

قرآن مجید کی بعض آیا کا حکم منسوخ ہوگیا مثلا بیوہ عورت کی عدت اس آیت میں ایک سال بیان کی گئی ہے :

والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج۔ (البقرہ : ٢٤٠) جو لوگ تم میں فوت ہوجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے لیے نکالے بغیر ایک سال کی وصیت کر جائیں۔

اور ایک اور آیت میں بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن بیان کی گئی ہے :

والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر عشرا۔ (البقرہ : ٢٣٤) 

اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان میں کون سی آیت نساخ ہے اور کونسی منسوخ ہے، یہ عام آدمی کے بس سے باہر ہے، اس قسم کی علمی باریکیاں اور فقہی پیچیدگیاں بہت زیادہ ہیں۔ ان چند مثالوں سے باقی مشکلات کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

احادیث سے احکام مستنبط کرنے میں ایک دشواری یہ ہے کہ احادیث مختلف اسانید سے مروی ہیں جن میں سند متواتر سے لے کر سند غریب تک اور سند صحیح سے لے کر سند ضعیف تک احادیث ذخیرہ کتب میں موجود ہیں، بلکہ موضوع روایات بھی ہیں جس طرح ایک جیسی شیشیوں میں ایک جیسا سفید رنگ کا مائع مادہ ہو اور ہر مادہ کی تاثیر الگ الگ ہو، کوئی مادہ کسی مرض میں مفید ہو اور دوسرا مادہ اس میں مضر ہو تو ان مادوں اور دواؤں کو باہم متمیز کرنے کے لیے کیمسٹری کے کسی بہت بڑے ماہر کی ضرورت ہوگی جو مختلف کیمیائی تجربات کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ کون سی شیشی میں کون سی دوا ہے اسی طرح جب کوئی شخص علم حدیث میں مہارت حاصل کیے بغیر احادیث پر عمل کرے گا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں کسی ضعیف یامنسوخ روایت پر عمل کرے گا۔

احادیث سے احکام مستنبط کرنے میں ایک ضرورت یہ ہے کہ احادیث سے احکام شرعیہ حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ احکام سے متعلق احادیث پر اس کو عبور ہو کیونکہ جس حدیث پر وہ عمل کر رہا ہے ہوسکتا ہے دوسری جگہ اس کے خلاف حدیث ہو جس سے وہ حکم منسوخ ہوگیا ہو یا اس حدیث کے حکم کی تفصیل دوسری حدیث میں موجود ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی مسئلہ میں حدیث نہ ملنے کی بناء پر وہ قیاس کر رہا ہو حالانکہ اس مسئلہ میں حدیث موجود ہے، اس لیے احادیث سے احکام حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ احکام سے متعلق تمام احدیث اس کی نظر میں ہوں، اور یہی حال قرآن مجید سے احکام حاصل کرنے کا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور حدیث سے احکام حاصل کرنے کے لیے جس وسعت علم اور دقت نظری کی ضرورت ہے یہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے اور صرف ائمہ مجتہدین ہی اس پر آشوب گھاٹی کے پار اتر سکتے ہیں۔ اس لیے عام آدمی کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید کرے۔ (بقیہ تفسیر اگلی آیت (پوسٹ ) میں ملاحظہ کریں)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 43