أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوۡءِ‌ۚ وَلِلّٰهِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى‌ ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ۞

ترجمہ:

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لائے ان ہی کی بری صفات ہیں اور اللہ کی بہت بلند صفات ہیں اور وہی بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لائے ان ہی کی بری صفات ہیں اور اللہ کی بہت بلند صفات ہیں اور وہی بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے۔ (النحل : ٦٠ )

اللہ تعالیٰ کے لیے اچھی صفات کا معنی اور اللہ کے اسماء کا توقیفی ہونا :

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اس سے مراد وہ کافر ہیں جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، پھر فرمایا ان ہی کی بری صٖفات ہیں، یعنی یہ لوگ جاہل اور کافر ہیں، جاہل اس لیے کہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہوسکتی کیونکہ اولاد والد کی جنس سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ واجب اور قدیم ہے اور اس کی اولاد واجب اور قدیم نہیں ہوسکتی کیونکہ اولاد والد سے متاخر ہوتی ہے اور والد کے بعد حادث اور ممکن ہوتی ہے اور جو کسی سے متاخر اور ممکن اور حادث ہو وہ واجب اور قدیم نہیں ہوسکتا، جبکہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کا جواب اور قدیم ہونا ضروری تھا کیونکہ اولاد والد کی جنس سے ہوتی ہے۔ اور وہ کافر اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرنا کفر ہے، اور بری صفت کا ایک معنی یہ ہے کہ ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہوگا، اور فرمایا اللہ کی بہت بلند مثالیں ہیں، یعنی بہت بلند صفات ہیں، جیسے قرآن مجید میں ہے :

اللہ نور السموات والارض۔ (النور : ٣٥) اللہ آسمانوں اور زمینوں کو منور کرنے والا ہے۔ 

الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔ (الحشر : ٢٣) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سلامت ہے، امان دینے والا، نگہبان، بہت غالب، نہایت عظمت والا، سب پر بڑائی رکھنے والا۔

ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی۔ (الحشر : ٢٤) وہی ہے اللہ، پیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا، صورت بنانے والا، سب اچھے نام اسی کے لیے ہیں۔

یہاں پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فلا تضربوا للہ الامثال۔ (النحل : ٧٤) سو تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔

زیر تفسیر آیت میں فرمایا ہے اللہ کے لیے بلند مثالیں ہیں اور اس آیت میں مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا ہے، اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اللہ کی ایسی مثالیں بیان نہ کرو جو نقص اور عیب کی موجب یا موہم ہوں اور ایسی صفات یا مثالیں بیان کرو جن کی مخلوق میں کسی کے ساتھ مشابہت نہ ہو، دوسرا جواب یہ ہے کہ تم از خود اللہ کی کوئی مثال یا صفت بیان نہ کرو، اللہ تعالیٰ نے جو خود اپنی مثالیں یا صفات بیان کی ہیں صرف ان ہی پر اکتفا کرو، اس آیت سے بھی اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء سماع شرع پر موقوف ہیں قرآن اور حدیث میں جن اسماء کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق آیا ہے، اللہ تعالیٰ پر صرف ان ہی کا اطلاق جائز ہے اور اپنی عقل سے اللہ تعالیٰ پر کسی صفت یا کسی مثال کا اطلاق جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا علام کہنا جائز ہے علامہ کہنا جائز نہیں ہے، بعض پڑھے لکھے لوگ بھی اللہ میاں کہتے ہیں یہ جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ یا اللہ عزوجل کہنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 60