أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡۢ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا وَّجَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ‌ۙ وَمِنۡ اَصۡوَافِهَا وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے تمہاری رہائش کے لیے تمہارے گھر بنائے، اور تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے خیمے بنائے، جن کو تم ہلکا پھلکا دیکھ کر سفر کے دن اور اقامت کے دن کام میں لاتے ہو اور ان (مویشیوں) کے اون اور ریشم اور بالوں سے ایک معین وقت تک فائدہ اٹھانے کے لیے گھریلو چیزیں بناتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے تمہاری رہائش کے لیے تمہارے گھر بنائے، اور تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے خیمے بنائے، جن کو تم ہلکا پھلکا دیکھ کر سفر کے دن اور اقامت کے دن کام میں لاتے ہو اور ان (مویشیوں) کے اون اور ریشم اور بالوں سے ایک معین وقت تک فائدہ اٹھانے کے لیے گھریلو چیزیں بناتے ہو۔ اور اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے تمہارے فائدہ کے لیے سایہ دار چیزیں بنائیں اور اس نے تمہارے لیے پہاڑوں میں محفوظ غار بنائے اور تمہارے لیے ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے لباس و زرہیں بنائے جو تم کو حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں، وہ تم پر اسی طرح اپنی نعمت پوری کرتا ہے تاکہ تم اس کی اطاعت کرو۔ پھر اگر یہ روگردانی کریں تو آپ کا کام تو صرف وضاحت کے ساتھ (اللہ کے احکام کو) پہنچا دینا ہے۔ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں (اس کے باوجود) پھر ان کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کافر ہیں۔ (النح : ٨٣۔ ٨٠)

مشکل الفاظ کے معانی :

سکنا : مسکن جس میں تم رہتے ہو۔

بیوتا تستخفونھا یوم ظعنکم ویوم اقامتکم۔ ہلکے پھلکے خیمے تمہارے سفر اور تمہارے قیام کے دنوں میں، جب خانہ بدوش لوگ پانی اور چارہ کی تلاش میں سفر کرتے ہیں۔

اصواف : صوف کی جمع ہے، بھیڑوں کے بال جس کو اون کہتے ہیں، اوبار، وبر کی جمع ہے، اونٹ کے بال اس کو پشم کہتے ہیں۔ اشعار، شعر کی جمع ہے اس کا معنی ہے بکریوں کے بال۔

اثاثا : گھر کا سازو سامان مثلا بستر اور کپڑے وغیرہ، اثاث کا واحد من لفظہ نہیں ۃ ے۔

متاعا : نفع والی چیزیں جن کی تجارت کی جاتی ہے جو کچھ عرسہ تک باقی رہ سکیں۔

ظلالا : ظل کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ نے جو سایہ دار چیزیں پیدا کی ہیں، مثلا بادل، درخت، پہاڑ وغیرہ۔ آدمی سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے ان میں پناہ حاصل کرتا ہے۔

اکنانا : کن کی جمع ہے، جس میں انسان چھپتا ہے، کسی پہاڑ میں کوئی غار ہو یا سرنگ ہو۔

سرابیل : سربال کی جمع ہے، قمیص کو کہتے ہیں خواہ سوتی ہو یا اونی اور سرابیل الحرب زردہوں کو کہتے ہیں سربال کا لفظ ہر قسم کے لباص کو عام ہے۔

باس : اصل میں شدت کو کہتے ہیں خواہ وہ جنگ کی شدت ہو یا موسم کی شدت ہو۔

مذکورہ آیات کا خلاصہ :

یہ آیتیں بھی گزشتہ آیات کا تتمہ ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل بیان کیے گئے تھے، اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ پہلی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کان، اس کی آنکھیں اور دل و دماغ بنائے جب وہ پیدا ہوا تو اس کو کسی چیز کا علم نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو علم اور معرفت سے نوازا، اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جن نعمتوں سے انسان اپنی دنیاوی زندگی میں فائدہ حاصل کرتا ہے۔ مثلا وہ رہنے کے لیے اینٹوں، پتھروں، سیمنٹ، لوہے اور لکڑی سے مکان بناتا ہے اور یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ جنگلوں میں سفر کے لیے وہ ہلکے پھلکے خیمے لے جاتا ہے، قدیم زمانہ میں مویشیوں کی کھالوں کے خیمے بنائے جاتے تھے اب کنویس یا اور کسی مضبوط کپڑے کے خیمے بنائے جاتے ہیں یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیںِ اور ان مویشیوں کے بالوں، اون اور رشیم سے انسان اپنے لباس بناتا ہے جن سے موسم کی شدت کو دور کرتا ہے، خواہ سخت گرمی ہو یا سخت سردی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر سخت گرمی کا ذکر فرمایا کیونکہ عرب کے لوگ عموما سردی سے ناآشنا تھے، انہوں نے کبھی برف باری نہیں دیکھی تھی، ان کے لیے سخت سردی کا پڑنا بہت حیران کن ہوتا، تاہم ایک چیز سے اس کی ضد سمجھ میں آجاتی ہے سو جس طرح لباس انسان کو سخت گرمی سے بچاتا ہے اسی طرح سخت سردی سے بھی بچاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح اللہ تم پر اپنی نعمت مکمل فرماتا ہے تاکہ تم اپنی زندگی کی ضروریات میں اور اپنی مصلحتوں میں اور اپنی عبادتوں میں ان چیزوں سے مدد حاصل کرسکو تاکہ تم اس کی اطاعت کرو۔ یعنی ان نعمتوں کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول برحق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ، اور اگر وہ و روگردانی کریں یعنی ان نعمتوں کا بیان سننے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات کو نہ پہچانیں تو آپ کا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ آپ کا منصب کسی کو جبرا مومن بنانا نہیں ہے، آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غم نہ کریں، ان میں سے اکثر لوگ ضدی اور سرکش ہیں وہ حق کو ماننے والے نہیں ہیں عناد اور ہٹ دھرمی سے کفر کرنے والے ہیں۔

ہڈی کے نجس ہونے کے متعلق علامہ قرطبی کے دلائل :

ان آیتوں میں مویشیوں سے حاصل ہونے والے اون، پشم اور بالوں کا ذکر ہے۔ علامہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ جانوروں کے بالوں کے متعلق مذاہب فقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ مردار کے بال اور اس کا اون پاک ہے اور ان سے ہرحال میں نفع حاصل کرنا جائز ہے البتہ استعمال سے پہلے اس کے بالوں اور اون کو دھو لیا جائے گا، اس خوف سے کہ اس کے ساتھ کوئی میل لگا ہوا نہ ہو۔ اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردار کی کھال کو جب رنگ لیا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کے اون، اس کے بالوں اور اس کے سینگھوں کو استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جب ان کو دھو لیا جائے۔ اس حدیث کی سند میں یوسف بن اسفر متروک الحدیث ہے اور اس کے سوا اور کسی نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (سنن دار قطنی ج ١ ص ٤٦، رقم الحدیث : ١١٣، السنن الکبری للبیہقی ج ١ ص ٢٤، حافظ الہیثمی نے لکھا کہ یوسف اسفر کے ضعف پر اجماع ہے، مجمع الزوائد ج ١ ص ٢١٨، امام ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ ابو زرعہ اور النسائی نے کہا کہ یہ متروک الحدیث ہے، رحیم نے کہا یہ کچھ بھی نہیں، امام ابن حبان نے کہا اس حدیث سے استدلال کرنا کسی حال میں جائز نہیں۔ التحقیق ج ١ ص ٩٠، ٩١)

علامہ قرطبی اس حدیث سے استدلال کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

بالوں میں موت حلول نہیں کرتی خواہ وہ بال اس جانور کے ہوں جس کا کھانا حلال ہے یا اس جانور کے ہوں جس کا کھانا حلال نہیں ہے۔ مثلا انسان کے بال ہوں یا خنزیر کے، تمام قسم کے بال پاک ہیں امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے لیکن انہوں نے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ جانور کے سینگھ، اس کے دانت اور اس کی ہڈی بالوں کی مثل ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا ان میں سے کسی چیز میں روح نہیں ہوتی اس لیے حیوان کی موت سے یہ چیزیں نجس نہیں ہوں گی۔

امام شافعی سے اس مسئلہ میں تین روایات ہیں :

١۔ بال پاک ہیں اور موت سے نجس نہیں ہوتے۔ (٢) بال نجس ہیں۔ (٣) انسان اور حیوان کے بالوں میں فرق ہے۔ انسان کے بال پاک ہیں اور حیوان کے بال نجس نہیں۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مطلقا فرمایا : ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا (النحل : ٨٠) اور ان (مویشیوں) کے اون اور پشم اور بالوں سے ایک معین وقت تک فائدہ اٹھانے کے لیے گھریلوں چیزیں بانتے ہو۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے فائدہ حاصل کرنے کو ہم پر احسان قرار دیا ہے اور ذبح شدہ جانور اور اس کے غیر میں فرق نہیں فرمایا، لہذا یہ آیت مویشیوں سے فائدہ حاصل کرنے کے جواز میں عام ہے سوا اس کے کہ کسی خاص دلیل سے ممانعت ثابت ہو۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ مویشیوں کی موت سے پہلے تو ان کے بال اسل کے مطابق پاک تھے اور ان کے پاک ہونے پر اجماع ہے، اب جس شخص کا یہ زعم ہے کہ موت کے بعد ان میں نجاست منتقل ہوگئی اس پر دلیل پیش کرنا لازم ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن کریم میں ہے :

حرمت علیکم المیتۃ۔ (المائدہ : ٣) تم پر مردار حرام کردیا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ مردار حرام اور نجس ہے لہذا موت کے بعد اس کے بال بھی نجس ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کے عموم سے بال خارج ہیں اور اس پر دلیل سورة النحل کی یہ آیت ہے جس میں مویشیوں کے بال، پشم اور اون سے فائدہ حاصل کرنے کو جائز فرمایا ہے۔ اس آیت میں اون وغیرہ سے فائدہ حاصل کرنے پر نص صریح ہے جبکہ معترض کی پیش کردہ آیت میں مردار کا ذکر ہے اس کے بالوں کا صریح ذکر نہیں ہے۔ 

امام ابو اسحاق شافعی نے یہ کہا ہے کہ بال پیدائشی طور پر حیوان کے ساتھ متصل اور اس کا جز ہوتے ہیں اور حیوان کے بڑھنے کے ساتھ اس کے بال بڑھتے ہیں اور اس کی موت سے جیسے اس کے باقی اجزا نجس ہوتے ہیں، اس کے بال بھی نجس ہوجاتے ہیں۔ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ نشو ونما حیات کی دلیل نہیں ہے کیونکہ نباتات میں بھی نشو و نما ہے لیکن وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ بالوں کے اتصال اور ان کے بڑھنے سے بالوں کی حیات پر استدلال کرسکتے ہیں تو ہم یہ استدلال کرسکتے ہیں کہ جب زندہ حیوان کے جسم سے بال کاٹے جاتے ہیں تو اس کو بالکل احساس نہیں ہوتا اور یہ اس پر دلیل ہے کہ اس میں حیات نہیں ہے۔

فقہاء احناف نے یہ کہا ہے کہ مردار کی ہڈی، اس کے دانت اور اس کے سینگھ بھی اس کے بالوں کی مثل ہیں۔ ہمارے مذہب میں مشہور یہ ہے کہ مردار کی ہڈی، اس کے دانت اور اس کا سینگھ اس کے گوشت کی طرح نجس ہے، اور ابن وہب مالکی کا قول امام ابوحنیفہ کے قول کی مچل ہے۔ ہماری دلیل یہ حدیث ہے : مردار کی کسی چیز سے نفع حاصل نہ کرو۔ یہ حدیث مردار کے ہر جز کو شامل ہے، سوا اس کے جس کی خصوصیت پر کوئی دلیل قائم ہو۔ (حدیث کا متن اس طرح نہیں ہے جس علامہ قرطبی نے ذکر کیا ہے اس کی تفصیل انشاء اللہ ہم عنقریب ذکر کریں گے) علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ ہڈیوں کے نجس ہونے پر دلیل قطعی حسب ذیل آیات ہیں :

قال من یحی العظام وھی رمیم۔ (یسین : ٧٨) اس (کافر) نے کہا جب ہڈیاں گل کر بوسیدہ ہوچکی ہوں گی تو ان کو کون زندگہ کرے گا ؟

وانظر الی العظام کیف ننشزھا ثم نکسوھا لحما۔ (البقرہ : ٢٥٩) اور ان ہڈیوں کو دیکھو ہم کس طرح ان کو جوڑتے ہیں پھر کس طرح ان کو گوشت پہناتے ہیں۔

فخلقنا المضغۃ عظاما فکسونا العظام لحما۔ (المومنون : ١٤) پھر گوشت کی بوٹی سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت پہنایا۔

ءاذا کنا عظاما نخرۃ۔ (النزعات : ١١) کیا جب گلی ہوئی ہڈیاں ہوجائیں گی۔ 

ان آیات سے معلوم ہوا کہ جس طرح چمڑے اور گوشت میں حیات ہوتی ہے اسی طرح ہڈیوں میں حیات ہوتی ہے۔ اور مرنے کے بعد باقی جسم کی طرح ہڈیاں بھی نجس ہوجاتی ہیں۔

اور حدیث میں ہے :

عبداللہ بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے نفع حاصل نہ کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٧٢٩، سنن ابو داؤ رقم الحدیث : ٤١٢٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦١٣، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٠٤، مسند احمد ج ٤ ص ٣٨١)

ہوسکتا ہے کہ اس پر اس حدیث سے معارضہ کیا جائے :

حضرت میمونہ بیان کرتی ہیں کہ صدقہ کی ایک بکری ہم پر ہدیہ کی گئی، وہ مرگئی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا تم نے اس کھال کو رنگ کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو مردار تھی۔ آپ نے فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤١٢٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٦٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٢٤٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦١٠)

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے کہ اس کا صرف کھانا حرام ہے اور ہڈی کو کھایا نہیں جاتا۔ لہذا ثابت ہوا کہ ہڈی حرام نہیں ہے اور وہ نجس بھی نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہڈی بھی کھائی جاتی ہے، خاص طور پر دودھ پیتے اونٹ کی ہڈی اور بکری کے بچے کی ہڈی اور پرندوں کی ہڈیاں اور ہم اس سے پہلے یہ بھی ثابت کرچکے ہیں کہ ہڈیوں میں حیات ہوتی ہے اور جو چیز اپنی حیات میں پاک ہو وہ زبح کرنے سے پاک رہتی ہے اور موت سے نجس ہوتی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ١٤١، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

خنزیر کے بالوں کا نجس ہونا :

النحل : ٨٠ کی جو علامہ قرطبی نے تفسیر کی ہے ہمیں اس میں دو چیزوں سے اختلاف ہے ایک یہ کہ انہوں نے مویشیوں کے بالوں کے عموم میں خنزیر کو بھی شامل کرلیا ہے اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ خنزیر کے بال پاک ہیں اور ہمارے نزدیک خنزیر کے بال بھی نجس ہیں، اور دوسری چیز یہ ہے کہ انہوں نے ہڈی کو نجس لکھا ہے اور ہمارے نزدیک ہڈی پاک ہے۔ 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس۔ (الانعام : ١٤٥) آپ کہیے کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے میں اس میں کسی کھانے والے پر ان چیزوں کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں پاتا، وہ مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ (خنزیر) نجس ہے۔

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں فانہ رجس کی ضمیر لحم کی طرف نہیں لوٹتی بلکہ خنزیر کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ اگر یہ ضمیر لحم کی طرف لوٹے تو اس کا معنی ہوگا کہ خنزیر کا گوشت حرام ہے کیونکہ خنزیرکا گوشت نجس ہے اور یہ بعینہ دعوی کو دلیل بنانا ہے اور اگر یہ ضمیر خنزیر کی طرف لوٹائی جائے تو معنی ہوگا کہ خنزیر کا گوشت حرام ہے کیونکہ خنزیر نجس ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ خنزیر نجس العین ہے اور مجسم نجاست ہے، اس کا گوشت بھی نجس ہے اس کی کھال بھی نجس ہے، اس کی ہڈیاں بھی نجس ہیں اور اس کے بال بھی نجس ہیں۔

اس کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

ولا تنکحوا ما نکح ابائکم من النساء الا ما قد سلف۔ انہ کان فاحشۃ و مقتا وساء سبیلا۔ (النساء : ٢٢) ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں، ماسوا اس کے جو پہلے ہوچکا ہے، کیونکہ ایساکام بےحیائی ہے اور (اللہ کے) غضب کا موجب ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔

اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ یہ بےحیائی کا کام ہے اور غضب الہی کا موجب ہے اور برا طریقہ ہے یہ باپ دادا کی بیویوں سے نکاح کے حرام ہونے کی علت ہے۔ حالانکہ ان کے ساتھ نکاح حرام ہونا ہی اس بات کی علامت تھا کہ یہ بہت برا کام ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کے حرام ہونے کی علت کو صراحتا بیان فرمایا۔ اسی طرح خنزیر کے گوشت کو حرام کرنے سے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ خنزیر نجس ہے اس لیے س کے گوشت کو حرام فرمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ خنزیر کے گوشت کے حرام ہونے کی علت بیان فرمائی کہ وہ نجس ہے یعنی نجس العین ہے۔ (البحر الرائق، ج ١ ص ١٠٤، ١٠٥، ملخصا، مطبوعہ کوئٹہ)

امام ابوبکر احمد بن علی الرزای متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :

ہرچند کہ خنزیر کے تمام اجزاء حرام ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ کے گوشت کا اسی لیے ذکر کیا ہے کہ کسی جانور سے نفع حاصل کرنے کا اہم نفع اور بڑا مقصود اس کا گوشت کھانا ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

یا ایھا الذین امنوا لا تقتلوا الصید وانتم حرم۔ (المائدہ : ٩٥) اے ایمان والو ! حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو۔

اس آیت میں شکار کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے حالانکہ حالت احرام میں شکار کو بھگانا، اس کو پریشان کرنا، اس کی طرف اشارہ کرنا سب افعال حرام ہیں لیکن اس آیت میں کشار کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اہم مقصود شکار کو قتل کرنا ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں ہے :

یا ایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعہ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع۔ (الجمعہ : ٩) اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لیے اذا دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت کو چھوڑ دو ۔

اس آیت میں اذا جمعہ کے وقت صرف خریدوفروخت سے منع کیا ہے حالانکہ اذان جمعہ کے وقت ہر وہ کام ممنوع ہے جو جمعہ کی طرف جانے سے مانع ہو، لیکن جو چیز لوگوں کو زیادہ مشغول رکھتی ہے وہ خریدوفروخت ہے۔ اللہ نے اس کا ذکر فرمایا حالانکہ اس وقت تمام ایسے کام ممنوع ہیں جو جمعہ کی طرف جانے سے مانع ہوں، اسی طرح خنزیر کے تمام اجزاء نجس اور حرام ہیں لیکن گوشت کا اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اہم مقصود گوشت کھانا ہوتا ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١٢٤، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور)

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ لکھتے ہیں :

رہا خنزیر تو اس کے بال اور اس کی ہڈی اور اس کے تمام اجزا نجس ہیں۔ البتہ ضرورت کی بنا پر اس کے بالوں سے جوتی گانٹھنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چیز اس کے قائم مقام نہیں ہے، اور امام ابو یوسف نے اس کو بھی مکروہ کہا ہے، اور فقہا احناف کے تمام اقوال کے مطابق خنزیر کے بالوں کی یع جائز نہیں ہے اور خنزیر کا بال کم یا ساکن پانی میں گرجائے تو امام ابو یوسف کے نزدیک وہ پانی نجس ہوجائے گا اور اگر کپڑوں میں اس کا بال ہو تو نماز ناجائز ہوگی۔ امام ابو یوسف نے جو خنزیر کے بال کو ناجائز کہا ہے یہی ظاہر الروایہ ہے، بدائع، الاختیار اور التجنیس نے اسی کو صحیح کہا ہے (البحر الرائق ج ١ ص ١٠٧، مطبوعہ کوئٹہ)

علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی متوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ خنزیر نجس العین ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رجس (نجس) فرمایا ہے۔ لہْذا اس کے بالوں اور دیگر تمام اجزا کو استعمال کرنا حرام ہے، موچیوں کی ضرورت کی وجہ سے اس کے بالوں سے جوتی گا ٹھنے کی اجزت دی گئی۔ امام ابو یوسف نے نے اس کو بھی مکروہ ہے، صحیح یہ ہے کہ اس کے بال بھی نجس ہیں۔ (بدائع الصنائع، ج ١ ص ٣٧١، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عبادین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

خزیر نجس العین (مجسم نجاست) ہے یعنی اس کی ذات تمام اجزا کے ساتھ نجس ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ جیسے دیگر حیوانات خون کی وجہ سے نجس ہوتے ہیں اس کا یہ معاملہ نہیں ہے (یعنی اس کے جن اجزا میں خون نہ ہو جیسے بال، ہڈی وغیرہ وہ بھی نجس ہیں) (رد المختار ج ١ ص ٣١٨، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٩ ھ)

قدیم فقہا نے جو ضرورت کی بنا پر خنزیر کے بالوں سے جوتی گا ٹھنے کی اجازت دی تھی وہ اس زمانہ کے اعتبار سے تھی کیونکہ اس وقت جوتی گا ٹھنے کے لیے اس سے زیادہ کوئی مضبوط چیز میسر نہیں تھی لیکن اب چونکہ زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے اور جوتی گا ٹھنے کے لیے مختلف نوع کے مضبوط دھاگے ایجاد ہوچکے ہیں اس لیے اب خنزیر کے بالوں کا کسی حال میں استعمال جائز نہیں ہے۔

ہڈی کا پاک ہونا :

علامہ محمد بن احمد مالکی قرطبی نے ہڈی کے نجس ہونے پر بہت دلائل پیش کیے ہیں۔ ہم پہلے ہڈی کے پاک ہونے پر دلائل پیش کریں گے اس کے بعد علامہ قرطبی مالکی کے دلائل کا جائزہ لیں گے۔

متعدد احادیث، آثار صحابہ، اور تابعین سے ثابت ہے کہ وہ ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی کا استعمال کرتے تھے اگر ہڈی نجس ہوتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام ہڈی سے بنی ہوئی کنگھی کو استعمال نہ فرماتے۔

امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی تھی جس سے آپ کنگھی کرتے تھے۔ (الطبقات الکبری ج ١ ص ٣٧٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ، سبل الھدی والرشاد ج ٧، ص ٤٣٦)

امام بیہقی نے اپنی سند کے ساتھ ایک طویل حدیث ذکر کی ہے، اس کے آخر میں ہے :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد شدہ غلام حضڑت ثوبان بیان کرتے ہیں (آخر میں ہے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ثوبان ! (سیدتنا) فاطمہ کے لیے سوتی پٹی کا ایک ہار خریدو اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خریدو۔ (ج ١ ص ٢٦ )

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو بستر پر جاتے تو اپنے وضو کا پانی اور مسواک اور کنگھی رکھتے اور جب اللہ تعالیٰ آپ کو رات کو اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور کنگھی کرتے۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہاتھی دانت کی ایک کنگھی تھی جس سے آپ کنگھی کرتے تھے۔ (السنن الکبری ج ١ ص ٢٦، مطبوعہ نشر السنہ ملتان)

امام بیہقی نے اس حدیث کو منکر کہا ہے کیونکہ ہڈی نجس ہوتی ہے۔ علامہ ترکمانی نے کہا ہے کہ امام بیہقی کو اپنے مذہب کی وجہ سے اس حدیث پر اعتراض کرنے کے بجائے اس پر عمل کرنا چاہیے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ بیان کرتے ہیں :

زہری نے کہا جب تک پانی کا ذائقہ، اس کی بو یا اس کا رنگ متغیر نہ ہو، اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حماد نے کہا مردار پرندے کے پر میں کوئی حرج نہیں ہے، زہری نے کہا مردار جانوروں مثلا ہاتھی وغیرہ کی ہڈیوں میں کوئی حرج نہیں ہے اور میں نے بہت زیادہ علماء متقدمین کو دیکھا وہ ہاتھی دانت کی بنی ہوئی کنگھیوں سے کنگھی کرتے تھے، اور ہاتھی دانت کے بنے ہوئے برتنوں میں تیل رکھتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، اور ابن سیرین اور ابراہیم نے کہا ہاتھی دانت کی تجارت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الوضو باب : ٦٧ )

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا، مردار کی ہر چیز حلال ہے سوا اس چیز کے جس کو کھایا جاتا ہے، اس کی کھال، اس کا سینگھ، اس کے بال، اس کے دانت اور اس کی ہڈیت، یہ تمام چیزیں حلال ہیں، کیونکہ اس کو ذبح نہیں کیا گیا۔ (اس لیے اس کا گوشت حلال نہیں ہے)

امام دار قطنی نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (رقم الحدیث : ١١٢، ١١٧) امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور ابوبکر الہذلی کی بنا پر اعتراض کیا ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی : ج ١ ص ٢٣) تاہم تعداد اسانید کی وجہ سے اس کا ضعف مضر نہیں ہے۔

علامہ زین الدین ابن نجیم لکھتے ہیں :

ہڈی سینگھ اور بال وغیرہ مردار نہیں ہیں کیونکہ عرف شرع میں مردار ان حیوانات کو کہتے ہیں جو بغیر ذبح کے مرگئے ہوں یا جن کو کسی نے بغیر ذبح کے مار کر ان کی حیات ذائل کردی ہو اور بال اور ہڈٰ وغیرہ میں حیات نہیں ہوتی لہذا وہ مردار نہیں ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مردار کی نجاست مردار کی خصوصیت کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں جو بہنے والا خون اور نجس رطوبات ہوتی ہیں، اس کی وجہ سے مردار نجس ہوتا ہے اور بال اور ہڈی میں خون اور رطوبات نہیں ہوتیں اس لیے بال اور ہڈی نجس نہیں ہیں۔

علامہ قرطبی مالکی نے ہڈی میں حیات کے ہونے پر اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے :

قال من یحی العظام وھی رمیم۔ (یسین : ٧٨) اس (کافر) نے کہا جب ہڈیاں گل کر بوسیدہ ہوچکی ہوں گی تو ان کو زندہ کرے گا۔ 

علامہ زمخشری نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جو لوگ ہڈیوں میں حیات ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مردوں کی ہڈیاں نجس ہوتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ حیوان کے مرنے کے بعد اس کی ہڈیاں بھی مردہ ہوجاتی ہیں اور مردہ نجس ہوتا ہے۔ لہذا ہڈیاں بھی نجس ہیں، اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ہڈیاں پاک ہیں، اسی طرح بال بھی پاک ہیں اور اس آیت میں ہڈیوں کو زندہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح پہلے زندہ انسان کے جسم میں ہڈیاں صحیح وسالم تھیں، ان کو دوبارہ اصل حالت پر کون لائے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس نے پہلی بار انسان کو پیدا کیا تھا اور اس کے جسم میں صحیح وسالم ہڈیاں بنائی تھیں وہی دوبارہ انسان کو ہڈیوں سمیت پیدا فرمائے گا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرنے سے مراد ہے ہڈیوں والے انسان کو زندہ کرنا، اور کفار کو دراصل اسی میں شبہ تھا کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوگا۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار نے کہا ان بوسیدہ ہڈیوں والوں کو کون زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان ہڈیوں والوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو پیدا کیا تھا۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ العظام سے مراد ہے اصحاب العظام۔ (البحر الرائق، ج ١ ص ١٠٨، ١٠٩، ملخصا مطبوعہ کوئٹہ)

انسان کے بالوں کا طاہر ہونا :

زیر تفسیر آیت میں بالوں کا ذکر ہے۔ امام شافعی کے نزدیک زندہ انسان کے جسم سے جو بال الگ ہوگیا وہ نجس ہے۔ امام بخاری نے اس کا رد کیا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بال (مبارک) ہے جو ہم کو حضرت انس کی طرف سے ملا تھا۔ تو عبیدہ نے کہا اگر میرے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بارل ہو تو وہ مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٠)

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا سر منڈوایا تو جس نے سب سے پہلے آپ کے بال لیے وہ حضرت ابو طلحہ تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٠٥، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٩٨١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٨١)

علامہ ابو الحسین علی بن خلف اشہیر بابن بطال المالکی الاندلسی المتوفی ٤٤٩ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

علامہ مہلب لکھتے ہیں کہ ان حدیثوں کو وارد کرنے سے امام بخاری کا مقصود یہ ہے کہ امام شافعی کے اس قول کا رد کیا جائے کہ انسان کا بال جب اس کے جسم سے الگ ہوجائے تو وہ نجس ہے اور اگر وہ پانی میں گرجائے تو وہ پانی بھی نجس ہوجاتا ہے اور جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالوں کو رکھنا ان سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے تو معلوم ہوا کہ انسان کے بال پاک ہیں۔

علامہ مہلب نے کہا کہ حضرت انس کی اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ انسان کے جسم سے جو بال یا ناخن لیے جائیں تو وہ نجس نہیں ہیں اور حضرت خالد بن ولید نے اپنی ٹوپی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بال رکھا ہوا تھا۔ جنگ یمامہ میں ایک بار ان کی ٹوپی گرگئی تو وہ بہت گھبرائے اور دوران جنگ وہ ٹوپی اٹھائی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس پر سخت اعتراض کیا انہوں نے کہا میں نے اس ٹوپی کی وجہ سے اس کو نہیں اٹھایا بلکہ اس ٹوپی کو اس لیئے اٹھایا ہے کہ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بال ہے اور میں نے اس کا ناپسند کیا کہ یہ ٹوپی مشرکین کے ہاتھ لگ جائے جبکہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بال ہے۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال ج ١ ص ٢٦٥، متکبہ الرشید ریاض، ١٤٢٠ ھ)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام شافعی کا قول قدیم اور قول جدید یہ ہے کہ زندہ انسان کے جسم سے الگ ہونے والے پاک ہیں اور عراقی فقہا شافعیہ نے یہا کہا ہے کہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ بال نجس ہیں۔ اور امام بخاری نے ان احادیث سے انسان کے بالوں کی طاہرت پر استدلال کیا ہے۔ اس استدلال پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال مکرم ہیں، ان پر دوسروں کے بالوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ علامہ ابن المنذر اور علامہ خطابی نے اس اعتراض کا جواب یہ دیا ہے کہ خصوصیت پر کوئی دلیل نہیں ہے اور بغیر دلیل کے خصوصیت ثابت نہیں ہوتی۔ فقہا شافعیہ نے کہا جو شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالوں کی خصوصیت کا قائل ہے اس پر یہ لازم آئے گا کہ جس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں سے منی کو کھرچ دیتی تھیں وہ حدیث سے منی کے پاک ہونے پر استدلال نہ کرے، کیونکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی منی پاک تھی، دوسروں کی منی کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ (تمام فقہا شافعیہ کے نزدیک انسان کی منی پاک ہے کیونکہ یہ وہ تخم ہے جس سے انبیاء بھی پیدا ہوتے ہیں) اور تحقیق یہ ہے کہ تمام احکام تکلیفیہ میں آپ کا حکم وہی ہے جو تمام مکلفین کا حکم ہے۔ ما سواء اس خصوصیت کے جو کسی دلیل سے ثابت ہو اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضلات کی طہارت پر بکژرت دلائل قائم ہیں۔ اسی وجہ سے ائمہ نے اس کو آپ کے خصائص میں سے شمار کیا ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص ٢٧٢، مطبوعہ ل اورہ، ١٤٠١ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضلات کے متعلق احادیث :

حافظ ابن حجر عسقلانی سے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضلات کی طہارت پر بکثرت دلائل قائم ہیں، اس لیے ہم یہاں چند احادیث ذکر کر ہے ہیں ان تمام احادیث کو حافظ ابن حجر نے معتبر قرار دیا ہے۔ (تلخیص الحیر ج ١ ص ٤٤۔ ٤٢ )

عامر بن عبداللہ بن الزبیر بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (حضرت ابن الزبیر) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، اس وقت آپ فصد لگوار رہے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اے عبداللہ ! یہ خون لے جاؤ اور اس کو ایسی جگہ ڈال دینا جہاں اس کو کئی نہ دیکھے۔ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گیا تو میں نے اس خون کو پی لیا، جب میں واپس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا اے عبداللہ ! تم نے اس خون کا کیا کیا ؟ انہوں نے کہا میں نے اس کو ایسی جگہ رکھ دیا جس کے متعلق میرا گمان ہے کہ وہ لوگوں سے مخفی رہے گی۔ آپ نے فرمایا شاید تم نے اس کو پی لیا۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم کو خون پینے کا کس نے حکم دیا تھا ؟ لوگوں کو تم سے افسوس ہوگا اور تم کو لوگوں سے افسوس ہوگا۔ اس حدیث کو امام طبرانی اور امام دار قطنی نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ تم کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ (المستدرک رقم الحدیث : ٦٤٠٠، طبع جدید، المستدرک ج ٣ ص ٥٥٤، طبع قدیم حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ١١٦٦، تلخیص الحیر ج ١ ص ٣٤، حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٣٣٠، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کو امام بیہقی اور امام ابو یعلی کے حوالوں سے روایت کیا ہے۔ الاصابہ ج ٤ ص ٨١، طبع جدید، نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خون پاک ہے، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٣٨٤٧، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٧٢٣٤، ٣٧٢٢٦، حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کو امام طبرانی اور امام بزار نے روایت کیا ہے اور امام بزار کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٧٠)

حضرت عبداللہ بن الزبیر کے آزاد کردہ غلام کیسان بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، اس وقت حضرت عبداللہ بن الزبیر کے پاس ایک طشت تھا جس میں سے وہ پی رہے تھے پھر حضرت عبداللہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، آپ نے ان سے فمرایا تم فارغ ہوگئے۔ انہوں نے کہا جی ہاں، حضرت سلمان نے کہا یا رسول اللہ ! کس کام سے ؟ آپ نے فرمایا میں نے فصد لگوانے کے بعد ان کو خون پھینکنے کے لیے دیا تھا، سلمان نے کہا جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا اس کی قسم ! انہوں نے اس خوب کو پی لیا، آپ نے حضرت عبداللہ بن الزبیر سے پوچھا تم نے وہ خون پی لیا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں آپ نے پوچھا کیوں ؟ انہوں نے کہ میں یہ پسند کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خون میرے پیٹ میں پہنچ جائے، پھر آپ نے حضرت ابن الزبیر کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تمہیں لوگوں سے افسوس ہوگا اور لوگوں کو تم سے افسوس ہوگا، تم کو صرف قسم پوری کرنے کے لیے آگ چھوئے گی۔ (حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٣٣٠، طبع قدیم حلیۃ الاولیا، رقم الحدیث : ١١٦٧، طبع جدید، تہذیب تاریخ دمشق ج ٦، ص ٨٥، ج ٧ ص ٤٠١، تلخیص الحیر ج ١ ص ٤٣، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٧٢٣٣، ٣٣٥٩١)

حضرت سفینہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فصد لگائی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ خون لو اور اس کو دفن کردو، حیوانات، پرندوں اور لوگوں سے (محفوظ کردو) میں نے چھپ کر وہ خون پی لیا پھر میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ ہنس پڑے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٦٤٣٤، مسند البزار رقم الحدیث : ٢٤٣٥، حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ امام طبرانی کی سند میں ثقہ راوی ہیں۔ مجمع الزاوئد ج ٨ ص، ٢٧٠، تلخیص الحیر ج ١ ص ٤٢، المطالب العالیہ، رقم الحدیث : ٣٨٤٨ )

ام عبدالرحمن بنت ابی سعد اپنے والد سے راویت کرتی ہیں کہ جنگ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہر زخمی ہوگیا۔ حضرت مالک بن سنان نے آگے بڑھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زخم چوس لیا، آپ نے فرمایا جو شخص اس کی طرف دیکھنا چاہتا ہو جس کے خون کے ساتھ میرا خون مل گیا ہے وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٤٣٠، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٧٠، الاصابہ ج ٥ ص ٥٣٨)

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زخمی ہوگئے تو حضرت ابو سعید خدری کے والد حضرت مالک بن سنان نے آپ کا زخم چوس لیا حتی کہ اس کو بالکل صاف اور سفید کردیا، ان سے کہا گیا اس کو تھوک دو ، انہوں نے کہا بخدا میں اس کو کبھی نہیں تھوکوں گا، پھر انہوں نے جاکر قتال کرنا شروع کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اہل جنت میں کسی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اس کی طرف دیکھ لے، پھر وہ شہید ہوگئے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، ج ٣ ص ٢٦٦، تلخیص الحیر ج ١ ص ٤٣ )

حضرت عائشہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے داخل ہوئے، آپ کے بعد میں داخل ہوئی تو وہاں مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اور مجھے وہاں مشک کی خوشبو محسوس ہورہی تھی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، آپ نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتیں کہ انبیاء (علیہم السلام) سے جو چیز نکلتی ہے زمین اس کو نگل لیتی ہے، پھر اس میں سے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ (الطبقات الکبری ج ١ ص ١٣٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

عکیمہ بنت امیمہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، اس کو تخت کے نچیے سے اٹھاتے تھے، آپ نے اس میں پیشاب کیا پھر دوبارہ اس پیالے کو دیکھا تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا، آپ نے بر کہ سے فرمایا جو حضرت ام حبیبہ کی خادمہ تھیں اور حبشہ سے آئیں تھیں، پیالے میں جو پیشاب تھا، وہ کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے اس کو پی لیا، آپ نے فرمایا تم نے دوزخ کی آگ کو اپنے سے دور کردیا۔ (المعجم الکبیر ج ٢٤، ص ١٨٩، حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں اور صحیح ہیں، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٧٠، ٢٧١، تلخیص الحیر ج ١ ص ٤٤ )

حضرت ام ایمن بیان کرتی ہیں کہ گھر کی ایک جانب مٹی کا پیالہ رکھا ہوا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اٹھ کر اس میں پیشاب کرتے تھے، ایک رات کو میں اٹھی، میں پیاسی تھی اس میں جو کچھ تھا وہ میں نے پی لیا اور مجھے پتا نہیں چلا جب صبح ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ام ایمن اٹھو ! اور اس برتن میں جو کچھ ہے اس کو پھینک دو ، میں نے عرض کیا اللہ کی قسم اس میں جو کچھ تھا وہ میں نے پی لیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے حتی کہ آپ کی مبارک ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں پھر فرمایا تمہارے پیٹ میں کبھی درد نہیں ہوگا۔ (المعجم الکبیر ج ٢٥، ص ٨٩، ٩٠، حافظ الہیثمی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی ابو مالک النخعی ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٧١، المستدرک ج ٤ ص ٦٣، ٦٤، طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٦٩٩٦، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٤٨٤٩، تلخیص الحیر ج ١ ص ٤٤ )

فضلات کریمہ کی طہارت پر فنی اعتراضات کے جوابات :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضلات کریمہ کی طہارت کی جو احایث ہیں ان پر ملا علی قاری نے کچھ عقلی اور کچھ فنی اعتراضات کیے ہیں۔ (شرح الشفاء علی ہامش نسیم الریاض ج ١ ص ٣٥٣، ٣٥٤) ہم نے ان اعتراضات کے تفصیل سے جوابات شرح صحیح مسلم ج ٦ ص ٧٨٩، ٧٨٣، میں لکھد یئے ہیں، جن احادیث کی بنیاد پر ملا علی قاری نے اعتراضات کیے ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ان کی فنی حیثیت واضح کی ہے، اس لیے ہم یہاں ان کی عبارت تفصیل سے نقل کر رہے ہیں۔

ایک حدث میں ہے ابو طیبہ جو فصد لگانے والے تھے، انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خون پی لیا اور آپ نے ان پر انکار نہیں فرمایا۔ (اتحاف السن ج ٢ ص ٣١٧) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان کے پینے کے بعد فرمایا دوبارہ نہ پینا، ہر خون حرام ہے۔ (ملا علی قاری اور شیخ اشرف علی تھانوی نے بوادر نوادر میں اسی لفظ سے آپ کے خون کے نجس ہونے پر استدلال کیا ہے، لیکن اہل فہم پر مخفی نہیں کہ حرمت نجاست کو مستلزم نہیں ہوتی۔ مثلا مال غیر کو بلا اجزت کھانا حرام ہے لیکن وہ نجس نہیں ہے) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں پہلی روایت میں میں نے ابو طیبہ کا ذکر نہیں دیکھا بلکہ ظاہر ی ہے ہ کہ وہ کوئی اور شخص تھا کیونکہ ابو طیبہ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو بیاضہ سے تھا، بلکہ میرے نزدیک وہ خون، قریش کے کشی آزاد شدہ غلام نے پیا تھا، اور وہ روایت صحیح نہیں ہے۔ (یعنی حسن یا ضعیف ہے) امام ابن حبان نے کتاب الضعفا میں از نافع ابی ہرمزاز عطا ازا ابن عباس یہ روایت ذکر کی ہے کہ قریش کے کسی غلام نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فصد لگائی، جب وہ فصد لگانے سے گا رغ ہوا تو وہ اس خون کو لے کر دیوار کے پیچھے چلا گیا، اس نے دائیں بائیں دیکھا جب اسے کوئی نظر نہیں آیا تو اس نے اس خون کو پی لیا، جب وہ فارغ ہوکرآیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے چہرہ کی طرف دیکھا اور فرمایا تم پر افسوس ہے تم نے اس خون کے ساتھ کیا کیا۔ اس نے کہا میں نے اس خون کو دیوار کے پیچھے غائب کردیا، آپ نے پوچھا تم نے کہاں غائب کیا ؟ اس نے کہا میں نے آپ کے خون کو زمین پر گرانا ناپسند کیا سو وہ میرے پیٹ میں ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ تم نے اپنے نفس کو دوزخ کی آگ سے محفوظ کرلیا۔ نافع جس نے یہ حدیث روایت کی ہے امام ابن حبان نے کہا اس نے اس حدیث کو نسخۃ عطا کے نسخۃ موضوعہ سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن معین نے کہا وہ کذاب ہے اور رہی دوسری روایت تو میں نے اس میں بھی ابو طیبہ کا ذکر نہیں دیکھا۔ بلکہ وہ روایت ابو ہند کے متعلق ہے۔ امام ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں ذکر کیا ہے سالم ابو ہند فصد لگانے والے تھے، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فصد لگائی جب میں فارغ ہوا تو میں نے خون کو پی لیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ میں نے اس خون کو پی لیا۔ آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے اے سالم ! کیا تم نہیں جانتے کہ خون حرام ہے دوبارہ نہ پینا۔ (کنز العمال رقم الحدیث : ٤١٧٢٨، ٤٠٩٦١) اس حدیث کی سند میں ابو الحجاف ہے اور اس پر جرح کی گئی ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ جس حدیث کی بنیاد پر ملا علی قاری اور شیخ تھانوی نے فضلات کریمہ کی نجاست پر استدلال کیا ہے وہ ضعیف روایت ہے اور سند کے ضعف کے علاوہ ان کا مدعا ثابت نہیں ہے کیونکہ حرمت نجاست کو مستلزم نہیں ہوتی) (تلخیص الحبیر ج ١ ص ٤٤۔ ٤٢، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضلات کی طہارت پر بکثرت دلائل قائم ہیں۔ اسی وجہ سے ائمہ نے اس کو آپ کو خصائص میں سے شمار کیا ہے اور المطالب العالمیہ میں حضرت ابن الزبیر کے خون پینے کی حدیث پر یہ عنوان قائم کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خون کی طہارت۔ اور تلخیص الحیر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضلات مبارکہ کی طہارت کی احادیث کی تخریج کی اور ان احادیث کو معتبر قرار دیا اور جو احادیث بظاہر اس کے خلاف ہیں ان کے فنی اسقام بیان کیے پھر مجھے امام احمد رضا کی اس عبارت پر سخت حیرت ہوئی۔

میری نظر میں امام ابن حجر عسقلانی شارح صحیح بخاری کی وقعت ابتدا عام ابدر الدین عینی شارح صحیح بخاری سے زیادہ تھی، فضلات شریفہ کی طہارت کی بحث ان دونوں صاحبوں نے کی ہے، امام ابن حجر نے ابحاث محدثانہ لکھی ہیں کہ یوں کہا جاتا ہے اور اس پر یہ اعتراض ہے اخیر میں لکھا ہے کہ فضلات شریفہ کی طہارت ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ (ملفوظات اعلی حضرت ص ٣٥٧، مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)

دار اصل ملا علی قاری نے شرح الشفا میں محدثانہ بحث کی ہے اور ان احادیث پر اعتراضات کیے اور لکھا ہے کہ طہارت کے بجائے اس کی ضد ثابت ہے، ہم نے شرح صحیح مسلم (جلد ٦) میں ان تمام اعتراضات کے جواب دیئے اور ملا علی قاری نے جمع الوسائل میں اس کے برعکس لکھا ہے اور حضرت ام ایمن کے پیشاب پینے کی حدیث درج کر کے یہ لکھا ہے ائمہ متقدمین اور متاخرین نے اس حدیث سے آپ کے فضلات مبارکہ کی طہارت پر استدلال کیا ہے اور متاخرین کی ایک جماعت کا بھی یہی مختار ہے اور اس پر بکثرت دلائل قائم ہیں اور ائمہ نے اس کو آپ کے خصائص میں سے لکھا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا سبب آپ کا شق صدر اور آپ کے باطن کو دھونا ہے۔ (جمع الوسائل ج ٢ ص ٣، مطبوعہ نور محمد اصح المطالع کراچی)

فضلات کریمہ کی طہارت کے متعلق دیگر علما کی عبارات :

علامہ احمد بن حجر ہیثمی مکی شافعی متوفی ٩٧٤ ھ لکھتے ہیں :

امام طبرانی نے سند حسن یا سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ بیت الخلا میں جاتے ہیں پھر جو شخص آپ کے بعد جاتا ہے وہ ایسی کسی چیز کا کوئی نشان نہیں دیکھتا جو آپ سے خارج ہوئی ہو۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا تم یہ نہیں جانتیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے جو چیز بھی نکلے وہ اس کو نگل لے۔ امام ابن سعد نے اس حدیث کو ایک اور سند سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے مستدرک میں ایک ودسری سند سے روایت کیا ہے۔ لہذا امام بیہقی کا ابن علوان کی وجہ سے اس حدیث پر اعتراض کرنا درست نہیں ہے اور شاید کہ وہ س حدیث کے دیگر طرق پر مطلع نہیں ہوئے۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیشاب کے متعلق متعدد روایات ہیں۔ آپ کی باندی بر کہ ام ایمن اور حضرت ام حبیبہ کی خادمہ بر کہ ام یوسف نے آپ کا پیشاب پیا، اور آپ نے ام یوسف کو صحت کی بشارت دی اور ام ایمن سے فرمایا تم کو کبھی پیٹ کی بیماری نہیں ہوگی۔ ان احادیث سے ہمارے ائمہ متقدمین نے اور علمائے متاخرین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضلات کی طہارت پر استدلال کیا ہے اور اس پر بکثرت دلائل ہیں اور ائمہ نے اس کو آپ کی خصوصیات میں سے شمار کیا ہے۔ (اشرف الوسائل ص ٢٩٥، ٢٩٦، دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٩ ھ)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیشاب اور آپ کے تمام فضلات کو طاہر قرار دیتے تھے۔ (عمدۃ القاری جز ٣ ص ٧٩، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

بعض ائمہ شافعیہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیشاب اور تمام فضلات کو طاہر قرار دیا ہے اور امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے جیسا کہ المواہب اللدنیہ میں علامہ عینی کی شرح بخاری سے منقول ہے، ور علامہ بیری نے شرح الاشباہ میں اس کی تصریح کی ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ٤٥٣، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٩ ھ)

علمائے دیوبند کے مشہور محدث شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) کے فضلات کی طہارت کا مسئلہ مذاہب اربعہ کی کتابوں میں موجود ہے لیکن میرے پاس اس کی ائمہ سے کوئی نقل نہیں ہے۔ الا یہ کہ المواہب اللدنیہ میں عینی کے حوالے سے یہ لکھا ہوا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک آپ کے فضلات طاہر ہیں لیکن مجھے یہ بات عینی میں نہیں ملی۔ (فیض الباری ج ١ ص ٢٥١، مطبوعہ مطبع حجازی قاہرہ، ١٣٥٧ ھ)

غالبا شیخ کشمیری کی نظر سے علامہ عینی کی مذکور الصدر عبارت نہیں گزری۔ (عمدۃ القاری جز ٣ ص ٧٩)

شرح صحیح مسلم ج ٣ اور ج ٦ میں ہم نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے، وہاں بھی اس بحث کا مطالعہ مفید ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 80