أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ بَنِيۡنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ‌ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ يُؤۡمِنُوۡنَ وَبِنِعۡمَتِ اللّٰهِ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے تم میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہی کفر کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے تم میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہی کفر کرتے ہیں۔ اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کے لیے آسمانوں اور زمینوں میں سے کسی بھی رزق کے مالک نہیں ہیں اور نہ کسی چیز کی طاقت رکھتے ہیں۔ (النحل : ٧٢، ٧٣)

اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا۔ اور یہ اس کا عمنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے تمہاری بیویاں بنائیں۔ لیکن یہ قول ضیعف ہے کیونکہ اس آیت میں واحد کے ساتھ خطاب نہیں ہے بلکہ کل کے ساتھ خطاب ہے اور حضرت آدم اور حضرت حوا کے ساتھ اس آیت کی تخصیص کرنا بلا دلیل ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ مرد ان سے شادی کریں، اور اس کی مثال یہ آیت ہے :

ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا۔ (الروم : ٢١) اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہاری بیویاں بنائیں۔ 

اس کے بعد فرمایا اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور حٖفدہ (پوتے) بنائے۔ قرآن مجید میں یہاں حفدہ کا لفظ ہے اس کے معنی میں تفعیل ہے۔

حفدہ کے معنی :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

حفدہ، حافظ کی جمع ہے۔ حافد اس شخص کو کہتے ہیں جو بلا معاوضہ خدمت کرتا ہے خواہ وہ رشتہ دار ہو یا اجنبی ہو۔ مفسرین نے کہا یہ لفظ پوتوں اور نواسوں کے لیے ہے کیونکہ ان کی خدمت سچی اور بےلوث ہوتی ہے۔ عرب کہتے ہیں کہ فلاں شخص محفود ہے۔ یعنی مخدوم ہے اور یہ لفظ دامادوں اور سسروں کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ دعا قنوت میں ہے الیک نسعی ونحفد (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ١٠٦) ہم تیری طرف بھاگتے ہیں اور تیرے احکام پر عمل کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (المردات ج ١ ص ١٦٣، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ ابو السعادات المبارک بن محمد المعروف بابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

المحفود اس شخص کو کہتے ہیں جس کی اس کے اصحاب تعظیم کرتے ہیں اور اس کے احکام کی اطاعت میں جلدی کرتے ہیں اور حافظ کا معنی ہے، خادم۔ (النہایہ ج ١ ص ٣٩٠، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ ابن العربی نے لکھا ہے کہ بنین سے مراد ہے کسی شخص کے صلبی بیٹے اور حفدہ سے مراد بیٹے کی اولاد ہے۔ نیز علامہ ابن العربی نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس، مجاہد، امام مالک اور علماء لغت نے کہا ہے کہ حفدہ کے معنی ہیں خدام، تو قرآن مجید کی اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ کسی شخص کی بیوی اور اس کی اولاد اس کے خدمتگار ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اس آیت کا معنی ہے تمہارے لیے تمہاری بیویوں اور بیٹوں کو خدمتگار بنایا۔

کسی شخص کی بیوی کا اس کی خدمت کرنا :

سہل بیان کرتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی شادی میں دعوت دی، ان کی بیوی دلہن ہونے کے باوجود ان سب کی خدمت کر رہی تھی۔ سہل نے کہا تمہیں معلوم ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا پلایا تھا ؟ میں نے رات کو ایک برتن میں چھوارے بھگو دیئے تھے، جب رات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانا کھاچکے تو میں نے آپ کو وہ پانی (نبیذ) پلایا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥١٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٠٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩١٤، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦١٥٩، عالم الکتب)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابو اسید ساعدی کی بیوی اپنی شادی کے دن بھی ان کی خدمت کر رہی تھیں۔

حضرت عائشہ نے فرمایا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدی کے لیے ہار بنتی تھی پھر آپ اس ہدی میں اشعار کرتے (اشعار کا معنی ہے چھری سے اونٹ کو کوہان میں شگاف ڈال دینا، جس سے اس پر خون کا سرخ دھبہ پڑجائے) اور اس کے گلے میں ہار ڈال دیتے یا میں ہار ڈال دیتی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٦٩٩، سنن نسائی، رقم الحدیث : ٢٧٧٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٠٩٤، ٣٠٩٨)

ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہ نے فرمایا میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کی ہدی کا ہار بنتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٠٠)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جنابت سے آلودہ کپڑے دھوتی تھی، آپ نماز پڑھنے کے لیے جاتے اور آپ کے کپڑوں میں پانی سے بھیگنے کے نشانات ہوتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٧٣، سنن الترمذی، ١١٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٦)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احرام باندھنے میں آپ کے دن پر خوشبو لگاتی تھی اور جب آپ احرام کھولتے تھے تو بیت اللہ کے طواف (زیارت) سے پہلے آپ کے دن پر خوشبو لگاتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٨٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٧٤٥، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٢٦٨٥)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں دستیاب خوشبوؤں میں سے سب سے عمدہ خوشبو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لگاتی تھی حتی کہ اس خوشبو کی چمک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر میں اور داڑھی میں نظر آتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٢٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٦٩٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٩٢٧ )

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں حائضہ ہوتی تھی اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر میں کنگھی کرتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٢٥، سنن ابو داؤأد رقم الحدیث : ٢٤٦٧، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٠٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٢٣٨)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں معتکف ہوتے تھے، آپ حجرے میں سر داخل کرتے تو میں آپ کا سر دھوتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠١، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٧٥، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٣٣٨٤)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہوئے، اس وقت آگ پر ہانڈی ابل رہی تھی، آپ نے کھانا منگایا، آپ کو روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا، آپ نے فمرایا کیا میں گوشت نہیں دیکھ رہا، گھر والوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے اور اس نے ہم کو ہدیہ کردیا ہے، آپ نے فرمایا یہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٤٣٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٢٣٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١١٥٤، سنن بن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٢١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٢٧٢، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٤٨٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٠٢٧ )

اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ حضرت عائشہ گھر کا کھانا پکاتی تھیں۔

حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہ شکایت کرنے گئیں کہ چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں اور ان کو یہ خبر ملی ہے کہ آپ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں۔ سیدتنا فاطمہ کی آپ سے ملاقات نہیں ہوئی، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے ذکر کیا کہ حضرت فاطمہ آپ سے ملنے آئی تھیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر تشریف لے آئے، اس وقت ہم بستر میں لیٹ چکے تھے، ہم کھڑے ہونے لگے تو آپ نے فرمایا تم اسی طرح رہو، آپ آکر میرے اور حضرت فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے حتی کہ میں نے آپ کے پیروں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ کے پاس محسوس کی آپ نے فرمایا تم نے جو سوال کیا ہے کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تم تم ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٦١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٢٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥٠٦٢ )

ہم نے جو احادیث ذکر کی ہیں ان سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدی کے لیے ہار بنتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑے دھوتی تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر اور ڈاڑھی میں خوشبو لگاتی تھیں، آپ کا سر دھوتی تھیں اور آپ کے سر میں کنگھی کرتی تھیں، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کھانا پکایا کرتی تھیں اور حضرت فاطمہ گھر میں چکی پیستی تھیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ آپ کی خدمت کرتی تھیں اور حضرت علی کی زوجہ ان کی خدمت کرتی تھیں۔ اسی طرح باقی صحابہ کی ازواج بھی ان کی خدمت کرتی تھیں، گاؤں اور دیہات میں رہنے والی خواتین اب بھی اپنے شوہروں کی خدمت کرتی ہیں اور اگھر کے باقی کام بھی کرتی ہیں، کھیت سے چارہ کاٹ کر لاتی ہیں، جانوروں کو چارہ ڈالتی ہیں، دودھ دوہتی ہیں، کھانا پکاتی ہیں اور کپڑے دھوتی ہیں، البتہ شہر کی عورتیں اس قسم کے کام نہیں کرتیں اور امیر لوگوں نے گھر کے کام کاج کے لیے نوکر اور نوکرانیاں رکھی ہوئی ہیں۔

شوہروں کو خود بھی گھر کے کام کاج میں حصہ لینا چاہیے اور بیویوں کی مدد کرنی چاہیے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی گھر کے کام کاج کیا کرتے تھے۔

اسوود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ نے کہا آپ گھر کے کام کاج کرتے تھے اور اذان سن کر چلے جاتے تھے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٦٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٨٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٤٦١ )

ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ؟ فرمایا جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں کام کرتا ہے، آپ اپنی جوتی کی مرمت کرلیتے تھے اور کپڑوں کو پیوند لگا لیتے تھے۔ (حمزہ احمد زید نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد ج ١٧، ص ٤١٩، رقم الحدیث : ٢٤٦٣٠، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٢٦٨٤، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٩٣٤، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٢١٢)

عروہ اپنے والد سے روایت سے کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں کیا کام کرتے تھے ؟ فرمایا آپ کپڑے سی لیتے تھے اور جوتی کو مرمت کرلیتے تھے اور مرد جو گھروں میں کام کرتے ہیں وہ سب کرتے تھے۔ (حمزہ احمد زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد ج ١٧، ص ٤٥٩، رقم الحدیث : ٢٤٧٨٤، مطبوعہ دار المعارف مصر، الادب المفرد رقم الحدیث : ٥٣٩، شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٤٩٢)

مشرکین کی اوندھی عقل :

اس کے بعد فرمایا اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمینوں میں سے کسی بھی رزق کے مالک نہیں ہیں اور نہ کسی چیز کی طاقت رکھتے ہیں۔

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا ہے، اس آیت میں فرمایا ہے کہ مشرکین جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں وہ کسی رزق کے مالک نہیں ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور بت پرستی کا مزید رد فرمایا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ اس کی عبادت کریں جو انہیں رزق دینے والا ہے، جس نے ان کو پیدا کی اور ان کو پالنے والا ہے اور یہ کیسی اوندھی عقل کے لوگ ہیں کہ ان کی عبادت کرتے ہیں کسی رزق کے مالک نہیں ہیں اور کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 72