أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِىۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈالا کہ وہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور اونچے چھپروں میں گھر بنائے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈالا کہ وہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور اونچے چھپروں میں گھر بنائے۔ پھر تو ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس، پھر اپنے رب کے بنائے ہوئے آسان راستوں پر چلتی رہ، ان کے پیٹوں سے رنگ برنگ کے مشروب نکلتے ہیں، اس مشروب (شہد) میں لوگوں کے لیے شفا ہے، بیشک اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لیے ضرور نشانی ہے۔ (النحل : ٦٨، ٦٩ )

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ اس نے انسان کے لیے مویشیوں میں سے دودھ نکالا، پھر اس نے یہ بتایا کہ اس نے کھجوروں اور انگوروں سے سکر اور رزق حسن مہیا کیا اور حیوانات نباتات میں اپنی خلقت کے عجائب اور غرائب سے اپنی الوہیت اور توحید پر استدلال فرمایا اور ان آیات میں شہد کی مکھی کے شہد نکالنے سے اپنی الوہیت اور توحید پر استدلال فرمایا۔ یہ حیوانات سے بھی استدلال ہے اور نباتات سے بھی، کیونکہ شہد کی مکھی پھلوں اور پھولوں کا رس چوستی ہے۔

شہد کی مکھی کی طرف وحی کی تحقیق :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ہم نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی۔

علامہ ابن اثیر جزری متوفی ٦٠٦ ھ وحی کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حدیث میں وحی کا بکثرت ذکر ہے، لکھنے، اشارہ کرنے، کسی کو بھیجنے، الہام اور کلام خفی پر وحی کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ (النہایہ ج ٤ ص مطبوعہ ایران، ١٣٦٤ ھ)

اصطلاح شرع میں وحی کا معنی یہ ہے :

اللہ کے نبیوں میں سے کسی پر جو کلام نازل کیا جاتا ہے وہ وحی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١٤، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیزیہ مصر، ١٣٤٨ ھ)

وحی کا اطلاق الہام پر بھی کیا جاتا ہے، علامہ تفتازانی الہام کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

دل میں بطریق فیضان خیر کسی معنی کو ڈالنا۔ (شرح عقائد نسفی مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی)

کسی چیز کو کسی کے دل میں القا کرنے اور ڈالنے کو بھی وحی کہا جاتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔

انبیاء (علیہم السلام) کے لیے وحی کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے :

وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا۔ (الشوری : ٥١) اور کسی بشر کے یہ لائق نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی سے۔

اور اولیاء اللہ پر الہام کے لیے جو وحی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اس کی مثال یہ آیت ہے :

واذا اوحیت الی الحواریین۔ (المائدہ : ١١١) اور جب میں نے حواریین کی طرف الہام کیا۔

اور عام انسانوں کے دل میں کسی نیک بات کے ڈالنے کی مثال یہ آیت ہے :

واوحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیہ۔ (القصص : ٧) اور ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم اس کو دودھ پلاؤ۔

اور حیوانات کے دلوں میں کسی بات کے ڈالنے کے لیے وحی کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے :

واوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا۔ (النحل : ٦٨) اور ہم نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ پہاڑوں میں گھر بنائے۔

یہاں شہد کی مکھی کا ذکر ایک مثال کے طور پر ہے، ورنہ جانور کا نوزائدہ بچہ جو اپنی ماں کے تھنوں کو چوستا ہے، اس کو کوئی خارجی چیز آکر یہ نہیں سکھاتی، اللہ ہی اس کے دل میں یہ ڈالتا ہے، اسی طرح جانور جو باقی فطری عمل کرتے ہیں، وہ اللہ ہی ان کے دلوں میں ڈالتا ہے اور ان کو سکھاتا ہے، اسی طرح انسانوں کو کسی اچھے کام کا طریقہ اور حسن عمل کی تدبیر سوجھتی ہے تو یہ بھی اللہ ہی ان کے دلوں میں ڈالتا ہے۔

شہد کی مکھی کی دو قسمیں :

اور ہم نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ پہاڑوں اور درختوں میں اور اونچے چھپروں میں گھر بنائے۔

شہد کی مکھیوں کی دو قسمیں ہیں ایک وہ ہے جو پہاڑوں اور جنگلوں میں گھر بناتی ہے، اور لوگ اس کی دیکھ بھال اور حفاظت نہیں کرتے، اور دوسری قسم وہ ہے جس کی لوگ دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہیں، اور یہ وہ ہے جو چھپروں میں گھر بناتی ہے۔ من الجبال و من الشجر سے پہلی قسم مراد ہے اور مما یعرشون سے دوسری قسم مراد ہے۔

اور اس آیت سے مراد یہ ہے کہ بعض پہاڑوں اور بعض درختوں میں گھر بنائے، اسی طرح یہ مراد ہے کہ بعض چھپروں میں گھر بنائے۔

اللہ تعالیٰ نے جو شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ وہ پہاڑوں اور جنگلوں اور چھپروں میں گھر بنائے، اس کی تفسیر میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ آیا حیوانوں میں عقل ہوتی ہے اور ان کی طرف احکام متوجہ ہوتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ انہیں کسی چیز کا حکم دیتا ہے اور کسی چیز سے منع فرماتا ہے جیسا کہ اس آیت میں اس کو حکم دیا ہے کہ وہ گھر بنائے۔ یا ان میں عقل نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طبائع اور فطرتوں میں یہ چیز رکھ دی ہے کہ وہ اس قسم کے افعال کرتے ہیں۔ مثلا چڑیا ایک ایک تنکا اکٹھا کر کے اپنا گھونسلا بناتی ہے، جنگلوں میں بعض پرندے دو تین منزلہ گھونسلہ بناتے ہیں، جبکہ عام آدمی اپنے ہاتھوں سے تنکے اٹھا کر ایسا دو منزلہ گھونسلا بنانا چاہے تو اس کے لیے مشکل ہوگا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طبیعت میں یہ ودیعت کردیا ہے کہ وہ ایسا عجیب و غریب گھر بنا لیتی ہے۔

شہد کی مکھی کے عجیب و غریب افعال :

اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کے نفس اور اس کی طبیعت میں ایسی چیز رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ ایسا عجیب و غریب گھر بناتی ہے کہ عقل والے ایسا گھر بنانے سے عاجز ہیں اور اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

١۔ شہد کی مکھی جو گھر بناتی ہے وہ مسدس ہوتا ہے اور اس کے تمام اضلاع مساوی ہوتے ہیں اور عقل والے انسان بھی بغیر پرکار اور اسکیل کے ایسا مسدس نہیں بنا سکتے۔

٢۔ علم ہندسہ میں یہ ثابت ہے کہ اگر مسدس کے علاوہ اور کسی شکل کے گھر بنائے جائیں تو ان گھروں کے درمیان ضرور کچھ نہ کچھ خالی جگہ رہ جائے گی لیکن جب مسدس شکل پر گھر بنائے جائیں تو ان کے درمیان کوئی خالی جگہ نہیں بچے گی، پس اس انتہائی خورد حیوان کا اس حکمت کے مطابق گھر بنانا، بہت عجیب و غریب امر ہے۔

٣۔ شہد کی مکھیوں میں ایک مکھی ملکہ ہوتی ہے او اس کا جسم دوسری مکھیوں سے بڑا ہوتا ہے، اور باقی مکھیوں پر اس کی حکومت ہوتی ہے، اور تمام مکھیاں اس کی اطاعت کرتی ہیں اور جب وہ سب ملکر اڑتی ہیں تو سب اس کو اپنے اوپر اٹھا لیتی ہیں۔

٤۔ جب شہد کی مکھیاں اپنے چھتے سے روانہ ہوتی ہیں تو موسیقی سے مشابہ آوازیں نکالتی ہوئی روانہ ہوتی ہیں اور ان ہی آوازوں کے واسطے سے دوبارہ اپنے چھتے کی طرف لوٹ آتی ہیں۔

٥۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے درختوں کے پتوں پر شبنم پڑتی ہے اور پتوں اور کلیوں پر شبنم کے باریک باریک ذرات ہوتے ہیں اور شہد کی مکھی درخت کے پتوں سے ان باریک ذرات کو کھا لیتی ہے اور جب وہ سیر ہوجاتی ہے تو دوبارہ ان ذرات کو چن کر کھا لیتی ہے وار اپنے گھر (چھتے) میں جاکر ان ذرات کو اگل دیتی ہے تاکہ آئندہ کے لیے اپنی غذا کا ذخیرہ رکھے۔

٦۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہد کی مکھی پتوں، کلیوں، پھلوں اور پھولوں سے رس چوس لیتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اس کے پیٹ میں جمع کیے ہوئے رس کو شہد بنا دیتا ہے، شہد کی مکھی اپنی غذا کو ذخیرہ کرنے کے لیے اس شہد کو اگل دیتی ہے اور یہی وہ شہد ہے جس کو ہم کھاتے ہیں۔ امام رازی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور زیادہ صحیح قرین قیاس دوسرا قول ہے۔

حشرات الارض کو مارنے کا شرعی حکم :

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد، لٹورا (سبز رنگ کا پرندہ جو چھوٹے پرندوں کا شکار کرتا ہے) (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥٢٦٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٢٢٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٠٦٧، دار الفکر)

بعض اوقات گھروں میں چیونٹیاں، مچھر، مکھیاں، کھٹمل وغیرہ بہت زیادہ ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے، چیونٹیاں بستروں پر چڑھ جاتی ہیں اور انسان کی آنکھوں اور بدن کے دوسرے حصوں پر کاٹ لیتی ہیں، جس سے انسان شدید تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے، آیا ان کو فنس وغیرہ اسپرے کر کے مارنا جائز ہے یا نہیں اس کا جواب ی ہے ہ کہ خود سے ضرر کو دور کرنے کے لیے ان کو مارنا جائز ہے اور بلاوجہ کسی کو مارنا جائز نہیں ہے اور اس کی اصل وہ احادیث ہیں جن میں آپ نے کاٹنے والے کتے، چوہے، سانپ اور بچھو کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

علاج کرنے اور دوا استعمال کرنے کے متعلق احادیث :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس (شہد) میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔

قرآن مجید کی اس آیت میں بیماریوں کا علاج کرنے اور دوا پینے کے جواز کی دلیل ہے۔ بعض صوفی علاج کرنے اور دوا پینے سے منع کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسلمان اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا ولی نہیں بنتا جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی تمام بیماریوں اور تمام بلاؤں پر راضی نہ ہو، وہ کہتے ہیں کہ دوا اور علاج کرنا جائز نہیں ہے، لیکن ان کا یہ قول مردود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں شہد کو لوگوں کے لیے شفا فرمایا ہے اور اس کا شفا ہونا تب ہی ثابت ہوگا جب کسی بیماری میں اس کو استعمال کیا جائے۔ نیز ان لوگوں کو چاہیے کہ پھر دعا بھی نہ کیا کریں، حالانکہ قرآن مجید اور احادیث میں دعا کرنے کی ترغیب ہے، اور علاج کرنے کے متعلق بھی بہت احادیث ہیں۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے، پس جب دوا صحیح ہو تو (مریض) اللہ عزوجل کے حکم سے شفا پا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٢٠٤، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٥٥٦ )

عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے خود پہنے ہوئے شخص کی عیادت کی، پھر فرمایا میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تم تم پچھنے لگوا لو کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس میں شفا ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٢٠٥، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٨٣، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٥٦٨٣)

عاصم بن عمرو بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ہمارے گھر آئے اور ہمارے گھر میں ایک آدمی کو زخم سے تکلیف تھی، حضرت جابر نے پوچھا تم کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے کہا مجھ کو ایک زخم سے بہت تکلیف ہے، حضرت جابر نے کہا ایک فصد لگانے والے لڑکے کو بلاؤ، اس شخص نے کہا اے ابو عبداللہ ! آپ فصد لگانے والے کو کیوں بلا رہے ہیں ؟ حضرت جابر نے فرمایا میں اس زخم پر فصد لگوانا چاہتا ہوں، اس نے کہا پھر میرے زخم پر مکھیاں بیٹھیں گی یا میرے زخم پر کپڑا لگے گا جس سے مجھے تکلیف ہوگی، جب حضرت جابر نے دیکھا کہ یہ شخص فصد لگوانے سے گھبرا رہا ہے تو انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے : اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی دوا میں خیر ہے تو فصد لگوانے میں ہے یا شہد کے ایک گھونٹ میں ہے یا لوہے کی آگ سے گرم کر کے داغ لگوانے میں ہے، آپ نے فرمایا میں داغ لگوانے کو پسند نہیں کرتا، پھر ایک فصد لگانے والا آیا اور اس کی فصد لگائی اس سے اس کی تکلیف ختم ہوگئی۔ (صحیح مسلم، باب السلام : ٧١، الرقم السلسل : ٢٢٠٥)

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فصد لگوانے کی اجازت طلب کی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو طیبہ کو فصد لگانے کا حکم دیا، حضرت جابر نے بتایا کہ حضرت ابو طیبہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٢٠٦، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤١٠٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٨٠)

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی بن کعب کے پاس ایک طبیب بھیجا انہوں نے ان کی ایک رگ کاٹ کر داغ دیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٦٤، سنن ابن ماجہ ٣٤٩٣)

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ کے بازو کی ایک رگ میں تیر لگا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مبارک ہاتھ سے تیر کے پھل کے ساتھ اس کو داغا، ان کا ہاتھ سوج گیا تو آپ نے اس کو دوبارہ داغا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠٨)

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخار جہنم کے جوش سے ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٦٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠٩)

حضرت اسماء بیان کرتی ہیں کہ جب ان کے پاس بخار میں مبتلا کوئی عورت لائی جاتی تو وہ پانی منگوا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور بیان کرتیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرو اور فرمایا ہے یہ جہنم کے جوش سے ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٢٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢١١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٧٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٧٤، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٦٠٩)

حضرت عکاشہ بن محصن کی بہن ام قیس بنت محصن بیان کرتی ہیں میں اپنے دودھ پیتے بچے کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ پر پیشاب کردیا، آپ نے پانی منگا کر اس پر بہادیا، پھر میں اپنے ایک اور بچے کو لے کر آپ کی خدمت میں گئی، جس کا میں نے گلا دبا دیا تھا، (تالو کی بیماری کی وجہ سے) آپ نے فرمایا تم اپنے بچ کا حلق کیوں دباتے ہو ؟ تم اس عود ھندی کو لازم رکھو، اس میں سات چیزوں سے شفا ہے۔ ان میں سے نمونیہ بھی ہے، تالو کی بیماری میں ناک سے دوا ڈالی جائے اور نمونیہ میں منہ سے دوا ڈالی جائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢١٤)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢١٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٤٧ )

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شکص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ، اس نے اس کو شہد پلایا، پھر آکر کہا میں نے اس کو شہدپلایا تھا اس کے دست بڑھ گئے، آپ نے تین بار اس سے یہی فرمایا، جب وہ چوتھی بار آیا تو آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ، اس نے کہا میں نے اس کو شہد پلایا تھا، مگر اس کے دست اور بڑھ گئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کا قول سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس نے پھر اپنے بھائی کو شہد پلایا اور اس کے بھائی کو شفا ہوگئی۔ 

علاج کرنے کا استحباب :

ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علاج کرنا مستحب ہے۔ جمہور فقہا متقدمین اور متاخرین کا یہی نظریہ ہے، قاضی عیاض نے کہا ہے کہ ان احادیث میں ان غالی صوفیوں کا رد ہے جو دوا لینے اور علاج کرنے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر چیز اللہ تبارک وتعالی کی تقدیر سے ہے، اس لیے دوا لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جمہور علماء کی دلیل یہ احادیث ہیں ان کا اعتقاد یہ ہے کہ فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہے اور دوا اور علاج بھی اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر سے ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور کفار سے لڑنے کا حکم دیا ہے اور اپنی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے، حالانکہ موت اپنے وقت مقرر سے موخر نہیں ہوسکتی اور تقدیر کے معین وقت سے پہلے کوئی چیز نہیں مل سکتی، سو جس طرح دعا کرنا، کفار سے قتال کرنا اور اپنی حفاظت کرنا تقدیر کے خلاف نہیں ہے، اسی طرح دوا لینا اور علاج کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے۔

ذیابطیس کے مریض کے لیے شہد کا شفا نہ ہونا :

علامہ مازری نے کہا کہ امام مسلم نے طب اور علاج کے متعلق بہ کثرت احادیث زکر کی ہیں، بعض ملحدین ان احادیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اطبا کا اس پر اتفاق ہے کہ شہد سے اسہال ہوتا ہے، پھر اسہال میں شہد کیسے مفید ہوسکتا ہے ؟ نیز اس پر بھی علما کا اتفاق ہے کہ بخار والے شخص کے لیے ٹھنڈا پانی استعمال کرنا نقصان دہ ہے، اسی طرح نمونہ میں قسط ہدنی کا استعمال کرنا بھی حرج کا باعث ہے، اور مضر ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مزاج اور ہر علاقہ کے لوگوں کے لیے یہ دوائیں تجویز نہیں کیں اور مرض کی ہر کیفیت میں یہ دوئیں تجویز نہیں کیں، بعض مزاج کے لوگوں اور خصوصا اہل عرب کے لیے ان دواؤں کو تجویز فرمایا ہے، آج کل جدید میڈیکل سائنس کے ماہرین بھی اس پر متفق ہیں کہ جب بخار بہت تیز ہوجائے تو مریض پر برف کا مساج کرنا چاہے، اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بخار کے لیے ٹھنڈے پانی سے غسل کو تجویز فرمایا ہر بخار کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ علاج صفراوی بخار کے لیے ہے، علی ھذا القیاس آپ نے دوسری بیماریوں کے لیے جو علاج تجویز فرمائے ہیں وہ بھی مرض کی خاص کیفیت، مریض کی عمر، مزاج اور عرب کی مخصوص آب و ہوا کے اعتبار سے ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلونجی کے متعلق فرمایا ہے اس میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفا ہے اس کا شفا بخش ہونا بھی ٹھنڈے مزاج کے لوگوں کے لیے ہے، کلونجی بند ریاح کو کھولتی ہے، پیٹ کے کیڑوں کو مارتی ہے، زکام میں نافع ہے، حیض کو جاری کرتی ہے، خارش میں مفید ہے، بلغمی اور ام کو شفا دیتی ہے، پیشاب کو کنٹرول کرتی ہے، موٹاپا دور کرتی ہے اور میرا تجربہ ہے کہ کلونچی خون میں شکر کو کم کرتی ہے۔

قرآن مجید میں شہد کو شفا فرمایا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی شہد کو شفا فرمایا ہے لیکن اس کا شفا ہونا بھی ہر شخص کے اعتبار سے نہیں ہے ذیابطیس کے مریض کو شہد استعمال نہیں کرنا چاہیے اس مرض میں شہد نقصان دہ ہے۔

صوفیا کے نزدیک علاج کرنا رخصت ہے اور علاج کو ترک کرنا عزیمت ہے :

اصل میں شریعت نے جس کام کو کرنے کا حکم دیا ہے اس کو کرنا عزیمت ہے اور کسی عذر کی بنا پر اس میں جو تخفیف کی جائے اس پر عمل کرنا رخصت ہے، مثلا وطن میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھنا عزیمت ہے، اور سفر میں دو رکعت نماز پڑھنا رخصت ہے۔

مشہور صوفی محمد بن علی الشہیر بابی طالب مکی متوفی ٣٨٦ ھ لکھتے ہیں :

دوا استعمال کرنا توکل کے منافی نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علاج کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ طرف سے علاج کرنے کی حکمت کی خبر دی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے، جس نے اس دوا کو جان لیا اس نے جان لیا اور جس نے نہیں جانا اس نے نہیں جانا، ما سو موت کے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ کے بندو، دوا کیا کرو، آپ سے دوا اور دم کرنے کے متعلق سوال کیا گیا آیا یہ تقدیر کو ٹال دیتی ہے تو آپ نے فرمایا یہ بھی تقدیر سے ہیں، اور حدیث مشہور ہے جب بھی فرشتوں کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا اپنی امت کو فصد لگوانے کا حکم دیجیے، اور ایک حدیث میں ہے آپ نے فرمایا کہ سترہ یا انیس یا اکیس دن بعد فصد لگواؤ، اور حضرت عمر نے دھوپ سے گرم پانی کے متعلق فرمایا کہ یہ برص پیدا کرتا ہے۔

دوا کرنا رخص ہے اور دوا نہ کرنا عزیمت ہے اور اللہ تعالیٰ جس طرح بندہ کے عزیمت پر عمل سے محبت کرتا ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنے سے بھی محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج : ٧٨) اور تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

اور بعض اوقات دوا کرنے میں دو وجہ سے فضیلت ہے، ایک اس لیے کہ دوا کرنے والا اتباع سنت کی نیت کرے اور دوسرے اس وجہ سے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنے کی نیت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شریعت کے جو آسان احکام لے کر آئے ہیں ان پر عمل کرے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سے زیادہ صحابہ کو دوا اور پرہیز کا حکم دیا، بعض لوگوں کو فصد لگوائی اور بعض لوگوں کو گرم لوہے سے داغ لگوایا، حضرت علی کی آنکھوں میں تکلیف تھی تو ان سے فرمایا تم تازہ کھجوریں نہ کھاؤ۔ (یہ حدیث صہیب کے متعلق ہے، ہم عنقریب اس کا ذکر کریں گے) اور بہت احادیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچھو کے ڈنک کی دوا لگائی، روایت ہے کہ وحی نازل ہونے سے پہلے آپ کے سر میں درد ہوجاتا، تو آپ سر پر مہندی لگاتے، اور حدیث میں ہے کہ جب آپ کے چھالا ہوجاتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے حالانکہ آپ سب سے زیادہ توکل کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ قوی تھے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے علاج کیا تھا کہ امت کے لیے علاج کرنا سنت ہوجائے، تو ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ ہم آپ کی سنت سے اعراض نہیں کرتے اور آپ کے خلاف عمل کرنے کو زہد قرار نہیں دیتے، جبکہ آپ نے ہماری خاطر علاج کیا تاکہ آپ کا یہ فعل بےمقصد نہ ہو، اور آپ کی سنت سے اعراض کو توکل کا نام دینا شرع میں طعن کا موجب ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ظاہری سیرت اس لیے تھی کہ اس کی اتباع کی جائے اور اسی سلسلہ میں یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سخت گرمی کے سفر میں روزہ رکھا، اور سر پر پانی ڈالا اور درخت کا سایہ طلب کیا، تاکہ روزہ دار کے لیے سر پر پانی ڈالنے کی رخصت سنت ہوجائے، آپ سے کہا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہے اور ان پر روزہ سخت دشوار ہورہا ہے، آپ نے ایک پیالہ میں پانی منگایا اور پی لیا، پھر لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا، اور آپ نے اپنا حال لوگوں کی وجہ سے ترک کردیا، پھر آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ افطار نہیں کیا، آپ نے فرمایا وہ نافرمان ہیں۔

اور علاج کرنے کی فضیلت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ یہ پسند کرتے تھے کہ آپ بیماری سے جلد تندست ہوجائیں تاکہ اپنے مولی کے احکام کی اطاعت کے لیے جلد حاضر ہوجائیں اور اس کی عبادت میں جلد مشغول ہوجائیں یعنی بیماری کی وجہ سے جن عبادات کو ترک کرنے کی رخصت ہے اس رخصت کو ترک کر کے جلد عزیمت کی طرف لوٹ آئیں۔

ہمارے بعض علماء نے زکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کسی بیماری میں مبتلا ہوگئے، ان کے پاس بنو اسرائیل آئے، انہوں نے ان کے مرض کو پہچان لیا اور حضرت موسیٰ سے کہا کہ آپ فلاں چیز سے علاج کرلیں تو آپ تندرست ہوجائیں گے، حضرت موسیٰ نے فرمایا میں کوئی دوا نہیں کروں گا حتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے بغیر کسی دوا کے شفا دے، پھر مرض نے طول کھینچا، انہوں نے پھر کہا اس مرض کی فلاں دوا مشہور اور مجرب ہے، اگر آپ وہ دوا پی لیں تو تندرست ہوجائیں گے، حضرت موسیٰ نے کہا میں دوا نہیں کروں گا، ان کی بیماری اسی طرح جاری رہی، پھر اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی : مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک صحت نہیں دوں گا جب تم اس دوا سے علاج نہیں کرو گے جو انہوں نے تمہیں بتائی ہے، تب حضرت موسیٰ نے بنو اسرائیل سے فرمایا، تم نے مجھ سے جس دوا کا ذکر کیا تھا وہ دوا مجھے لاکر دو ، انہوں نے وہ دوا لاکر دی، حضرت موسیٰ نے اس دوا سے علاج کیا اور تندرست ہوگئے، پھر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں توجہ کی تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی تم نے مجھ پر اپنے توکل کی وجہ سے میری اس حکمت کو باطل کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ میں نے جڑی بوٹیوں میں چیزوں کی منفعت رکھی ہے، بعض رواویات میں ہے کہ ایک نبی نے اللہ سے اس بیماری کی شکایت کی جس میں وہ مبتلا تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ انڈے کھاؤ، اور ایک اور روایت میں ہے کہ ایک نبی نے اللہ سے ضعف کی شکایت کی تو ان سے فرمایا کہ وہ گوشت کو دودھ کے ساتھ کھائیں، کیونکہ ان دونوں چیزوں میں طاقت ہے اور وہب بن منبہ نے ذکر کیا ہے کہ ایک بادشاہ کسی بیماری میں مبتلا ہوگیا، اور وہ بہت نیک سیرت بادشاہ تھا، تو اللہ تعالیٰ نے شعیاء نبی (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ وہ زیتون کا عرق پیے، اور ہم نے ایک اس سے بھی عجیب چیز روایت کی ہے کہ ایک قوم نے اپنے نبی سے شکایت کی کہ اس کی اولاد بد صورت پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ان سے کہو جب ان کی عورتیں حاملہ ہوں تو ان کو بہی دانہ کھلائیں پھر ان کے بچے خوبصورت پیدا ہوں گے، پھر وہ حاملہ عورتوں کو بہی دانہ اور نفاس والی عورتوں کو تازہ کھجوریں کھلاتے تھے اور یہ عمل حمل کے تیسرے یا چوتھے مہینے میں ہوتا تھا۔

بہرحال قوی لوگوں کے لیے دوا کرنا افضل ہے اور یہ عزائم دین میں سے ہے اور یہ صدیقین میں سے اولو العزم لوگوں کا طریقہ ہے کیونکہ دین میں دو طریقے ہیں ایک طریقہ یہ ہے کہ دنیا سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہو اور عزیمت کو اختیار کرے اور دوسرا توسع اور رخصت کا طریقہ ہے، سو جو شخص قوی ہو وہ زیادہ سخٹ راستہ پر چلے جو اقرب اور علی ہے اور مقربین کا راستہ ہے اور یہی لوگ سابقین ہیں اور جو شخص کمزور وہ آسان او سہل راستہ پر چلے اور یہ متوسط طریقہ ہے لیکن یہ منزل سے زیادہ دور ہے اور یہ لوگ بھی اصحاب الیمین اور درمیانہ درجہ کے اور معتدل لوگ ہیں اور مومنین میں قوی بھی ہوتے ہیں اور ضعیف بھی ہوتے ہیں اور نرم بھی ہوتے ہیں اور سخت بھی ہوتے ہیں۔ (قوت القلوب ج ٢ ص ٣٦۔ ٣٤، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ)

مشہور صوفی ابو طالب مکی کے کلام پر مصنف کا تبصرہ :

صوفی ابو طالب مکی کے اس تجزیہ سے ہمیں اختلاف ہے کہ علاج کرنا رخصت ہے اور یہ ضعیف مسلمانوں کا طریقہ ہے، اور علاج نہ کرنا عزیمت ہے، یعنی اصل کے مطابق ہے اور ہمت والوں کا کام ہے اور یہی صدیقین اور اولو العزم لوگوں کا طریقہ ہے، خود صوفی ابو طالب مکی نے نقل کیا ہے کہ انبیاء سابقین کو اللہ تعالیٰ علاج کرنے کی وحی فرماتا تھا اور حضرت موسیٰ نے علاج کے بغیر توکل کیا تو اللہ نے ان کو اس سے منع کیا اور رلاج کرنے کا حکم دیا، اور سید المرسلین و سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد مرتبہ علاج فرمایا اور علاج کرنے کی ہدایت دی، اور اگر یہ نفوس قدسیہ اولو العزم نہیں اور قوی نہیں ہیں تو کون قوی اور الو العزم ہوگا۔ اور علاج کرنے والوں کو ضعیف کہنا ان حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ایمان کو ضعیف کہنے کے مترادف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا شخص خود ضعف ایمان کے خطرہ میں ہے۔

سب سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خود قرآن عظیم نے علاج کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛

ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۔ (البقرہ : ١٩٥) اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

جس حاملہ عورت کے پیٹ میں بچہ آڑا ہو، وہ معروف طبی طریقہ سے پیدا نہیں ہوسکتا اس کے لیے اس عورت کے پیٹ کا آپریشن کرنا ناگزیر ہے اگر اس کے پیٹ کی سرجری نہ کی جائے تو عورت اور بچہ دونوں مرجائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ولا تقتلوا انفسکم، ان اللہ کان بکم رحیما۔ (النساء : ٢٩) اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔

اور صورت مذکورہ میں سرجی کے ذریعہ علاج نہ کرنے سے عورت اور بچہ دونوں مرجائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی جانوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے سو اس صورت میں علاج نہ کرنا حرام ہوا اور حرام کی ضد فرض ہوتی ہے لہذا ایسی تمام صورتوں میں جن میں علاج نہ کرنے سے موت کا اور جان ضائع ہونے کا خطرہ ہو ان تمام صورتوں میں علاج کرنا فرض ہے، ہم ایسی چند اور مثالیں پیش کرتے ہیں :

ایک عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہو اگر اس کے پیٹ کی سرجری کر کے زندہ بچہ کو مردہ عورت کے پیٹ سے نہ نکالا جائے تو وہ بچہ مرجائے گا اور اگر اس عورت کو یونہی دفن کردیا گیا تو اس بچہ کو زندہ درگور کرنا لازم آئے گا۔ لہذا اس صورت میں سرجری کے ذریعہ اس بچہ کو مردہ عورت کے پیٹ سے نکالنا فرض ہے۔ 

ایک شخص بلڈ کینسر کا مریض ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ اس کے جسم کے پورے خون کو تبدیل کردیا جائے ورنہ وہ شخص مرجائے گا لہذا اس صورت میں بھی انتقال خون کے ذریعہ علاج کرنا فرض ہے۔

ایک شخص کا جگر فیل ہوگیا اس نے خون بنانا بند کردیا اب اس کو زندہ رکھنے کے لیے انتقال خون کے ذریعہ اس کے جسم میں نیا خون پہنچانا ضروری ہے بلکہ فرض ہے ورنہ وہ شخص مرجائے گا۔

ایک شخص شوگر کا مریض ہے اس کا پیر زخمی ہے اس میں زہر پھیل گیا ہے، اگر سرجری کے ذریعہ اس کا پیر کاٹ کر الگ نہ کیا گیا تو یہ زہر پورے جسم میں پھیل جائے گا اور اس کی موت واقع ہوجائے گی اس صورت میں اس کی جان بچانے کے لیے سرجری کے ذریعہ اس کا علاج کرانا ضروری ہے۔

ایک شخص کو برین ہیمبرج ہوگیا یعنی اس کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اگر سرجری کے ذریعہ اس کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو اس کی موت واقع ہوجائے گی اس صورت میں بھی سرجری کے ذریعہ اس کا علاج کرانا فرض ہے۔

دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجہ میں اچانک ایک شخص کے سینہ اور پیٹ میں کئی گولیاں لگ گئیں اگر بروقت کارروائی کر کے سرجری کے ذریعہ اس کے جسم سے گولیاں نہ نکالی گئیں تو اس کی موت واقع ہوجائے گی، اس صورت میں بھی سرجری کے ذریعہ اس کا علاج کرانا فرض ہے۔

کسی بڑے حادثہ میں ایک شخص بری طرح زخمی ہوگیا اور اس کے جسم سے بہت زیادہ خون نکل گیا حتی کہ وہ موت کے قریب آپہنچا اگر بروقت اس کے جسم میں خون نہ پہنچایا گیا تو وہ مرجائے گا، اس صورت میں بھی انتقال خون کے ذریعہ اس کا علاج کرانا فرض ہے۔

بعض دفعہ اچانک ہائی بلڈ پریشر بڑھ جانے کی وجہ سے ایک آدمی کے جسم کے کسی عضو پر فالج گر جاتا ہے، اس صورت میں مرنے کا خطرہ اگرچہ نہ ہو لیکن ہلاکت میں مبتلا ہونے کا یقینی خطرہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

شوگر، ہائی بلڈ پریشر یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ اگر ان کا باقاعدگی سے علاج اور پرہیز نہ کیا گیا تو فالج، برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، گردے فیل ہوجانے، جگر فیل ہوجانے، کسی عضو کے ناکارہ ہونے اور کینسر وغیرہ کا خطرہ لگا رہتا ہے اور ان بیماریوں کا علاج نہ کرنا اپنے آپ کو ہلاک میں مبتلا کرنا ہے۔

شدید کالی کھانسی، نمونیہ، چیچک، تپ دق، گردن توڑ بخار وغیرہ یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ اگر ان کا بروقت علاج نہ کر ایاجائے تو انسان مرتا تو نہیں لیکن اس کی زندگی مردے سے بدتر ہوجاتی ہے، اور یہی اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا کرنا ہے۔ لہذا ان صورتوں میں بھی علاج کرنا ضروری ہے۔

اور یہ تو ایک واضح اور بدیہی بات ہے کہ بیماری کے دوران شدید بیماری میں انسان اپنے روز مرہ کے معمول کے کام انجام نہیں دے پاتا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت بھی عذر کی وجہ سے نہیں کرسکتا اور عبادات سے بھی قاصر رہتا ہے اگر وہ مزدور ہے یا روز مرہ کی اجرت پر کام کرتا ہے تو اگر وہ علاج نہیں کرے گا تو کام پر نہیں جاسکے گا، اور نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کی عبادات میں خلل واقع ہوگا بلکہ روٹیوں کے بھی لالے پڑجائیں گے وہ اہل و عیال کی کفالت نہیں کرسکے گا، اور اس کے اہل و عیال پر بھیک مانگنے کی نوبت آجائے گی ہمارے معاشرہ میں قرض بھی اسی کو دیا جاتا ہے جس سے رقم واپس ملنے کی امید ہو اندریں حالت یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ علاج نہ کرنا افضل ہے اور عزیمت ہے اور یہ ایمان کا درجہ ہے اور ہمت والے مومنوں کا کام ہے اور علاج کرنا رخصت ہے اور یہ ضعیف مسلمانوں کا شعار ہے اور یہ منزل سے زیادہ دور ہے۔

ان صوفیوں نے توکل کا معنی یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسباب کو ترک کرنا توکل ہے، حالانکہ توکل کا معنی یہ ہے کہ کسی مطلوب کے اسباب کو حاصل کر کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیاجائے۔

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اس کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا اونٹنی کو باندھو اور توکل کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٧، حلیۃ الاولیا ج ٨ ص ٣٩٠، کنز العمال رقم الحدیث : ٥٦٨٧، حافظ زہبی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے، المستدرک ج ٣ ص ٦٢٣، مسند الشہاب رقم الحدیث : ٦٣٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣١، مجمع الزوائد ج ١٠، ص ٣١٠، ٢٩١)

ترک علاج کو افضل کہنے والوں کے دلائل اور ان کے جوابات :

جو صوفیا علاج نہ کرنے کو افضل اور عزیمت کہتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت عمران بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، صحابہ نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو گرم لوہے سے داغ لگواتے ہوں گے اور نہ دم کرواتے ہوں گے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہوں گے، عکاشہ نے کھڑے ہو کر کہا : آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے کردے، آپ نے فرمایا تم ان میں سے ہو، پھر ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یا نبی اللہ ! آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کردے، آپ نے فرمایا تم پر عکاشہ سبقت کرچکا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٠٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٤٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٨١٩، المعجم الکبیر ج ١٠، ص ٦)

امام ابو عبداللہ مازری نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ علاج کرنا مکروہ ہے اور جمہور علماء کا قول اس کے خلاف ہے، کیونکہ بکثرت احادیث میں مذکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دواؤں کے فوائد بیان فرمائے ہیں۔ مثلا کلونجی اور قسط ہندی کے فوائد فرمائے ہیں، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی علاج فرمایا ہے، اور دوسروں کا بھی علاج فرمایا ہے، اس لیے یہ حدیث ان لوگوں پر محمول ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ دوائیں اپنی طبعی خواص کی بنا پر شفا دیتی ہیں اور دوا سے علاج کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے شفا کی امید نہیں رکھتے بلکہ دوا کی تاثیر پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اور علامہ داؤدی نے کہا ہے یہ حدیث ان لوگوں پر محمول ہے، جو حالت صحت میں دواؤں سے علاج کرتے ہیں، کیونکہ جس شخص کو کوئی بیماری نہ ہو اس کے لیے گلے میں تعویذ ڈالنا مکروہ ہے، اور جو شخص کسی بیماری میں تعویذ لٹکائے تو یہ جائز ہے اور دم کروانا، اور گرم لوہے سے داغ لگوانا طب کی اقسام سے ہے اور طب یعنی علاج کرانا توکل کے منافی نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سلف صالحین نے علاج کرایا ہے اور ہر یقینی سبب مثلا غذا حاصل کرنے کے لیے کھانا اور پینا توکل کے منافی نہیں ہے، اسی وجہ سے متکلمین نے علاج کرانے سے منع نہیں کیا، اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی روزی حاصل کرنے کے لیے کسب معاشی سے منع نہیں کیا اور اس کو توکل کے منافی قرار نہیں دیا، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علاج کرنے اور گرم لوہے سے داغ لگوانے کو جائز قرار دیا ہے۔ (اکمال الععلم بفوائد مسلم ج ١ ص ٦٠٣، ملخصا مطبوعہ دار الوفا بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے داغ لگانے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ وہ لوگ گرم لوہے سے داغ لگوانے کو بہت اہم اور تیر بہدف علاج سمجھتے تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ داغ لگوانے سے بیماری جڑ سے اکھڑ جاتی ہے اور اگر کسی عضو کے اوپر گرم لوہے سے داغ نہ لگوایا گیا تو وہ عضو ضائع اور ہلاک ہوجائے گا، سو آپ نے اس عقیدہ کے ساتھ ان کو داغ لگوانے سے منع فرمایا اور جب اس کو محض شفا کا سبب قرار دیا جائے اور اس کو شفا کی قطعی علت نہ سمجھا جائے تو اس طور پر اس کو علاج کے لیے جائز قرار دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی بیماری سے شفا دیتا ہے اور مرض سے بری کرتا ہے۔ اور لوگ اس معاملہ میں بہت شکوک میں مبتلا ہوتے ہیں، مثلا وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ دوا پی لیتا تو نہ مرتا اور اگر وہ اپنے شہر میں قیام کرتا تو قتل نہ کیا جاتا اور یہ بھی جواب دیا گیا ہے کہ اس حدیث میں اس لیے منع کیا گیا ہے کہ بعض لوگ مرض پیدا ہونے سے پہلے اس کے علاج کے لیے داغ لگوانا شروع کردیتے ہیں اور یہ مکروہ فعل ہے ضرورت کے وقت داغ لگوانے کو مشروع کیا گیا ہے ور دم کروانے کے جواز کے متعلق بہت احادیث ہیں اور اس حدیث میں ممانعت اس صورت پر محمول ہے جب اللہ تعالیٰ کے اسماء، اس کی صفات اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں کے بغیر اور الفاظ کے ساتھ دم کرایا جائے یا جس کا عقیدہ ہو کہ دم کرانے سے لامحالہ فائدہ ہوگا اور وہ اسی دم کرانے پر توکل کرے اور اللہ تعالیٰ پر توکل نہ کرے۔ (عارضۃ الاحوذی ج ٥ ص ١٩٩، ٢٠٠، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ علی بن خلف بن عبدالمالک المعروف بابن بطال المالکی الاندلسی المتوفی ٤٩٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت جابر کی حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ گرم لوہے سے داغ لگوانا اور فصد لگوانا مباح ہے اور ان دونوں میں شفاء ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کو اس چیز کی رہنمائی فرمائیں گے جس میں ان کے لیے شفا ہوگی۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں خود گرم لوہے سے داغ لگواؤں جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کے کئی افراد کا گرم لوہے سے داغ لگوا کر علاج کرایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ گرم لوہے سے داغ لگوانے سے اپنے جسم کو آگ کی حرارت سے تکلیف پہنچانا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکثرت آگ کے عذاب سے پناہ طلب کیا کرتے تھے آپ گرم لوہے سے داغ لگواتے تو آپ اسی درد کے حصول میں عجلت کرتے جس سے آپ اللہ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیا شریعت میں اس کی کوئی اور مثال ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چیز کو امت کے لیے مباح کیا ہو اور خود اس کو خصوصیت کے ساتھ نہ کیا ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ کیوں نہیں ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کے لیے دسترخوان پر رکھی ہوئی گوہ کے کھانے کو مباح کردیا اور خود تناول نہیں فرمایا، اور یہ ارشاد فرمایا یہ میرے علاقہ کی زمین کا جانور نہیں ہے، مجھے اس سے گھن آتی ہے، اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچی پیاز اور کچا لہسن نہیں کھایا اور فرمایا اس سے بدبو آتی ہے اور امت کے لیے اس کا کھانا مباح کردیا، اور فرمایا میں اس سے سرگوشی میں بات کرتا ہوں جس سے تم سرگوشی میں بات نہیں کرتے اور ایک مرتبہ فرمایا میرے پاس اللہ کی بارگاہ سے (فرشتے) آتے ہیں، اسی طرح آپ نے امت کے لیے داغ لگوانے کو مباح کردیا اور خود داغ لگوانے کو پسند نہیں فرمایا۔

آپ نے فرمایا وہ لوگ نہ بدشگونی کرتے ہوں گے اور نہ دم کراتے ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ کوئی ایسا کام نہیں کرتے ہوں گے جس میں ان کا یہ اعتقاد ہو کہ اس کام کے بعد شفا حاصل ہوگی خواہ اللہ کا اذن نہ ہو، اگرچہ وہ شفا داغ لگوانے یا دم کرانے کے سبب سے حاصل ہوئی ہو اور بدشگونی نہ کرتے ہوں گے کا یہ مطلب ہے کہ وہ کسی کام کو جارہے تھے اور کسی بدشگونی سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کام پر نہیں جانا چاہیے ورنہ نقصان ہوگا اور یہ نقصان لازما ہوگا خواہ اللہ کا حکم نہ ہو، تو وہ اس بدشگونی کی پرواہ نہیں کریں گے اور اپنے کام پر چلے جائیں گے۔

اور اس حدیث میں ہے نہ وہ دم کراتے ہوں گے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ایسا دم نہیں کرائیں گے جیسا دم زمانہ جاہلیت میں کرایا جاتا تھا، اور یہ وہ دم ہے جو اللہ تعالیٰ کے اسماء، اس کی صفات اور اس کی کتاب کے کلمات کے غیر پر مشتمل ہو، اور یہ ایک قسم کا جادو ہے اور اللہ کی کتاب کے کلمات اور اس کی صفات اور اس کے اسماء پر مشتمل دم کرانا جائز ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قسم کا دم کیا ہے اور اس طرح کے دم کرنے کا حکم دیا ہے اور اس طرح کے دم کرنے سے انسان توکل سے خارج نہیں ہوگا اور وہ شفا کے حصول میں صرف اللہ کی رضا کا قصد کرتا ہے۔

اور آپ نے فرمایا وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہیں، امام طبری نے کہا ہے کہ لوگوں کا توکل کی تعریف میں اختلاف ہے، ایک جماعت نے یہ کہا کہ جب انسان کے دل میں اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہ ہو تو یہ توکل ہے اور وہ پھاڑنے والے درندوں اور کافروں سے بالکل نہ ڈرے حتی کہ وہ رزق کے لیے جدوجہد بھی نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے رزق کا ضامن ہے اور طلب معاش میں مشغول ہونے سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں خلل آتا ہے اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے، عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سب سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ہر مشقت سے اس کی کفایت کرتا ہے اور جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے، اور حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے رزق سے بھاگے تو وہ رزق اس کو اس طرح پائے گا جس طرح موت اس کو پالیتی ہے۔

اور ایک دوسری جماعت نے یہ کہا کہ توکل کی تعریف یہ ہے کہ اپنے کاموں میں اللہ پر اعتماد کیا جائے، اور اس کے امر کو تسلیم کیا جائے اور یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو اس کے لیے مقدر کیا ہے وہ ہونے والا ہے اور وہ اللہ کے رسول کی سنت کی اتباع کرے اور اللہ کے رسول کی سنتوں میں سے ہے، کھانا، پینا، اور لباس پہننا یہ انسان کے لیے ناگزیر ہیں ان کاموں کے حصول کے لیے سعی اور جدوجہد کرے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وما جعلنھم جسدا لایاکلون الطعام۔ (الانبیاء : ٨) اور ہم نے ان (نبیوں) کو ایسے جسم والا نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتے ہوں۔

اور آپ کی سنتوں میں سے یہ ہے کہ آپ دشمنوں سے حفاظت کرتے تھے، جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ احد کے دن دور زرہیں پہنیں اور سر پر خود پہنا جس سے آپ دشمنوں کے حملے سے محفوظ رہتے تھے اور آپ نے گھاٹیوں کے منہ پر تیر اندازوں کو بٹھایا تاکہ جو آپ کی طرف آنے کا ارادہ کرے وہ اس کو وہاں سے بھگا دیں، اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کی حفاظت کے لئیے مدینہ کے گرد خندق کھودی، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے رب عزوجل پر جتنا اعتماد اور توکل تھا دوسرا کوئی شخص اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (مزید یہ کہ آپ نے خود متعدد بیماریوں میں اپنا علاج کیا اور آپ ازواج مطہرات کو ایک سال کا غلہ فراہم کردیتے تھے، حالانکہ آپ سید المتوکلین ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ بیماری کا علاج کرنا اور مستقبل کے تحفظ کے لیے اسباب فراہم کرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ توکل کے عین مطابق ہے) پھر آپ کے اصحاب کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ انہوں نے مشرکین مکہ کے خوف سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی تاکہ وہ اپنے دین کو اور اپنی جانوں اور مالوں کو مشرکین کے فتنوں اور ان کی ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھ سکیں، انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ اللہ پر توکل کر کے وہیں بیٹھے رہتے۔

ایک شخص نے حسن بصری سے کہا عامر بن عبداللہ شام کے راستے میں پانی کی طرف جارہے تھے، ناگاہ ان کے اور پانی کے درمیان ایک شیر حائل ہوگیا، عامر نے شیر کی پرواہ نہیں کی اور پانی پر پہنچے اور پانی پی لیا، ان سے کہا گیا کہ تم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیا تھا، انہوں نے کہا شیر مجھے پھاڑ کھاتا تو اس سے بہتر تھا کہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز سے ڈرتا ہوں۔ حسن بصری نے کہا حضرت موسیٰ عامر سے بہت بہتر تھے اور وہ دشمنوں کے خوف سے مصر سے مدین کی طرف چلے گئے تھے، قرآن مجید میں ہے :

وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسعی، قال یموسی ان الملا یاتمرون بک لیقتلوک فاخر انی لک من الناصحین۔ فخرج منھا خائفا یترقب قال رب نجنی من القوم الضالمین۔ (القصص : ٢٠، ٢١) اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص سے دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے موسیٰ ! بیشک (فرعون کے) درباری آپ کو قتل کرنے کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں، سو آپ (اس شہر سے) نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ سو موسیٰ اس شہر سے خوف زدہ ہو کر نکلے اور یہ دعا کی کہ اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے بچا لے۔

اور جب حضرت موسیٰ نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا اس کے بعد حضرت موسیٰ کی کیفیت کا ذکر فرمایا :

فاصبح فی المدینۃ خائفا یترقب۔ (الصص : ١٨) تو موسیٰ نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی وہ یہ انتظار کر رہے تھے (کہ اب کیا ہوگا)

اور جب فرعون کے جادوگروں سے مقابلہ ہوا اور جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں جو سانپوں کی طرح دوڑنے لگیں اس موقع پر حضرت موسیٰ کی جو کیفیت تھی اس کا ذکر فرمایا :

فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ قلنا لا تخف انک انت الاعلی۔ (طہ : ٦٧، ٦٨) سو موسیٰ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ ہم نے کہا آپ مت ڈریے بیشک آپ ہی سرخرو ہوں گے۔

انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے بنو آدم کے دلوں میں جو کیفیات پیدا کی ہیں جو شخص ان کیفیات کے خلاف اپنے دل کی کیفیت بتاتا ہے وہ جھوٹا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے بنو آدم کے دلوں میں یہ کیفیت پیدا کی ہے وہ ضرر رساں چیزوں کو دیکھ کر ان کے خوف سے بھاگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی کمائی سے پاک چیزوں کو خرچ کریں، اور جو شخص بھوک سے اضطرار کی حالت میں ہو اس کے متعلق فرمایا :

فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ۔ (البقرہ : ١٧٣) سو جو شخص (بھوک سے) بےتاب ہوجائے درآنحالیکہ وہ نہ نافرمانی کرنے والا ہو، نہ حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔

پس جس شخص کو کھانے کے لیے کچھ نہ ملے اور وہ بھوک سے بےتاب ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اجازت دی ہے کہ جن چیزوں کا کھانا اس پر حرام کردیا گیا ہے اس حالت میں وہ ان چیزوں کو بقدر ضرورت کھالے، اور اس کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اللہ پر توکل کر کے بیٹھا رہے، اور اس انتظار میں بیٹھا رہے کہ اس پر آسمان سے کھانا نازل ہوگا اور اگر اس حالت میں اس نے کھانے پینے کی چیزوں کے حصول کے لیے جدوجہد نہیں کی حتی کہ وہ مرگیا تو وہ اپنی جان کا قاتل قرار دیا جائے گا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھوک کی شدت میں کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرتے تھے اور آپ پر کبھی آسمان سے کھانا نازل نہیں ہوا حالانکہ آپ افضل البشر تھے (بلکہ افضل الخلق تھے) اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر فتوحات کی کثرت کردی تو آپ ایک سال کی غذا کو ذخیرہ کرتے تھے۔

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص اونٹ لے کر آیا اور پوچھا یا رسول اللہ میں اس کا باندھ کر توکل کروں یا اس کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کو باندھ کر توکل کرو۔ اور رہا یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : میری امت میں سے ستر ہزار نفر بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو دم کراتے ہوں گے نہ شگونی لیتے ہوں گے اور نہ گرم لوہے سے داغ لگوا کر علاج کرتے ہوں گے، اور اپنے رب پر توکل کرتے ہوں گے، اس حدیث سے صوفیا کا ترک اسباب اور ترک علاج پر استدلال کرنا ان کی بیخبر ی اور ناسمجھی ہے، اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ وہ لوگ اس اعتقاد سے داغ نہیں لگواتے ہوں گے کہ اللہ ان کے اذن کے بغیر داغ لگوانے سے شفا اور تندرستی حاصل ہوجاتی ہے اور جس نے اس اعتقاد سے داغ لگوایا کہ اس علاج کے ذڑیعہ اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے گا اور جب اس کو شفا ہوگئی تو اس نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے ہی شفا دی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح توکل کرنے والا متوکل ہے اور جنت میں داخل ہونے میں کوئی بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سبقت نہیں کرسکتا اور آپ نے فرمایا بھی ہے میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا، مجھ سے پوچھا جائے گا آپ کون ہیں ؟ میں کہوں گا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (جنت کا) خازن کہے گا مجھے یہ حکم دیا گیا تھا کہ میں آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازنہ نہ کھولوں، نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو گرم لوہے سے داغ لگوایا، اور حضرت ابو امامہ نے حضرت اسعد بن زراہ کے گرم لوہے سے داغ لگایا اور حضرت سعد بن معاذ نے جنگ خندق کے دن اپنے زخم پر داغ لگوایا اور جنگ احد کے دن حضرت ابی بن کعب کے بازو کی ایک رگ پر تیر لگا انہوں نے اس زخم پر گرم لوہے سے داغ لگوایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں حضرت ابو طلحہ نے داغ لگوایا اور جریر بن عبداللہ نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب نے میرے سامنے قسم کھائی کہ وہ ضرور داغ لگوائیں گے اور حضرت خباب بن ارت نے اپنے پیٹ پر سات مرتبہ داغ لگوایا اور حضرت ابن عمر نے لقوہ کی وجہ سے داغ لگوایا (لقوہ کا معنی ہے چہرے پر فالض ہو جس کی وجہ سے باچھ یا جبڑا ٹیڑھا ہوجائے) اسی طرح حضرت معاویہ نے بھی لقوہ کی وجہ سے داغ لگوایا، یہ تمام آثار امام طبری نے اسانید صحیحہ کے ساتھ روایت کیے ہیں۔

امام طبری نے کہا اب ظاہر ہوگیا کہ حدیث کا معنی وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے ور توکل کی صحیح تعریف یہ ہے کہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہو اور کسی بھی مقصود میں اپنی وسعت کے مطابق سعی اور کوشش اور انتہائی جدوجہد کر کے اس کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے خواہ اس کا وہ مقصود دینی ہو یا دنیاوی، اور صوفیاء نے جو توکل کی تعریف کی ہے وہ غلط ہے ان کی تعریف یہ ہے کہ درندوں سے نہ ڈرنا اور ان کو دیکھ کر نہ بھاگن اور دشمنوں سے بچنے کے لیے حفاظت کا انتظام نہ کرنا، اور روزی حاصل کرنے کے لیے کسب معاش نہ کرنا، اور بیماریوں کا علاج نہ کرنا، کیونکہ ایسا کرنا قرآن اور حدیث سے جہالت کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو احکام دیے ہیں ان کے مخالف ہے ور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کو جو احکام دیے ہیں ان کے بھی مخالف ہے اور صحابہ کرام، فقہاء تابعین، اور ائمہ مجتہدین کے طریقہ کے بھی خلاف ہے۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال ج ٩ ص ٤٠٨۔ ٤٠٤، مطبوعہ مکتبہ الرشد ریاض ١٤٢٠ ھ)

قاضی عیاض، علامہ نووی، علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ سیوطی نے اس مسئلہ پر بحث کر کے آخر میں یہ لکھا ہے کہ افضل یہ ہے کہ علاج کو ترک کر کے اللہ پر توکل کیا جائے اور علاج کرنا خلاف ولی یا مکروہ تنزیہی ہے، ہرچند کہ یہ بہت قد آور علماء ہیں لیکن ان کی یہ رائے صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی علاج کیا ہے اور اپنے اصحاب کا بھی علاج کرایا ہے اور بالعموم مسلمانوں کو علان کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ خلاف اولی اور خلاف افضل کام کا حکم نہیں دیتے، آپ سید المتوکلین ہیں اور جب آپ نے علاج کیا ہے تو علاج کرنا توکل کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے، علامہ ابن بطال نے جو توکل پر نفیس بحث فرمائی ہے اس سے یہ مسئلہ بہت واضح ہوجاتا ہے۔

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ نے اس مسئلہ میں صحیح موقف اختیار کیا ہے وہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ بلا ضرورت دم کروانا اور داغ لگوانا خلاف افضل ہے اور جب ضرورت ہو تو جائز ہے نیز تفصیل سے لکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے وہ دم نہیں کرواتے ہوں گے یعنی زمانہ جاہلیت میں جن الفاظ کے ساتھ دم کرایا جاتا تھا ان الفاظ کے ساتھ دم نہیں کرواتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی دم فرمایا ہے اور اس کا حکم بھی دیا ہے، لہذا اس کے ساتھ دم کرنا کرنا توکل سے خارج نہیں ہے، اور آپ نے فرمایا ہے وہ بدشگونی پر عمل نہیں کرتے تھے اس سے مراد یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں پرندوں سے شگون لیا جاتا تھا کہ اگر پرندہ آدمی کے دائیں جانب پرواز کرے تو اس کے سفر میں کامیابی ہے وار اگر بائیں جانب پرواز کرے تو ناکامی ہے، اور نیک فال لینا جائز ہے، اور فرمایا وہ داغ نہیں لگواتے تھے، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ یہ اعتقاد نہیں کرتے تھے کہ شفا اسی سے حاصل ہوگی جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کفار کا عقیدہ تھا اور آپ نے فرمایا وہ اپنے رب پر بھی توکل کرتے تھے اس کا معنی یہ ہے کہ مسببات اور اسباب کو مرتب کر کے نتیجہ کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے گا۔ (عمدۃ القادری ج ٢١، ص ٢٤٣، ٢٤٥، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، مصر ١٣٤٨ ھ)

صوفیاء اور علاج کو مکروہ کہنے والوں نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے :

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے گرم لوہے سے داغ لگوایا یا دم کروایا تو وہ توکل سے بری ہوگیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٥، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٧٦٣، مصنف ابن ابی شیبہ، ج ٨ ص ٧٠، مسند احمد ج ٤ ص ٢٤٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٨٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٠٨٧، المستدرک ج ٤ ص ٤١٥، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٤١، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٥٠٧)

اس حدیث کا بھی وہی محمل ہے جو ہم اس سے پہلی حدیث کا محمل بیان کرچکے ہیں مزید تفصیل یہ ہے :

علامہ عبدالرؤف مناوی متوفی ١٠٠٣ ھ لکھتے ہیں :

جو شخص داغ لگوانے اور دم کروانے پر ہی شفا کو موثر جانے اور اسی پر اعتماد کرے وہ توکل سے بری ہوگیا اور جو ان چیزوں کو سبب قرار دے اور حصول شفا میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے وہ توکل سے بری نہیں ہوا بلکہ وہ اللہ پر توکل کرنے والا ہے۔ علامہ ابن قتیبہ نے کہا داغ لگوانے کی دو قسمیں ہیں ایک قسم یہ ہے کہ وہ صحت کے زمانہ میں داغ لگوائے تاکہ آئندہ بیمار نہ ہو۔ یہ حدیث اسی پر محمول ہے کیونکہ وہ گرم لوہے سے داغ لگوا کر یہ چاہتا ہے کہ وہ آئندہ بیمار نہ ہو اور اس طرح وہ تقدیر ٹال رہا ہے اور کوئی تقدیر کو ٹالنے والا نہیں ہے اور اس کی دوسری قسم وہ ہے کہ انسان کے کسی عضو میں زخم ہوجائے یا کوئی اور بیماری ہوجائے تو وہ اس کے علاج کے لیے اس پر گرم لوہے سے داغ لگوائے اور یہی صورت ہے جس کے لیے علاج کرنا مشروع ہے۔ (فیض القدیر ج ١٠، ص ٥٦٩٣، مطبوعہ مکتبہ نزا مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

علاج کے ثبوت میں قرآن مجید اور احادیث سے مزید دلائل :

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

فمن کان منکم مریضا او بہ اذای من راستہ ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک۔ (البقرہ : ١٩٦) پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (مثلا جوئیں ہوں) تو اس پر (بال منڈوانے کا) فدیہ روزے ہیں، یا خیرات ہے یا قربانی ہے۔ 

حج کرنے والے کے لیے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوانا جائز نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ بیماری کی حالت میں اس کو بھی سر منڈوانے کی اجازت دے رہا ہے، اور جس شخص کے سر میں جوئیں ہوں اس کا یہی علاج ہے کہ اس کا سر مونڈ دیا جائے اور یہ علاج کے مشروع ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

حضرت کعب بن عجرہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی ہے، ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم تھے، اور مشرکین نے ہم کو آگے بڑھنے سے روکا ہوا تھا، اور میرے بہت لمبے لمبے بال تھے، اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے اور فرمایا : کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں، آپ نے فرمایا پس اپنا سر منڈوا لو اور یہ آیت نازل ہوگئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤، مسند احمد ج ٤ ص ٢٤١، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٩٥٨ )

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت کعب بن عجرہ کو سر منڈوانے کا حکم دیا، دوسرے لفظوں میں آپ نے ان کو علاج کرانے کا حکم دیا، اور صراحتا بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علاج کرنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت اسامہ بن شریک بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے اصحاب اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جس طرح ان کے سر پر پرندے ہوں، میں سلام کر کے بیٹھ گیا پھر ادھر ادھر سے اعرابی آگئے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آیا ہم علاج کریں ؟ آپ نے فرمایا دوا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی دوا بھی رکھی ہے، سوا ایک بیماری کے وہ بڑھاپا ہے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٥٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٣٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٣٦)

اس حدیث میں بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوا اور علاج کرنے کا حکم دیا ہے، وار ایسی متعدد احادیث ہیں جن میں سے کچھ ہم اس سے پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں، یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی کام فی نفسہ مکروہ تنزیہی ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان جواز کے لیے اس کام کو کیا ہو، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی مکروہ تنزیہی یا خلاف افضل کام کا حکم دیا ہو، اور کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے کسی غیر افضل یا مکروہ تنزیہی کام کا حکم دیا ہو اور آپ نے چونکہ دوا کرنے اور دم کرانے کا حکم دیا ہے اس لیے ان احکام کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ یہ کام مستحب ہوں، بلکہ بعض صورتوں میں علاج کرانا فرض اور واجب ہوتا ہے جیسا کہ ہم صوفیا کے کلام پر تبصرہ میں بیان کرچکے ہیں، لہذا جن صوفیاء اور بعض علماء نے علاج کرانے اور دم کرانے کو غیر افضل یا مکروہ تنزیہی کہا ہے ان کا یہ قول اصول شرع سے ناواقفیت پر مبنی ہے اور غلط ہے۔ 

اس مسئلہ میں مزید احادیث یہ ہیں :

حضرت ابو درداء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا (دونوں) کو نازل کیا ہے اور ہر بیماری کی دو بنائی ہے سو تم دوا کرو اور حرام کے ساتھ دوا نہ کرو۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٧٤)

یہ حدیث حالت اختیار پر محمول ہے یعنی جب کسی مرض کی حلال اور حرام دونوں دوائیں موجود ہوں تو حرام دوا کے ساتھ علاج نہ کیا جائے لیکن جب کسی مسلم طبیب کے علم میں حرام دوا کے علاوہ اور کوئی حلال دوا نہ ہو اور مرض کی وجہ سے جان کا خطرہ یا ناقابل برداشت تکلیف کا خطرہ ہو تو اس طرح کی حالت اضطرار میں حرام دوا کے ساتھ بھی علاج جائز ہے اور جان بچانے کے لیے واجب ہے۔

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناک میں دوا چڑھائی۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٦٧ )

حضرت سہل بن سعد سے غزوہ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کے زخم کے متعلق سوال کیا گیا اس دن آپ کا سامنے کا نچلا دانت بھی شہید ہوگیا تھا (یعنی تھوڑا سا ٹوٹ گیا تھا) اور آپ کا خود آپ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا، حضرت سیدتنا فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے چہرے سے خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے، جب حضرت سیدتنا فاطمہ نے یہ دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون زیادہ بہہ رہا ہے، تو انہوں نے ایک چٹائی کے ٹکڑے کو جلایا اور جب وہ راکھ ہوگیا تو اس راکھ کو زخم میں بھر دیا پھر خون رک گیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٠، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢٤٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٨٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٦٣ )

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے لقو وہ کی وجہ سے گرم لوہے سے داغ لگوایا اور بچھو کے کاٹنے کی وجہ سے دم کرایا۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٨٠٧)

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے نمونیے کی وجہ سے گرم لوہے سے داغ لگوایا اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ تھے، میرے پاس ابو طلحہ، حضرت انس بن النضر اور حضرت زید بن ثابت آئے حضرت طلحہ نے مجھے داغ لگایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٢١، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢١٩٦، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٨٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥١٦)

حضرت سلمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتی تھیں وہ بیان کرتی ہیں کہ جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی زخم آتا یا کوئی چھالا ہوتا تو آپ مجھے اس پر مہندی لگانے کا حکم دیتے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٠٢)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اثمد کا سرمہ لگایا کرو کیونکہ وہ نظر تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے اور ان کا گمان تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سرمہ دانی تھی اور آپ ہر رات تین بار ایک آنکھ میں اور تین بار دوسری آنکھ میں سرمہ لگاتے تھے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٧٥٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٧٨)

حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیتون کے تیل اور ورس (ایک جڑی بوٹی) کی نمونیہ میں تعریف کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں کہ جس جانب درد ہو اس جانب زیتون کے تیل کی مالش کی جائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٧٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٦٧ )

حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ یہ حکم دیا کہ ہم نمونیہ میں قسط بحری (سمندری کو ٹح، ایک دوا) اور زیتون کے تیل سے علاج کریں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٧٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٦٨ )

حضرت عوف بن مالک اشجعی بیان کرتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں دم کرتے تھے ہم نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا تم جو کچھ پڑھ کر دم کرتے وہ مجھے سناؤ، جب تک اس میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٢٠٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٨٨٦)

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دم کرنے سے منع فرمایا، پھر آل عمرو بن حزم آپ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ! ہمارے پاس کچھ کلمات تھے جن کو پڑھ کر ہم بچھو کے کاٹے پر دم کرتے تھے اور آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا دیا ہے، آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ کر دم کرتے تھے، انہوں نے پڑھ کر سنایا، آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو وہ اس کو نفع پہنچائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥١٥)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لڑکی کے متعلق فرمایا جس کے چہرے پر کسی چیز کا نشان پڑگیا تھا اور وہ لڑکی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ کے گھر میں تھی آپ نے فرمایا اس کو نظر لگ گئی ہے اس پر دم کراؤ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩٧)

ابو خزاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتایئے کہ ہم کچھ کلمات کو پڑھ کر دم کرتے ہیں اور دواؤں سے علاج کرتے ہیں اور ہم بعض چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں آیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر سے کسی چیز کو ٹال سکتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٣٧، مسند احمد ج ٣ ص ٤٢١ )

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوا سے علاج کرنے اور اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے کلمات پڑھ کر دم کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مکروہ تنزیہی یا خلاف افضل کام کا حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان کا کم سے کم درجہ فضیلت اور استحباب ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چونکہ خود بھی دوا سے علاج کیا ہے ور دم کیا ہے اس لیے ان کاموں کا افضل اور مستحب ہونا اور بھی موکد ہوجاتا ہے ور بعض صوفیاء اور بعض علماء کا یہ کہنا قطعا غلط اور باطل ہے کہ علاج نہ کرنا افضل ہے اور علاج کرنا اگرچہ جائز ہے مگر مکروہ تنزیہی اور خلاف افضل ہے۔

قرآن مجید اور احادیث سے پرہیز کے ثبوت پر دلائل :

علاج معالجہ کی بحث میں ایک اہم مسئل پرہیز کرنا ہے، ہم نے اکثر ذیابطیس کے مریضوں کو مٹھائی، چاول اور میٹھے پھل کھاتے ہوئے دیکھا ہے، اگر ان کو منع کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی نعمتیں ہیں اور ہم اللہ کی نعمتوں کو چھوڑ نہیں سکتے یہ کفران نعمت ہے، اور کئی لوگوں کو فخر سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے : صاحب ہم پرہیز نہیں کرتے، پھر ہم نے ان ہی لوگوں کو اس بدپرہیزی کے نتیجے میں کئی مہلک امراض میں مبتلا دیکھا، کسی کی بینائی چلی گئی، کسی کے جگر میں کینسر ہوگیا، اور کسی کے پیر سوج گئیے، کسی کو ایسا زخم ہوگیا جس کے نتیجے میں اس کا پیر کاٹ دیا گیا، کسی کی ٹانگ کاٹ دی گئی، اور کسی کی شریانیں بند ہوگئیں۔ اسی طرح ہائی بلڈ پر یشیر کے مریضوں کو دیکھا جو بدپرہیزی کرتے تھے، کسی کے کسی عضو پر فالج گرگیا اور کسی کے دماغ کی رگ پھٹ گئی، کسی کی بینائی متاثر ہوگئی، غرض بدپرہیزی کے نتیجہ میں لوگ زیادہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس لیے دوا کے ساتھ پرہیز بھی بہت ضروری ہے اور قرآن مجید اور احادیاث صحیحہ میں پرہیز کے متلعق بھی ہدایات موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وان کنتم مرضی او علی سفر او جاء احد منکم من الغائط او لسمتم النساء فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا۔ (النساء : ٤٣، المائدہ : ٦) اور اگر تم بیماری ہو یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آیا ہو، یا تم نے اپنی عورتوں سے مجامعت کی ہو، پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بیمار آدمی کو جسے پانی کے استعمال سے ضرر ہوتا ہے اس کو غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنے کا حکم دیا ہے اور تیمم کا حکم دینا پانی کے استعمال سے منع کرنے کو مستلزم ہے اور جس بیمار کو وضو یا غسل سے ضرر ہوتا ہو اس کو تیمم کا حکم دینا یہی پرہیز کرنے کا حکم ہے۔

حضرت عمرو بن العاص نے ایک مرتبہ سردی کی شدت کی وجہ سے پانی کا پرہیز کیا اور غسل کی بجائے تیمم کرلیا۔

حضرت عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک سرد رات مجھے احتلام ہوگیا، مجھے یہ خوف ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، میں نے تیمم کیا، پھر میں نے اپنے اصحاب کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ نے مجھ سے فمرایا اے عمرو ! تم نے حالت جنابت میں اپنے اصھاب کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے آپ کو وہ سبب بتایا جس کی وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور کہا میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنا ہے :

ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما۔ (النساء : ٢٩) اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔

تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور کچھ نہیں فرمایا۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٣٤)

امام بخاری نے کتاب التیمم میں اس حدیث کا اختصار سے زکر کیا ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک زخمی شخص نے پانی سے پرہیز نہیں کیا اور وہ فوت ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر افسوس فرمایا۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں گئے ہم میں سے ایک شخص کو پتھر آکر لگا اور وہ زخمی ہوگیا، پھر اس کو احتلام ہوگیا، تو اس نے اپنے اصحاب سے پوچھا آیا اس کے لیے تیمم کرنے کی رخصت ہے ؟ اصحاب نے کہا ہم تمہارے لیے رخصت کی گنجائش نہیں پاتے، جبکہ تم پانی استعمال کرنے پر قادر ہو، اس نے غسل کیا اور وہ مرگیا، جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تو ہم نے آپ کو اس واقعہ کی خبر سنائی، آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے تو اس شخص کو قتل کردیا اللہ ان کو قتل کرے، جب تم کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تم نے پوچھا کیوں نہیں ؟ لا علمی کا حل تو صرف سوال کرنا ہے اس کے لیے تیمم کرنا کافی تھا یا پھر اپنے زخم پر پٹی باندھ کر اس پر گیلا ہاتھ پھیرتا اور باقی جسم کو دھو ڈالتا۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٧٢)

اس حدیث سے یہ واضح ہو یا کہ مریض کے لیے پرہیز کرنا ضروری ہے اور بعض اوقات بدپرہیزی کا نتیجہ موت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی مزمت کی جنہوں نے فتوی دینے میں سختی کی اور معذور کے حال کی رعایت نہیں کی رخصت کی جگہ عزیمت پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث میں ان صوفیاء کے لیے عبرت کا مقام ہے جو کہتے ہیں بیمار کے لیے علاج کی رخصت پر عمل کرنا خلاف افضل ہے اور مکروہ تنزیہی ہے، اس شخص کے اصحاب نے بھی ان ہی کی طرح اس معذور شخص کو عزیمت پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی مذمت کی، اور اس حدیث میں یہ واضح دلیل ہے کہ جس شخص کو پانی سے ضرر ہو وہ پانی سے پرہیز کرے اور یہ حدیث پرہیز کے ثبوت میں بہت واضح دلیل ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی پرہیز کی ہدایت دی ہے اور بدپرہیزی سے منع فرمایا ہے :

حضرت صہیب بیان کرتے ہیں کہ میں ہجرت کر کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا اس وقت آپ چھوارے کھا رہے تھے میں نے بھی چھوارے کھانے شروع کردیے اس وقت میری آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ نے فرمایا تمہاری آنکھ دکھ رہی ہیں اور تم چھوارے کھا رہے ہو۔ (الحدیث) (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٤٣، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٣٠٤، مسند احمد ج ٤ ص ٦١، المستدرک رقم الحدیث : ٣٤٤٤ )

امام احمد بن ابوبکر بوصیری متوفی ٨٤٠ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (زوائد ابن ماجہ ص ٤٤٧، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ)

علامہ سید محمد بن حسینی الزبیدی متوفی ١٤٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ علامہ ابن حجر مکی نے شرح الشمائل میں لکھا ہے کہ جو مریض کمزور ہو اس کے لیے سب سے نفع بخش چیز یہ ہے کہ وہ پرہیز کرے۔ بعض اوقات انسان کی رغبت ور میلان اس چیز کو کھانے کی طرف ہوتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اور اس حدیث میں پرہیز کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ آنکھ کی تکلیف میں چھوارے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج ٥ ص ٢٧٠، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

اس سلسلہ میں یہ حدیث بھی ہے :

حضرت ام المنذر بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ کے ساتھ حضرت علی بھی تھے اور ہمارے پاس ادھ پکی (گدری) کھجوروں کا ایک خوشہ تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کھجوروں کو کھانے لگے، حضرت علی بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : ٹھہرو، ٹھہرو یا علی، تم کمزور ہو، پھر حضرت علی بیٹھے رہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھاتے رہے، حضرت ام المنذر نے کہا پھر میں ان کے لیے چقندر اور جولائی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی اس میں سے کھاؤ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٣٨٥٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٣٧، مسند احمد ج ٦ ص ٣٦٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٤٢، المستدرک ج ٤ ص ٤٠٧)

اس حدیث میں پرہیز کے مشروع ہونے پر واضح دلالت ہے۔ 

نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت قتادہ بن نعمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو دنیا سے اس طرح پرہیز کراتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص استسقاء کے مریض کو پانی سے پرہیز کراتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٣٦، مسند احمد ج ٤ ص ٤٢٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٦٩، المعجم الکبیر ج ١٩، ص ١٧، المستدرک ج ٤ ص ٢٠٧)

ان تمام احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ بیمار شخص کو ان چیزوں سے پرہیز کرانا ضروری ہے جو اس کی صحت کے لیے مضر ہیں، ہم اس جان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہم اس بدن کے مالک ہیں ہمارے پاس یہ جسم اور جان اللہ کی امانت ہے۔ ہمارے لیے اس جسم جو ضائع کرنا یا نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے اس لیے ذیابطیس کے مریض کو میٹھی اور نشاستہ دار چیزوں سے پرہیز کرانا ضروری ہے اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو نمکین اور چکنائی والی چیزوں کے استعمال سے پرہیز کرانا ضروری ہے اور جس کے معدہ میں السر ہو اس کو بڑے گوشت، تیز مصالحہ جات اور ترش چیزوں سے پرہیز کرانا ضرویر ہے اور جس کو یرقان ہو اس کو چکنائی اور گائے کے گوشت سے پرہیز کرانا ضرویر ہے اور جس کو عارضہ قلب ہو اس کو انڈے، گائے کے گوشت اور چکنائی سے پرہیز کرانا ضروری ہے اسی طرح جس کے مسوڑوں پر ورم ہو اس کو بھی گائے کے گوشت سے پرہیز کرانا ضروری ہے۔ اور تمام مہلک بیماریوں میں بسیار خوری سے پرہیز کرنا اشد ضروری ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 68