أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ لَـكُمۡ فِىۡ الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً‌ ؕ نُّسۡقِيۡكُمۡ مِّمَّا فِىۡ بُطُوۡنِهٖ مِنۡۢ بَيۡنِ فَرۡثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک مویشیوں میں بھی تمہارے لیے غور کا مقام ہے، ہم تمہیں اس چیز سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں گوبر اور خون کے درمیان ہے اور وہ خالص دودھ ہے جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک مویشیوں میں بھی تمہارے لیے غور کا مقام ہے، ہم تمہیں اس چیز سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں گوبر اور خون کے درمیان ہے اور وہ خالص دودھ ہے جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔ (النحل : ٦٦ )

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بارش اور نباتات کے احوال سے اپنی الوہیت اور توحید پر استدلال فرمایا تھا اور اس آیت میں حیوانات کے عجیب و غریب احوال سے استدلال فرمایا ہے۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ مما فی بطونہ میں مذکر کی ضمیر ہے اور دودھ مذکر میں نہیں مونث میں ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ضمیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی جن مویشیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے بعض کی یہ صفت ہے کہ ہم تمہیں اس چیز سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں گوبر اور خون کے درمیان ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا مادہ جانور گھاس کھاتی ہے وہ گھاس کے معدہ میں مستقر رہتی ہے پھر وہاں وہ گھاس پکتی ہے پھر اس کا نچلا حصہ گوبر بن جاتا ہے اور اس کے درمیان میں دودھ ہوتا ہے اور اس کے اوپر خون ہوتا ہے، اور ان اقسام پر جگر مسلط رہتا ہے وہ خون کو متمیز کر کے رگوں میں جاری کرتا ہے اور دودھ کو تھنوں میں جاری کرتا ہے اور گوبر اسی طرح اوجھڑی میں باقی رہتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ١١٢، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

گوبر اور خون کے درمیان دودھ پیدا کرنے کی صحیح کیفیت :

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خون اور دودھ یقینی طور پر اوجھڑی میں نہیں پیدا ہوتے اور اس کی دلیل مشاہدہ ہے، کیونکہ ان حیوانات کو تواتر اور تسلسل کے ساتھ ذبح کیا جاتا ہے اور ذبح کے بعد جب اوجھڑی کو چیرا جاتا ہے تو کسی شخص نے بھی اس میں خون کا مشاہدہ کیا نہ دودھ کا، اگر خون اور دودھ اوجھڑی میں پیدا ہوتا تو ضروری تھا کہ کسی نہ کسی موقع پر وہ دکھائی دیتا، اور جس چیز کے فسا اد اور بطلان پر مشاہدہ لالت کرتا ہے اس سے استدلال کرنا اور اس پر اعتماد کرنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ جب کوئی جاندار غذا کھاتا ہے تو اگر وہ جاندار انسان ہو تو غذا اس کے معدہ میں پہنچ جاتی ہے اور اگر وہ جاندار مویشی ہوں تو پھر وہ غذا اس کی اوجھڑی میں پہنچ جاتی ہے اور مویشیوں میں سے جب مادہ غذا کھاتی ہے اور وہ غذا یا چارہ اس کی اوجھڑی میں پہنچتی ہے اور چارہ وہاں پک جاتا ہے تو ہضم اول حاصل ہوتا ہے، پس اس میں سے جو صاف جوہر ہوتا ہے اس کو جگر جذب کرلیتا ہے اور جو کثیف مادہ ہوتا ہے وہ انتڑیوں کی طرف اتر جاتا ہے، پھر جس صاف جوہر کو جگر جذب کرتا ہے وہ جگر میں پکتا ہے اور وہ خون بن جاتا ہے اور یہ ہضم ثانی ہے اور یہ خون صٖفراء اور سوداء سے مخلوط ہوتا ہے اور اس میں پانی کے اجزا بھی ہوتے ہیں پھر صٖفراء پتے کی طرف چلا جاتا ہے اور سوداء تلی کی طرف چلا جاتا ہے اور پانی گردوں کی طرف چلا جاتا ہے اور گردوں سے مثانہ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور خون رگوں میں چلا جاتا ہے اور یہ وہ رگیں ہیں جو جگر میں پیدا کی گئی ہیں اور یہاں ہضم ثالث حاصل ہوتا ہے اور جگر اور تھنوں کے درمیان بھی بہت باریک باریک رگیں ہیں، جگر سے خون ان رگوں میں آتا ہے اور ان رگوں سے تھنوں میں آجاتا ہے اور تھنوں میں سفید رنگ کے نرم غدود ہیں اور جب وہ خون رگوں سے تھنوں میں پہنچتا ہے اور ان سفید غدود میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے خون کی صورت کو دودھ میں منتقل کردیتا ہے اور تھنوں میں دودھ کے پیدا ہونے کی صحیح کیفیت یہی ہے۔

نر حیوانوں میں دودھ کیوں نہیں پیدا ہوتا ؟

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مویشیوں میں جو نر ہیں ان کی اوجھڑیوں میں بھی غذا اور چارہ ان ہی مراحل سے گزرتا ہے پھر ان میں دودھ کیوں نہیں پیدا ہوتا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تدبیر اس طرح کی ہے جو اس کے لائق اور مناسب ہو اور جس میں اس کی مصلحت ہو ہر حیوان میں مذکر کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے اور مونث کا مزاج سرد تر ہوتا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ مونث کے بدن کے اندر بچہ تیار ہوتا ہے، اور خلقت کے مراحل طے کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مونث کے بدن میں زیادہ رطوبات ہوں، اور اس کی دو وجہیں ہیں، پہلی وجہ یہ ہے کہ بچہ رطوبتوں سے پیدا ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ مونث کے بدن میں زیادہ ربوطات ہوں، تاکہ وہ رطوبتیں بچہ کے تولد کا مادہ بن جائیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ جب بچہ بتدریج بڑا ہوتا ہے تو ماں کے جسم میں پھیلنے اور بڑھنے کی صلاحیت ہو، تاکہ بچہ بتدریج بڑھتا رہے اور جب کہ ماں کے بدن میں ربوبتیں غالب ہوتی ہیں تو اس کا بدن پھیلنے اور بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حتی کہ بچہ بھی بڑھتا رہتا ہے۔ پس ہماری اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ ہر جاندار مونث کے جسم میں خصوصیت کے ساتھ رطوبات زیادہ ہوتی ہیں، پھر یہ رطوبتیں پیٹ (رحم) کے بچہ کے بدن بڑھنے اور زیادہ ہونے کا مادہ بن جاتی ہیں، جب وہ بچہ ماں کے رحم میں ہوتا ہے اور جب بچہ ماں کے رحم سے منفعل ہو کر پیدا ہوجاتا ہے تو وہ رطوبتیں رحم سے منقتل ہو کر ماں کے پستانوں اور تھنوں میں پہنچ جاتی ہیں تاکہ وہ اس نومولود بچہ کی غذا کا مادہ بن جائیں اور جب تم نے اس تفصیل کو جان لیا تو تم کو معلوم ہوگیا کہ کس سبب سے خون مادہ اور مونث میں دودھ کی شکل میں متشکل ہوتا ہے اور مذکر اور نر میں خون دودھ کی صورت نہیں اختیار کرتا پس دونوں کا فرق واضح ہوگیا۔

اوجھڑی میں دودھ پیدا نہ ہونے کے دلائل :

جب تم نے دودھ پیدا ہونے کی اس تصویر کو جان لیا، تو مفسرین کہتے ہیں کہ یہ تین چیزیں ایک جگہ سے پیدا ہوتی ہیں گوبر اوجھڑی کے بچلے حصہ میں ہوتا ہے اور خون اوپر کے حصہ میں ہوتا ہے اور دودھ درمیانی حصہ میں وہتا ہے اور ہم دلائل سے واضح کرچکے ہیں کہ یہ قول مشاہدہ اور تجربہ کے خلاف ہے، اس لیے کہ اگر خون معدہ کے اوپر کے حصہ میں ہو تو ضروری ہے کہ جب انسان یا حیوان کو قے آئے تو اس کو خون کی قے آئے اور یہ قطعا باطل ہے، اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ خون کے بعض اجزا سے دودھ پیدا ہوتا ہے اور خون ان لطیف اجزا سے پیدا ہوتا ہے جو گوبر میں ہوتے ہیں اور یہ وہ کھائی ہوئی اشیا ہیں جو اوجھڑی میں ہوتی ہیں، اور یہ دودھ ان اجزا لطیفہ سے پیدا ہوتا ہے جو پہلے گوبر میں تھے، پھر وہ اجزا لطیفہ دوسری بار خون میں آئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان اجزا کثیفہ اور غلیظہ سے خون کو مصفی کرلیا اور اس میں وہ صفات پیدا کردیں کہ وہ ایسا دودھ بن گیا جو بچہ کے بدن کے موافق تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جانور جو غذا کھاتے ہیں اس سے ایک طرف تو خون بنتا ہے اور دوسری طرف گوبر بنتا ہے مگر ان ہی جانوروں کی مادہ صنف میں اسی غذا سے ایک تیسری چیز بھی پیدا ہوجاتی ہے جو خاصیت، رنگ، بو اور مقاصد میں ان دونوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے، پھر خصوصا مویشیوں میں اس چیز کی پیداوار اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ان وہ ان کے اپنے بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ انسانوں کے لیے بھی اس چیز کو کثیر مقدار میں فراہم رہتے ہیں۔

دودھ کی خلقت میں اسرار اور دقائق :

مادہ کے تھنوں اور پستانوں میں جو دودھ پیدا ہوتا ہے وہ ایسی خصوصیات سے متصف ہوتا ہے کہ جن کی وجہ سے وہ دودھ بچہ کی غذا کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے موافق ہوتا ہے اور اس دودھ کی خلقت ایسی عجیب و غریب حکمتوں اور ایسے دقیق اسرار پر مشتمل ہے جس سے عقل سلیم یہ شہادت دیتی ہے کہ دودھ کی یہ خلقت کسی عظیم مدبر اور زبردست قادر وقیوم کی تدبیر اور اس کے فعل کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی، ان اسرار اور حکمتوں میں سے ہم چند کا یہاں ذکر کر رہے ہیں :

١۔ اللہ تعالیٰ نے معدہ اور اوجھڑی کے نچے حصہ میں ایک منفذ اور سوراخ پیدا کیا ہے جس سے غذا کا تلچھٹ اور فضلہ دوسری طرف بڑی آنت میں نکل جاتا ہے اور جب انسان کوئی چیز کھاتا ہے یا پیتا ہے تو وہ منفذ کلی طور پر بند ہوجاتا ہے کہ اس کھائی ہوئی اور پی ہوئی چیز میں سے کوئی ذرہ یا کوئی قطرہ اس منفذ سے نہیں نکلتا حتی کہ معدہ میں ہضم کے مراحل مکمل ہوجائیں اس وقت اس غذا کے صاف جوہر کو جگر جذب کرلیتا ہے اور تلچھٹ وہاں باقی رہ جاتا ہے، پھر اس منفذ کا منہ کھلتا ہے اور وہ تلچھٹ معدہ سے نکل کر بڑی آنت میں چلا جاتا ہے اور یہ عجیب و غریب کارروائی فاعل حکیم کی تدبیر کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے جگر میں ایسی قوت رکھی ہے جو کھائی ہوئی اور پی ہوئی چیز میں جو اجزاء لطیف ہوتے ہیں ان کو جذب کرلیتا ہے اور اجزاء کثیفہ کو جذب نہیں کرتا اور انتڑیوں میں ایسی قوت رکھی ہے جو کھائی پوئی یا پی ہوئی چیز میں جو اجزاء کثیفہ ہوتے ہیں ان کو وہ جزب کرلیتی ہے اور اجزاء لطیفہ کو جذب نہیں کرتی اور اگر معاملہ اس کے الٹ اور برعکس ہو تو تو انسان کے بدن کی مصلحت اور اس کے بدن کا نظام فاسد ہوجاتا۔

٣۔ اللہ تعالیٰ نے جگر میں غذا کے لطیف اجزا کو پکانے اور ان کو ہضم کرنے کی قوت رکھی ہے، حتی کہ یہ اجزاء لطیفہ غذا میں پکر کر اور ہضم کے بعد خون بن جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے پتہ میں قوت رکھی ہے کہ وہ صٖفراء کو جذب کرلیتا ہے اور تلی میں یہ قوت رکھی ہے وہ سوداء کو جذب کرلیتی ہے اور گردہ میں یہ قوت رکھی ہے کہ وہ ان اجزاء میں سے زائد پانی کو جذب کرلیتا ہے، پھر صاف خون باقی رہ جاتا ہے جو بدن کی غذا کے لیے کافی ہے۔ 

٤۔ جس وقت ماں کے رحم میں بچہ ہوتا ہے تو خون کی وافر مقدار ماں کے رحم میں پہچنتی ہے تاکہ وہ خون بچہ کی نشو و نما کے لیے مادہ بن جائے اور بچہ ماں کے رحم سے منتقل ہوجاتا ہے یعنی پیدا ہوجاتا ہے، تو خون جو پہلے رحم میں پہنچتا تھا اب وہ خون مادہ کے تھنوں اور پستانوں میں پہنچنے لگتا ہے تاکہ وہ خون دودھ کی صورت اختیار کرلے تاکہ وہ دودھ بچہ کی غذا بن جائے اور جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے اور اس کا دودھ چھوٹ جاتا ہے تو اب خون ماں کے رحم میں جاتا ہے نہ ماں کے پستانوں اور تھنوں میں بلکہ غذا کھانے والی کے بدن میں پہنچتا رہتا ہے پس خون کا کبھی رحم میں پہنچنا، کبھی پستانوں میں پہنچنا اور کبھی کسی جگہ نہ پہنچنا اور صرف ماں کے بدن میں رہنا اور جس وقت جس جگہ خون کی ضرورت ہو وہاں خون کا پہنچنا اور مصلحت اور حکمت کے مطابق اپنا رول ادا کرنا کیا کسی حکمت اور قدرت والے فاعل مختار کی تدبیر کے بغیر ہوسکتا ہے۔

٥۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تھنوں اور پستانوں کے سروں میں باریک سوراخ اور تنگ مسام پیدا کردیتا ہے اور جبکہ وہ مسام نہایت تنگ اور باریک ہوتے ہیں تو ان سے وہی چیز نکل سکتی ہے جو نہایت صاف اور بہت لطیف ہو اور رہے اجزاء کثیفہ تو ان کا ان تنگ اور باریک منافذ سے نکلنا ممکن نہیں ہے لہذا وہ چیز تھنوں کے اندر رہی ہے گی اس طرح تھنوں سے وہ دودھ نکلے گا جو خالص بچہ کے مزاج کے موافق ہوگا اور پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوگا۔

٦۔ اللہ تعالیٰ نے بچہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ جب بھی ماں اپنے پستان کا سر بچہ کے منہ میں داخل کرتی ہے وہ اس کو چوسنے لگتا ہے، اسی طرح جانور کا بچہ خود اچھل کر اپنی ماں کے تھنوں کے پاس پہنچتا ہے اور ان تھنوں کو چوسنے لگتا ہے، پس اگر وہ قادر قیوم بچوں کے دلوں میں یہ عمل مخصوص نہ ڈالتا تو پستانوں اور تھنوں میں دودھ پیدا کرنے کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا۔

٧۔ ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خون کے مصفی جوہر سے دودھ پیدا کیا اور حیوان جو غذا کھاتا ہے اس کے لطیف اجزاء سے خون پیدا کیا، پس بکری جو گھاس کھاتی ہے اور پانی پیتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس گھاس اور پانی کے لطیف اجزاء سے خون پیدا کیا، پھر اس خون کے بعض اجزاء سے دودھ کو پیدا کیا پھر دودھ میں تین متضاد کیفیات اور تاثیرات پیدا فرمائیں، دودھ میں چکنائی ہپے وہ گرم تر ہے، اور اس میں جو پانی کا عنصر ہے وہ سرد تر ہے اور اس میں جو پنیر کا عنصر ہے وہ گرم خشک ہے، اور جس گھاس کو بکری نے کھایا تھا اس میں یہ مخٹلف اور متضاد تاثیرات نہیں تھی، اس تفصیل سے یہ ظاہر ہوا کہ یہ اجسام ایک رنگ سے دوسرے رنگ کی طرف اور ایک صٖفت سے دوسری صفت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف اور ایک تاثیر سے دوسری تاثیر کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں، بکری نے جو گھاس کھائی تھی اس کی صورت، اس کا رنگ اور اس کی صفت اور اس کی تاثیر اور تھی، پھر اس سے خون، دودھ اور فضلہ بنا ان کی صورت ان کا رنگ، ان کی صفت اور ان کی تاثیر اور ہے اور آپس میں مختلف اور الگ الگ ہے، ان احوال سے یہ ظاہر ہوگیا کہ یہ مختلف صورتیں اور متضاد تاثیرات اس قادر وقیوم اور حکیم مطلق کے پیدا کرنے سے حاصل ہوئی ہیں، جو اپنے بندوں کی مصلحتوں کے موافق چیزوں کی تدبیر فرماتا ہے، پس سبحان ہے وہ ذات جو ہر عالم کے ہر ہر ذرہ کی خبر رکھتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کی ضرورتوں اور ان کی مصلحتوں کو جاننے والا ہے اور ان کی ضرورتوں اور مصلحتوں کے موافق عالم کے ذرہ ذرہ میں تدبیر اور تصرف فرماتا ہے۔

دودھ کی خلقت میں حشر و نشر کے امکان کی دلیل :

محققین نے کہا ہے کہ جس طرح دودھ کے پیدا کرنے کے نظام میں غور و فکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کا پتا چلتا ہے، اسی طرح اس میں غور و فکر کرنے سے حشر و نشر کا امکان بھی معلوم ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ گھاس جس کو حیوان کھاتے ہیں یہ زمین اور پانی سے پیدا ہوتی ہے، پس اس قادر وقیوم اور حکیم مطلق نے اس زمین کی مٹی کو سبزہ اور گھاس بنادیا پھر جب اس گھاس کو حیوان کھالیتے ہیں تو اس نے ایک اور تدبیر سے اس گھاس کو خون بنادیا پھر ایک اور تدبیر سے اس خون کو دودھ بنادیا، پھر اس دودھ میں چکنائی کا عنصر پیدا کیا اس سے معلوم ہوا کہ وہ قادر وقیوم اور حکیم مطلق اس پر قادر ہے کہ وہ اجسام کو ایک صفت سے دوسری صفت کی طرف منتقل کرتا رہے اور ایک حال سے دوسرے حال کیطرف منتقل کرتا رہے اور جب وہ اس پر قادر ہے تو اس پر بھی قادر ہے کہ وہ مردہ بدنوں کے اجزا میں حیات منتقل کردے اور ان میں عقل اور شعور پیدا کردے جس طرح موت سے پہلے ان جزا میں حیات اور عقل و شعور کو پیدا فرمایا تھا اور ان چیزوں پر غور و فکر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کو قائم کرا اور مردوں کو زندہ کرنا ایک ممکن امر ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت قائم کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے کا جو وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ قیامت کو قائم کرے گا اور مردوں کو زندہ کرے گا۔ (تفسیر کبری ج ٧، ص ٢٣٢، ٢٣٤، ملخصا مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

لذیذ طعام اور مشروب کھانے پینے کا جواز :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو پینے کے لیے خوشگوار ہے، سائغا کے معنی ہیں وہ مشروب جو آسانی سے گلے سے اتر جائے نیز اس کا معنی ہے لذیذ اور خوشگوار طعام۔

نیز اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ میٹھے اور لذیذ کھانوں کا کھانا پسندیدہ ہے۔

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اس پیالے سے ہر قسم کا مشروب پلایا ہے، شہد، نبیذ، پانی اور دودھ۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٠٠٨)

کھجوروں یا انگوروں کو پانی میں ڈال دیا جائے تو اس پانی کو نبیذ کہتے ہیں پھر اس کو ہلکا سا جوش دیا جائے تو یہ نبیذ حلال ہے، اور اگر اس کو جوش نہ دیا جائے اور وہ مشروب پڑے پڑے جھاگ چھوڑ دے تو پھر نشہ آور ہوجاتا ہے اور یہ نبیذ حرام ہے۔ (رد المختار ج ١٠، ص ٣٢، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٩ ھ)

دودھ کے متعلق احادیث :

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے کہا جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ جارہے تھے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیاس لگی میں نے آپ کے لیے کچھ دودھ دوہا پھر میں وہ دودھ آپ کے پاس لے کر آیا آپ نے وہ دودھ پیا حتی کہ میں راضی ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٣٩، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٠٠٩)

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے سدرہ کی طرف بلندی پر لے جایا گیا، وہاں چار دریا تھے، دو دریا ظاہر تھے اور دو دریا باطن تھے، جو دریا ظاہر تھے وہ نیل اور فرات ہیں، اور جو دریا باطن تھے وہ جنت میں ہیں، پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے، ایک پیالہ میں دودھ تھا، دوسرے پیالہ میں شہد تھا، اور تیسرے پیالہ میں شراب تھی، میں نے وہ پیالہ لے لیا جس میں دودھ تھا، میں نے اس کو پی لیا، مجھ سے کہا گیا آپ نے اور آپ کیا مت نے فطرت کو پالیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦١٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٢، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٧٠٢)

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے دودھ پیا حتی کہ میں نے دیکھا کہ میں اس قدر سیر ہوگیا کہ اس کی سیری میرے ناخنوں سے نکلنے لگی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دیا، آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی، آپ نے فرمایا : علم۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٢، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٣٩١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٨٤)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت میمونہ کے گھر میں تھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، آپ کے ساتھ حضرت خالد بن ولید تھے لوگ دو بھنی ہوگئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھوکا، حضرت خالد نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ کو ان سے گھن آرہی ہے، آپ نے فرمایا : ہاں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ نے اس کو پی لیا، آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو یہ دعا کرے : اے اللہ ! اس میں ہمیں برکت دے او دودھ عطا فرما، کیونکہ کھانے پینے کی چیزوں میں دودھ کا بدل کوئی چیز نہیں ہے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٧٣٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥٥ )

حضرت طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے جو بیماری رکھی ہے اس کے لیے شفا بھی رکھی ہے تم گائے کے دودھ کو لازم رکھو۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ١٩٠٣٦)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میں بھوک کی شدت سے اپنے جگر کو زمین سے ٹکائے ہوئے تھا اور میں نے بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا، میں اس راستہ پر بیٹھ گیا جس راستے سے صحابہ گزرتے تھے، حضرت ابوبکر گزرے میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی میں نے صڑف اس لیے پوچھا تھا کہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں، وہ چلے گئے اور انہوں نے کھانا نہیں کھلایا، پھر میرے پاس سے حضرت عمر گزرے میں نے ان سے بھی کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی، میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تھا کہ وہ مجھے سیر ہو کر کھانا کھلا دیں، وہ بھی چلے اور انہوں نے کھانا نہیں کھلایا، پھر میرے پاس سے ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے، آپ نے جب مجھے دیکھا تو مسکرائے اور آپ نے جان لیا کہ میرے دل میں کیا ہے اور میرے چہرے میں کیا ہے، پھر آپ نے فرمایا : ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا میرے ساتھ چلو، اور آپ چل پڑے، میں آپ کے پیچھے چلتا گیا، آپ گئے اور اجازت طلب کی، تو میرے لیے اجازت دی گئی، آپ داخل ہوئے تو آپ نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا، آپ نے پوچھا یہ دودھ کہاں سے آیا ؟ گھر والوں نے کہا فلاں مرد یا فلاں عورت نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے آپ نے فرمایا اباھر ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا اہل صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو بلا کر لاؤ، حضرت ابوہریرہ نے کہا اور اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کے بیوی بچے تھے نہ ان کے پاس سامان وغیرہ تھا، اور جب بھی آپ کے پاس صدقہ آتا تو آپ ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور اس میں سے خود نہیں کھاتے تھے، اور جب آپ کے پاس ہدیہ آتا تو آپ اس میں سے خود بھی لیتے تھے اور ان کو بھی کھلاتے تھے۔ مجھے آپ کی اس بات سے بہت رنج ہوا اور میں نے دل میں کہا اہل صفہ کے مقابلہ میں اس ایک پیالہ کی کیا حیثیت ہے، اس پیالہ کے دودھ پینے کا میں حقدار تھا، تاکہ اس سے قوت حاصل کرتا، جب وہ لوگ آجائیں گے تو آپ مجھے حکم دیں گے کہ میں ان کو وہ دودھ پلاؤں، پھر کیا توقع ہے کہ اس دودھ میں سے میرے لیے بھی کچھ بچے گا۔ لیکن اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، پھر میں اہل صفہ کے پاس آگیا، اور ان کو بالیا، وہ آگئے اور انہوں نے اجازت طلب کی، آپ نے ان کو اجازت دے دی، اور وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، آپ نے فرمایا : ابا ھر ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا ان سب کو دودھ کا پیالہ دو ، حضرت ابوہریرہ نے کہا : میں نے دودھ کا پیالہ لیا اور ان میں سے ایک شخص کو دیا وہ اس پیالے سے دودھ پیتا رہا حتی کہ سیر ہوگیا، پھر میں ایک ایک کر کے سب کو اس پیالے سے دودھ پلاتا رہا، حتی کہ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا، اور اس وقت تمام اصحاب صفہ سیر ہوچکے تھے، آپ نے پیالہ لیا اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا، پھر میری طرف دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا : یا ابا ھر ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : اب میں اور تم باقی بچ گئے ہیں، میں نے کہا آپ نے سچ فرمایا : یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا چلو بیٹھ کر پیو، میں نے بیٹھ کر پیا، آپ نے فرمایا (اور) پیو میں نے پیا، آپ مسلسل فرماتے رہے پیو، حتی کہ میں نے کہا نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اب اس کے لیے راستہ نہیں پاتا، آپ نے فرمایا : مجھے پیالہ دکھاؤ، میں نے آپ کو پیالہ دیا، آپ نے اللہ کی حمد کی بسم اللہ پڑھی، اور باقی دودھ پی لیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٥٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٧٧، مسند اھمد ج ٢ ص ٥١٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٣٥، المستدرک ج ٣ ص ١٥، ١٦، حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٣٣٨، ٣٣٩، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ١٠١، ١٠٢، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٣٢١ )

دودھ کا کیمیائی تجزیہ :

دودھ انسان کے لیے بہترین غذا ہے اس میں گوشت، خون اور ہڈی پیدا کرنے کے تمام اجزا تواز کے ساتھ موجود ہیں، سو گرام گائے کے دودھ میں ٦٥ حرارے، ٣٦٣ گروم پروٹین، ٣٦٨ گرام چکنائی، ١٢٠ ملی گرام کیلشیم، ٦٠٥ ملی گرام فولاد ٠٤ ملی گرام وٹامن بی، ٠٤ ملی گرام وٹان سی، ٥ ملی گرام وٹامن اے، ٣٥ ملی گرام فولک ایسڈ، ٥ مائیکرو گرام۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 66