أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِيۡتَآىِٕ ذِى الۡقُرۡبٰى وَيَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ وَالۡبَغۡىِ‌ۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ حکم دیتا ہے کہ عدل اور احسان (نیک کام) کرو اور رشتہ داروں کو دو اور بےحیائی اور برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے وہ تم کو نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ حکم دیتا ہے کہ عدل اور احسان (نیک کام) کرو اور رشتہ داروں کو دو اور بےحیائی اور برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے وہ تم کو نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ (النحل : ٩٠)

زیر تفسیر آیت کی فضیلت :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی تھی جو صراط مستقیم پر ہو اور نیکی کا حکم دیتا ہو، اور گزشتہ آیت میں قرآن عظیم کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس میں تمام پیش آمدہ مسائل اور احکام شرعیہ کا روشن بیان ہے اور اس میں تمام اخلاق حسنہ اور آداب فاضلہ کی ہدایت ہے۔ لہذا اس آیت میں عدل، احسان اور (ضرورت مند) رشتہ داروں کو دینے کا حکم فرمایا اور بےحیائی، برائی اور سرکشی سے منع فرمایا۔

عامر بیان کرتے ہیں کہ شتیر بن شکل اور مسروق بن الاجدع بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا خیر اور شر کے متعلق سب سے زیادہ جامع آیت سورة النحل میں ہے۔ ان اللہ یا مر بالعدل والاحسن۔ انہوں نے کہا تم نے سچ کہا۔ (حافظ سیوطی نے کہا اس حدیث کو سعید بن منصور نے، امام بخاری نے الادب المفرد، امام ابن جریر اور امام بن ابی حاتم نے اور امام بیہقی نے شعیب الایمان میں رویت کیا ہے۔ الدر المنثور ج ٤ ص ٢٤١، المستدرک رقم الحدیث : ٣٤٠٩، یہ اثر صحیح ہے )

حضرت ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سرکشی اور رشتہ داروں سے تعلق کے سوا اور کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس کی اللہ تعالیٰ دنیا میں جلد سزا دے دے اور آخرت میں بھی اس کی سزا کا ذخیرہ کر رکھا ہو۔ (المستدرک ج ٤ ص ١٠١، رقم الحدیث : ٣٤١٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٩٠٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٢٥ )

عدل کا معنی :

عدل کا معنی ہے مساوات۔ اس کی دو قسمیں ہیں : عدل عقلی اور عدل شرعی، عدل عقلی کی مثال یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ نیکی کی جائے جس نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہو اور اس شخص سے اذیت اور تکلیف دور کی جائے جس نے تم سے اذیت اور تکلیف دور کی ہو، اور عدل شرعی وہ ہے جس کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہو جیسے قصاص اور دیت کے احکام، یا قتل خطا میں کفارہ اسی طرح مرد کی مکمل دیت (سو اونٹ) اور عورت کی نصف دیت (پچاس اونٹ ہونا) اسی طرح باقی اعضا کی دیت کی مقداروں کا جاننا شرع پر موقوف ہے، اس کو عقل سے نہیں جانا جاسکتا۔ عدل اور احسان میں یہ فرق ہے کہ برائی کا بدلہ برائی سے دینا عدل ہے اور برائی کے بدلہ میں نیکی کرنا یہ احسان ہے اور کسی کی نیکی کے بدلہ میں اتنی ہی نیکی کرنا عدل ہے اور اس سے زائد نیکی کرنا احسان ہے اور کسی کے شر کے مقابلہ میں اتنا ہی شر کرنا عدل ہے اور اس سے کم شر کرنا احسان ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٢٢، ٤٢٣، ملخصا مطبوعہ مکتبہ مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

حدیث میں عدل بمعنی فضل اور صرف بمعنی نفل آیا ہے :

فمن اخفر مسلما فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ صرف و لاعدلا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٣١٧٩) جس نے کسی مسلمان کے ساتھ عہد کر کے اس کو توڑا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ اس کے نفل کو قبول کرے گا نہ فرض کو۔ (النہایہ، لابن الاثیر، ج ٣ ص ١٧٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

عدل کی تعریف کی روشنی میں اسلام اور اہل سنت کا برحق ہونا :

میر سید شریف علی بن محمد الجرجانی المتوفی ٨١٦ ھ عدل کی تعریف میں لکھتے ہیں :

افراط اور تفریط کے درمیان امر متوسط کو عدل کہتے ہیں۔ (التعریفات ص ١٠٦، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٨ ھ)

عقائد اور اعمال کے لحاظ سے دین اسلام اور مذہب اہل سنت امر متوسط ہے، کیونکہ دہریے کہتے ہیں کہ اس جہان کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے۔ یہ خودبخود وجود میں آگیا ہے یہ تفریط ہے اور مشرکین کہتے ہیں اس جہان کے متعدد پیدا کرنے والے ہیں یہ افراط ہے۔ اور اسلام یہ کہتا ہے کہ اس جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے اور یہی امر متوسط ہے۔ اسی طرح یہودی کہتے ہیں کہ جس نے قتل کیا اس سے لازما قصاص لیا جائے گا یہ تفریط ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ قاتل کو معاف کرنا لازم ہے یہ افراط ہے، اور اسلام کہتا ہے کہ مقتول کے ورثا کو اختیار ہے وہ چاہیں تو قصاص لے لیں اور چاہیں تو معاف کردیں اور یہی امر متوسط ہے۔ جبریہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے افعال میں مجبور محض ہے یہ تفریط ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے یہ افراط ہے، اور اہل سنت کہتے ہیں کہ انسان کا سب ہے اور اللہ تعالیٰ خالق ہے اور یہ امر متوسط ہے۔ ناصبی اہل بیت کی توہین کرتے ہیں یہ تفریط ہے اور رافضی اہل بیت کی محبت میں صحابہ کی توہین کرتے ہیں افراط ہے اور اہل سنت اہل بیت سے محبت رکھتے ہیں اور صحابہ کی تعظیم کرتے ہیں یہی امر متوسط ہے۔ غیر متقدلین تقلید کا انکار کرتے ہیں اور ہر شخص کو اجتہاد کا اہل قرار دیتے ہیں یہ افراط ہے اور غالی مقلدین احادیث صحیحہ اور صریحہ دیکھنے کے باوجود اپنے امام کا قول ترک نہیں کرتے یہ تفریط ہے، اور معتدل مقدلین احادیث صحیحہ صریحہ کے مقابلے میں امام کے قول کو ترک کردیتے ہیں۔ مثلا امام اعظم نے عید کے متصل شوال کے چھ روزنے رکھنے کو مکروہ کہا لیکن فقہاء احناف نے احادیث صحیحہ کی بنا پر شوال کے چھ روزے اتصال کے ساتھ رکھنے کو مستحب کہا۔ اسی طرح امام اعظم نے عقیقہ کو مکروہ یا مباح کہا لیکن ہمارے علما نے اس کو مستحب قرار دیا۔ متقدمین فقہاء نے امامت اور خطابت اور تعلیم قرآن کی اجرت کو حرام کہا لیکن متاخرین علما نے احادیث صحیحہ صریحہ اور آثار قویہ کی بنا پر اس کو جائز کہا اور یہی امر متوسط ہے۔ اسی طرح معض متشدد لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ، آپ کی شفاوعت اور آپ کے توسل آپ کے علم کی وسعت اور آپ کے علوم پر علم غیب کے اطلاق کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ پرنور کے اطلاق کا انکار کرتے ہیں، یہ تفریط ہے اور بعض غالی لوگ آپ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں اور آپ کو خدا سے ملا دیتے ہیں اور بعض اوقات بڑھا دیتے ہیں، یہ افراط ہے اور معتدل مسلمان کہتے ہیں کہ آپ پر ایک آن کے لیے موت آئی اور اللہ تعالیٰ نے پھر آپ کو زندگی عطا کردی۔ آپ روضہ انور میں قریب اور بعید کو دیکھتے اور سنتے ہیں لیکن ہر وقت ہر چیز کی طرف آپ کی توجہ نہیں ہوتی۔ آپ بشر ہیں اور نوع انسان سے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت لطیف بنایا ہے اور آپ سے بعض اوقات حسی نورانیت بھی ظاہر ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے زیادہ علوم غیبیہ عطا فرمائے لیکن آپ کا ایک ذرہ کا علم بھی اللہ کے علم کے مماثل نہیں ہے اور ایسا ماننا شرک ہے۔ آپ کا وسیلہ دعا کی قبولیت کے اکسیر ہے اور دنیا اور آخرت میں آپ سے شفاعت طلب کرن اور آپ سے مدد حاصل کرنا جائز ہے اور یہی امر متوسط ہے۔ اسی طرح اولیائے کرام کے بارے میں بھی متشدد کہتے ہیں کہ ان کا وسیلہ پیش کرنا یا ان سے مدد مانگنا شرک ہے اور قرآن مجید میں جو بتوں کے متعلق آیات نازل ہوئی ہیں ان کو انبیاء اور لیاء پر چسپاں کرتے ہیں، یہ تفریط ہے۔ اور بعض غالی لوگ اولیائے کرام کی نذر مانتے ہیں اور ان کے مزارات پر سجدہ کرتے ہیں، عرس کے ایام میں مزارات پر میلہ لگتا ہے، اس میں کھیل تماشے، راگ رنگ اور خرافات ہوتی ہیں یہ افراط ہے، اور معتدل مسلمان کہتے ہیں کہ اولیائے کرام کو ایصال ثواب کرنا اور مالی اور بدنی عبادات کا ہدیہ کرنا جائز ہے، لیکن کسی کام کے لیے ان کی نذر ماننا حرام ہے، ان کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے، ان سے مدد طلب کرنا بھی جائز ہے لیکن افضل اور اولی یہ ہے کہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے۔

یہ تو عقائد میں امر متوسط کا بیان تھا اور اعمال میں امر متوسط کی تفصیل یہ ہے کہ مال کو ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا اسراف اور تبذیر ہے اور یہ افراط ہے اور ضرورت کے موقع پر بھی مال کو خرچ نہ کرنا بخل ہے اور یہ تفریط ہے، اور ضرورت کے مطابق مال کو خرچ کرنا جود اور سخا ہے اور یہی امر متوسط ہے، شب و روز نماز اور روزے میں اور ذکر اذکار اور تسیح اور تہلیل میں مشغول رہنا اور ماں باپ اور اہل و عیال کی ضروریات اور ان کے حقوق کو فراموش کردینا عبادت میں افراط ہے، اور کاروباری، دنیاداری، عیش و طرب اور راگ رنگ میں مستغرق اور منہمک ہونا اور اللہ کے احکام اور اس کی یاد سے غافل ہوجانا تفریط ہے، اور دین و دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنا تمام فرائض و واجبات اور سنتوں کو اپنے اپنے وقت پر ادا کرنا اور تمام محرمات اور مکروہات سے بچنا اور ماں باپ، اہل و عیال اور اقرباء کی بقدر استطاعت کفالت کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا اور تعمیر وطن اور ملک و ملت کی خدمت میں اپنا حصہ ادا کرنا یہی امر متوسط ہے۔ اسی طرح بیس کے مقابلے میں ایک آدمی کا نکل آیا تہور اور حماقت ہے اور یہ دلیری میں افراط ہے اور بیس آدمی کا مل کر ایک کا بھی مقابلہ نہ کرسکیں، یہ بزدلی اور تفریط ہے، اور اپنے دے دگنے دشمن کا مقابلہ کرنا شجاعت ہے اور یہ امر متوسط ہے۔ عورتوں سے بالکل تعلق نہ رکھنا اور بلاعذر برہمچاری ہوجانا تفریط ہے اور دن رات شہوت رانی کرنا اور اسیر ہوس رہنا اور اس میں جائز اور ناجائز کی تمیز نہ رکھنا، فسق و فجور اور افراط ہے اور حلال محل میں اپنی طاقت کے مطابق خواہش پوری کرنا اور حرام سے بچنے رہنا عفت ہے۔ اسی طرح تمام اعمال میں جائز اور ناجائز اور حلال اور حرام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اعتدال پر قائم رہنا ہی امر متوسط اور عدل ہے۔ اسی طرح نظام سرمایہ داری میں افراط ہے اور سوشلزم میں تفریط ہے اور اسلام کے معاشی نظام میں عدل ہے اور یہی آئیڈیل (مثالی) نظام حیات ہے۔

احسان کا معنی :

علامہ حسین بن محمد راغب اصٖفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

ہر وہ چیز جو خوبصورت اور مرغوب ہو اس کو حسن کہتے ہیں، اس کی تین قسمیں ہیں :

١۔ جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو جیسے علمی نکات۔

٢۔ جو نفسانی خواہش کے اعتبار سے مستحسن ہو جیسے خوبصورت عورتیں۔

٣۔ جو حواس کے اعتبار سے مستحسن ہو جیسے خوبصورت مناظر، خوش ذائقہ اور دل آویز خوشبوئیں۔ ہر وہ نعمت جس کا اثر انسان اپنے نفس، بدن اور احوال میں محسوس کرتا ہے، الحسنہ ہے، اور اس کی ضد السیئہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

فاذا جائتھم الحسنہ قالوا لنا ھذہ وان تصبھم سیئۃ یطیروا بموسی ومن معہ۔ (الاعراف : ١٣١) اور اگر ان کو کوئی خوشحالی (مہمات میں کامیابی، فسلوں کی زرخیزی) پہنچے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر ان کو کوئی بدحالی (مثلا قحط، مہمات میں ناکامی، مصائب) پہنچے تو اس کو موسیٰ ور ان کے اصحاب کی نحوست قرار دیتے ہیں۔ 

حسن کا اطلاق عام لوگوں کے نزدیک اکثر ان چیزوں پر ہوتا ہے جن کا ادراک آنکھوں سے ہوتا ہے اور قرآن مجید میں حسن کا اطلاق اکثر ان چیزوں پر ہوتا ہے جن کا ادراک بصیرت (عقل) سے ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

الذی یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھدھم اللہ۔ (الزمر : ١٨) جو لوگ غور سے اللہ کا کلام سنتے ہیں پھر اس پر عمدہ طریقہ سے عمل کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے۔

یعنی وہ اس طریقہ سے اس حکم پر عمل کرتے ہیں کہ اس میں گناہ کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ایمان کیا ہے ؟ فرمایا جب تم اپنی نیکی سے خوش ہو اور جب تم اپنی برائی سے رنجیدہ ہو تو پھر تم مومن ہو۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب تمہارے دل میں کسی چیز سے کھٹک ہو تو وہ گناہ ہے، اس کو چھوڑ دو ۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٢، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠١٠٤)

حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث یاد رکھی ہے کہ جس چیز میں شک ہو اس کو ترک کر کے اس چیز کو اختیار کرلو جس میں شک نہ ہو، بیشک صدق میں طمانیت ہے اور کذب میں شک ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٨، مصنف عبدالرزق، رقم الحدیث : ٤٩٨٤، مسند احمد ج ١ ص ٢٠٠، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٥٣٥، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٣٤٨، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٧٦٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢٢، المستدرک ج ٢، ص ١٣، حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٢٦٤، شرح السنہ رقم الحدیث : ٢٠٣٢)

علامہ اصفہانی فرماتے ہیں کہ احسان کا اطلاق دو معنوں پر کیا جاتا ہے : کسی شخص پر انعام کرنا، کہا جاتا ہے فلاں شخص پر انعام کیا یعنی کسی شخص کو کوئی نعمت دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ (الرحمن : ٦٠) نعمت دینے کا بدلہ نعمت دینے کے سوا اور کیا ہے۔

اور احسان کا دوسرا معنی ہے نیک کام کرنا۔ قرآن مجید میں ہے :

ان احسنتم احسنتم لانفسکم۔ (بنی اسرائیل : ٧) اگر تم نے کوئی نیک کام کیا ہے تو اپنے فائدہ کے لیے نیک کام کیا ہے۔ (المفردات ج ١ ص ١٥٦، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

عدل اور احسان میں فرق :

احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے کیونکہ عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو اتنا دے جتنا دینا اس پر واجب ہے اور اس سے اتنا لے جتنا لینے کا اس کا حق ہے اور احسان یہ ہے کہ جتنا اس پر واجب ہے اس سے زیادہ دے اور جتنا اس کا حق ہے اس سے کم لے۔ اسی طرح عدل یہ ہے کہ کسی نے اس کو جتنی ایذا پہنچائی تھی وہ اس کو اتنی ہی ایذا پہنچائے اور احسان یہ ہے کہ وہ اس کی زیادتی کو معاف کردے اور اس کے ساتھ نیکی کرے۔ قرآن مجید میں ہے :

وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا وصلح فاجرہ علی اللہ۔ (الشوری : ٤٠) برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہے پھر جس نے معاف کردیا اور نیکی کی تو اس کا اجر اللہ (کے زمہ کرم) پر ہے۔

اور حدیث میں ہے :

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی، میں نے آپ سے ہاتھ ملانے میں پہل کر پھر میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! مجھے سب سے افضل عمل بتایئے۔ آپ نے فرمایا : اے عقبہ ! جو تم سے قطع تعلق کرے، اس سے تعلق جوڑو، جو تم کو محروم کرے اس کو عطا کرے، اور جو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔ (ایک روایت میں ہے کہ اس کو معاف کرو) (مسند احمد ج ٤ ص ١٤٨، مسند احمد رقم الحدیث : ١٧٢٦٧، مطبوعہ مصر، تہذیب تاریخ دمشق، ج ٣ ص ٦١ )

حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو اور جو تم سے برا سلوک کرے اس سے اچھا سلوک کرو اور حق بات کہو خواہ وہ تمہارے خلاف ہو۔ (ابن النجار ج ٣ ص ٦٩٢٩، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٥٠٠٤، کنز العمال رقم الحدیث : ٦٩٢٩ )

اسی طرح کسی کی نیکی کے بدلہ میں اتنی ہی نیکی کرنا عدل ہے اور اس سے زائد کرنا احسان ہے اور کسی کے شر کے بدلہ میں اتنا ہی شر کرنا عدل ہے اور اس سے کم شر کرنا احسان ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ والئن صبر تم لھو خیر للصبرین۔ (النحل : ١٢٦) اگر تم ان کو سزا دو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدل فرض ہے اور احسان نفل ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا عدل یہ ہے کہ تمہارا ظاہر اور باطن برابر ہو، اور احسان یہ ہے کہ تمہارا ظاہر باطن سے افضل ہو۔ حضرت علی بن ابی طالب نے کہا عدل انصاف ہے اور احسان انصاف سے زائد چیز ہے۔ ابن عطبیہ نے کہا کہ عقائد، شرائع اور امانات کو ادا کرنا، ظلم کو ترک کرنا، انصاف کرن اور حق ادا کرنا یہ تمام امور بقدر فرض ادا کرنا عدل ہے اور تمام کاموں کو درجہ استحباب اور استحسان تک پہنچانا احسان ہے۔ 

ابن العربی نے کہا عدل کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت بندہ اور اس کے رب کے درمیان ہے اور ایک حیثیت بندہ اور لوگوں کے درمیان ہے۔ جو حیثیت بندہ اور اس کے رب کے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے حق کو اپنے حق پر ترجیح دے، اور اس کی رضا جوئی کو اپنی خواہش پر مقدم رکھے، اور ہرحال میں قناعت کو لازم رکھے، اور عدل کی جو حیثیت بندہ اور لوگوں کے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نصیحت کرے، خیانت بالکل نہ کرے اور ہر طریقہ کے ساتھ لوگوں سے انصاف کرے اور کسی شخص کے ساتھ قول اور عمل میں برائی نہ کرے، ظاہر میں نہ باطن میں، اور اس پر جو مصائب نازل ہوں ان پر صبر کرے، اور احسان کی بھی دو حیثیتیں ہیں اللہ کے ساتھ احسان کی حیثیت کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یا محمد ! مجھے بتایئے کہ احسان کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا :

ان تعبد اللہ کا نک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اس کو نہ دیکھ سکو تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٧٧، ٥٠، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٩، ١٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١، ص ٥، ٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٥٩، یہ تمام روایات حضرت ابوہریرہ سے ہیں۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨، ٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٣، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٦٩٧، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٤، یہ تمام روایات حضرت عمر سے ہیں)

اس حدیث میں احسان سے مراد اخلاص ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے خالص نیت کے بغیر زبان سے کلمہ پڑھا وہ مرتبہ احسان پر پہنچا اور نہ اس کا ایمان صحیح ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی تمام شرائط کے ساتھ کی جائے اور اس عبادت کے تمام فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات کی رعایت کی جائے اور عبادت شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو ذہن میں حاضر کیا جائے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہ دیکھ سکو تو وہ تو تمہیں دیکھر ہا ہے۔ اس ارشاد سے آپ کی یہی مراد ہے، اہل دل نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذہن میں حاضر کرنے کے دو معنی ہیں ایک یہ ہے کہ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ اس قدر غالب ہو کہ گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک ارشاد میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا :

وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٢٩٥، دار الفکر) اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنادی گئی ہے۔

اور دوسرا معنی یہ ہے کہ بندہ اس مرتبہ تک نہیں پہنچتا لیکن اس کو یقین واثق ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ اس پر مطلع ہے اور اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے :

الذی یراک حین تقوم۔ وتقلبک فی الساجدین۔ (الشعراء : ٢١٨، ٢١٩) جب آپ قیام میں ہوتے ہیں تو وہ آپ کو دیکھتا ہے اور سجدہ کرنے والوں میں وہ آپ کے پلٹنے کو دیکھتا ہے۔

ہم نے ذکر کیا تھا کہ احسان کی دو حیثیتیں ہیں۔ خالق کے ساتھ احسان اور اس کا معنی ہے خالق کی تعظیم اور مخلوق کے ساتھ احسان اور اس کا معنی ہے مخلوق پر شفقت۔ اس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے :

شداد بن اوس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا (حسن سلوک کرنا، نیکی کرنا) فرض کردیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح سے ذبح کرو اور تم میں سے کسی ایک کو چاہیے کہ وہ چھری تیز کرے اور ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٩٥٥، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٢٨١٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٠٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤٠٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٧٠، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٤٤٩٤)

رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور رشتہ داروں کو دو ، یعنی ان کی قرابت کے حقوق ادا کرنے کے لیے ان کو مال دو ۔ نیز فرمایا :

وات ذا القربی حقہ۔ (بنی اسرائیل : ٢٦) قرابت دارو کو اس کا حق ادا رکو۔

حضرت ابو ایوب انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسا عمل بتایئے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ ملاپ رکھو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٦٨ )

حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٦، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٦٩٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٠٩، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦٨٥٢، طبع عالم الکتب، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٢٣٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٥٤ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کو اس سے خوشی ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے اس کو چاہیے کہ رشتہ داتوں کے ساتھ ملاپ رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٥، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٦٩٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٧ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا حتی کہ جب وہ ان کو پیدا کرنے سے فارغ ہوگیا تو صلہ (رشتہ اور قرابت) نے اس سے عرض کیا یہ اس کا مقام ہے جو رشتہ داری توڑنے سے تیری پناہ چاہے۔ فرمایا ہاں۔ کیا تو اس بات سے راض نہیں ہے کہ جو تجھ سے تعلق جوڑے میں اس سے تعلق جوڑوں اور جو تجھ سے تعلق توڑے میں اس سے تعلق توڑوں۔ عرض کیا اے میرے رب کیوں نہیں ! فرمایا تجھ کو یہ مقام عطا کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :

فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم۔ (محمد : ٢٢) سو کیا تم اس کے قریب ہو کہ اگر تم حکمران ہوگئے تو زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور رشتوں کو قطع کرو گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٤، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٤٩٧)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت مانگنے کے لیے آئی اور اس کے ساتھ دو بیٹیاں تھیں میرے پاس ایک کھجور کے سوا اور کچھ نہ تھا، میں نے اس کو وہ کھجور دے دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور اپنی بیٹیوں کو دے دیئے پھر وہ جانے کے لیے کھڑٰ ہوگئیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا جو شخص ان بیٹیوں کی کفالت میں مبتلا ہوا اور اس نے ان کی اچھی طرح پرورش کی وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب بن جائیں گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٩٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٢٩، السنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩١٥)

الفحشاء، المنکر اور البغی سے ممانعت :

اس کے بعد فرمایا اور بےحیائی اور برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو حکم دیا : عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینا اور تین چیزوں سے منع فرمایا : بےحیائی، برائی اور سرکشی۔

امام رازی نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں چار قوتیں رکھی ہیں۔ قوت غضبیہ، قوت شہوانیہ، قوت عقلیہ اور قوت وہمیہ۔ قوت غضبیہ سے درندوں کے آثار ظاہر ہوتے ہیں، قوت شہوانیہ سے بہائم اور جانوروں کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور قوت وہمیہ سے شیطانی اثرات ظاہر ہوتے ہیں، اور قوت عقلیہ سے ملائکہ کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ قوت عقلیہ کی اصلاح کی ضرورت نہ تھی اور باقی تین قوتوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ قوت شہوانیہ کی اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ اگر قوت شہوانیہ کو بےلگام چھوڑ دیا جائے تو وہ لذات شہوانیہ کے حصول میں جائز اور ناجائز کا فرق نہیں کرے گا اور شہوت بر آری کے لیے ہر جگہ منہ مارتا پھرے گا۔ اس لیے فرمایا وہ الفحشاء یعنی بےحیائی کے کاموں سے منع فرماتا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا :

ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا۔ (بنی اسرائیل : ٣٢) اور زنا کے قریب (بھی) نہ جاؤ کیونکہ وہ بےحیائی کا کام ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔

اس آیت میں زنا کو فاحشۃ یعنی بےحیائی کا کام فرمایا ہے۔ ایک اور آیت میں قوم لوط کی اغلام بازی کو فاحشہ فرمایا ہے :

ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ ما سبقکم بھا من احد من العالمین۔ (الاعراف : ٨٠) اور لوط (کو بھیجا اس) نے جب اپنی قوم سے کہا کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

ان دونوں آیتوں میں زنا اور اغلام دونوں کاموں کو بےحیائی کے کام فرمایا اور اس آیت میں بےحیائی کے کاموں سے منع فرمایا۔ گویا زنا اور اغلام دونوں کاموں سے منع فرمایا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا :

قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن والاثم والبغی بغیر الحق۔ (الاعراف : ٣٣) آپ کہیے میرے رب نے تو صرف بےحیائی کے کاموں کو حرام فرمایا ہے خواہ وہ کھلی بےحیائی ہو یا چھپی ہوئی اور گناہ کو اور ناحق سرکشی کو۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام قسم کے بےحیائی کے کاموں کو حرام فرما دیا خواہ وہ علانیہ کیے جائیں یا چھپ کر۔

اور قوت غضبیہ سے درندوں کے افعال صادر ہوتے ہیں، انسان غضب میں آکر کسی کو قتل کردیتا ہے یا اس کا مال چھین لیتا ہے یا اس کو کسی اور طریقہ سے نقصان اور ضرر پہنچاتا ہے یا اس پر ظلم کرتا ہے۔

اور قوت وہمیہ شیطانیہ سے انسان ہمیشہ لوگوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اپنی قیادت اور ریاست کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا ہے ا۔ للہ تعالیٰ نے جو بغاوت اور سرکشی سے منع فرمایا ہے اس کا یہی محمل ہے کہ انسان اپنے لیے بڑائی حاصل کرنے کی خاطر جائز اور ناجائز طریقہ استعمال کرتا ہے اور کبھی کبھی یہ کوشش قتل و غارت گری تک بھی پہنچا دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے منکر اور بغاوت سے منع فرمایا ہے۔ ان الفاظ کا بہت وسعی مفہوم ہے اور یہ الفاظ تمام خراب اور برے کاموں کو شامل ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں :

اعتداء (حد سے تجاوز کرنا) بخل، بہتان، غضب، فساد کرنا، چغلی کرنا، غیبت کرنا، حسد کرنا، اسراف کرنا، ملاوٹ کرنا، ذخیرہ اندوزی کرنا، بغض رکھنا، ناحق قتل کرنا، نشہ آور اشیاء کھانا پینا، اترانا، تکبر کرنا، جوا کھیلنا، میدان جنگ میں دشمن کے مقابلہ میں پیٹھ دکھانا، جھوٹ بولنا، مذاق اڑانا، ریا کاری کرنا، خیانت کرنا، ناحق مقدمہ کرنا، کسی کے خلاف سازش کرنا، کسی کو رسوا کرنا، کسی کا نام بگاڑنا، کسی کے متعلق بدگمانی رکنا، عہد شکنی رکنا، دھوکا دینا، انتقام لینا، خمر پینا، بغاوت کرنا، چوری کرنا، ڈاکا ڈالنا، کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگانا، عورتوں کا اجنبی مردوں کو دیکھنا، مردوں کا اجنبی عورتوں کو دیکھنا، کسی کا مال غصب کرنا اور کسی پر ظلم کرنا۔ ان میں سے ہر ہر کام پر قرآن مجید میں صریح ممانعت ہے۔ ہم نے اختصار کی وجہ سے ان آیتوں کا ذکر نہیں کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 90