أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌ ۚ وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

جس نے نیک کام کیے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو پاکیزہ زندگی کے ساتھ ضرور زندہ رکھیں گے، اور ہم ان کو ان کے نیک کاموں کی ضرور جزا دیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس نے نیک کام کیے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو پاکیزہ زندگی کے ساتھ ضرور زندہ رکھیں گے، اور ہم ان کو ان کے نیک کاموں کی ضرور جزا دیں گے۔ (النحل : ٩٧)

اعمال کا ایمان سے خارج ہونا :

ائمہ ثلاثہ اور محدثین کا مذہب یہ ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور محققین متکلمین اور فقہا احناف کا مذہب ہے کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں اور یہ آیت فقہا احناف کے مذہب پر قوی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نیک اعمال کے لیے ایمان کو شرط قرار دیا ہے۔ لہذا اعمال مشروط اور ایمان شرط ہے اور مشروط شرط سے خارج ہوتا ہے۔ مثلا نماز مشروط ہے اور وضو شرط ہے تو نماز وضو سے خارج ہے۔ اسی طرح ایمان اعمال سے خارج ہے۔

مومن کی پاکیزہ زندگی کے متعلق متعدد افعال اور اس کے ضمن میں قناعت اور رزق حلال کی فضیلت :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص ایمان کے ساتھ نیک عمل کرے گا ہم اس کو پاکیزہ زندگی کے ساتھ رکھیں گے۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ پاکیزہ زندگی کہاں میسر ہوگی ؟ مفسرین کے اس میں تین قول ہیں :

١۔ العوفی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ پاکیزہ زندگی دنیا میں میسر ہوگی، پھر دنیا میں اس پاکیزہ زندگی کے مصداق کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

(الف) حضرت علی اور ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس اور ایک روایت کے مطابق حسن بصری اور وہب بن منبہ نے کہا اس کا مصداق قناعت ہے۔

حضرت جابر سے روایت ہے کہ قناعت ایک ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا اور ایک ایسا خزانہ ہے جو فنا نہیں ہوتا۔ محمد بن درویش البیرونی المتوفی ١٢٧٦ ھ نے لکھا ہے کہ حافظ ذہبی نے کہا کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (اسنی المطالب رقم الحدیث : ١٠٢١ )

اور العجلونی متوفی ١١٦٢ ھ نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام طبرانی اور العسکری نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے اور امام القضاعی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے۔ ذہبی نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور قناعت کے متعلق بہت احادیث ہیں۔ (کشف الخفاء ج ٢ ص ١٠٢، ١٠٣، مطبوعہ مکتبہ الغزالی دمشق)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جو اسلام لایا اور اس کو بقدر کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اس کو جو کچھ دیا تھا اس میں اس کو قناعت کرنے والا بنادیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٥٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٣٨، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٨، حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ١٢٩، السنن الکبری للبیہقی ج ٤ ص ١٩٦، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤٠٤٣، مشکوۃ رقم الحدیث : ٥١٦٥ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی اے اللہ ! آل محمد کا رزق بقدر کفایت کردے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٦١، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣، ص ٢٤٠، مسند احمد ج ٢ ص ٦٣٢، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٥٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٣٩، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦١٠٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٣٤٤، سنن کبری للبیہقی ج ٢ ص ١٥٠، دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٨٧، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤٠٤٢ )

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ کی تفسیر میں فرمایا اس سے مراد قناعت ہے۔ نیز انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا میں فرماتے تھے اے اللہ ! تو نے مجھے جو رزق دیا ہے اس میں مجھے قناعت کرنے والا بنا دے اور اس میں میرے لیے برکت رکھ دے اور میرے لیے ہر غائب چیز میں خیر رکھ دے۔ (المستدرک رقم الحدیث : ٣٤١١، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

دنیا میں اطمینان کے ساتھ وہی شخص زندگی گزارتا ہے جو قناعت کرتا ہو کیونکہ حریص شخص تو ہر وقت زیادہ سے زیادہ مال کی طلب میں سرگرداں رہتا ہے اور اپنے جسم اور ذہن کو زیادہ سے زیادہ مال کی طلب میں تھکاتا رہتا ہے۔

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کو تلاش کرے گا اور مٹی کے سوا ابن آدم کا کوئی چیز پیٹ نہیں بھرس کتی اور جو شخص توبہ کرے، اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٣٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٩ )

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے اس میں دو خصلتیں جوان ہوجاتی ہیں، مال کی حرص اور عمر کی حرص۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٢١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٧ )

(ب) ابو مالک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ دنیا کی پاکیزہ زندگی سے مراد حلال ہے۔ ضحاک نے کہا وہ حلال کھاتا ہو اور حلال پہنتا ہو۔ 

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ طیب ہے اور وہ صرف طیب چیز کو قبول کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا تھا۔ اس نے فرمایا :

یا ایھا الرسول کلوا من الطیبت واعملوا صالحا۔ (المومنون : ٥١) اے رسولو ! پاک چیزوں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو۔

اور مسلمانوں کو حکم دیا :

یا ایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم۔ (البقرہ : ١٧٢) اے ایمان والو ! ان پاک چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں۔

پھر آپ نے فرمایا ایک آدمی لمب اس سفر کرتا ہے اس کے بال غبار آلود ہوتے ہیں پھر وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے اے میرے رب ! اے میرے رب ! اس کا کھانا حرام ہے اور اس کا پینا حرام ہے، اس کا لباس حرام ہے اور اس کو حرام غزا دی گئی تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٠١٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٩٨٩)

(ج) حضرت علی بن ابی طلحۃ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ دنیا کی پاکیزہ زندگی سے مراد سعادت ہے۔

(د) عکرمہ نے کہا دنیا کی پاکیزہ زندگی سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطعت ہے۔ 

(ہ) قتادہ نے کہا اس سے مراد ہر روز رزق کا ملنا ہے۔

(و) اسماعیل بن ابی خالد نے کہا اس سے مراد رزق طیب اور عمل صالح ہے۔

(ز) ابوبکر وراق نے کہا اس سے مراد اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں مٹھاس کا ذائقہ محسوس کرنا ہے۔

(ح) الماوردی نے کہا اس سے مراد اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا ہے اور بلاؤں اور مصیبتوں میں کسی قسم کی شکایت نہ کرنا ہے۔

٢۔ حسن، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، ابن زید وغیرہم یہ کہتے ہیں کہ مومنین کو یہ حیات طیبہ جنت میں حاصل ہوگی۔

٣۔ ابو غسان نے شریک سے روایت کیا ہے کہ ایمان والوں کو یہ حیات طیبہ قبر میں حاصل ہوگی۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٤٨٨، ٤٨٩، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

مومن کی دنیا کی زندگی اور کافر کی دنیا کی زندگی کا فرق :

مومن کی زندگی کئی وجوہ سے کافر کی زندگی سے پاکیزہ اور بہتر ہے۔

١۔ مومن کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ اس کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کی قدرت اور اختیار میں ہے اور اللہ تعالیٰ جواد اور کریم ہے اور وہ اپنے بندوں کے حق میں جو کچھ بھی کرتا ہے، وہ ان کے لیے صحیح اور بہتر ہوتا ہے، اس لیے مومن اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر راضی اور مطمئن ہوتا ہے اور رزق میں کم ملے یا زیادہ، وہ حرف شکایت زبان پر نہیں لاتا، نہ اس کے دل میں کوئی تنگی پیدا ہوتی ہے اس کا ایمان ہوتا ہے اس کے حق میں یہی بہتر ہے اور اسی میں مصلحت ہے اور کافر کا چونکہ تقدیر پا ایمان نہیں ہوتا اور نہ وہ یہ مانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل صحیح اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے وہ ہر وقت شاکی غیر مطمئن اور رنج اور غم میں مبتلا ہوتا ہے۔

٢۔ مومن کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ اس کو جو خوشی اور راحت اور کامیابی نصیب ہوتی ہے جو فراخی و سعت اور کشادگی حاصل ہوتی ہے وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اس میں اس کی کسی کو کوشش اور کاوش کا دخل نہیں ہوتا وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور انعام ہوتا ہے اور اس پر جو مصیبت اور بلا نازل ہوتی ہے وہ اس کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ لہذا وہ ان مصایب پر کڑھتا نہیں ہے، نہ گلہ شکوہ کرتا ہے بلکہ اپنے گناہوں پر توبہ کرتا ہے اور ان مصائب، آفات اور بیماریوں پر خوش ہوتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ یہ تکلیفیں اور بلائیں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں گی اور ان دنیاوی مصائب کی وجہ سے وہ اخروی عذاب سے بچ جائے گا۔ اس کے برخلاف چونکہ کافر کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا اس لیے وہ ان مصائب اور آفات اور بیماریوں پر سوا افسوس کرنے اور کڑھنے کے اور کچھ نہیں کرتا۔

٣۔ مومن کا دل چونکہ معرفت الہی سے روشن ہوتا ہے اس لیے اس پر جو مصائب بھی نازل ہوتے ہیں اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس پر جو حال بھی وارد ہوا ہے وہ اس کے محبوب کی طرف سے نازل ہوا ہے، اور جب انسان کی نظر اپنے محبوب پر ہو تو محبوب کی طرف سے آنے والے مصائب بھی نعمت معلوم ہوتے ہیں، جیسے مصر کی عورتوں کی نظر جب حسن یوسف پر تھی تو انہیں ہاتھوں کی انگلیاں کٹنے کا کوئی درد نہیں ہوا، اور کافر کا دل چونکہ ان پاکیزہ واردات سے خالی ہوتا ہے بلکہ اس کے دل میں کفر کا اندھیرا ہوتا ہے اس لیے اس کو صرف درد اور اذیت کا ادراک ہوتا ہے، اور اس کے سامنے کوئی ایسا پاکیزہ ہدف نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس کی مشکلات اس پر آسان ہوجائیں۔

٤۔ مومن کو یہ یقین ہوتا ہے کہ دنیا کی کامیابیاں اور راحتیں عارضی اور فانی ہیں اس لیے وہ دنیا کی کامیابیوں کے ملنے کی وجہ سے زیادہ خوش نہیں ہوتا اور نہ ان کامیابیوں کے نہ ملنے یا چھن جانے کی وجہ سے زیادہ ملول اور غمگین ہوتا ہے، وہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر صبر کرلیتا ہے اور مطمئن ہوجاتا ہے اور کسی نعمت کے چلے جانے سے آہ و بکا، نالہ شیون اور واویلا نہیں کرتا۔ اس کے برخلاف چونکہ کافر کو آخرت پر یقین نہیں ہوتا، اس کو کوئی نعمت مل جائے تو خوشی سے اتراتا پھرتا ہے اور اس سے کوئی نعمت زائل ہوجائے تو اس کی دنیا تاریک ہوجاتی ہے۔

٥۔ مومن کو یقین ہوتا ہے ہے کہ یہ دنیا ناپائیدار ہے اور دنیا کی ہر چیز تغیر پذیر ہے، اس لیے جب اس کو کوئی خیر یا نعمت ملتی ہے تو وہ ذہنی طور پر اس نعمت کے زوال کے لیے تیار رہتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ جب خود اس کی ذات کو ثبات اور قرار نہیں ہے وہ خود بھی ایک دن اس دنیا سے جانے والا ہے تو اس کے پاس جو نعمتیں ہیں ان کو کب ثبات اور قرار ہوسکتا ہے۔ اس لیے اگر اس کے ہاتھ سے کوئی نعمت جاتی رہے تو یہ اس کے لیے کوئی تعجب اور اچنبھے کی بات نہیں ہوتی، اور کافر چونکہ ان دقیق حقائق پر گہری نظر نہیں رکھتا، اس لیے اس کے پاس سے کسی نعمت کا زائل ہوجانا اس کے لیے قیامت کے صدمہ سے کم نہیں ہوتا۔

٦۔ کافر پوری زندگی نجس اور ناپاک رہتا ہے، وہ ختنہ کرنا ہے نہ غیر ضروری بال صاف کرتا ہے، نہ غسل جنابت کرتا ہے، نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے اعضا کو دھو کر پاک اور صاف کرتا ہے، اس کی پوری زندگی نجاست اور ناپاکی میں گزرتی ہے۔ اس کے برخلاف مومن ختنہ کرتا ہے، غیر ضروری بال صاف کرتا ہے، بڑھے ہوئے ناخن تراشتا ہے، غسل جنابت کرتا ہے، قضائے حاجت کے بعد اپنے اعضا کو دھو کر پاک کرتا ہے، دن میں پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے اور اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ طہارت نصف ایمان ہے۔ لہذا مومن دنیا میں جو زندگی گزارتا ہے وہ پاکیزہ زندگی ہوتی ہے اور کافر دنیا میں جو زندگی گزارتا ہے وہ نجس اور ناپاک زندگی ہوتی ہے۔

٧۔ کافر کی غذا نجس ہوتی ہے وہ بغیر ذبح کے مردار کھاتا ہے، اور نجس اور ناپاک غذا سے جو جسم بنتا ہے وہ بھی نجس اور ناپاک ہوتا ہے اس کے برخلاف مومن حلال ذبیحہ کھاتا ہے جو طیب اور پاک ہوتا ہے اور اس سے اس کا جو جسم بنتا ہے وہ بھی طیب اور پاک ہوتا ہے اس لیے کافر جو زندگی گزارتا ہے وہ نجس اور ناپاک ہوتی ہے اور مومن کی زندگی طیب اور پاکیزہ ہوتی ہے۔

٨۔ کافر خنزیر کھاتا ہے، خنزیر بےغیرت جانور ہے، اس کے اثر سے کافر بھی بےغیرت اور بےحیا ہوتے ہیں، وہ بکثرت حرام کاری کرتے ہیں اور وہ کھلے عام بےحیائی کے کام کرتے ہیں، سڑکوں پر، پارکوں اور ساحل سمندر پر، مرد مردوں کے ساتھ جنسی آسودگی حاصل کرتے ہیں اور عورتیں عورتوں کے ساتھ۔ اس جنسی آوارگی کی وجہ سے ان کا ذہنی سکون غارت ہوچکا ہے پھر سکون کے حصول کے لیے ان میں سے بعض نے خود کو شراب کے نشے میں ڈبو دیا بعض نے ہیروئن، چرس اور دیگر نشہ آور چیزوں میں پناہ حاصل کی، اور مومن اول تو اس قسم کے غیر اخلاق کاموں میں ملوث نہیں ہوتا جس کی وجہ سے س کا ذہنی سکون جاتا رہے اور اگر کسی ناگہانی افتاد یا کسی اچانک صدمہ کی وجہ سے اس کا سکون جاتا رہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد میں سکون ملتا ہے، اس لیے کافر کی بےچینی اور بےسکونی بھی نجس ہے اور اس کے سکون کے ذرائع بھی نجس ہیں۔ اس کے برخلاف مومن کی بےسکونی بھی غیر اختیار اور پاک ہے اور اسکے سکون کے ذرائع بھی طیب اور پاکیزہ ہیں۔ اس لیے کافر دنیا میں جو زندگی گزارتا ہے وہ نجس اور ناپاک ہے اور مومن جو زندگی دنیا میں گزارتا ہے وہ طیب اور پاکیزہ ہے۔

٩۔ بعض کافر انسانوں کو خدا ماتے ہیں جیسے یہودی اور عیسائی، بعض حیوانوں کو خدا مانتے ہیں جیسے ہندو۔ بعض آگ اور سورج کو خدا مانتے ہیں جیسے پارسی اور مجوسی۔ اور بعض پتھروں اور درختوں کو خدا مانتے ہیں جیسے مشرکین اور بت پرست۔ حالانکہ یہ تمام چیزیں عناصر کائنات ہیں، خالق کائنات نہیں ہیں۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ عناصر کائنات کی پرستش نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کر کے عناصر کائنات کو اپنا تابع بنا لیتا ہے۔ جیسے حضرت عمر کے حکم سے دریائے نیل جاری ہوگیا۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے۔۔۔۔ موم کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق 

کافر عناصر کائنات کا پرستار اور پجاری ہے اور مومن عناصر کائنات پر حاکم اور حاوی ہے۔

١٠۔ دنیا میں کافر کی دعاؤں کی قبولیت کے لیے کوئی صحیح اور مستند وسیلہ نہیں ہے اور مومن کی دعاؤں کی قبولیت کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء اور صالحین کا صحیح اور مستند وسیلہ ہے۔

ہم نے جو مومن اور کافر کی دنیا کی زندگی کا تقابل کیا ہے وہ ان کی مثال اور آئیڈیل زندگی ہے۔ اگر کوئی مومن، مومن ہونے کے باوجود کافرانہ طرز حیات کو اختیار کرے اور اس کی زندگی میں نجاست اور ناپاکی در آئے تو یہ ناپاکی اس کے ایمان کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ کافروں کی سی زندگی کو اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی زندگی کو پاکیزہ بنائے اور ہماری کوتاہیوں اور غلط کاریوں کو معاف فرمائے۔ آمین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 97