أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ نَـبۡعَثُ فِىۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيۡدًا عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ ‌ؕ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ وَّ هُدًى وَّرَحۡمَةً وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ۞

ترجمہ:

اور جس دن ہم ہر امت کے خلاف ان ہی میں سے ایک گواہ پیش کریں گے اور (اے رسول مکرم) ہم ان سب پر آپ کو گواہ بنا کر پیش کریں گے اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن ہم ہر امت کے خلاف ان ہی میں سے ایک گواہ پیش کریں گے اور (اے رسول مکرم) ہم ان سب پر آپ کو گواہ بنا کر پیش کریں گے اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔ (النحل : ٨٩)

زمانہ فترت میں علماء مبلغین کا حجت ہونا :

علامہ قرطبی نے لکھا ہے اس آیت میں گواہ سے مراد انبیاء ہیں جو اپنی امتوں کے خلاف قیامت کے دن گواہی دیں گے۔ کہ انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور ان کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور ہر زمانہ میں ایک گواہ ہوگا خواہ وہ نبی نہ ہو، اور ان کے متعلق دو قول ہیں ایک یہ ہے کہ وہ ہدایت دینے والے ائمہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کے نائبین ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ علماء مبلغین ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی شرائع کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی تبلیغ کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس تقدیر پر فترت (انقطاع نبوت کا زمانہ) میں وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کو ایک مانتے ہوں گے جیسے قس بن ساعدہ ور زید بن عمرو بن نفیل۔ جس کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ بطور ایک امت اٹھایا جائے گا اور ورقہ بن نوفل جس کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اس کو جنت کے دریاؤں میں غوطے لگاتے ہوئے دیکھا ہے پس یہ لوگ اور جو ان کی مثل ہیں، وہ اپنے زمانہ کے لوگوں پر حجت ہیں اور ان پر گواہی دیں گے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ١٤٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

قرآن مجید کا ہر چیز کے لیے روشن بیان ہونا :

اس کے بعد فرمایا اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

بعض علما نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ قرآن مجید میں تمام دنیا کے علوم کا ذکر ہے بلکہ بعض علما نے یہ کہا کہ ابتدا آفرینش سے لے کر قیامت تک کے تمام واقعات کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے قرآن عظیم ہدایت کی کتاب ہے اور ہدایت کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے، وہ سب قرآن مجید میں مذکور ہیں اور تمام اصول اور فروع کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ پچھلی امتوں کے جن قصص اور واقعات میں ذکر ہے، وہ بھی ہدایت اور موعظت کے لیے ہے، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پھر سنت، اجماع ور قیاس کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جن چیزوں کا قرآن مجید میں صراحتا ذکر ہیں ہے ان کے حل کے لیے قرآن مجید نے سنت، اجماع اور قیاس کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے اور ان کا حجت ہونا قرآن کریم مزکور ہے۔ اس پر تفصیلی بحث ہم نے الانعام : ٣٨ تبیان القرآن ج ٣ ص ١٦٤۔ ٤٥٨ میں کی ہے۔

علامہ ابو الحسن ابراہیم بن عمر البقاعی المتوفی ٨٨٥ ھ لکھتے ہیں :

امام شافعی نے اپنے رسالہ کے خطبہ کے آخر میں یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی کتاب اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی فہم عطا فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا مسلمانوں کو اپنی زندگی میں جو بھی حادث پیش آئے گا اس کے متعلق اللہ کی کتاب میں ہدایت موجود ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں دنیا اور آخرت سے متعلق تمام عقائد بیان فرمائے ہیں اور امر و نہی اور حلال و حرام اور حدود بیان فرمائی ہیں۔ بعض کا قرآن مجید میں صراحتا ذکر ہے اور بعض کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی سنت کے حوالے کردیا ہے اور بعض احکام کو اجماع کے سپرد کردیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا ہے :

ویتبع غیر سبیل المومنین۔ (النساء ؛ ١١٥) اور جو شخص مومنین کے راستہ کے سوا کوئی راستہ ڈھونڈے۔

اس آیت میں اس شخص پر وعید ہے جو مومنین کے راستے کے سوا کوئی اور راستہ تلاش کرے، اس سے معلوم ہوا کہ جمہور مومنین کے طریقہ پر حجت ہے اور یہ اجماع کا ثبوت ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خلفاء راشدین کی اقتدا کا حکم دیا ہے۔

حضرت عریاض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز کے بعد ہم کو بہت موثر اور بلیغ نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ہمارے دل خوفزدہ ہوگئے۔ ایک شخص نے کہا یہ تو کسی الوداع ہونے والے کی نصیحت ہے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کر ات ہوں، خواوہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہو تم اس کا حکم ماننا اور اس کی اطاعت کرنا کیونکہ جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بکثرت اختلاف دیکھے گا اور تم اپنے آپ کو دین میں نئی باتیں نکالنے سے بچانا کیونکہ یہ گمرہای ہے۔ تم میں سے جو شخص ایسی چیزوں کو دیکھے تو اس پر میری سنت اور میرے خلفاء راشدین مھدیین کی سنت لازم ہے اس کو ڈاڑھوں کے ساتھ پکڑ لو۔ (سنن الترمزی رقم الحدیث : ٢٦٧٦، سنن ابو داؤأد رقم الحدیث : ٤٦٠٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣، مسند احمد ج ٤ ص ١٢٦، سنن دارمی رقم الحدیث : ٩٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥، المعجم الکبیر ج ١٨، رقم الحدیث : ٦١٧، المستدرک ج ١ ص ٩٥)

اور آپ نے تمام اصحاب کی اقتدا کا بھی حکم دیا ہے کیونکہ آپ نے فرمایا میرے تمام اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پالوگے، اور آپ کے اصحاب نے اجتہاد کیا اور قیاس کیا اور ان میں سے کوئی بھی کتاب و سنت سے باہر نہیں ہوا، اور یہ حدیث دلائل نبوت سے ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر گواہ ہیں کیونکہ آپ نے ان کے متعلق اسی چیز کی خبردی ہے جس کے وہ اہل تھے۔ (نظم الدرر، ج ٤ ص ٣٠٢، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ بقاعی نے جو یہ حدیث ذکر کی ہے کہ میرے تمام اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ الحدیث : یہ حدیث سند کے اعتبار سے بہت ضعیف ہے۔ اس کو القضاعی نے مسند الشہاب (رقم الحدیث : ١٣٤٦) میں روایت کیا ہے لیکن دیگر احادیث معتبرہ سے صحابہ کا ستاروں کی مانند ہونا ثابت ہے اور چونکہ ستاروں سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے اس لیے ان کی اقتد اس کرنا بھی معنا ثابت ہے اور اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ عصر صحابہ کے بعد فتنوں اور حوادث کا ظہور ہوگا اور سنتیں مٹ جائیں گی اور بدعات کا ظہور ہوگا اور روئے زمین میں فسق و فجور کی کثرت ہوگی۔ واللہ المستعان (تلخیص الحیر لابن حجر ج ٤ ص ١٥٦٧، ١٥٦٨، ملخصا مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 89