أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اَوۡفُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ اِذَا عَاهَدتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡكِيۡدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيۡلًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو جب کہ تم اللہ کو اپنا ضامن قرار دے چکے ہو، بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو جب کہ تم اللہ کو اپنا ضامن قرار دے چکے ہو، بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (النحل : ٩١)

اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی اقسام :

اس آیت میں اللہ کے عہد کا ذکر ہے۔ مفسرین نے اس عہد کی حسب ذیل اقسام بیان فرمائی ہیں :

١۔ اللہ کے عہد سے مراد بیعت رضوان ہے جب چودہ سو مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ قصاص عثمان لینے کے لیے بیعت کی تھی۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے :

ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ، ید اللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ۔ (الفتح : ١٠) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ، پس جس نے بیعت توڑی اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

یعنی جب تم بیعت کرنے کے بعد اللہ کی قسم کھا کر اس بیعت کو پکار کرو، یا عہد کر کے اللہ کی قسم کھا کر اس عہد کو پکار کرو تو پھر اس بیعت یا عہد کو نہ توڑو۔

٢۔ اس سے مراد ہر وہ عہد ہے جو انسان اپنے اختیار سے کسی کے ساتھ کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وعدہ بھی عہد کی قسم سے ہے۔ میمون بن مہران نے کہا تم جس شخص سے بھی عہد کرو اس عہد کو پورا کرو خواہ مسلمان سے عہد کرو یا کافر سے کیونکہ اس عہد پر تم نے اللہ کا نام لیا ہے اور اس کو ضامن بنایا ہے۔

٣۔ اس عہد سے مراد اللہ کی قسم ہے اور جب کوئی شخص کسی کام کو کرنے کے لیے اللہ کی قسم کھائے تو اس پر اس قسم کو پورا کرنا واجب ہے، سوا اس صورت کے جب اس نے گناہ کا کام کرنے کی قسم کھائی تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس قسم کے خلاف کرے یعنی گناہ نہ کرے اور اس قسم کا کفارہ دے۔ حدیث میں ہے :

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز کا انسان مالک نہ ہو اس پر قسم نہ کھائے، اور نہ اللہ کی نافرمانی کرنے پر قسم کھائے اور نہ رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے پر قسم کھائے اور جس شخص نے کسی کام کرنے کی قسم کھائی پھر اس نے غور کیا کہ اس کام کے خلاف کرنا اچھا ہے تو وہ اس کام کو ترک کردے اور جو کام اچھا ہو اس کو کرے اس کام کو ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو تمام احادیث مروی ہیں ان سب میں یہ ہے کہ وہ اس قسم کا کفارہ دے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٢٧٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٨٠١)

حضرت عبدالرحإن بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ ! جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر تم یہ سمجھو کہ اس کام کے خلاف کرنا بہتر ہے تو وہ کام کرو جو بہتر ہے اور اس قسم کا کفارہ دے دو ۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٢٧٧، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٧٢١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٥٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٢٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٧٩١)

٤۔ عہد سے مراد ہر وہ کام ہے جس کے تقاضے سے اس کو پورا کرنا واجب ہو کیونکہ عقلی اور سمعی دلائل قسم کے پورا کرنے کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔

ایک دوسرے سے تعاون کے معاہدہ کے متعلق متعارض احادیث :

حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں حلف (ایک دوسرے سے تعاون کا معاہدہ) نہیں ہے جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں حلف (تعاون کا معاہدہ) کیا تھا اس نے اس کو اور پختہ کردیا ہے۔ حلف (ح اور لام کی زبر) کا معنی ہے، قسم کھانا اور حلف (ح کی زیر اور لام پر جزم) کا معنی ہے ایک دوسرے سے تعاون کا معاہدہ کرنا۔ (مختار الصحاح ص ٩٩، المنجد ص ١٤٩) (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٣٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٩٢٥ )

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے درمیان حلف کرایا (یہ معاہدہ کرایا کہ یہ آپس میں بھائی ہیں) حضرت انس سے کہا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ اسلام میں حلف نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے گھر میں دو یا تین بار حلف برداری کرائی۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٩٢٦، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٨٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٣١، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٠٩٠، طبع جدید دار الفکر)

ان احادیث میں تطبیق :

علامہ ابن اثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

حلف کا معنی ہے ایک دوسرے کا بازو بننا، ایک دوسرے کی مدد کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق سے رہنے کا معاہدہ کرنا، زمانہ جاہلیت میں دو قبیلے یا دو دوست یہ معاہدہ کرتے تھے کہ وہ جنگ میں لوٹ مار میں اور قتل اور غارت گری میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے خواہ حق ہو یا باطل، اسلام میں اس سے منع کردیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسلام میں حلف نہیں ہے اور جن لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ ملکر مظلوموں کی مدد کریں گے، رشتہ داروں سے ملاپ رکھیں گے اس کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں جو حلف بھی اٹھایا گیا (جو معاہدہ بھی کیا گیا) اسلام نے اس کو اور پختہ کردیا ہے سو جس حلف کو اسلام نے جائز قرار دیا اور باقی رکھا ہے، یہ وہ حلف ہے جس میں نیک کاموں اور حق کے راستے میں مدد کرنے پر معاہدہ ہوا اور یہی وہ حلف ہے جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے اور جو حلف اسلام میں ممنوع ہے یہ وہ حلف ہے جو اسلام کے احکام کے خلاف ہو۔ لہذا حلف کی ممانعت اور حلت کے جواز کی حدیثیں کے محمل الگ الگ ہوگئے اور ان حدیثوں میں تعارض نہ رہا اور یہ حدیثیں مجتمع ہوگئیں۔ (النہایہ ج ١ ص ٤٠٧، ٤٠٨، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ یحی بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

زمانہ جاہلیت میں جو حلف اٹھا کر معاہدہ کیا جاتا تھا، اس میں یہ حلف بھی ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اس حلف کو اسلام نے منسوخ کردیا۔ قرآن مجید میں ہے :

واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ۔ (الانفال : ٧٥) اور بعض رشتہ دار دوسرے بعض رشتہ داروں سے (بہ اعتبار وراثت کے) اللہ کی کتاب میں زیادہ مستحق ہیں۔

علامہ نووی فرماتے ہیں جو معاہدہ وراثت سے متعلق ہو تو اس کی مخالفت کرنا جمہور علماء کے نزدیک مستحب ہے اور رہا اسلام میں مواخاۃ (بھائی بننا) اور اللہ کی اطاعت کرنا اور دین میں ایک دوسرے کی نصرت کرنا اور نیکی کرنے، تقوی اور حق کو قائم کرنے پر ایک دوسرے کے ساتھ حلف برداری کرنا (معاہدہ کرنا) تو یہ ہنوز باقی ہے اور منسوخ نہیں ہوا، اور ان احادیث کا یہی معنی ہے جن میں آپ کا ارشاد ہے : زمانہ جاہلیت میں جو بھی حلف تھا اس کو اسلام نے اور مضبوط کردیا ہے۔ اور آپ نے جو فرمایا ہے اسلام میں حلف نہیں ہے اس سے مراد ہے، ایک دوسرے کا وارث بننے اور خلاف شرعی کاموں میں معاونت کرنے کا اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ١٠، ص ٦٥٠٥، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

مواخاۃ کا معنی :

علامہ نووی نے اپنی شرح میں مواخاۃ کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ لفظ اخوت سے بنا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ دو آدمی ایک دوسرے کی مدد کرنے، ایک دوسرے کی غم خو واری کرنے اور ایک دوسرے کا وارث بننے کا معاہدہ کریں حتی کہ وہ دونوں نسبی بھائیوں کی طرح ہوجائیں۔ اس معاہدہ کو مواخاۃ کہتے ہیں اور کبھی اس کو حلف بھی کہتے ہیں جیسا کہ حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے گھر میں قریش کے درمیان حلف برداری کرائی۔ یہ چیز مانہ جاہلیت میں معروف تھی اور اس پر عمل بھی کیا جاتا تھا اور وہ اس کو حلف ہی کہتے تھے۔ جب اسلام آیا تو پھر بھی اس پر عمل کیا گیا اور ایک دوسرے کا وارث بنایا گیا، جیسا کہ کتب سیرت میں ہے کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ علامہ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ آئے تو مسجد نبوی بنانے کے بعد آپ نے مہاجرین اور انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا کہ وہ نیکی کے راستے میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے اور اقامت حق میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، صحابہ اس مواخاۃ کی وجہ سے بغیر نسب اور رحم کی قرابت کے ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوگئی :

والوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ۔ (الانفال : ٧٥) اور بعض رشتہ دار دوسرے بعض رشتہ داروں سے (بہ اعتبار وراثت کے) اللہ کی کتاب میں زیادہ مستحق ہیں۔

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی بن ابی طالب کو اپنا بھائی بنایا اور فرمایا تم میرے بھائی اور میرے صاحب ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ اور حضرت علی کہتے تھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ہوں اور مجھ سے پہلے کسی نے یہ نہیں کہا اور جو میرے بعد کہے گا، وہ کذاب مفتری ہوگا۔ اور آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت خارجہ بن زید کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور حضرت عمر اور حضرت عتبان بن مالک کو اور حضرت عثمان اور حضرت اوس بن مالک کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔

حلف الفضول (مظلوم کا بدلہ لینے کا باہمی معاہدہ):

ہم نے کو مواخات کا ذکر کیا ہے یہ زمانہ جاہلیت کے حلف الفضول کی مثل ہے۔ اس میں بھی نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا حلف اٹھایا گیا تھا۔ امام بن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ قریش کے قبائل عبداللہ بن جدعان کے شرف اور نسب کی فضیلت کی وجہ سے اس کے گھر جمع ہوئے۔ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ حلف اٹھا کر یہ معاہدہ کیا کہ مکہ میں ان کو جو مظلوم بھی دکھائی دے گا خواہ وہ مکہ کا رہنے والا ہو نہ ہو، وہ اس کی مدد کریں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ اس کا حق اس کو نہیں دلا دیتے۔ قریش نے اس حلف کا نام حلف الفضول رکھا اس کا معنی تھا حلف الفضائل اور فضول فضل کی جمع کثرت ہے جسے فلس کی جمع فلوس ہے۔ امام ابن اسحاق نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حلف ہورہا تھا میں بھی اس موقع پر تھا اور اگر اس تقریب میں شرکت کے بدلہ مجھے سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو مجھے پسند نہ تھا اور اگر زمانہ اسلام میں بھی مجھے اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی جاتی تو میں قبول کرلیا۔ امام ابن اسحاق نے کہا کہ ولید بن عتبہ نے حضرت حسین بن علی کے خلاف اپنے مال کا مقدمہ ولید کے پاس پیش کیا، وہ اس وقت مدینہ کا گورنر تھا، حضرت حسین بن علی نے فرمایا کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ تم میرے حق کے ساتھ انصاف کرو گے ورنہ میں اپنی تلوار پکڑ لوں گا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں لوگوں کو حلف الفضول کے لیے بلاؤں گا۔ حضرت عبداللہ بن الزبیر نے فمرایا اللہ کی قسم ! اگر انہوں نے مجھے حلف الفضول کی دعوت دی تو میں اپنی تلوار اٹھا لوں گا پھر میں ان کا ساتھ دوں گا حتی کہ یا تو انہیں ان کا حق مل جائے یا ہم ان کے حق کی خاطر لڑتے لڑتے مرجائیں گے۔ یہ بات حضرت مسور بن مخرمہ تک پہنچی تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا پھر یہ بات عبدالرحمن بن عثمان بن عبید اللہ التیمی تک پہنچی تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور جب یہ خبر ولید کو پہنچی جو امیر مدینہ تھا تو اس نے کہا میں انصاف کروں گا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٠ ص ١٥٤ )

علماء نے کہا یہ وہ حلف ہے (معاہدہ) ہے جو زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا اور اسلام نے اس کو اور مضبوط کردیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے اسلام میں حلف (تعاون کا معاہدہ) نہیں ہے آپ نے اپنے ارشاد کے عموم سے اس معاہدہ کو مستثنی کردیا جس میں جائز اور ناجائز حمایت کا عہد کیا جاتا تھا۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ شریعت کا بھی یہ حکم ہے کہ ظالم سے بدلہ لیا جائے اور اس سے مظلوم کا حق لے کر مظلوم تک پہنچایا جائے اور اس کام کو مکفلین پر بقدر استطاعت واجب کردیا اور ظالموں سے حق وصول کرنے کی ان کا اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر الحق اولئک لھم عذاب الیم۔ (الشوری : ٤٢، ٤٣) جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لے تو اس پر گرفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گرفت کی گنجائش تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اور اس کی تائید ان حدیثوں میں ہے :

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم مظلوم کی تو مدد کریں گے، ظالم کی کیسے مدد کریں ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٤، مسند احمد رقم الحدیث : ١٣١١٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥١٦٧ )

حضرت ابوبکر یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں تو عنقریب اللہ تعالیٰ ان سب پر عام عذاب نازل کردے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٦٧، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٣، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥، ص ١٧٤، ١٧٥، مسند احمد ج ١ ص ٥، ٧، ٩) (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٣٣٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٠٥، مسند البزار رقم الحدیث : ٦٥، ٦٦، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٢٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٠٣، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٥٣٢، السنن الکبری للبیہقی ج ١٠، ص ٩ )

عہد شکنی کی مذمت :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور قسموں کو پکار کرنے کے بعد نہ توڑو جبکہ تم اللہ کو اپنا ضامن قرار دے چکے ہو۔ قسموں کو پکا کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی چیز پر یا کسی کام کے کرنے پر دو یا تین بار اللہ تعالیٰ کے نام کیق سم کھائے اور اس کو موکد کرنے کے لیے کہے اللہ کی قسم ! میں اس کے خلاف نہیں کروں گا۔ تاہم اس موکد قسم کے کفارہ اور غیر موکد قسم کے کفارہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ قسم بھی عہد ہے اور ہر قسم عہد ہوتی ہے لیکن جس عہد کے ساتھ قسم نہ کھائی جائے اس کے توڑنے پر کفارہ نہیں ہوتا لیکن عہد شکنی کی شرع میں سخت مزمت کی گئی ہے اور اس پر سخت وعید ہے۔

نافع بیان کرتے ہیں کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے نوکروں اور بال بچوں کو جمع کیا اور فرمایا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا نصب کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص سے بیعت کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی بیعت ہے اور میرے علم میں اس سے بڑی عہد شکنی نہیں ہے کہ ایک شخص کسی کے ہاتھ پر اللہ اور اس کے رسول کی بیعت کرے اور پھر اس سے جنگ کرنا شروع کردے اور مجھے تم میں سے جس شخص کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ اس شخص سے بیعت توڑ رہا اور اس بیعت کو قائم نہیں رکھ سکا، میرے اور اس کے درمیان تعلق منقطع ہوجائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١١١، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٧٣٨، السنن الکبری رقم الحدیث : ٨٧٣٧، مسند احمد رقم الحدیث : ٥٤٥٧، عالم الکتب بیروت)

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن عہد شکن کے لیے جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٧٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٣٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 91