أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلایئے اور احسن طریقہ کے ساتھ ان پر حجت قائم کیجیے، بیشک آپ کا رب ان کو بہت جاننے والا ہے جو اس کے راستہ سے بھٹک گئے اور ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جاننے و الا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلایئے اور احسن طریقہ کے ساتھ ان پر حجت قائم کیجیے، بیشک آپ کا رب ان کو بہت جاننے والا ہے جو اس کے راستہ سے بھٹک گئے اور ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جاننے و الا ہے۔ (النحل : ١٢٥ )

حکمت، موعظت حسنہ اور جدل کے لغوی اور اصطلاحی معنی :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تھا کہ مشرکین رسولوں کا مذاق اڑاتے تھے، ان کے پیغام کی تکزیب کرتے تھے اور وہ جو آخرت کے عذاب سے ڈڑاتے تھے اس کا انکار کرتے تھے اور اس کے ساتھ استہزا کرتے تھے جس کی وجہ سے رسولوں کو ان کی گمراہی پر افسوس ہوتا تھا اور ان کے عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ کر وہ ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت دینے کے لیے بہت مستحکم دلائل قائم کیے اور بہت فہم مثالیں بیان فرمائیں اور اسی نہج پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دینے کے لیے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو اپنے رب کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاییے۔ اپنے رب کے راستے سے مراد ہے اسلام یعنی آپ ان کو حکمت کے ساتھ اسلام کی دعوت دیجیے۔

حکمت کا معنی ہے افعال کے حسن اور قبح اور صحت اور فساد کو جاننا اور ایک قول یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے نتائج کے فساد اور خرابی کی وجہ سے اختیار کرنے سے منع کرنا یا کسی چیز کو اس کے نتائج کی عمدگی کی وجہ سے اختیار کرنے کی تلقین کرنا، اور جو دلیل مقدمات یقینیہ سے مرکب ہو اس کو بھی حکمت کہتے ہیں، اور موعظت حسنہ سے مراد ہے کسی کام کی ترغیب کے لیے اچھے اجر کی مثال دینا یا کسی کام سے باز رکھنے کے لیے سزا اور عذاب سے ڈرانا، اور جو دلیل مقدمات ظنیہ سے مرکب ہو اس کو بھی موعظت حسنہ کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے جو دلیل قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہو وہ حکمت ہے اور جو دلیل ظنی الثبوت اور قطعی الدلالت ہو یا قطعی الثبوت اور ظنی الدلالت ہو وہ موعظت حسنہ ہے اور جو دلیل مخالف کے مسلمات پر مبنی ہو وہ جدل اور جدال ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور رسال پر جو دلائل قائم کیے ہیں، وہ سب از قبیل حکمت ہیں اور نیک کام پر اجر وثواب اور برے کاموں پر عذاب کی جو مثالیں دی ہیں وہ از قبیل موعظت حسنہ ہیں وار جدل کی مثال یہ ہے :

اذ قالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیء قل من انزل الکتاب الذی جاء بہ موسیٰ ۔ (الانعام : ٩١) جب انہوں (یہودیوں) نے کہا اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی، آپ کہیے پھر اس کتاب کو کس نے نازل کیا ہے جس کو موسیٰ لے کر آئے تھے ؟

یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ پر نزول قرآن کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر حضرت موسیٰ پر تورات کس نے نازل کی تھی ؟ کیونکہ وہ اس کو مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر تورات نازل کی ہے۔

علامہ راغب اصٖفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

علم اور عقل سے حق اور صواب کو حاصل کرنا حکمت ہے، اللہ تعالیٰ کی حکمت کا معنی ہے اشیاء کی معرفت اور ان کو مضبوط طریقہ سے پیدا کرنا، اور انسان کی حکمت ہے موجودات کی معرفت اور نیک کاموں کا کرنا، اور میر سید شریف نے حکمت کی حسب ذیل تعریفات کی ہیں :

١۔ قوت عقلیہ جو افراط اور تفریط کے درمیان متوسط ہو۔

٢۔ انسان کا اپنی طاقت کے مطابق نفس الامر میں حق اور صدق کو حاصل کرنا۔

٣۔ ہر وہ کلام جو حق کے موافق ہو، وہ حکمت ہے۔

٤۔ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھنا حکمت ہے۔

٥۔ جس چیز کا انجام چھا ہو وہ حکمت ہے۔ (المفردات ج ١ ص ١٦٧، ١٦٨، التعریفات ص ٦٦، مطبوعہ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ راغب نے لکھا ہے جس وعظ میں کسی سزا سے ڈرایا گیا ہو وہ موعظت ہے، خلیل نے کہا نیکی کے کاموں کو اس طور سے یاد دلانا کہ اس سے دل نرم ہوجائیں یہ موعظت ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٦٨٣، مطبوعہ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

علامہ راغب اصفہانی نے کہا کسی شخص کا دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے دلائل پیش کرنا جدل ہے۔ میر سید شریف نے کہا جو قیاس مقدمات مشہورہ اور مقدمات مسلمہ سے مرکب ہو، اس کو جدل کہتے ہیں۔ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مخالف پر الزام قائم کیا جائے اور خصم کو ساکت کیا جائے۔ (المفردات ج ١ ص ١١٧، التعریفات ص ٥٥ )

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک آپ کا رب ان کو بہت جاننے والا جو اس کے راستہ سے بھٹک گئے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جاننے والا ہے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ آپ صرف ان تین طریقوں سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں باقی کسی کو ہدایت یافتہ بنادینا یہ آپ کا منصب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے کہ ان میں سے کون اپنے اختیار سے ہدایت کو قبول کرے گا اور کون اپنے اختیار سے گمراہی پر ڈٹا رہے گا۔ سو جس نے اپنے اختیار سے ہدایت کو قبول کرنا ہو اس کو اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ بنا دے گا، اور جس نے اپنے اختیار سے گمراہی پر ڈٹے رہنا ہو اس کو گمراہ رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 125