أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ‌ ۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِىۡ ضَيۡقٍ مِّمَّا يَمۡكُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر صرف اللہ کی توفیق سے ہے، اور آپ ان (کی سرکشی) پر غمگین نہ ہوں اور نہ ان کی سازشوں سے تنگ دل ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر صرف اللہ کی توفیق سے ہے، اور آپ ان (کی سرکشی) پر غمگین نہ ہوں اور نہ ان کی سازشوں سے تنگ دل ہوں۔ بیشک اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو نیک کام کرنے والے ہیں۔ (النحل : ١٢٧، ١٢٨ )

صبر کرنے کی ترغیب :

اس سے پہلی آیت میں تعریضا اور تصریحا فرمایا تھا کہ بدلہ لینے کی نسبت صبر کرنا افضل ہے اور اس ایت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ظلم پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے اور کیونکہ مظلوم کے لیے ظلم پر صبر کان بہت مشکل اور دشوار ہوتا ہے اس لیے فرمایا آپ کا صبر کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی اعانت سے ہوگا، اور انسان جب صبر کرتا ہے تو اس کا صبر کرنا اس وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کا دل کسی کے ظلم کی وجہ سے جوش غضب میں ہو اور وہ انتقام لینے کے لیے آمادہ ہو، اس وقت جب وہ صبر کرے گا تو اس وقت اس کو اپنے نقصان پر غم ہوگا۔ یعنی آپ اپنے اصحاب کے نقصان پر غم نہ کریں اور ان سے بدلہ نہ لینے کی وجہ سے تنگ دل نہ ہوں۔

بدلہ نہ لینے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مبارک سیرت :

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے اور بدلہ نہ لینے کا حکم دیا ہے۔ اس سے یہ وہم نہ ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طبعا بدلہ لینا چاہتے تھے لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا، بلکہ آپ کی سیرت اور صفت یہی تھی کہ آپ صبر فرماتے تھے اور بدلہ نہیں لیتے تھے اور ان آیتوں سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنی صبر اور درگزر کرنے کی صفت پر برقرار رہیے۔ حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طبعا سخت مزاج اور درشت کلام کرنے والے تھے ور نہ تکلفا سخت مزاج تھے اور نہ بازار میں شور کرتے تھے اور نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠١٦، مسند احمد ج ٦ ص ١٧٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٣٣٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٤٠٩، سنن الکبری للبیہقی ج ٧ ص ٤٥ )

علامہ شہاب الدین احمد بن حجر ہیثمی متوفی ٩٧٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاف کرنے اور بدلہ نہ لینے کے لیے تمہارے واسطے یہ کافی ہے کہ آپ کے دشمنوں نے آپ کو سخت ایذا پہنچائی حتی کہ آپ کے سامنے کا نچلا دانت شہید کردیا اور آپ کا چہرہ خون آلود کردیا۔ آپ کے بعض اصحاب نے فرمایا آپ ان کے خلاف دعائے ضرر فرمائیں۔ آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا لیکن مجھے دعا کرنے والا اور رحمت کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرمایا فرمایا میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ مجھے نہیں پہچانتے۔ آپ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ میرے سر پر چوٹ لگانے کے ان کے گناہ کو معاف فرما، نہ یہ کہ ان کو مطلقا معاف فرما، ورنہ وہ مسلمان ہوجاتے۔ یہ امام ابن حبان نے کہا ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن فرمایا ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز جو عصر کی نماز ہے، پڑھنے سے مشغول رکھا، اے اللہ ! ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ آپ کا چہر خون آلود کیا گیا اس کو آپ نے معاف کردیا کیونکہ وہ آپ کا حق تھا اور کافروں نے نماز عصر میں خلل ڈالا اس کو معاف نہیں کیا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کیونکہ آپ کا معاف کرنا اور درگزر کرنا آپ کے حقوق سے متعلق ہے۔ امام طبرانی، امام ابن حبان، امام حاکم اور امام بیہقی نے بعض ان یہودی علماء سے روایت کیا جو مسلمان ہوچکے تھے انہوں نے کہا نبوت کی جتنی علامات تھیں وہ سب میں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھتے ہی پہچان لیں مگر دو علامتوں کے متعلق مجھے کوئی خبر نہ تھی، ایک یہ کہ آپ کا حلم اور آپ کی بردباری آپ کے غضب پر غالب ہے۔ میں آپ کے ساتھ مل جل کر رہرتا تھا تاکہ میں آپ کے حلم اور آپ کی بردباری کا مشاہدہ کرسکوں۔ میں نے مدت معینہ کے ادھار پر آپ کو کھجوریں فروخت کیں اور مدت کے آنے سے پہلے میں نے آپ سے قیمت کا تقاضا کیا، ابھی دو تین دن رہتے تھے کہ میں نے آپ کی قمیص پکڑلی اور سخت غصہ سے آپ کو گھورا اور کہا اے محمد ! آپ میرا حق ادا نہیں کرتے، اللہ کی قسم ! اے عبدالمطلب کی اولاد ! تم لوگ سخت نادہندہ ہو۔ حضرت عمر نے کہا اے للہ کے دشمن ! تو میرے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی بات کہہ رہا ہے، اللہ کی قسم اگر مجھے تیری قوم سے معاہدہ کا خیال نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیرا سر قلم کردیتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتہائی سکون سے تبسم فرماتے ہوئے حضرت عمر کی طرف دیکھ رہے تھے، پھر فرمایا مجھے اور اس شخص کو کسی اور بات کے کہنے کی ضرورت تھی، تم مجھے اچھی طرح سے قرض ادا کرنے کا کہتے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا کہتے، جاؤ عمر اس کا قرض ادا کردو اور اس کو اس کے حق کے علاوہ بیس صاع زیادہ دینا۔ حضرت عمر نے اسی طرح کیا، میں نے کہا اے عمر ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے میں نبوت کی علامات دیکھ چکا تھا مگر میں دو علامتیں دیکھنا چاہتا تھا، ایک یہ کہ آپ کا حلم آپ کے غضب پر غالب رہتا ہے اور دوسری یہ کہ زیادہ غضب آپ میں صرف حلم کو ہی زیادہ کرتا ہے۔ اب میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کو رب مان کر راضی ہوں اور اسلام کو دین مان کر اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر راضی ہوں۔

امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی نے آپ کی چادر اتنے زور سے کھینچی کہ آپ کی گردن پر نشان پڑگیا، وہ یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے ان دو اونٹوں پر طعام لاد کردیجیے، کیونکہ آپ مجھے اپنے مال سے لاد کردیں گے نہ اپنے بال کے مال سے لاد کردیں گے۔ آپ نے فرمایا نہیں اور تین بار اللہ سے مغفرت چاہی اور فرمایا میں اس وقت تک تم کو ان اونٹوں پر غلہ لاد کر نہیں دوں گا جب تک کہ تم مجھے اس چادر سے کھینچنے کا بدلہ نہیں دو گے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں بدلہ نہیں دوں گا، آپ نے ایک شخص کو بلا کر فرمایا اس شخص کے ایک اونٹ پر کھجوریں لاد دو اور ایک اونٹ پر جو لاد دو ، اور امام بخاری نے جو روایت کی ہے اس میں ہے کہ جب اس نے زور سے چادر کھینچی تو آپ نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا پھر آپ ہنسے اور اس کو دینے کا حکم دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے اور ایذا رسانی پر صبر کرنے کی آپ میں بہت عظیم صفت تھی۔ آپ کی اس عظیم صفت کی وجہ سے سخت طبیعت اور جفا کش سنگ دل لوگ جو پہلے آپ سے وحشیوں کی طرح متنفر تھے، آپ کی اس نرم دلی کو دیکھ کر آپ کے مطیع اور فرمانبردار ہوگئے اور آپ کے اوپر اپنی جان اور مال نچھاور کرنے لگے۔ (اشرف الوسائل ص ٥٠٢، ٥٠٣، دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا، جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی کو نہیں توڑے اور جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کو توڑتا تھا تو آپ سے بڑھ کر غضب ناک کوئی نہیں ہوتا تھا اور جب بھی آپ کو دو کاموں میں سے کسی ایک کام کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرما لیتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٢٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٧٨٥، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٧١٧، )

علامہ ابن حجر ہیثمی متوفی ٩٧٤ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ظلم کرنا اور آپ کو ایذا پہنچانا کفر ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے تو آپ اس کو کیسے معاف کردیتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کو ایذا یا تو کسی سخت دل مسلمان نے پہنچائی جیسے ایک اعرابی نے آپ کی چادر کھینچ کر سوال کیا کہ اس کو ود اونٹوں میں غلہ لاد کردیا جائے۔ تو اس کے لیے اس کی سخت دلی کا عذر ہے، اس لیے آپ نے اسے معاف کردیا اور یا کسی منافق نے ایسا کیا تھا اور آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ ان کی ایذا رسانیوں کو برداشت کریں تاکہ لوگ آپ سے متفنر نہ ہوں۔ آپ سے کہا جاتا کہ آپ ان کو قتل کردیں تو آپ فرماتے کہ لوگ کہیں گے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں یا کوئی ذمی کافر آپ کو ایذا پہنچاتا تو آپ مصلحت کی وجہ سے ان کے جرم پر مواخذہ نہ فرماتے یا کوئی حربی آپ کو ایذا پہنچاتا تو آپ اس لیے اس سے مواخذہ نہ فرماتے کہ س نے اسلام کے احکام کا التزام نہیں کیا تھا۔ (اشرف الوسائل ص ٥٠٤، ٥٠٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

اختتامی کلمات :

آج ٧ رجب ١٤٢١ ھ/١٦ اکتوبر ٢٠٠٠ ء بروز جمعہ بعد نماز عصر سورة النحل کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ الہ العالمین اپنے فضل و کرم سے سورة النحل تک یہ تفسیر مکمل کردای ہے۔ آپ اپنی عنایت اور توجہ سے باقی قرآن عظیم کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور مجھے صحت اور نیک سیرت کے ساتھ اس کو لکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ میری، میرے والدین، میرے اساتذہ، میرے احباب اور قارئین کی مغفرت فرمائیں، دنیا میں سلامتی اور نیکی کے ساتھ زندہ رکھیں، ایمان پر خاتمہ فرمائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت نصیب فرمائیں اور قبر اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھیں۔ (آمین)

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین وعلی اصحابہ الراشدین والہ الطاھرین وازواجہ امھات المومنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ اجمعین وسائر المسلمین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 127