أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرۡيَةً كَانَتۡ اٰمِنَةً مُّطۡمَئِنَّةً يَّاۡتِيۡهَا رِزۡقُهَا رَغَدًا مِّنۡ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الۡجُـوۡعِ وَالۡخَـوۡفِ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو بےخوف تھی، ہر طرف سے مطمئن تھی، اس کے پاس ہر جگہ سے وسعت کے ساتھ رزق پہنچتا تھا، پس اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کی بداعمالیوں کے سبب ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو بےخوف تھی، ہر طرف سے مطمئن تھی، اس کے پاس ہر جگہ سے وسعت کے ساتھ رزق پہنچتا تھا، پس اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کی بداعمالیوں کے سبب ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا۔ (النحل : ١١٢)

کفار مکہ پر بھوک اور خوف کو مسلط کرنا :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کو آخرت کی وعید شدید سے ڈرایا تھا اور اس آیت میں ان کو دنیا کی شدید آفتوں اور مصیبتوں سے ڈرایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان پر قحط مسلط کردیا جائے گا۔ جس بستی کی اس آیت میں مثال دی گئی ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے زمانہ ماضی کی کوئی بستی مراد ہو۔ جیسے حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط یا حضرت شعیب (علیہم السلام) کے زمانوں میں بستیاں تھیں جو بہت آرام اور خوشحالی سے رہتی تھیں پھر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر پر اصرار کیا تو ان کو دنیا میں آفتوں اور مصیبتوں نے آگھیرا اور ان پر قحط کی صورت میں بھوک اور پیاس کو مسلط کردیا گیا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ کی بستیاں ہوں۔

حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابن زید سے روایت ہے کہ اس بستی سے مراد مکہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو بھوک کا لباس پہنا دیا، اس بھوک کی اذیت ان کے اجسام کو پہنچی اور ان کے اجسام کا اس طرح احاطہ کرلیا جس طرح لباس اجسام کا احاطہ کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے خلاف دعا ضرر کی تھی جس کی وجہ سے ان پر کئی سال قحط طاری رہا، حتی کہ وہ مردار، چمڑہ اور اس کے بال بھی کھا جاتے تھے اور یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا تھی۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعائے ضرر کرنے کا ذکر اس حدیث میں ہے :

مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی شقاوت دیکھی تو آپ نے دعا کی اے اللہ ! ان پر ایسے سات قحط کے سال مسلط فرما جیسے حضرت یوسف کے زمانہ میں قحط کے سات سال تھے۔ پھر ایسا قحط آیا جس سے سب چیزیں ختم ہوگئیں حتی کہ انہوں نے چمڑے، مردے، اور مردار بھی کھائے، ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اس کو آسمان دھوئیں کی طرح نظر آتا۔ ان دنوں میں حضرت سفیان نے آپ کے پاس آکر کہا اے محمد ! آپ اللہ کا حکم ماننے اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کا حکم دیتے ہیں اور آپ کی قوم ہلاک ہورہی ہے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین۔ (الدخان : ١٠) اس دن کا انتظار کرو جب آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠٠٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٥٤ )

یہ بھوک کا لباس ہے، اور خوف کا لباس یہ ہے کہ کفار مکہ کو ہر وقت یہ خوف رہتا تھا کہ مسلمان ان پر حملہ کردیں گے۔ اس آیت میں مکہ کے کافروں کی مثال دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں عطا کی تھیں لیکن جب انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط کردیا۔

اسی طرح جس جگہ کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے، ان پر بھوک اور خوف کا عذاب طاری رکدیا جائے گا۔ آج مسلمان جو معاشی ناہمواری اور دشمنوں کے خوف میں مبتلا ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر رہے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 112