أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ فِى الۡكِتٰبِ لَـتُفۡسِدُنَّ فِى الۡاَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا كَبِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بتادیا تھا کہ تم ضرور دو بار زمین میں فساد کرو گے، اور تم ضرور بہت بڑی سرکشی کرو گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بتادیا تھا کہ تم ضرور دو بار زمین پر فساد کرو گے اور تم ضرور بہت بڑی سرکشی کرو گے۔ سو جب ان میں سے پہلے وعدہ کا وقت آیا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلط کردیئے جو سخت جنگجو تھے پس وہ شہروں میں تمہیں ڈھونڈنے کے لیے پھیل گئے اور یہ وعدہ پورا ہونے والا تھا۔ پھر ہم نے تم کو دوبارہ ان پر غلبہ دیا اور ہم نے مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی اور ہم نے تم کو بڑا گروہ بنادیا۔ اور اگر تم نیکی کرو گے تو اپنی جانوں کے لیے ہی نیکی کرو گے اور اگر تم برے عمل کرو گے تو اس کا وبال بھی تم پر ہی ہوگا، پھر جب دوسرے وعدہ کا وقت آیا (تو ہم نے دوسروں کو تم پر مسلط کردیا) تاکہ وہ تمہیں رو سیاہ کردیں اور اس طرح مسجد میں داخل ہوں جس طرح پہلے داخل ہوئے تھے اور وہ جس چیز پر بھی غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کردیں۔ عنقریب تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے دوبارہ تجاوز کیا تو ہم دوبارہ سزا دیں گے اور ہم نے کافروں کے لیے دوزخ کو قید خانہ بنادیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨۔ ٤)

یہودیوں کی دوبارہ سرکشی اور اس کی سزا میں ان پر دو بار دشمنوں کے غلبہ پر بائیبل کی شہادت :

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے متعلق دو پیش گوئیاں کی ہیں، پہلی پیش گوئی یہ ہے کہ وہ ضرور زمین پر فساد کریں گے اور سرکشی کریں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے اس فساد اور سرکشی کی سزا میں ان پر ان کے ایسے دشمن کو مسلط کرے گا جو ان کو ڈھونڈ کر قتل کردیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا اور ان کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ پھر جب انہوں نے دوبارہ فساد اور سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ سزا دی اور ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کردیا، اس کی تصدیق بائبل میں بھی ہے۔

حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ان کو تنبیہ کی :

انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا کہ خداوند نے ان کو حکم دیا تھا۔ بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے۔ اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو ان کے لیے پھندہ بن گئے۔ بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطین کے لیے قربان کیا۔ اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹوں بیٹیوں کا خون بہایا جن کو انہوں نے کنعان کے بتوں کے لیے قربان کردیا اور ملک خون سے ناپاک ہوگیا۔ یوں وہ اپنے ہی کاموں سے آلودہ ہوگئے اور اپنے فعلوں سے بےوفا بنے۔ اس لیے خداوند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اسے اپنی میراث سے نفرت ہوگئی، اور اس نے ان کو قوموں کے قبضہ میں کردیا، اور ان سے عداوت رکھنے والے ان پر حکمران ہوگئے۔ ان کے دشمنوں نے ان پر ظلم کیا اور وہ ان کے محکوم ہوگئے۔ اس نے تو بار بار ان کو چھڑایا۔ لیکن ان کا مشورہ باغیانہ ہی رہا۔ اور وہ اپنی بدکاری کے باعث پست ہوگئے۔ (زبور، باب ١٠٦، آیت ٣٤، ٤٤، کتاب مقدس، ص ٥٩٢، مطبوعہ لاہور ١٩٩٢) 

سعیا نبی نے فرمایا :

لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پر اور ہر ایک اپنے ہمسایہ پر ستم کرے گا اور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گستاخی کریں گے۔ جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھر میں اپنے بھائی کا دامن پکڑ کر کہے کہ تو پوشاک والا ہے۔ آتو ہمارا حکام ہو اس اجڑے دیس پر قابض ہوجا۔ اس روز بلند آواز سے کہے گا کہ مجھ سے انتقام نہیں ہوگا کیونکہ میرے گھر میں نہ روٹی ہے نہ کپڑا مجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔ کیونکہ یروشلم کی بربادی ہوگئی اور یہوداہ گرگیا ، اس لیے ان کی بول چال اور چال چلن خداوند کے خلاف ہیں کہ اس کی جلالی آنکھوں کو غضبناک کریں، ان کے منہ کی صورت ان پر گواہی دیتی ہے، وہ اپنے گناہوں کو سدوم کی مانند ظاہر کرتے ہیں اور چھپاتے نہیں، ان کی جانوں پر واویلا ہے، کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں۔ راست بازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا کیونکہ وہ اپنے کاموں کے پھل کھائیں گے۔ شریروں پر واویلا ہے کہ ان کو بدی پیش آئے گی کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائیں گے۔ (سعیاہ باب ٣، آیت ١٢۔ ٦، کتاب مقدس ص ٦٢٢، مطبوعہ لاہور، ١٩٩٢)

یرمیاہ نبی نے فرمایا :

میں بزرگوں کے پاس جاؤں گا اور ان سے کلام کروں گا کیونکہ وہ خداوند کی راہ اور اپنے خدا کے احکام کو جانتے ہیں لیکن انہوں نے جو ابالکل توڑ ڈالا اور بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے۔ اس لیے جنگل کا شیر ببران کو پھاڑے گا بیا بان کا بھیڑیا ان کو ہلاک کرے گا چیتا ان کے شہروں کی گھات میں بیٹھا رہے گا، جو کوئی ان میں سے نکلے پھاڑا جائے گا کیونکہ ان کی سرکشی بہت ہوئی اور ان کی برگشتگی بڑھ گئی۔ میں تجھے کیوں کر معاف کردوں ؟ نیز فرزندوں نے مجھ کو چھوڑا ہے اور ان کی قسم کھائی جو خدا نہیں ہیں، جب میں ان کو سیر کیا تو انہوں نے بدکاری کی اور پرے باندھ کر قحبہ خانوں میں اکٹھے ہوئے۔ وہ پیٹ بھرے گھوڑوں کی مانند ہوگئے، ہر ایک صبح کے وقت اپنے پڑوسی کی بیوی ہر ہنہنانے لگا۔ خداوند فرماتا ہے کیا میں ان باتوں کے لیے سزا نہ دوں گا اور کیا میری روح ایسی قوم سے انتقام نہ لے گی۔ (یرمیاہ، باب ٥، آیت ٩۔ ٥، کتاب مقدس ص ٧١٨، مطبوعہ لاہور ١٩٩٢)

نیز یرمیاہ نے فرمایا :

اے اسرائیل کے گھرانے دیکھ میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھا لاؤں گا خداوند فرماتا ہے وہ زبردست قوم ہے وہ قدیم قوم ہے، وہ ایسی قوم ہے جس کی زبان تو نہیں جناتا اور ان کی بات کو تو نہیں سمجھتا۔ ان کے ترکش کھلی قبریں ہیں وہ سب بہادر مرد ہیں۔ اور وہ تیری فصل کا اناج اور تیری روٹی جو تیرے بیٹوں اور بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائیں گے، تیرے گائے بیل اور تیری بھیڑ بکریوں کو چٹ کر جائیں گے، تیرے انگور اور انجیر نگل جائیں گے، تیرے حسین شہروں کو جن پر تیرا بھروسہ ہے تلوار سے ویران کردیں گے۔ (یرمیاہ، باب ٥، آیت ١٧۔ ١٥، کتاب مقدس ص ٧١٩، مطبوعہ لاہور، ١٩٩٢)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے کتاب (بائبل) میں بنی اسرائیل کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ وہ دو بار زمین میں فساد اور سرکشی کریں گے اور اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کو ان کے دشمنوں کے ہاتھوں ذیلل اور رسوا کرے گا یہ پیش گوئیاں آج تک موجودہ بائبل میں مختلف انبیاء بنی اسرائیل کی زبانوں سے موجود ہیں اور یہ قرآن مجید کی صداقت پر زبردست دلیل ہے اور یہ کہ صحائف بنی اسرائیل کا جو جو حصہ غیر محرف ہے قرآن مجید اس کا مصدق ہے۔

یہودیوں کا انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنا :

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

بنو اسرائیل نے جو فساد کیا تھا اس میں انہوں نے نبیوں کو بھی قتل کیا تھا ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے ان نبیوں میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بھی قتل کیا تھا اور دوسرا قول یہ ہے کہ انہوں نے حضرت شعیا کو قتل کیا تھا، حضرت زکریا کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان پر یہ تہمت لگائی تھی کہ انہوں نے حضرت مریم کو حاملہ کیا تھا، حضرت زکریا نے ان سے بھاگ کر ایک درخت میں پناہ لی، درخت شق ہوگیا اور وہ درخت میں داخل ہوگئے، ان کے کپڑے کا پلو درخت سے باہر رہ گیا، شیطان نے اس پلو کی طرف بنی اسرائیل کی رہنمائی کی انہوں نے آری سے درخت کو کاٹ ڈالا، اور حضرت شعیا کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچاتے تھے اور گناہوں سے منع کرتے تھے، ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے درخت میں پناہ لی تھی اور اس درخت کو آری سے کاٹ ڈالا گیا تھا، اور حضرت زکریا کی طبعی موت سے وفات ہوئی تھی۔

انہوں نے حضرت یحییٰ بن زکریا کو بھی قتل کردیا تھا اس کا سبب یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے بادشاہ کی بیوی نے حضرت یحییٰ کو دیکھا وہ بہت حسین و جمہل تھے اس نے ان سے کہا کہ وہ اس کی خواہش پوری کریں انہوں نے انکار کیا پھر اس نے اپنی بیٹی سے سوال کیا کہ وہ اپنے باپ سے کہے کہ وہ حضرت یحی کا سر کاٹ کر اس کو پیش کرے، بادشاہ نے ایسا کردیا، اس سلسلہ میں دوسرا قول یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ اپنی بیوی کی بیٹی پر عاشق ہوگیا اور حضرت یحییٰ سے پوچھا کہ آیا وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے حضرت یحییٰ نے منع کیا، اس کی ماں کو جب پتہ چلا تو اس نے اپنی بیٹی کو بنا سنوار کر بادشاہ کے پاس اس وقت بھیجا جب وہ شراب پی رہا تھا اس سے کہا جب بادشاہ اس سے اپنی خواہش پوری کرنے چاہے تو وہ انکار کردے اور کہے کہ یہ تب ہوگا جب تم یحی بن زکریا کا سر کاٹ کر مجھے تھال میں رکھ کر پیش کرو گے، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، بادشاہ نے کہا تم پر افسوس ہے تم کسی اور چیز کا سوال کرلو، اس نے کہا نہیں، میرا یہی سوال ہے پھر بادشاہ کے حکم سے حضرت یحییٰ کا سر کاٹ کر تھال میں لایا گیا اس وقت بھی وہ سر کلام کر رہا تھا، یہ لڑکی تمہارے لیے حلال نہیں ہے، یہ لڑکی تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔

علماء سیر نے کہا ہے کہ حضرت یحییٰ کا خون مسلسل بہتا رہا اور خون جوش مارتا رہا حتی کہ ستر ہزار بنی اسرائیل قتل کردیئے گئے پھر وہ خون ٹھنڈا ہوا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ خون اس وقت تک نہیں رکا حتی کہ اس کے قاتل نے کہا میں نے اس کو قتل کیا ہے اور اس کو قتل کیا گیا پھر وہ خون رک گیا۔ (زاد المسیر ج ٥، ص ٩۔ ٧، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں :

یہودیوں کی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پہلی بار ان پر بابل کے بادشاہ بخت نصر کو مسلط کیا اور ایک قول یہ ہے کہ جالوت کو مسلط کیا اس نے وہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا بڑوں کو قتل کیا اور بچوں کو غلام بنا لیا، اور بیت المقدس کو ویران کردیا پھر ان کی توبہ کی وجہ سے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور طالوت کے ذیعہ ان کو نجات دی انہوں نے دوبارہ سرکشی تو اللہ تعالیٰ نے اہل فارس کے مجوسیوں کو ان پر مسلط کردیا، جب ان کا لشکر یہودیوں کی قربان گاہ پر پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ خون مسلسل جوش سے ابل رہا ہے انہوں نے یہودیوں سے پوچھا یہ کیسا خون ہے ؟ یہودیوں نے کہا ہماری ایک قربانی قبول نہیں ہوئی تھی یہ اس کا خون ہے، امیر لشکر نے کہا تم نے جھوٹ بولاا ہے اور اس نے ستر ہزار یہودیوں کو قتل کردیا اور وہ خون مسلسل بہتا رہا، امیر لشکر نے کہا اگر تم سچ سچ نہیں بتاؤ گے تو میں تم میں سے کسی شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ تب انہوں نے کہا یہ یحییٰ کا خون ہے اس نے کہا اسی وجہ سے تمہارا رب تم سے انتقام لے رہا ہے، پھر اس نے کہا : اے یحییٰ میرے اور تمہارے رب نے جان لیا کہ تمہاری وجہ سے تمہاری قوم پر کیسی مصیبت آئی ہے اب تم اللہ کے اذن سے پرسکون ہوجاؤ ورنہ تمہاری قوم کا کوئی فرد بھی زندہ نہیں رہے گا پھر وہ خون بہنے سے رک گیا۔ (تفسیر البیضاوی علی ہامش الخفاجی ج ٦، ص ٢٠، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٧ ھ)

موجودہ بائبل میں بھی یہ مذکور ہے کہ یہودیوں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو ناحق قتل کردیا تھا۔

مرقس کی انجیل میں ہے :

کیونکہ ہرو دیس نے آپ آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب اسے قید خانہ میں باندھ رکھا تھا کیونکہ ہیرودس نے اس سے بیاہ کرلیا تھا۔ اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں۔ پس ہیرودیاس اس سے دشمنی رکھتی اور چاہتی تھی کہ اسے قتل کرائے مگر نہ ہوسکا۔ کیونکہ ہیرودیس یوحنا کو راست باز اور مقدس آدمی جان کر اس سے ڈرتا اور اسے بچائے رکھتا تھا اور اس کی باتیں سن کر بہت حیران ہوجاتا تھا مگر سنتا خوشی سے تھا۔ اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنی سالگرہ میں اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور گلیل کے رئیسوں کی ضیافت کی۔ اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی اور ناچ کر ہیرودیس اور اس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اس لڑکی سے کہا جو چاہے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔ اور اس سے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے مانگے اپنی آدھی سلطنت تک تجھے دوں گا۔ اور اس نے باہر جاکر اپنے ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں ؟ اس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔ وہ فی الفور بادشاہ کے پاس جلدی سے اندر آئی اور اس سے عرض کی میں چاہتی ہوں کہ تو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں ابھی مجھے منگوا دے۔ بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔ پس بادشاہ نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اس کا سر لائے۔ اس نے جاکر قید خانہ میں اس کا سر کاٹا۔ اور ایک تھال میں لاکر لڑکی کو دیا اور لڑکی نے اپنی ماں کو دیا۔ پھر اس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اٹھا کر قبر میں رکھی۔ (مرقس کی انجیل، باب ٦، آیت ١٩۔ ١٧، نیا عہد نامہ ص ٣٩، ٤٠، متی کی انجیل، باب ١٤، آیت ١٢۔ ٣۔ نیا عہد نامہ ص ١٨)

بنی اسرائیل کی سرکشی کی وجہ سے ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کرنا :

بنی اسرائیل کی دو مرتبہ سرکشی پر ان کے دشمنوں کو دو بار ان پر غلبہ دیا گیا اور وہ دشمن کون تھے اور انہوں نے کس طرح بنی اسرائیل کی شکست دی اور ان کو ملیا میٹ کیا اس کے متعلق کتب تاریخ اور کتب تفسیر میں متعدد روایات ہیں اس سلسلہ میں حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی ٧٧٤ ھ نے جو کچھ چھان پھٹک کر لکھا ہے ہم اس کو پیش کر رہے ہیں :

متقدمین اور متاخرین مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ بنی اسرائیل کے جن دشمنوں کو ان پر مسلط کیا گیا تھا وہ وکن تھے، حضرت ابن عباس اور قتادہ سے یہ روایت ہے کہ جو ان پر پہلے مسلط کیا گیا تھا وہ جالوت جزری تھا، پھر بعد میں بنی اسرائیل کی جالوت کے خلاف مدد کی گئی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کردیا اس لیے فرمایا پھر ہم نے تم کو دوبارہ ان پر غلبہ دیا، اور سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ موصل کا بادشاہ سنجا ریب اور اس کا لشکر تھا اور ایک اور روایت یہ ہے کہ وہ بابل کا بادشاہ بخت نصر تھا، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اس مقام پر بہت عجیب و غریب روایات ذکر کی ہیں جن کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اسی طرح اس کی تفسیر میں بہت سی اسرائیلی روایات بھی ہیں جو بلا شبہ موضوع ہیں اور زندیقوں کی گھڑی ہوئی ہیں اور ہمارے لیے صرف وہ کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے سرکشی اور بغاوت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے دشمن کو مسلط کردیا، جس نے ان کے خون بہانے کو مباح کرلیا، ان کے گھروں کو تباہ اور برباد کردیا اور ان کو ذلیل اور رسوا کردیا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، انہوں نے سرکشی اور فساد کیا حتی کہ نبیوں اور علماء کو قتل کیا اور امام ابن جریر نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ بخت نصر نے شام پر حملہ کیا اور بیت المقدس کو تباہ اور بربادہ کردیا اور بنی اسرائیل کو قتل کیا پھر وہ دمشق گیا وہاں اس نے دیکھا کہ ایک جگہ خون ابل رہا ہے اس نے لوگوں سے پوچھا یہ کیسا خون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم اپنے باپ دادا سے اسی طرح خون ابلتا ہا دیکھ رہے ہیں، پھر اس نے وہاں ستر ہزار یہودیوں کو قتل کردیا، یہ مشہور روایت ہے، اور سعید بن مسیب تک اس کی سند صحیح ہے، بخت نصر نے معزز سرداروں اور علماء کو قتل کردیا تھا حتی کہ کوئی ایسا شخص باقی نہیں بچا جو تورات کا حافظ ہو اس نے انبیاء (علیہم السلام) کے بیٹوں اور دیگر بکثرت افراد کو گرفتار کرلیا، اسی طرح اور دیگر بہت حادثات پیش آئے جن کے ذکر سے طوالت ہوگی۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣، ص ٣٠، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

حافظ ابن کثیر نے یہ ذکر نہیں کیا کہ دوسری بار جب بنی اسرائیل نے سرکشی کی تو پھر ان پر کس دشمن کو مسلط کیا گیا، امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے جس میں بنی اسرئیل کی دونوں بار سرکشی اور دونوں بار دشمنوں پر مسلطن ہونے کا ذکر کیا ہے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب بنی اسرائیل نے سرکشی اور تکبر کیا اور نبیوں کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر فاسرس کے بادشاہ بخت نصر کو مسلط کردیا اور اللہ تعالیٰ نے سات سو سال تک اس کو حکمران رکھا تھا، وہ ان پر حملہ آور ہوا حتی کہ بیت المقدس میں داخل ہوگیا اور ان کا محاصرہ کرلیا، حضرت زکریا (علیہ السلام) کے خون کی پاداش میں اس نے ستر ہزار افراد کو قتل کردیا، پھر نبیوں کے بیٹوں اور دوسرے لوگوں کو قتل کردیا، اس نے بیت المقدس کے زیورات لوٹ لیے اور وہاں سے ایک لاکھ ستر ہزار سونے کے بنے ہوئے بچھڑوں کو بابل لے گیا، پھر وہ قتل کردیا گیا۔ حضرت حذیفہ نے پوچھا : یا رسول اللہ کیا بیت المقدس اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم تھا ؟ فرمایا ہاں، اس کو سلیمان بن داؤد نے سونے، موتیوں، یاقوت اور زمرد سے بنایا تھا، اس کا فرش سونے او چاندی سے بنایا گیا تھا اور اسکے ستون سونے کے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چیزیں عطا کی تھیں اور اس کو بنانے کے لیے جنات کو تابع کردیا تھا، وہ ہلک جھپکنے میں یہ ساری چیزیں لے آتے تھے، یہ تمام سونا اور چاندی بخت نصر لوٹ کر بابل میں لے گیا، اس نے ایک سو سال تک ان کو اپنا غلام بنائے رکھا، مجوس اور مجوس کی اولاد ان کو عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، ان میں انبیاء اور انبیاء کے بیٹے بھی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور فارس کے بادشاہوں میں سے کورس نام کا ایک بادشاہ تھا جو مومن تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں ڈالا کہ وہ باقی ماندہ بنی اسرائیل کو ان کی قید سے چھڑا لے پھر کروس (خورس) ان کی مدد کے لیے آیا اور ان کو بخت نصر کی غلامی سے آزاد کرایا اور بیت المقدس کے زیورات انہیں واپس کردیئے، پھر بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہے، کچھ عرصہ بعد وہ پھر گناہوں کی طرف لوٹ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ابطیا نحوس کو مسلط کردیا اور جو لوگ بخت نصر کے ساتھ تھے ان کو اپنے ساتھ ملا کر اس نے بنی اسرائیل پر حملہ کردیا حتی کہ بیت المقدس میں داخل ہوگیا اور وہاں رہنے والوں کو قید کرلیا اور بیت المقدس کو جلا دیا اور ان سے کہا اے بنی اسرائیل اگر تم نے دوبارہ نافرمانی کی تو ہم تم کو دوبارہ قید کرلیں گے، انہوں نے پھر نافرمانی کی تو ان کو تیسری بار ایک رومی بادشاہ نے قید کرلیا جس کا نام قاقس بن اسبایوس تھا، اس نے ان پر خس کی اور سمندر کے راستے سے حملہ کیا ان کو غلام بنا لیا اور بیت المقدس کے زیورات چھین لیے اور بیت المقدس کو آگ سے جلا دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بیت المقدس کے زیورات کی سرگزشت ہے، یہ زیورات سترہ سو کشتیوں میں لدے ہوئے تھے ان کو مہدی واپس بیت المقدس میں پہنچائے گا اور اللہ تعالیٰ بیت المقدس میں ہی اولین اور آخرین کو جمع فرمائے گا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٦٤٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام عبد الرحمن بن محمد ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ پہلی بار ان پر جالوت مسلط کیا گیا پھر ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے طالوت اور حضرت داؤد کی مدد سے ان کو رہائی دلائی۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، رقم الحدیث : ١٣١٩١)

اور دوسری بار ان پر بخت نصر بابلی مجوسی کو مسلط کیا گیا اس نے بھی قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور ان کو بہت برا عذاب چکھایا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٣١٩٣)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

ان کی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پہلی بار ان پر جالوت کو مسلط کردیا جس نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کے ملک کو تباہ و برباد کردیا، پھر ان پر رحم فرمایا اور اللہ عزوجل نے طالوت کو طاقت دی حتی کہ اس نے جالوت سے جنگ کی اور حضرت داؤد نے اس کی مدد کی حتی کہ طالوت نے جالوت کو قتل کردیا، پھر دوبارہ بنی اسرائیل نے سرکشی اور فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے دلوں میں مجوس کا رعب اور خوف مسلط کردیا اور مجوسیوں نے ان کو قتل کر ڈالا اور ان کے گھروں کو تباہ و برباد کردیا۔ بہرحال اس بات کو جاننے میں کوئی فائدہ نہیں ہے، اور کوئی غرض علمی نہیں ہے کہ بنی اسرئیل کو ہلاک کرنے والے کون تھے، مقصود صرف یہ ہے کہ جب بنی اسرئیل نے شورش اور فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کردیا اور انہوں نے ان کو ہلاک اور برباد کردیا۔ (تفسیر کبیر ج ٧، ص ٢٩٩، ٣٠٠، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 4