أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ‌ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٢٧ )

مبذرین کو شیطان کا بھائی فرمانے کی توجیہ :

اس آیت میں فرمایا ہے بیشک تبذیر کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اس آیت میں اخوت سے مراد یہ ہے کہ وہ اسراف اور تبذیر کی قباحت اور برائی میں شیطان کے مشابہ ہیں، یعنی جس طرح شیطان قبیح اور برے کام کرتا ہے اسی طرح وہ بھی قبیح اور برے کام کرتے ہیں، دوسری توجیہ یہ ہے کہ بھائی سے مراد قرین اور ساتھی ہے، یعنی وہ قبیح اور برے کام کرنے میں شیطان کے قرین اور ساتھی ہیں، قرآن مجید میں ہے :

ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطن فھو لہ قرین۔ جو شخص رحمان کی یاد سے اندھا (غافل) ہوجائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا قرین (ساتھی) ہے۔ (الزخرف : ٣٦)

اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل رہنے والے کا شیطان قرین اور ساتھی بن جاتا ہے، جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اور اس کو نیکیوں سے روکتا ہے اور برائیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ شیطان کے تمام وسوسوں میں اس کی پیروی کرتا ہے۔

شیطان کے ناشکرے ہونے کا معنی :

اس کے بعد فرمایا اور شیطان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ شیطان اپنے آپ کو اللہ کی معصیت میں اور زمین میں فساد پھیلانے میں اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں اور ان کو نیکیوں سے روکنے میں خرچ کرتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مال اور منصب عطا فرمایا ہو اور وہ اپنے مال اور منصب کو ان کاموں میں خرچ کرے جن کاموں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے وہئے مال اور منصب کی نعمتوں کی بہت زیادہ ناشکری کرنے والا ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ مبذرین اور مسرفین شیاطین کے بھائی اور اس کے قرین ہیں، کیونکہ وہ اپنی صفات اور افعال میں شیطان کے موافق ہیں، پھر چونکہ شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے اس لیے وہ بھی اپنے رب کے ناشکرے ہیں۔

بعض لوگ زمانہ جاہلیت میں لوٹ مار کر کے مال جمع کرتے تھے پھر لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے اس مال کو نیکی کے راستوں میں خرچ کرتے تھے اور مشرکین قریش اپنے اموال کو اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ لوگوں کو اسلام لانے سے روکا جائے اور اسلام کے دشمنوں کی اطاعت میں خرچ کرتے تھے ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔

اسی طرح اس زمانہ میں بھی بعض مسلمان اسمگلنگ، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، نقلی دوائیں اور نشہ آور چیزوں کی فروخت سے مال و دولت اکٹھا کرتے ہیں پھر لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے اس مال سے حج کرتے ہیں، اور صدقہ اور خیرات کرتے ہیں اور اپنی نیک نامی کا چرچا اور اظہار کرتے ہیں اور نام و نمود کے لیے بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں اس کے علاوہ ناجائز مصارف پر بھی بہت زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں سو یہ لوگ بھی اس آیت کے مصداق ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 27