أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا۔ (بنی اسرائیل : ٢٣ )

اس پر دلیل کہ عبادت کا استحقاق صرف اللہ کے لیے ہے :

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان پر قائم رہنے اور شرک نہ کرنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اعمال صالحہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں جو کہ ایمان کے شعائر ہیں اور ایمان کی شرائط ہیں اور ان کی کئی اقسام ہیں اور ان میں سب سے زیاہ ضروری چیز یہ ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہے اور غیر اللہ کی عبادت سے کلیۃ مجتنب رہے، اور اس کی طرف اشارہ فرمایا اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا، یاد رہے کہ ہم اس سے پہلی آیت میں یہ بتا چکے ہیں کہ ان آیتوں میں بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے لیکن حقیقت میں یہ انسان سے خطاب ہے۔ 

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کیونکہ عبادت اس فعل کو کہتے ہیں جو نہایت تعظیم پر مشتمل ہو اور اسی شخص کی نہایت تعظیم لائق ہے جس نے نہایت انعام کیا ہو اور نہایت انعام وجود اور قدرت اور حیات اور عقل عطا کرنا ہے اور دلائل سے ثابت ہے کہ وجود، حیات، عقل اور قدرت اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی عطا نہیں کرسکتا، اور جب تمام نعمتیں اللہ کے سوا اور کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے تو پھر عبادت کا مستحق بھی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہے، پس عقلی دلیل سے یہ ثابت ہوگیا قضی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا۔

لفظ قضی کے متعدد معانی :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قضی کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور قضی کا لفظ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے، یہاں قضی کا معنی ہے حکم دینا، اور قضی کا لفظ خلق کرنے اور پیدا کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا اس آیت میں ہے :

فقضھن سبع سموات فی یومین۔ (حم السجدہ : ١٢) پھر اس نے دو دن میں سات آسمان پیدا کردیئے۔

قضی کا لفظ فیصلہ کرنے اور حکم دینے کا معنی میں بھی مستعمل ہے، جادوگروں نے فرعون سے کہا :

فاقض ما انت قاض ؛ (طہ : ٧٢) تو جو حکم دینا چاہتا ہے وہ حکم دے۔

قضی کسی کام سے فراغت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر معلوم کرنے والے دو قیدیوں سے فرمایا :

قضی الامر الزی فیہ تستفتین۔ (یوسف : ٤١) تم دونوں جس خواب کی تعبیر معلوم کر رہے تھے اس کا لکھا پورا ہوچکا ہے۔ 

فاذا قضیتم مناسککم (البقرہ : ٢٠٠) پس جب تم ارکان حج سے فارغ ہوجاؤ۔

فاذا قضیت الصلوۃ۔ (الجمعہ : ١٠) پس جب نماز جمعہ سے فراغت ہوجائے۔

قضی کا لفظ ارادہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

قذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون۔ (آل عمران : ٤٧) جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے فرماتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

اور کبھی قضی کا لفظ عہد کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔

وما کنت بجانب الغربی اذ قضینا الی موسیٰ الامر وما کنت من الشھدین۔ (القصص : ٤٤) اور آپ اس وقت طور کی مغربی جانب نہ تھے جب ہم نے موسیٰ سے ایک عہد لیا تھا اور نہ آپ اس کا مشاہدہ کرنے والوں میں سے تھے۔

اللہ تعالیٰ کی عبادت کے متصل ماں باپ کی اطاعت کا حکم دینے کی توجیہ :

اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی عبادت کا حکم دیا پھر اس کے بعد متصل ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا، اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے حکم میں حسب ذیل حکمتیں ہیں ؛

١۔ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی ایجاد ہے اور اس کا ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے سبب حقیق ١ ی کی تعظیم کا حکم دیا اور اس کے متصل بعد سبب ظاہری کی تعظیم کا حکم دیا۔

٢۔ اللہ تعالیٰ قدیم موجد ہے اور ماں باپ حادث موجود ہیں اس لیے قدیم موجد کے متعلق حکم دیا کہ اس کی عبودیت کے ساتھ تعظیم کی جائے اور ماں باپ حادث موجد ہیں اس لیے ان کے متعلق حکم دیا کہ ان کی شفقت کے ساتھ تعظیم کی جائے۔

٣۔ منعم کا شکر کرنا واجب ہے، منعم حقیقی اللہ تعالیٰ ہے سو اس کی عبادت کرنے کا حکم دیا، اور مخلوق میں سے اگر کوئی اس کے لیے منعم ہے تو وہ اس کے ماں باپ ہیں سو ان کا شکر کرنا بھی واجب ہے کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٥، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٨، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٥٠١، شرح السنہ ج ٧ ص ٢٦١، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٢١٢٢، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٦٠٦، مشکوۃ رقم الحدیث : ٣٠٢٥، کنز العمال رقم الحدیث : ٦٤٤٣ )

اور مخلوق میں جتنی نعمتیں اور احسانات ماں باپ کے اولاد پر ہیں اتنی نعمتیں اور احسانات اور کسی کے نہیں ہیں، کیونکہ بچہ ماں باپ کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ حضرت مور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمۃ بضعۃ منی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٣٧١٤، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٢٠٧١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٦٧) فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ ماں باپ کی بچہ پر بہت زیادہ شفقت ہوتی ہے، بچہ کو ضرر سے دور رکھنا اور اس کی طرف خیر کو پہنچانا ان کا فطری اور طبعی وصف ہے۔ وہ خود تکلیف اٹھا لیتے ہیں بچہ کو تکلیف نہیں پہنچنے دیتے اور ان کو جو خیر بھی حاصل ہو وہ چاہتے ہیں کہ یہ خیر ان کے بچے کو پہنچ جائے۔ جس وقت انسان انتہائی کمزور اور انتہائی عاجز ہوتا ہے اور وہ سانس لینے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا اور وہ اپنے چہرے سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتا، اس وقت اس کی تمام ضروریات کے کفیل اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ پس واضح ہوگیا کہ انسان پر جتنی نعمتیں اور جتنے احسانات اس کے ماں باپ کے ہیں اتنی نعمتیں اور اتنے احسانات اور کسی کے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر کے بعد انسان پر اگر کسی کی نعمتوں اور احسانات کے شکر کا حق ہے تو وہ اس کے ماں باپ کا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کا حقیقی مربی ہے اور ظاہری طور پر اس کے ماں باپ اس کے مربی ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کی برائیوں کے باوجود اس سے اپنی نعمتوں کا سلسلہ منطقع نہیں کرتا اسی طرح اس کے ماں باپ بھی اس کی غلط کاریوں اور نالائقیوں کے باوجود اس پر اپنے احسانات کو کم نہیں کرتے، جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا بندے سے کوئی عوض طلب نہیں کرتا، اسی طرح ماں باپ بھی اولاد پر اپنے احسانات کا عوض طلب نہیں کرتے، اور جس طرح اللہ تعالیٰ بندوں کو غلط راستوں میں بھٹکنے اور برائیوں سے بچانے کے لیے ان کو سرزنش کرتا ہے اسی طرح ماں باپ بھی اولاد کو بری راہوں سے بچانے کے لیے سرزنش کرتے ہیں۔ ان وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔

ماں باپ کے حصول لذت کے نتیجہ میں اولاد ہوئی پھر ان کا کیا احسان ہے ؟

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ماں باپ نے اپنے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے یا حصول لذت کے لیے ایک عمل کیا جس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہوگئی اور اس کی پرورش کا باران پر پڑگیا تو ماں باپ کا اولاد پر کون سا احسان ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان کا مقصود صرف حصول لذت ہو تو وہ جنسی عمل کرنے کے بعد عزل کرلیتے تاکہ استقرار حمل نہ ہوتا اور اب تو خاندانی منصوبہ بندی نے بہت سارے طریقے بتا دیئے ہیں جن کے ذریعہ ماں باپ اپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں، اور ان کو اولاد کے جھنجھٹ میں مبتلا نہیں ہونا پڑے گا، لیکن جب انہوں نے ضبط تولید کے کسی طریقہ پر عمل نہیں کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کا مقصود صرف حصول لذت نہیں تھا بلکہ حصول اولاد تھا اور اس مقصد کے لیے ان کے والد نے کسب معاش کے لیے اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کیا، دہری، تہری ملازمتیں کیں، اور اپنی اولاد کے کھانے پینے، لباس دواؤں اور دیگر ضروریات زندگی کا خرچ اٹھانے کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر جدوجہد کی۔ اولاد کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دی، وہ خود چاہے بھوکے رہ جائیں، خواہ ان کے لیے دوا نہ ہو لیکن اولاد کے لیے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کو وقت پر کھانا اور وقت پر دوا مل جائے، باپ خواہ ان پڑھ ہو لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اعلی تعلیم حاصل کرے، اور ماں کے اولاد پر جس قدر احسانات ہیں وہ بےحد و حساب ہیں، اگر اس کا مقصد صرف فطری تقاضا پورا کرنا ہوتا اور حصول لذت ہوتا تو وہ استقرار حمل سے پہلے اسقاط کر اسکتی تھی، وہ ایام حمل اور وضع حمل کی تکلیفیں نہ اٹھاتی، پھر وہ دو سال تک بچہ کو دودھ پلاتی ہے اس کے بول و براذ کو صاف کرتی ہے، اس کے بستر کو صاف رکھتی ہے، اس کا گوہ موت اٹھاتے ہوئے اس کو کوئی گھن نہیں آتی، کوئی کراہت محسوس نہیں ہوتی، راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کو دودھ پلاتی ہے، خود گیلے بستر پر لیٹ کر اس کو سوکھے بستر پر سلاتی ہے، اور یوں بالغ ہونے تک اس کی پرورش کرتی رہتی ہے۔ اگر گھر میں کھانا کم ہو تو خود بھوکی رہتی ہے اور بچوں کو کھلا دیتی ہے۔ غرض ماں کے اولاد پر اتنے احسانات ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور ماں باپ جو اولاد کی خدمت کرتے ہیں یہ بالکل بےغرض اور بےلوث ہوتی ہے یہ نہ کہا جائے کہ وہ اس لیے بچہ کی پرورش کرتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر ان کا سہارا اور دست وبازو بنے گا، کیونکہ لڑکے کے متعلق تو یہ امید کی جاسکتی ہے، لڑکی کو تو اس کی شادی سے پہلے بھی پالنا پڑتا ہے اور شادی کے بعد بھی پالنا پڑتا ہے اور رہا لڑکا تو ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ یہ جوانی کی عمر تک پہنچے گا بھی یا نہیں، کسی کام کے لائق بنے گا یا نہیں، پھر پڑھا لکھا کر کسی کام کے لائق تو ماں باپ بناتے ہیں اور یہ چیز ان کے مشاہدہ میں ہوتی ہے کہ شادی کے بعد عموما لڑکے اپنی بیویوں کے کہنے پر چلتے ہیں اور ماں باپ کو کوئی حیثیت نہیں دیتے، وہ بھول جاتے ہیں کہ ماں باپ نے ان کو کس طرح پالا پوسا تھا اور کس طرح اس مقام تک پہنچایا تھا، یہ سب ماں باپ کے پیش نظر ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ اولاد کی بےغرضی اور بےلوث خدمت اور پرورش کرتے ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کی بےغرض پرورش کرتا ہے اسی طرح ماں باپ اولاد کی بےلوث پرورش کرتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے متصل ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا :

ماں باپ کے حقوق کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا۔ (بنی اسرائیل : ٢٣) اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ اتم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔

ووصینا الانسان بوالدیہ، حملتہ ومہ وھنا ولی وھن وفصالہ فی عامین ان اشکرلی ولوالدیک الی المصیر۔ (لقمان : ١٤) اور ہم نے انسان کو اس کے والدہن کے ساتھ (نیک سلوک کی) وصیت کی، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ ٹھا کر اس کو حمل میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے (ہم نے یہ وصیت کی کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، تم سب نے میری ہی طرف لوٹنا ہے۔

ووصینا الانسان بوالدیہ احسانا، حملتہ ومہ کرھا ووضعتہ کرھا۔ (الاحقاف : ١٥) اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے دکھ جھیل کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دکھ برداشت کر کے اس کو جنا۔

واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ، وبالوالدین احسانا۔ (البقرہ : ٨٣) اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا وعدہ لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔

یسئلونک ما ذا ینفقون، قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین والیتمی والمسکین وابن السبیل۔ (البقرہ : ٢١٥) وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہیے کہ تم جو بھی پاک مال خرچ کرو وہ والدین کے لیے اور رشتہ داتوں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے (خرچ کرو)

ماں باپ کے حقوق کے متعلق احادیث :

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا، میں نے پوچھا پھر کون سا عمل ہے ؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا، میں نے پوچھا پھر کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا آپ نے مجھے یہ احکام بیان فررمائے اگر میں اور پوچھتا تو آپ اور بتا دیتے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٢٧، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٨٥، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٧٣، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٦١٠٠)

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کو جہاد پر مقدم کیا ہے۔

ماں باپ کی خدمت اور ان کی اطاعت کا یہ تقاضا ہے کہ نہ براہ راست ان کی گستاخی کرے اور نہ کوئی ایسا کام کرے جو ان کی گستاخی کا موجب ہو۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام کبیرہ گناہوں میں سے بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے، یا لعنت کرے۔ کہا گیا یا رسول اللہ کوئی شخص اپنے ماں باپ پر کیسے لعنت کرے گا، فرمایا ایک شخص دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دے گا تو وہ دوسرا شخص اس کے ماں باپ کو گالے دے گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٩٧٣، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٩٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥١٤١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٠٢)

اغراض صحیحہ اور جائز کاموں میں ماں باپ کی نافرمانی کرنا حرام ہے اور جائز کاموں میں ان کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ جبکہ ان کا حکم کسی معصیت کو مستلزم نہ ہو۔

حضرت ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے متعلق نہ بتاؤں۔ صحابہ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا اللہ کا شریک بنانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا، آپ سہارے سے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا اور جھوٹی بات کہنا، اس کا آپ نے تین بار تکرار فرمایا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٢٦٥٤، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٨٧، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٩٠١)

ماں باپ کی اطاعت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اگر اس کا باپ اس کو یہ حکم دے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس پر بیوی کو طلاق دینا واجب ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو ناپسند کرتے تھے، انہوں نے مجھے حکم دیا کہ اس کو طلاق دے دو میں نے انکار کردیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن عمر ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١١٨٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٥١٣٨، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ٢٠٨٨، اس حدیث کی سند صحیح ہے )

ماں اور باپ دونوں کی اطاعت واجب ہے لیکن ماں کی اطاعت کا حق چار میں سے تین حصہ ہے اور باپ کی اطاعت کا حق ایک حصہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! لوگوں میں میرے نیک سلوک کا سب سے زیادہ کون مستحق ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، اس نے کہا پھر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، اس نے پوچھا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٧١، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٥٤٨ )

اگر ماں باپ غیر مسلم ہوں پھر بھی ان کے ساتھ نیک سلوک واجب ہے۔

حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں مشرکہ تھیں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحم کروں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تم ان کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٢٦٢٠، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٠٠٣، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٦٦٨ )

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جہاد پر مقدم ہے :

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کیا میں جہاد کروں ؟ آپ نے پوچھا تمہارے ماں باپ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا پھر تم ان کی خدمت میں جہاد کرو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٩٧٢، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٥٤٩، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٢٥٢٩، سنن الترمزی رقم الحدیث : ١٦٧١، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٠٣، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٣٢٨٤، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٥٨٥، مسند احمد رقم الحدیث : ٦٥٤٤، عالم الکتب، مسنف ابن ابی شیبہ ج ١٢، ص ٤٧٣)

معاویہ بن جاہمہ السلمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت جاہمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی گئے اور عرض کیا میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، آپ نے پوچھا کیا تمہاری ماں ہے ؟ اس نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا پھر اس کے ساتھ لازم رہو، کیونکہ جنت اس کے پیروں کے پاس ہے وہ پھر دوبارہ کسی اور وقت گئے، پھر سہ بارہ کسی اور وقت گئے تو آپ نے یہی جواب دیا۔ (سنن النسائی، رقم الحدیث : ٣١٠٤، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ٢٧٨١، مسند احمد ج ٣ ص ٤٢٩، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ١٥٦٢٣، عالم الکتب، سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٢٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٢٩٠، مشکوۃ رقم الحدیث : ٢٩٣٥، تاریخ بغداد ج ٣ ص ٣٢٤ )

ایک روایت میں ہے جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٠٤)

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ (کنز العمال رقم الحدیث : ٤٥٤٣٩، بہ حوالہ تاریخ بغداد)

امام ابن ابی شیبہ محمد بن المنکدر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہاری ماں تم کو (نفل) نماز میں بلائے تو چلے جاؤأ اور جب تمہارا باپ بلائے تو نہ جاؤ۔ (الدر المنثور ج ٥ ص ٢٦٦، مطبوعہ دار الکفر بیروت، ١٤١٤ ھ)

ماں باپ کے بڑھاپے اور ان کی موت کے بعد ان سے نیک سلوک کرنا :

اس آیت میں یہ بھی فرمایا : اور اگر تمہاری زندگی میں وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو اس کو اف تک نہ کہنا اور نہ اس کو جھڑکنا۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، آپ سے کہا گیا کس کی یا رسول اللہ ! فرمایا : جس نے اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کو پایا، یا ان میں سے کسی ایک کے یا دونوں کے، پھر وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٥٥١ )

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے پھر فرمایا : آمین، آمین، آمین۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! آپ نے کس چیز پر آمین کہی ؟ آپ نے فرمایا میرے پاس ابھی جبرئیل آئے تھے انہوں نے کہا یا محمد ! اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہیں پڑھا، آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین۔ پھر اس نے کہا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ داخل ہوا اور اس کی مغفرت کے بغیرہ وہ مہینہ گزر گیا آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین۔ پھر اس نے کہا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہیں کیا، آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : ٣٥٤٥، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٤٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٩٠٨، المستدرک ج ١ ص ٥٤٩ )

ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، حدیث میں ہے :

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ نیکی کی جائے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٥٥٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٠٣)

حضرت مالک بن ربیعہ الساعدی بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میں بیٹھا ہوا تھا اس وقت انصار میں سے ایک شخص آیا اور کہا یا رسول اللہ ! کیا ماں باپ کے فوت ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ کوئی نیکی کرنا میرے ذمہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، چار قسم کی نیکیاں ہیں۔ (١) ان کی نماز جنازہ پڑھنا۔ (٢) ان کے لیے استغفار کرنا اور ان کے عہد کو پورا کرنا (٣) ان کے دوستوں کی تعظیم کرنا۔ (٤) اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم کرنا، یہ ان کے ساتھ وہ نیکیاں ہیں جو ان کی موت کے بعد تم پر باقی ہیں۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٥١٤٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٦٤، ج ٤ ص ١٥٤، مسند احمد ج ٣ ص ٤٩٨ ،۔ مسند احمد رقم الحدیث : ١ٍ ٦١٥٦، عالم الکتب بیروت، حافظ زین نے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦٠٠٤، مطبوعہ معارف الحدیث قارہرہ، المستدرک ج ٤ ص ١٥٤، حافظ ذہبی نے حاکم کی موافقت کی ہے )

سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا، اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کردیا ہے آپ نے فرمایا نہیں یہ تو اس کی ایک بار خندہ پیشانی کا بھی بدل نہیں ہے۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ١٨٧٢، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے، مجمع الزوائد ج ٨ ص ١٤٧ )

ماں باپ کو جھڑکنے اور ان کو اف کہنے کی ممانعت :

اس کے بعد فرمایا : اگر وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو اس کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا۔

یعنی اپنے ماں باپ سے گھن نہ کھانا، جس طرح ان کو تم سے گن نہیں آتی تھی، وہ تمہارا بول و براز اٹھاتے تھے اور اس کی بدبو سے ناک چڑھاتے تھے نہ تیوی پر بل ڈالتے تھے وہ تم کو نجاست سے صاف کرتے تھے اور ان کو برا نہیں لگتا تھا، اسی طرح برھاپے یا بیماری کی وجہ سے ان کے جسم سے کوئی ناگوار بو آئے تو تم ناگواری سے اف تک نہ کرنا۔

اور جب ماں باپ کو اف تک کہنا منع ہے تو ان کے ساتھ سخت لہجہ میں بات کرنا اور ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا یا ان کو مارنا بہ طریق اولی منع ہے۔ انسان جب ماں باپ سے بات کرے تو نظر نیچی رکھ کر بات کرے اور پست آواز میں بات کرے، ایسے لہجہ میں بات نہ کرے جو توہین آمیز ہو اور نہ کوئی ایسی بات کرے جس سے ان کی دل شکنی ہو، البتہ اگر وہ شریعت کے خلاف کوئی بات کہیں تو اس میں ان کی اطاعت نہ کرے۔ مثلا اگر وہ کہیں کہ اپنی بہن سے بات نہ کرو یا اپنے بھائی یا اپنی خالہ یا اپنے ماموں سے بات نہ کرو تو اس میں ان کا حکم نہ مانے، کیونکہ رشتہ داروں سے تعلق توڑنے کی شریعت میں ممانعت ہے، تاہم ان سے اس طرح بات کریں کہ ماں باپ کو پتہ نہ چلے تاکہ ان کی دل آزاری نہ ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 23