أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ۖ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ‌ۚ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡــئُوۡلًا ۞

ترجمہ:

اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ ماسوا بہتر صورت کے حتی کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد پورا کرو، بیشک عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ ماسوا بہتر صورت کے حتی کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد پورا کرو، بیشک عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ اور جب تم ناپنے لگو تو پورا پورا نامو اور جب تم وزن کرو تو درست ترازو سے پورا پورا وزن کرو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٤، ٣٥)

ان دونوں آیتوں کی مکمل تفسیر ہم نے الانعام : ١٥٢ میں کردی ہے، ملاحظہ فرمائیں تبیان القرآن ج ٣ ص ٦٩١۔ ٦٨٩۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 34