أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ‌ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَىۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰـكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

سات آسمان اور زمینیں اور جو بھی ان میں ہیں اس کی تسبیح کر رہے ہیں، اور ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہی ہیں لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بیشک وہ نہایت حلم والا، بہت بخشنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سات آسمان اور زمینیں اور جو بھی ان میں ہیں اس کی تسبیح کر رہے ہیں، اور ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہی ہیں لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بیشک وہ نہایت حلم والا، بہت بخشنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٤٤ )

اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہر چیز کرتی ہے یا صرف ذوی العقول کرتے ہیں اور یہ تسبیح حالی ہے یا قولی ؟

ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، یہ علی العموم ہے یا اس میں کچھ تخصیص ہے اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :

١۔ ابراہیم نخعی نے کہا اس میں عموم علی الاطلاق ہے پس ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، حتی کہ کپڑا، کھانا اور دروازہ بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔

٢۔ دوسرا قول تخصیص کا ہے اور اس میں یہ تفصیل ہے (الف) حسن، قتادہ اور ضحاک نے کہا ہر ذی روح چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ (ب) عکرمہ نے کہا ہر ذی روح چیز اور ہر نشو ونما والی چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، درخت اور گھاس وغیرہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، اور جمادات مثلا ستون وغیرہ اللہ کی تسبیح نہیں کرتے، حسن بصری دسترخوان پر بیٹھے تھے ان سے کہا گیا کہ کیا کھانے کا یہ خوان تسبیح کر رہا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں اس نے ایک مرتبہ مرتبہ تسبیح کی ہے۔ (ج) ہر وہ چیز جو اپنے حال سے متغیر نہ ہوئی ہو وہ تسبیح کرتی ہے اور جب وہ متغیر ہوجائے تو اسکی تسبیح منقطع ہوجاتی ہے۔ المقدام بن معدی کرب نے کہا مٹی جب تک بھیگ نہ جائے تسبی کرتی رہتی ہے اور جب بھیگ جاتی ہے تو تسبیح منقطع ہوجاتی ہے اور پتہ جب تک درخت پر رہتا ہے تسبیح کرتا رہتا ہے اور جب درخت سے ٹوٹ کر گرجاتا ہے تو تسبیح نہیں کرتا اور کپڑا جب تک اجلا ہو تسبیح کرتا رہتا ہے اور جب میلا ہوجاتا ہے تو تسبیح نہیں کرتا۔

اور انسان کی تسبیح معلوم اور مشاہد ہے اور حیوان کی تسبیح ہوسکتا ہے کہ آواز کے ساتھ ہو اور ہوسکتا ہے کہ اس کی تسبیح یہ ہو کہ اس کا حال اس کے پیدا کرنے و الا پر دلالت کرتا ہے۔

اور جمادات کی تسبیح کے متعلق تین قول ہیں۔ (١) ان کی تسبیح کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (٢) ان کا اللہ کے لیے خضوع و خشوع کرنا ان کی تسبیح ہے۔ (٣) ان کا اپنے خالق اور صانع پر دلالت کرنا یہی ان کی تسبیح ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ حقیقتا تسبیح کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے تمام مخلوق کے لیے ہوگا اور اگر ہم یہ کہیں کہ ان کی تسبیح یہ ہے کہ وہ اپنے صانع پر دلالت کرتے ہیں تو پھر یہ خطاب صرف کفار کے لیے وہ گا کیونکہ وہ مخلوق سے خالق پر استدلال نہیں کرتے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٣٩، ٤٠، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

ہر چیز کی تسبیح کرنے کے متعلق مصنف کی تحقیق :

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ کا مختار یہ ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اس سے مراد تسبیح قولی نہیں ہے بلکہ تسبیح حالی ہے، رہا یہ اعتراض کہ تسبیح حالی تو ہمیں معلوم ہے کیونکہ مخلوق اپنے خالق پر اور مصنوع اپنے صانع پر دلالت کرتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے حالانکہ تسبیح حالی کو ہم سمجھتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ کتنی چیزیں کثیر اجزاء سے مرکب ہوتی ہیں اور نا کر جز الگ الگ طریقہ سے صانع پر دلالت کرتا ہے اور ہم کو نہیں معلوم وہ چیز کتنے اجزا سے مرکب ہے اور کس کس طریقہ سے وہ اجزا اپنے صانع پر دلالت کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد صحیح ہے کہ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، اگر وہ تسبیح قولی ہوتی یعنی ہر چیز سبحان اللہ کہتی تو ہم اس کو سمجھ لیتے اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز تسبیح کرتی ہے اور وہ یہ تسبیح اپنے حال سے کرتی ہے قال سے نہیں کرتی، یعنی اس کا ممکن، حادث اور متغیر ہونا زبان حال سے یہ بیان کر رہا ہے کہ اس میں امکان، حدوث اور تغیر کا عیب ہے، لیکن اس کا خالق اور صانع امکان اور حدوث اور تغیر کے عیب سے پاک ہے کیونکہ اگر اس میں بھی یہ عیب ہوتا تو ہو بھی اس کی طرح ہوتا اس کا خالق اور اس کا صانع نہ ہوتا پس معلوم ہوا کہ وہ تو ممکن اور حادث ہے لیکن اس کا خالق واجب اور قدیم ہے، اور اس اعتبار سے تمام ممکنات اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٣٤٧، ٣٤٨۔ ملخصا مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

لیکن امام رازی کا یہ نظریہ قرآن مجید کی صریح آیات اور صحیح احادیث کے خلاف ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ہر چیز حقیقتا اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کرتی ہے لیکن ہم اس حمد اور تسبیح کو عادتا نہیں سمجھتے، انبیاء (علیہم السلام) اپنے معجزہ سے س تسبیح کو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور صحابہ کرام اور اولیاء عظام اپنی کرامت سے اس تسبیح کو سنتے اور سمجھتے ہیں، اور اب ہم اس پر قرآن مجید اور احادیث قویہ سے دلائل پیش کریں گے۔ فنقول بتوفیق اللہ وبہ نستعین۔

ہر چیز کی حقیقتا تسبیح کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق۔ (ص : ١٨) ہم نے پہاڑوں کو داؤد کے تابع کردیا تھا وہ اس کے سا تھے شام کو اور صبح کو تسبیح پڑھتے تھے۔

اگر اس تسبیح سے مراد حالی تسبیح ہو تو پہاڑوں کو مسخر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

تکاد السماوات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا۔ ان دعو للرحمن ولدا۔ (مریم : ٩٠، ٩١) عنقریب اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں کہ انہوں نے رحمن کے لیے بیٹے کا دعوی کیا۔

وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ۔ (البقرہ : ٧٤) اور بعض پتھر اللہ کے خوف سے گرجاتے ہیں۔

ہر چیز کی حقیقتا تسبیح کرنے کے متعلق احادیث :

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو پس جب تم اپنی بکریوں کے پاس یا جنگل میں ہو تو نماز کے لیے بلند آواز سے اذان دیا کرو کیونکہ تمہاری آواز کو جہاں تک جن اور انس اور جو چیز بھی سنے گی وہ تمہاری آواز کی گواہی دے گی۔ ( صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٠٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٢٣، موطا امام مالک : رقم الحدیث : ٦٧، مسند احمد رقم الحدیث : ١٤١٣، عالم الکبت)

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ جس وقت کھانا کھایا جارہا ہوتا تھا تو ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٧٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٨٠٧)

حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں مکہ کے ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھ پر سلام پڑھتا تھا میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٢٧٧)

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت نوح نے وفات کے وقت اپنے بیٹے کو نصیحت کی میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور میں تم کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اگر تمام آسمان اور زمین میزان کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یہ پلڑا بھاری ہوگا اور اگر تمام آسمان اور زمین ایک ایک حلقہ میں رکھے جائیں اور اس حلقہ پر لا الہ الا اللہ کو رکھا جائے تو وہ اس کو توڑ دے گا، اور میں تم کو سبحان اللہ وبحمدہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ وہ ہر چیز کی صلاۃ ہے اور اسی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ج ٢ ص ١٧٠، ج ٣ ص ٢٢٥، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٦٥٨٣، ٧١٠١، عالم الکتب بیروت)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں کہ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو کس چیز کا حکم دیا تھا ؟ حضرت نوح نے اپنے بیٹے سے کہا، اے میرے بیٹے میں تم کو یہ حکم دیتا ہوں کہ تم سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ تمام مخلوق کی صلاۃ ہے اور تمام مخلوق کی تسبیح ہے، اسی کی وجہ سے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہر چیز اللہ کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٨٤٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا جب کوئی شخص لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے تو یہ وہ کلمہ اخلاص ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کوئی عمل قبول نہیں کرتا حتی کہ اس کلمہ کو پڑھے، اور جب وہ کہتا ہے الحمدللہ تو یہ وہ کلمہ شکر ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی بندے کا شکر قبول نہیں فرماتا حتی کہ وہ یہ کلمہ پڑھے، اور جب وہ کہتا ہے اللہ اکبر تو یہ آسمان اور زمین کی چیزوں کو بھر لیتا ہے اور یہ تمام مخلوق کی صلاۃ ہے، اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی دعا کرتا ہے اللہ اس کو صلوۃ اور تسبیح کے ساتھ منور کردیتا ہے اور جب وہ کہتا ہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے اطاعت کی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٨٥٦، مطبوعہ دار الکفر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے، آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جن کو عذاب دیا جارہا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑٰ چیز کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا، پھر آپ نے فرمایا کیوں نہیں، ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا، پھر آپ نے درخت کی ایک شاخ منگوائی پھر اس کے دو ٹکڑے کیے، ایک ٹکڑا ایک قبر پر رکھ دیا اور دوسرا ٹکڑا دوسری قبر پر رکھ دیا، آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے، آپ نے فرمایا : جب تک یہ شاخ خشک نہیں ہوگی ان دونوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٢، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٧ )

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک یہ دونوں ٹکڑے خشک نہ ہو، تب تک یہ دونوں ٹکڑے تسبیح کرتے رہیں گے، اور مسند ابو داؤد الطیالسی میں ہے آپ نے ایک قبر پر ایک ٹکڑا اور دوسری قبر پر دوسرا ٹکڑا رکھ دیا پھر فرمایا جب تک شاخ کے ان دونوں ٹکڑوں میں نمی رہے گی ان کے عذاب میں کمی رہے گی، ہمارے علماء نے کہا اس حدیث سے درخت کو گاڑنے کا جواز مستفاد ہوتا ہے، اور بقر کے پاس قرآن پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اور جب درخت کی وجہ سے قبر کے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے تو مومن کے قرآن پڑھنے سے عذاب میں تخفیف کیوں نہیں ہوگی، ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں اس کو مفصل بیان کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ میت جو جو ہدیہ کیا جائے اس کا ثواب اسے پہنچتا ہے۔ (التذکرہ ج ١ ص ١٤١، ١٢٦، مطبوعہ دار البخاری) (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ٢٤٠، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

کھجور کی شاخ کے ٹکڑوں کو قبروں پر رکھنے کی تشریح :

حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک یہ شاخ تر رہے گی تسبیح کرتی رہے گی اس سے یہ کلیہ معلوم ہوا کہ ہر چیز جس میں درختوں کی نمی ہو اس کو قبر پر رکھنے سے عذاب میں تخفیف ہوگی اسی طرح ہر وہ چیز جس میں برکت ہو مثلا اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تلاوت قرآن، بلکہ اس سے تخفیف کا ہونا زیادہ اولی ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص ٣٢٠، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک شاخ کے یہ ٹکڑے خشک نہیں ہوں گے ان قبر والوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی، ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جب تک شاخ کے یہ ٹکڑے تر رہیں گے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہیں گے اور خشک شاخ تسبیح نہیں کرتی۔ اور قرآن مجید میں جو ہے ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہر زندہ چیز تسبیح کرتی ہے، پھر اس میں اختلاف ہے کہ ہر چیز حقیقۃ تسبیح کرتی ہے یا اس کا اپنے خالق اور صانع پر دلالت کرنا یہی اس کی تسبیح ہے، محققین یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز حقیقتا تسبیح کرتی ہے کیونکہ عقل کے نزدیک یہ محال نہیں ہے اور قرآن مجید اور احادیث میں اس کی تصریح ہے، اس لیے اس کو ماننا ضروری ہے، اور اس حدیث کی بنا پر علماء نے قبر کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ جب درخت کی شاخ کی تسبیح سے عذاب میں تخفیف متوقع ہے تو قرآن مجید کی تلاوت سے بہ طریق اولی عذاب میں تخفیف ہوگی، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب ہر چیز حقیقتا تسبیح کرتی ہے تو پھر شاخ کی تخصیص کی کیا توجیہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض چیزوں کی وجہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ہی معلوم ہوتی ہے جیسے دوزخ کے فرشتوں کی تعداد انیس ہے، اس سے کم یا زیادہ نہیں، اس کی وجہ کا صرف اللہ اور اس کے رسولوں کو ہی علم ہے، رسل ملائکہ میں سے صرف جبرئیل کو وحی نازل کرنے کے ساتھ کیوں خاص کیا، حضرت عزرائیل کو روح قبض کرنے کے ساتھ کیوں خاص کیا، حضرت میکائیل کو تقسیم رزق کے ساتھ کیوں خاص کیا اور حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کے ساتھ کیوں خاص کیا ان کی وجوہات کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اس لیے تر شاخ کے تسبیح کرنے اور خشک شاخ کے تسبیح نہ کرنے کی وجہ بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جبکہ تحقیق یہ ہے کہ ہر چیز حقیقتا حمد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ (عمدۃ القاری، جز ٣ ص ١١٧، مطبوعہ ادارۃ الطباۃ المنیریہ، مصر ١٣٤٨ ھ)

قبر پر قرآن مجید پڑھنے سے عذاب میں تخفیف ہونا :

چونکہ علامہ قرطبی، حافظ عسقلانی اور حافظ عینی کی عبارات میں تصریح آگئی ہے کہ قبر پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور میت کو قرآن مجید کا ثواب پہنچانا جائز ہے اور یہ ثواب اس کو پہنچتا ہے اس لیے ہم اس کے ثبوت میں چند احادیث پیش کر رہے ہیں یہ تمام احادیث علامہ قرطبی نے اپنی کتاب التذکرہ ج ١ ص ١٣٦۔ ١٢٦، میں بیان کیں ہیں اور ان سے اس موقف پر استدلال کیا ہے :

حضرت علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص قبرستان سے گزرا اور اس نے گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کر اس قبرستان کے مردوں کو بخش دیا تو اس کو قبرستان کے مردوں کی تعداد کے برابر قل ھو اللہ احد پڑھنے کا اجر ملے گا۔ (کنز العمال، رقم الحدیث : ٤٢٥٩٦)

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کو رکھو نہیں بلکہ جلدی قبر کی طرف لے جاؤ اور اس کے سرہانے سورة فاتحہ پڑھو اور اس کے پیروں کی جانب سورة البقرہ کی آخری آیات پڑھو۔ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث : ١٣٦١٣)

عبدالرحمن بن العلاء بن اللجاج بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا اے میرے بیٹے ! جب میں مرجاؤں تو میری لحد بنانا اور مجھے قبر میں رکھتے وقت بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ پڑھنا پھر میری قبر پر مٹی ڈال دینا اور میرے سرہانے سورة بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، اور حضرت ابن عمر بھی اس کی وصیت کرتے تھے۔ (المعجم الکبیر ج ١٩ ص ٣٢٠، سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٥٦، ٥٧ )

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قبر میں مردہ اس طرح ہوتا ہے جس طرح کوئی شخص غرق ہورہا ہو اور اس کی مدد کی جارہی ہو وہ اپنے باپ، بھائی اور دوست کی دعاؤں کا منتظر ہوتا ہے، جب ان کی دعائیں اسے ملتی ہیں تو وہ اس کو دنیا اور ما فیھا سے زیاہ محبوب ہوتی ہیں اور مردوں کے لیے زندوں کے تحفے دعا اور استغفار ہیں۔ (کنز العمال رقم الحدیث : ٤٢٩٧١، امام بیہقی نے اس کو شعب الایمان میں بھی روایت کیا ہے )

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جو شخص قبرستان میں داخل ہوا اور اس نے سورة یسین پڑھی اللہ تعالیٰ اس قبرستان کے مردوں کے عذاب میں تخفیف کردیتا ہے اور جتنے مردے ہوں اتنی نیکیاں اس شخص کو عطا کرتا ہے۔ 

حضرت معقل بن یسار بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے مردوں کے پاس سورة یسین پڑھو۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣١٠٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤٤٨، مسند احمد ج ٥ ص ٢٦، المستدرک ٥٦٥ )

یہ حدیث اپنے عموم کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو بھی شامل ہے۔

لیس للانسان الا ما سعی سے ایصال ثواب کے تعارض کا جواب :

قبر کے پاس قرآن مجید پڑھنے اور اس کا ثواب صاحب قبر کو پہنچانے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

وان لیس للانسان الا ما سعی۔ (النجم : ٣٩) اور یہ کہ ہر انسان کو صرف اسی کوشش کا اجر ملے گا جس کو وہ خود کرے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ زندہ کے قرآن پڑھنے سے مردہ کو اجر نہیں ملے گا۔

اس کے جواب میں علامہ محمد بن احمد قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت قرآن مجید کی اس آیت سے منسوخ ہے :

والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم وما التنھم من عملھم من شی۔ (الطور : ٢١) اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان سے ملا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہیں کریں گے۔

اور نابالغ بچہ قیامت کے دن اپنے باپ کے میزان عمل میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آبا جو ابناء کے حق میں اور بناء کو آبا کے حق میں شفاعت کرنے والا بنا دے گا۔

اور اس پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے :

اباء کم وابناء کم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا۔ (النساء : ١١) تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے آباء اور ابناء میں کون تمہارے لیے زیادہ نفع آور ہے۔

اور ربیع بن انس نے کہا ہے کہ لیس للانسان الا ما سعی کفار کے متعلق ہے اور رہا مومن تو اس کو اپنی سعی کا اجر بھی ملے گا اور اس کا غیر جو اس کے لیے سعی کرے گا اس کا اجر بھی اس کو ملے گا۔

اس قول کی صحت پر بہت احادیث دلالت کرتی ہیں جو اس پر شاہد ہیں کہ کسی دوسرے کے نیک اعمال کا ثواب مومن کو پہنچتا ہے۔ (التذکرہ ج ١ ص ١٣٧، ١٣٨، دار البخاری، المدینہ المنورہ، ١٤١٧ ھ)

ایصال ثواب کے متعلق احادیث :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہوجاتے ہیں مگر تین عمل منقطع نہیں ہوتے، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے نفع حاصل کیا گیا ہو اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٧٦، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٨٨٠، سنن دارمی رقم الحدیث : ٥٦٥، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٤٩٤، مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٠١٦، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٤٥٧، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٣٩، سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ٢٧٨)

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جو شخص فوت ہوجائے اور اس پر ایک ماہ کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧١٨، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ١٧٥٧، صحیح ابن خزینہ رقم الحدیث : ٢٠٥٦، شرح السنہ، رقم الحدیث : ١٧٧٥)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا شبرمہ کی طرف سے لبیک، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا شبرمہ کون ہے ؟ اس نے کہا میرا رشتہ دار ہے، آپ نے پوچھا کیا تم نے خود حج کرلیا ہے، اس نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا یہ حج تم اپنی طرف سے کرو، اس کے بعد شبرمہ کی طرف سے حج کرو۔ ( سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ٢٩٠٣، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ١٨١١، ابن الجارود رقم الحدیث : ٤٩٩، صحیح ابن خزیمہ، رقم الحدیث : ٣٠٣٩، مسند ابو یعلی، رقم الحدیث : ٢٤٤٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٩٨٨، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢١٤٩، سنن دار قطنی ج ٢ ص ٢٧٠، سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٣٣٦، اس حدیث کی سند صحیح ہے )

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ جو بنی ساعدہ سے تھے ان کی ماں فوت ہوگئیں اور وہ اس وقت وہاں نہیں تھے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپ اس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میری ماں فوت ہوگئی ہیں اور میں اس وقت حاضر نہ تھا، اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کردوں تو کیا ان کو اس کا نفع پہنچے گا، آپ نے فرمایا ہاں، انہوں نے کہا میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میرا باغ مخراف ان پر صدقہ ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٢٧٦٢، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٢٨٨٢، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ٦٦٩، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٦٣٣٧، مسند احمد ج ١ ص ٣٣٣، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٢٥١٥، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٥٠١، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٦٣٠، المستدرک ج ١ ص ٤٢٠، الادب المفرد رقم الحدیث : ٣٩)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ علامہ عبدالعزیز بن عبدالسلام لیس للانسان الا ما سعی کی وجہ سے یہ فتوی دیتے تھے کہ مردہ کو زندہ کے عمل کا ثواب نہیں پہنچتا، مرنے کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھا اور اس کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا میں نے اب اس فتوی سے رجوع کرلیا ہے کیونکہ میں نے اللہ عزوجل کے کرم سے دیکھا کہ ثواب پہنچتا ہے۔ (التذکرہ ج ١ ص ١٤١، ١٤٠، مطبوعہ دار البخاری، المدینہ المنورہ، ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 44