أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡالَـكُمۡ وَكِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کی کسی جانب دھنسا دے یا تمہارے اوپر پتھر برسائے پھر تم اپنے لیے کوئی کارسازنہ پاؤ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کی کسی جانب دھنسا دے یا تمہارے ا وپر پتھر برسائے پھر تم اپنے لیے کوئی کارسازنہ پاؤ۔ (بنی اسرائیل : ٦٨ )

خسف اور خسوف کا معنی ہے ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل ہونا، کہا جاتا ہے عین من الماء خاسفۃ چشمہ کا پانی زمین میں دھنس رہا ہے، یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ خشکی میں آنے پر تم پر کوئی آفت نہیں آئے گی، اور تم کو خشکی کی کسی جانب زمی میں دھنسا نہیں دیا جائے گا، یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح اس پر قادر ہے کہ تم کو سمندر میں پانی کے اندر غرق کردے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ تم کو زمین کے اندر دھنسا دے پھر جس طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ زمین کے نیچے سے تم کو عذاب میں مبتلا کرے اسی طرح وہ اس پر بھی قادر ہے کہ زمین کے اوپر سے تم پر عذاب نازل کرے اور تیز ہوا کے ساتھ تم پر کنکریاں برسائے، اور پھر تم اپنا کوئی مددگار بھی نہ پاسکو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 68