مناقبِ شیرِ خدا مولا علی کّرم اللہ تعالیٰ وجہہُ الکریم

تحریر: محمد جنید برکاتی مصباحی
رسولِ کریم، رؤف رحیم سیّدنا و مولانا مرشدنا و ملجانا حضورِ پرنور احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوّت و رسالت پہ اعلانِ نبوت کے ابتدائی دور سے ہی ایمان لانے والوں میں شاہِ مرداں، شیرِ یزداں، دافعِ بلا، مشکل کشا، شوہرِ بتول، دامادِ رسول، خلیفۃُ الرّسول، بابِ علم و فقاہت، منبعِ ولایت و کرامت حیدرِ کرار ابو تراب، امیرُ المومنین، مولی المسلمین، ولیِ ربُ العالمین، مظہرُ العجائب، امامُ المشارق والمغارب، پدرِ حسنِ مجتبیٰ حضرتِ  علی مرتضیٰ کرّم اللہ  تعالیٰ وجہہ الکریم کی ذاتِ ولایت مآب صفِ اول میں نظر آتی ہے۔ آپ نے دس سال کی کم عمر میں ہی اسلام قبول کر کے آپ ﷺکے جاں نثار بن گئے تھے اور پوری زندگی آپ ﷺ کی نصرت و حمایت اور دین کی ترویج واشاعت کے لیے وقف کردی تھی۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی ذات بے شمار فضائل و مناقب کی حامل ہے۔ تقریباً تین سو آیات قرآن میں آپ کی فضیلت میں اتریں۔ آپ رسولِ گرامی وقار مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد اور چوتھے خلیفہ ہیں۔ بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے کی سعادت آپ  کے حصے میں آئی۔ آپ کاتبِ وحی بھی تھے۔ شبِ ہجرت سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ  کو اپنے بستر پہ لٹایا تھا۔ بعد ہجرت جب آقائے دو جہاں ﷺ مہاجرین و انصار کے درمیان رشتہ موخات قائم فرمایا تو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا رشتہ اپنی ذاتِ رسالت مآب کے ساتھ قائم فرمایا۔ آپ ان دس جلیلُ القدر خوش نصیب صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے ہیں جنھیں دنیا میں رہتے ہی جنت کی خوش خبری مل گئی تھی۔ جنگِ تبوک کے موقع پہ سرکار دو عالم ﷺ نے آپ کو مدینہ پہ اپنا نائب و خلیفہ بنایا تھا اور غدیرِ خم پہ آپ کو مسلمانوں کا مولا بناتے ہوئے فرمایا تھا کہ جس کا مولا(دوست) میں ہوں اس کا مولا (دوست) علی بھی ہے۔ آپ تینوں خلفا کے معتمد و مشیرِ خاص اور محبوب  تھے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خاتونِ جنت سیدۃُ النسا سیدہ زاہرہ طیبہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے شوہر نام دار ہیں اور ہمارے پیارے آقا و مولا ﷺ کے نواسے شبیر و شبر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے والدِ بزرگوار، سرورِعالم حضرت سیّدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسلِ اقدس آپ ہی کی صلب اقدس سے چلی ہے۔
اصلِ نسلِ صفا وجہِ وصلِ خدا
بابِ فضلِ ولایت پہ لاکھوں سلام
شیرِ خدا مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم  عامُ الفیل کے تیس سال بعد آقائے کریم رؤف رحیم حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے چچا ابو طالب بن عبد المطلب کے گھر حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بطنِ اقدس سے پیدا ہوئے۔ صاحبِ بہارِ شریعت علیہ الرحمہ نے آپ کی ولادت گاہ حضورِ پرنور ﷺ کی ولادت گاہ کے قریب بتائی ہے۔
جب قریش قحط و خشک سالی میں مبتلا تھے تو آں حضرت ﷺ نے اپنے چچا پہ تخفیفِ عیال کے لیے حضرتِ  علی مرتضیٰ کرّم اللہ  تعالیٰ وجہہ الکریم کو اپنی کفالتِ ناز میں لے لیا تھا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے جب نگاہِ شعور وا کی تھیں تو خود کو کونین کے والی ﷺ کی آغوشِ اقدس میں پایا تھا۔ آپ کی باتیں سنتے، آپ کے عادات و اطوار سیکھتے سنِ شعور میں قدم رکھا تھا،اسی تربیتِ کیمیا اثر کا فیضان تھا  کہ قبولِ اسلام سے پہلے بھی آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کسی بھی بت کے آگے جبینِ نیاز نہیں جھکائی تھی اور آپ کے فیضانِ نظر سے  ننھی عمر میں مسلمان ہو کر عقیدۂ توحید کے متوالے بن گئے تھے۔
ایک مرتبہ آپ مسجد شریف میں لیٹے ہوئے تھے کہ سرکارِ دو جہاں ﷺ  تشریف لائے اور آپ کے جسمِ اطہر  پہ لگی مٹی ملاحظہ فرمائی، تو سرکار ﷺ شفقت و محبت میں آپ کے جسمِ اطہر سے مٹی جھاڑنے لگے اور آپ کو بیدار کرتے ہوئے فرمایا کہ ابو تراب! اٹھو  اسی لیے سرکار مولا علی کّرم اللہ تعالیٰ وجہہُ الکریم نے  تشریفاً و تبریکاً یہی کنیت رکھ لی تھی، اس کنیت پہ آپ کو بڑا فخر تھا اور یہ دل و جان سے عزیز تھی۔
اس نے لقبِ خاک شہنشاہ سے پایا
جو حیدرِ کرار کہ مولا ہے ہمار
                                           حدائقِ بخشش
جب شیرِ خدا مولا علی کّرم اللہ تعالیٰ وجہہُ الکریم میدانِ جنگ میں اترتے تھے تو آپ کے تیور الگ ہی ہوتے تھے، دشمن فوج کے بھاری بھر کم شکار پہ اپنا  ہاتھ رکھتے تھے، رجز کے شعر پڑھتے ہوئے میدان میں اترتے اور بہادر سورماؤں کو بڑے بے رحمی سے کاٹتے تھے، دشمن کی صفوں پہ شیرِ خوں خوار بن کے حملہ آور ہوتے اور جدھر گھس جاتے ادھر قیامت ہی آجاتی تھی۔ بدر و احد، خیبر و خندق حنین جیسے عظیم غزوات میں نبیُ الملحمہ ﷺ کے ساتھ حاضر رہے تھے اور دشمن کی فوج میں اپنی شجاعت و بہادری سے زلزلہ بپا کر دیا تھا اور اپنی تلوار کے قاہرانہ وار سے بہادر کفار کو واصلِ نار کیا تھا، بدر کے میدان میں مشرکینِ مکہ کے سرغنہ ولید اور عتبہ کے مقابلے میں ایسی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے تھے کہ کفار کے دل دہل گئے تھے، احد میں آپ رسول اللہ ﷺ کے حفاظتی دستے میں جان کی بازی لگائے لڑ رہے تھے اور ہنگامۂ احد میں جب رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی دل دہلانے دینے والی خبر آپ کے کانوں میں پڑی تھی تو آپ سراپا غیض و غضب بن گئے تھے اور یہ خیال کر کے کہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر جینے کا کوئی مقصد نہیں، مشرکین کی صفوں میں گھس گئے تھے اور اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر کافروں پہ شیر ِخوں خوار بن کے برس پڑے تھے، آپ کے ولولۂ جہاد کا اندازہ اس بات سے لگتا ہے کہ اس جنگ میں آپ کے جسمِ مبارک پہ سولہ زخم آئے تھے، خندق میں عمرو بن عبد ود جیسے غضب ناک درندے نے جب مسلمانوں کو گرج کر للکارا تھا جو کہ اکیلے پانچ سو آدمیوں کو لڑنے کی طاقت رکھتا تھا، جس کے بھاری بھر کم جسامت اور شمشیرزنی کی عرب پہ ایسی دھاک جمی تھی کہ وہ اسے ما فوق الفطرت قوت کامالک سمجھتے تھے، جس کے تعلق سے ہر ایک کو یہ اعتراف تھا کہ اکیلے اس کو کوئی گرا ہی نہیں سکتا اور نہ کوئی گرا سکا تھا، تو مسلمانوں کی فوج پہ خاموشی طاری تھی، اس خاموشی میں اس کی بہادری کا  یک گونا اعتراف تھا، جب اس نے دوبارہ للکارا تو شاہِ مرداں، شیرِ یزداں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں سپہ سالارِ اعظم ﷺ سے اس دیو قامت کے مقابلے کی اجازت طلب کی تو سرکارِ دو عالم نے اپنا عمامہ آپ کے سر پہ سجایا اور اپنی تلوار ذوالفقار آپ کے ہاتھ میں دے کر عبد ود کے مقابلے میں اتاردیا، مولا علی کّرم اللہ تعالیٰ وجہہُ الکریم نے اس کے مقابلے میں جا کے اسے پٹکا اور عرب کے اس خوں خوار جنگو جو کو قتل کیا، خیبر کی جنگ میں آپ نے قلعہ قموص فتح کیا تھا جسے آپ سے صدیقِ اکبر اور فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما فتح کرنے کی کوشش کر چکے تھے لیکن وہ مضبوط قلعہ فتح نہیں ہوا تھا، دوسرے دن کی شام کو سپہ سالار اعظم نے یہ بشارت سنائی تھی کہ کل میں ایسے شخص کو علم دوں گا جسے اللہ و رسول محبوب رکھتے ہیں، جو اللہ و رسول کو محبوب رکھتا ہے اور اللہ اس کے ہاتھ پہ فتح عطا فرمائے گا چنانچہ تیسرے دن آپ نے مولا علی کّرم اللہ تعالیٰ وجہہُ الکریم کو طلب فرماکے علم عطا فرمایا اور آپ کو حملہ کرنے بھیجا، جب آپ قموص پہنچے تو قموص کا نام ور بہادر اور رئیس مرحب آپ کے مقابلے میں آیا، آپ نے اس کے سر پہ ایسا بھینکر وار کیا تھا کہ ذوالفقار حیدری اس کی خود و مغفر کو کاٹتی ہوئی اس کے دانت تک پہنچ گئی، جب آپ نے اس بہادر کا شکار کر ڈالا تو اس کی فوج آپ پہ ٹوٹ پڑی لیکن ذوالفقار حیدری تھی جوآج بجلی بن کے یہودیوں پہ گر رہی تھی اور ان کی فوج کو تہس نہس کرے ڈال رہی تھی، جلالِ حیدری اپنے عروج پہ تھا یہودیوں پہ آپ کچھار میں بیٹھے شیر کی طرح جھپٹ رہے تھے کہ اسی ہنگامۂ جنگ میں آپ کی ڈھال گر پڑی اور آپ کو ڈھال کی ضرورت پڑی تو ولولۂ جہاد میں آپ نے بڑھ کر خیبر کا پھاٹک اکھاڑ ڈالا اور اسے ڈھال بنا ک بڑی بے رحمی سے یہودیوں کو مار مار کے قلعہ فتح کرلیا۔
شیرِ شمشیر زن شاہِ خیبر شکن
پرتوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
چوں کہ آپ کی پرورش کاشانۂ رسالت مآب میں ہوئی تھی اس لیے آپ کو علم نبوی سے حظِ وافر ملا تھا، آپ کے علم و فضل کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگتا ہے کہ معلمِ انسانیت نبیِ اکرم ﷺ نے آپ کو شہرِ علم کا دروازہ قرار دیا تھا۔آپ ممتاز  مفسرِ قرآن تھے، فقہا و مجتہدین صحابہ میں سے تھے، قضا و افتا میں خصوصی درک رکھتے تھے، تینوں خلفائے راشدین کو جب بھی کوئی مسئلہ در پیش ہوتا تو آپ کو طلب کیا جاتا، آپ اپنی فہم و فراست سے اسے بخوبی حل فرمادیتے۔
مولا علی کّرم اللہ تعالیٰ وجہہُ الکریم رسولِ گرامی وقار مصطفیٰ ﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت، غایت درجہ تعظیم وتکریم کیا کرتے تھے۔ مقامِ صہبا میں جب سرورِ دو جہاں ﷺ آپ کے زانوئے اقدس پہ سر رکھ کر  استراحت فرمارہے تھے تو آپ نے نمازِ عصر قضا کرنا تو پسند کر لیا تھا لیکن استراحتِ رسول میں رخنہ اندازی گوارا نہ کی تھی، صلحِ حدیبیہ کی دستاویز لکھتے وقت سہیل بن عمرو نے آپ کے نام کے ساتھ رسول اللہ لکھنے پہ اعتراض کیا تو حضور ﷺ نے مولا علی کو رسول اللہ مٹانے کو کہا تو آپ نے فرطِ ادب میں عرض کیا کہ میں آپ کے نام سے رسول اللہ نہیں مٹاؤں گا، بالآخر سرکار ﷺ نے  اپنے دستِ اقدس سے رسول اللہ محو فرمایا اور امی ہونے کے  باوجود اس کی جگہ ابنِ عبداللہ لکھ کر ایک اور معجزہ ظاہر فرمادیا۔
 شجاعت و بطالت، عبادت و ریاضت، امانت و دیانت، زہد و تقویٰ، جود و سخا، تواضع و انکساری، تحمل و بردباری علم و فن، شعر و سخن  شیرِ خدا کی خدا داد خوبیاں تھیں اور آپ کی ذات ان اوصاف و کمالات  میں یکتائے روزگار تھی۔ 
 ١٧ رمضان ٤٠ھ عبدالرحمن بن ملجم خارجی نے آپ پہ حملہ کیا اور ٢١ رمضان کو ٦٣ سال کی عمر میں جامِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔حضراتِ حسنینِ کریمین اور عبد اللہ بن جعفر نے غسل اور امام حسنِ مجتبیٰ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ رضوانُ اللہ علیہم اجمعین