أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا‌ ۞

ترجمہ:

اور (یاد کیجیے) جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ جرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (یاد کیجیے) جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ جرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا اچھا دیکھ لے جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو نے مجھے روز قیامت تک کی مہلت دی تو میں اس کی اولاد کو ضرور قابو میں کرلوں گا سوا چند لوگوں کے۔ فرمایا چلا جا ! ان میں سے جنہوں نے تیری پیروی کی تو بیشک جہنم تمہاری سزا ہے پوری پوری سزا۔ تو ان میں سے جن کو اپنی آواز کے ساتھ پھسلا سکتا ہے پھسلا دے اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ چڑھائی کردے، اور ان کے اموال اور اولاد میں شریک ہوجا اور ان سے وعدے کر اور شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے وہ دھوکا ہوتا ہے۔ بیشک میرے (سچے) بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا اور آپ کے لیے آپ کا رب کافی کارساز ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥۔ ٦١ )

ان آیتوں میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تفسیر ہم حسب ذیل سورتوں میں بیان کرچکے ہیں :

البقرہ۔ ٣٧۔ ٣٠، الاعراف : ٢٥۔ ١١، الحجر : ٤٤۔ ٢٦۔

ان سورتوں میں جو مضمون بیان فرمایا ہے وہی سورة بنی اسرائیل کی ان آیات میں بھی بیان فرمایا ہے، البتہ بعض الفاظ مشکل ہیں اور بعض فقرے قابل تشریح ہیں جن کا ہم سطور ذیل میں بیان کر رہے ہیں :

مشکل الفاظ اور مغلق فقروں کی تشریح :

آیت ٦٢ میں ایک لفظ ہے لاحتنکن۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی ہے میں ان پر ضرور غالب آجاؤں گا، مجاہد نے کہا اس کا معنی ہے میں ان پر ضرور حاوی رہوں گا، ابن زید نے کہا اس کا معنی ہے میں ان کر ضرور گمراہ کردوں گا، ان سب کے معنی متقارب ہیں یعنی میں ان کو بہکا کر اور پھسلا کر جڑ سے اکھاڑ دوں گا، یا ملیا میٹ کردوں گا ایک قول یہ ہے کہ میں جہاں چاہوں گا ان کو لے جاؤں گا اور ان کو اپنے پیچھے پیچھے چلاؤں گا۔

آیت ٦٤ میں ایک لفظ ہے استفزز۔ اس کا معنی ہے ان کو ڈگمگادے اور گرا دے اس کا اصل معنی ہے قطع کرنا، جب کپڑا کٹ جائے تو کہتے ہیں تفزز الثوب اس کا معنی ہے ان کو حق سے منقطع کردے یہ امر تعجیز ہے یعنی تو کسی شخص کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہوگا، اور کسی شخص پر تیرا تسلط اور اقتدار نہیں تو جو جی میں آئے کر۔

صوتہ : اپنی آواز کے ساتھ، ہر وہ شخص جو کسی کو اللہ کی معصیت کی طرف بلاتا ہے وہ شیطان کی آواز ہے، موسیقی، فحش گانے، ڈش، ٹیوی، وی سی آر، اور ریڈیو کے رنگا رنگ پروگرام یہ سب شیطان کی آوازیں ہیں البتہ قرآن مجید اور احادیث کا بیان، دینی معلومات پروگروم اور فقہی مسائل کا بیان اور ملکی اور بین الاقوامین خبریں اس سے مستثنی ہیں۔ 

واجلب علیھم بخیلک ورجلک : اجلب کا معنی ہے ہانکنے والے کا کھینچنا، خیل کے معنی ہیں سوار اور رجل کے معنی ہیں پیادے۔

اس کا معنی ہے تم اپنے مکرو فریب کے جس قدر حیلے بہانے استعمال کرسکتے ہو کرلو، حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ نے کہا جو سوار اور پیادہ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں قتال کرے، وہ ابلیس کے سواروں اور پیادوں میں سے ہپے، اور سعید بن جبیر اور مجاہد نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ جو سوار اور جو پیادہ اللہ کی معصیت میں سواری پر جائے یا پیدل جائے وہ ابلیس کا سوار اور اس کا پیادہ ہے، اور وہ مال جو حرام ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو اور ہر وہ بچہ جو طوائف سے پیدا ہو وہ شیطان کا ہے۔

وشارکھم فی الاموال والاولاد : لوگوں کے مال اور ان کی اولاد میں اپنے آپ کو شریک کرلے یعنی لوگوں کے اموال کو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں خرچ کرا دے، حسن نے کہا اس سے مراد وہ مال ہے جو لوگ ناجائز ذرائع سے حاصل کریں، اور حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد ہے کفار کا بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام کو حرام قرار دینا (ان الفاظ کے معنی ہم المائدہ : ١٠٣ میں بیان کرچکے ہیں) قتادہ نے کہا اس سے مراد وہ جانور ہیں جن کو وہ بتوں کے لیے زبح کرتے تھے، یہ اموال میں شرکت کی تفسیر ہے اور اولاد میں شرکت کا معنی یہ ہے کہ کسی بھی نوعیت سے اولاد میں شیطان کا دخل ہو، مثلا وہ اولاد الزنا ہو، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد ہے ان کا اولاد کو قتل کرنا، نیز ان سے روایت ہے اپنی اولاد کا نام عبد الحارث، عبد العزی، عبد اللات، اور عبد الشمس رکھنا، ایک قول یہ ہے کہ اپنی اولاد کو کفر میں ڈبو دینا، مثلا ان کو یہودی اور نصرانی بنادینا۔ (الجامع الاحکام القرآن جز عاشر ص ٢٦٠۔ ٢٥٧، ملخصا و موضحا، دار الفکر بیروت)

میں کہتا ہوں کہ شیطان کی لوگوں کے اموال میں شرکت کا معنی یہ ہے کہ شیطان کے بہکانے سے لوگ چوری، ڈاکے، لوٹ مار اور بھتوں کے ذریعہ مال بنائیں، رشوت لیں، سرکاری مال خورد بورد کریں، سرکاری دفاتر سے تنخواہیں لیں اور کام نہ کریں، بغیر صلاحیت کے اور بغیر میرٹ کے جعلی سندوں اور سفارش سے ملازمت حاصل کریں، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے ذریعہ مال کمائیں، شراب، ہیروئین، افیم اور چرس وغیرہ فروخت کریں، مضر صحت اشیا بنائیں اور نقلی دوائیں فروخت کریں، دو نمبر مال بنائیں، جعلی کرنسی کا کاروبار کریں، سود لیں ملکی اور قومی سودوں میں کمیش کھائیں، ناقص میٹریل لگا کر بلڈنگیں، سڑکیں اور پل بنائیں، کسی بڑے منصوب کے لیے غیر ممالک سے قرض لیں اور رقم کھا جائیں، قومی ضروریات کے لیے عوام سے پیسے لیں اور ہڑپ کر جائیں۔

اور اولاد میں شرکت کا یہ معنی ہے کہ لوگ شیطان کے ورغلانے سے اپنے بچوں کو دینی تعلیم نہ دیں اور ان کو دینی اقدار نہ سکھائیں، ان کو مشنری اسکولوں میں پڑھائیں، جب بچے کی آنکھ کھلے تو اس کی نظر ڈش کے پروگراموں پر ہو، وہ اپنے گھر سے ہی تمباکو نوشی سیکھ لے اور باہر جا کر ہیروئین کا عادی ہوجائے اس کو نوجوانی میں ہی جوئے اور مار پیٹ کی کی لت پڑجائے، مار دھاڑ اور ڈکیتی کی فلمیں دیکھ کر اور جنسی، ہیجان خیز فلمیں دیکھ کر اس کو بھی ان کاموں کا شوق چرائے، اگر اس کے ماں باپ مرجائیں تو وہ اس قابل بھی نہ ہو کہ ان کی نماز جنازہ پڑھ سکے، قرآن کی تلاوت کر کے ان کو ثواب پہنچا سکے، قبر پر جاکر ان کے لیے مغفرت کی دعا کرسکے کیونکہ یہ سب تو اس کو ماں باپ نے سکھایا ہی نہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 61