أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلْ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِىۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِىۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلْ لِّىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ کہیے اے میرے رب ! تو مجھے جہاں بھی داخل کرے مجھے سچائی کے راستہ میں داخل کرنا اور تو مجھے جہاں سے بھی باہر لائے سچائی کے راستہ سے باہر لانا اور میرے لیے اپنے پاس سے وہ غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کہیے اے میرے رب ! تو مجھے جہاں بھی داخل کرے مجھے سچائی کے راستہ میں داخل کرنا اور تو مجھے جہاں سے بھی باہر لائے سچائی کے راستہ سے باہر لانا اور میرے لیے اپنے پاس سے وہ غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔ (بنی اسرائیل : ٨٠)

مدخل صدق اور مخرج صدق کی تفسیر میں متعدد اقوال :

اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

١۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا، اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، یعنی مجھے صدق کے ساتھ مدینہ میں داخل فرمایا اور صدق کے ساتھ مدینہ سے باہر لا۔

٢۔ عوفی نے حضرت ابن عبس سے روایت کیا کہ مجھے قبر میں سچائی کے ساتھ داخل فرما اور سچائی کے ساتھ قبر سے باہر لا۔

٣۔ قتادہ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ مجھے صدق کے ساتھ مکہ میں داخل فرما اور صدق کے ساتھ مکہ سے باہر لا، آپ مکہ سے مشرکین سے بےخوف ہو کر نکل آئے اور پھر فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔

٤۔ مجھے زندگی کے تمام امور میں، سفر میں اور حضر میں جہاں بھی داخل فرما سچائی کے ساتھ داخل فرما اور جہاں سے بھی باہر لائے سچائی کے ساتھ باہر لا۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٧٧، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 80