أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلۡ جَآءَ الۡحَـقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ‌ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ۞

ترجمہ:

اور آپ کہیے حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا اور بیشک باطل تھا بھی نابود ہونے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کہیے حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا اور بیشک باطل تھا بھی نابود ہونے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨١)

جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کریں یا اس کی معصیت میں مبنی ہوں ان کو توڑنے کا وجوب :

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد ١٦٣ بٹ تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ وہ چھڑی ان بتوں پر مارتے ہوئے فرماتے : جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوگا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٤٧٢٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٣٤)

اس آیت میں مشرکین کے بتوں کو توڑنے اور دیگر بتوں کے توڑنے کی دلیل ہے، آج کل کی ثقافت میں مختلف جانوروں کے خوبصورت مجسمے بنا کر گھروں میں زینت اور ڈیکوریشن پیس کے طور پر رکھے جاتے ہیں یہ جائز نہیں اور ان مجسموں کو توڑنا واجب ہے، اسی طرح لہو و لعب کے وہ تمام آلات جو دین اور عباد سے غافل کرنے والے ہوں اور ان میں نیکی اور خیر کا کوئی پہلو نہ ہو ان کو توڑنا واجب ہے اسی طرح ٹیوی، اور وی سی آر پر اگر صرف فلمیں اور موسیقی کے پروگرام سنے اور دیکھے جائیں تو ان کا توڑنا بھی واجب ہے اور اگر ان کے ذریعہ صرف خبریں، دینی معلوماتی پروگرام دیکھے اور سنے جائیں تو ان کو رکھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس زمانہ میں ایسا ہونا بہت مشکل ہے، ریڈیو اور آڈیو کیسٹ کا بھی حکم ہے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیوں کا گٹھا لانے کا حکم دوں، پھر نماز کے اذان دینے کا حکم دوں، پرھ ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر دیکھو کہ کون لوگ نماز پڑھنے نہیں آئے تو میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٤، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٦٥١، سنن النسائی رقم الحدیث : ٨٤٧ )

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جماعت سے نماز نہ پڑھنے والوں کے گھروں کو آگ لگانے کا ارادہ فرمایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل کرنے کا سبب ہو اس کو ضائع کردینا چاہیے۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے گھر کے صحن میں ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر دہ کو پھاڑ دیا، پھر میں نے اس کے دو گدے بنا لیے جن پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٧٩، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢١٠٧، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤١٥٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٦٨ )

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں ہر اس چیز کو توڑ ڈالتے تھے جس میں تصویر بنی ہوئی ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥١٥٤ )

ان دونوں حدیثوں میں یہ دلیل ہے کہ جس چیز میں اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو اس کو توڑ دینا واجب ہے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تم میں ابن مریم نازل نہ ہوجائیں جو عدل و انصاف سے حکم دیں گے، وہ صلیب توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں دے، جزیہ موقوف کردیں گے اور اس قدر مال دیں گے کہ اس کو لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٧٦، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٥٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٣٣)

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صلیب کو توڑ ڈالیں گے اس میں بھی یہ دلیل ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی معصیت پر مبنی ہو اس کو توڑنا واجب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 81