أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور (صحیح) راستے سے زیادہ بھٹکا ہوا ہوگا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور (صحیح) راستے سے زیادہ بھٹکا ہوا ہوگا۔ (بنی اسرائیل : ٧٢)

کافروں کا دنیا اور آخرت میں اندھا ہونا :

اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

١۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے تمام اشیا کو پیدا کیا جو شخص دنیا میں اس کی معرفت سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے اوصاف سے اندھا رہے گا۔

٢۔ حسن نے کہا جو شخص دنیا میں اپنے کفر سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا کیونکہ دنیا میں اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے آخرت میں اس کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی۔

٣۔ جو شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے اندھا رہا تو آخرت کی نشانیاں جو اس سے غیب ہیں وہ ان سے زیادہ اندھا ہوگا۔ 

٤۔ ابن الانباری نے کہا جو شخص اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں سے دنیا میں اندھا رہا جن کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے تمہارا رب وہ ہے جو سمندر میں کشتیوں کو چلاتا ہے وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے زیادہ اندھا ہوگا۔

٥۔ ابوبکر وراق نے کہا جو شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حجت میں اندھا رہا وہ آخڑت میں اللہ تعالیٰ کی جنت سے اندھا رہے گا۔

٦۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا اللہ تعالیٰ نے ولقد کرمنا بنی آدم، میں اپنی جن نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انسان ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ کے حق کی معرفت میں اندھا رہا اور اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا تو وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے تقرب سے اندھا رہے گا۔

٧۔ ابو علی فارس نے کہا آخرت میں زیادہ اندھے ہونے کا معنی یہ ہے کہ دنیا میں اس کے اندھے پن سے نکلنے کی ایک راہ تھی کہ وہ دلائل سے غور و فکر کر کے حق کو قبول کرلیتا اور آخرت میں اس کے اندھے پن سے نکلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

٨۔ آخرت میں اندھے پن سے نہ نکلنے کا معنی یہ ہے کہ آخرت میں ثواب کے حصول اور عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔

٩۔ ابن الانباری نے کہا آخرت میں اس کا اندھا پن اس لیے زیادہ ہوگا کہ دنیا میں اس کی گمراہی دن بہ دن بڑھتی گئی اور آخڑت میں وہ ان تمام گمراہیوں کا مجموعہ اور مجسمہ ہوگا۔

١٠۔ جو شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کی معرفت سے اندھا رہا وہ آخرت میں جنت کے راستے سے اندھا رہے گا۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٦٥، ٦٦، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

١١۔ جو شخص دنیا میں بصیرت سے اندھا وہ گا وہ آخرت میں بصارت سے اندھا ہوگا :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیامۃ اعمی۔ قال رب لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیرا۔ قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا وکذلک الیوم تنسی۔ (طہ : ١٢٦۔ ١٢٤) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں گزرے گی، اور ہم اس کو قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔ فرمایا اسی طرح ہونا چاہیے تھا، تیرے پاس میری آیات آئیں تھیں تو نے ان کو بھلا دیا سو اسی طرح آج تجھ کو بھلا دیا جائے گا۔

ونحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم عمیا و بکما وصما۔ ماوھم جھنم کلما خبت زدنھم سعیرا۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) ہم قیامت کے دن ان کو منہ کے بل اٹھائیں گے وہ اس وقت اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بھی وہ آگ بجھنے لگے گی ہم اس کو بھڑکا دیں گے۔ 

سو آخرت میں کافروں کا اندھا ہونا ان کی سزا میں بطور زیادتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 72