أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الرُّوۡحِ‌ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّىۡ وَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور تم کو محض تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور تم کو محض تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ (٨٥)

روح کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ ابو السعادات المبارک بن محمد بن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

قرآن اور حدیث میں روح کا کئی بار ذکر آیا ہے، اور اس کا کئ معانی پر اطلاق کیا گیا ہے، اور اس کا غالب اطلاق اس چیز پر ہے جس کے ساتھ جسم قائم ہے اور جس کے سبب سے جسم میں حیات ہے اس کے علاوہ اس کا اطلاق، قرآن، وحی، رحمت اور جبریل پر بھی کیا گیا ہے۔ (النہایہ ج ٢ ص ٢٤٦، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٨ ھ)

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

ابو ابکر ابناری نے کہا روح اور نفس ایک ہی چیز ہے البتہ عربی زبان میں روح کا لفظ مزکر ہے اور نفس کا لفظ مونث ہے۔

فرا نے کہا روح وہ چیز ہے جس کے سبب سے انسان زندہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی روح کا علم نہیں دیا، اور ابو الہیثم نے کہا روح انسان کا سانس ہے اور جب سانس نکل جاتا ہے تو انسان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور انسان کی آنکھیں اس کو دیکھتی رہتی ہیں حتی کہ اس کی آنکھوں کو بند کردیا جاتا ہے۔ ( تاج العروس ج ٢ ص ١٤٧، مطبوعہ میمنہ مصر، ١٣٠٦ ھ)

علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں :

جمہور کے نزیک روح کا معنی معلوم ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ خون ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ جسم لطیف ہے اور ظاہری اعظا کی طرح اس کے بھی اعضا ہیں اشعری نے کہا وہ سانس ہے جو آرہا ہے اور جارہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ حیات ہے۔ (مجمع بحار الانوار ج ٢ ص ٣٩٣، ٣٩٤، مطبوعہ مکتبہ دار الایمان مدینہ منورہ، ١٤١٥ ھ)

علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں ؛

بعض علماء نے کہا روح خون ہے، اور اس کی تعریف میں ستر قول ذکر کئیے گئے ہیں، اس میں اختلاف ہے کہ آیا روح اور نفس ایک ہی چیز ہیں یا نہیں۔ زیادہ صحیح ی ہے ہ کہ روح اور نفس متغایر ہیں، نفس انسانی وہ چیز ہے جس کی طرف ہم میں سے ہر شخص میں یا ہم سے اشارہ کرتا ہے۔ اور اکثر فلاسفہ نے روح اور نفس میں فرق نہیں کیا، انہوں نے کہا نفس لطیف بخاری جوہر ہے (اسٹیم اور بھاپ کی طرح ہے) جو حیات، حس اور حرکت ارادیہ کی قوت کا حامل ہے وہ اس کا نام روح حیوانی رکھتے ہیں اور یہ نفس ناطقہ اور بدن کے درمیان واسطہ ہے۔ امام غزانی نے کہا روح ایک جوہر حادث ہے جو بنفسہ قائم ہے غیر متحیز ہے (یعنی وہ جگہ نہیں گھیرتا) وہ جس میں میں نہ داخل ہے نہ خارج ہے وہ جسم سے متصل ہے نہ منفصل ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ روح جسم کی صورت کی طرح ایک لطیف صورت ہے اس کی دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ اور دو پیر ہیں اور جس کے ہر عضو کے مقابلہ میں اس کا ایک عظو لطیف ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ انسان کے بدن میں ایک لطیف جسم ہے اور اس کا انسان کے جسم میں اس طرح حلول ہے جس طرح گلاب کے پانی کا گلاب میں حلول ہوتا ہے، حکماء اور علماء متقدمین اور متاخرین کا روح کی تعریف میں بہت اختلاف ہے۔ (عمدۃ القادری ج ٢ ص ٢٠١، مطبوعہ مصر، ١٣٤٨ ھ)

علامہ میری سید شریف جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

روح انسانی ایک ایسی لطیف چیز ہے جس کو علم اور ادراک ہوتا ہے اور وہ روح حیوانی پر سوار ہوتی ہے، وہ عالم امر سے نازل ہوئی ہے عقلیں اس کی حقیقت کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں اور یہ روح کبھی بدن سے مجرد ہوتی ہے اور کبھی بدن سے متعلق ہوتی ہے اور اس میں تصرف کرتی ہے۔ (التعریفات ص ٨٢، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٨ ھ)

روح کی موت کی تحقیق :

علامہ شمس الدین ابی عبداللہ بن قیم جوزیہ متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں :

آیا روح پر موت آتی ہے یا نہیں اس مسئلہ میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا روح پر بھی موت آتی ہے اور وہ موت کا مزہ چکھتی ہے اور ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے، اور دلائل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہے گی :

کل من علیھا فان۔ ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔ (الرحمن : ٢٦، ٢٧) ہر وہ چیز جو زمین پر ہے فنا ہونے والی ہے۔ صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو بزرگی اور عزت والی ہے۔

کل شیء ھالک الا وجھہ۔ (القصس : ٨٨) اس کے چہرے (ذات) کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔

اور جب ملائکہ پر بھی موت آئے گی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ روح پر موت نہ آئے۔

محققین کا یہ کہنا ہے کہ ارواح پر موت نہیں آئے گی کیونکہ ارواح کو بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے، موت صرف ابدان پر آئے گی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ موت کے بعد جب روحوں کو دوبارہ ان کے اجسام میں لوٹا دیا جائے گا تو پھر ان کو جو عذاب یا ثواب ہوگا وہ دائمی ہوگا اور اگر روحوں پر اموت آتی تو ان کا ثواب یا عذاب دائمی نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا، بل احیاء عند ربھم یرزقون۔ فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم الا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ (آل عمران : ١٦٩، ١٧٠) جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اور نہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیا جاتا ہے۔ وہ اللہ کے دیئے ہوئے فضل سے خوش ہیں اور ان لوگوں کے متعلق خوش ہورہے ہیں جو ابھی تک ان سے نہیں ملے، اس پر کہ انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 

جبکہ قطعی طور پر یہ معلوم ہے کہ ان کی روحیں ان کے جسموں سے نکل چکی ہیں اور ان کے جسموں نے موت کا ذائقہ چکھ لیا ہے، وار صحیح ی ہے ہ کہ روحوں کی موت یہ ہے کہ وہ جسموں سے نکل جائیں پس اگر روح کی موت سے اس معنی کا ارادہ کیا جائے تو پھر صھیح ہے اور اگر روحوں کی موت سے یہ ارادہ کیا جائے کہ وہ معدوم ہوجائیں گی اور عدم محض ہوجائیں گے تو پھر یہ صحیح نہیں ہے۔ (الروح : , ٣٣، ٣٤، مطبوعہ دار الحدیث : مصر ١٤١٠ ھ)

جسم کی موت کے بعد روح کا مستقر :

جسم پر موت آنے کے بعد روحیں کہاں رہتی ہیں اس میں بھی کافی اختلاف ہے، اور اس سلسلہ میں حسب ذیل اقوال ہیں :

١۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : مومنین کی روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس جنت میں ہوں گی خواہ وہ شہید ہوں یا نہ ہوں، بشرطیکہ کوئی گناہ کبیرہ یا قرض ان کو جنت میں جانے سے روک نہ لے۔

٢۔ ایک جماعت نے کہا وہ جنت کے صحن میں دروازہ پر ہوں گی اور ان کے پاس جنت کی خوشبو اور اس کا رزق پہنچے گا۔

٣۔ ایک جماعت نے کہا وہ اپنی قبروں کے صحنوں میں ہوں گی۔

٤۔ امام مالک نے کہا کہ روح آزاد ہوتی ہے جہاں چاہے چلی جائے۔

٥۔ ایک روایت کے مطابق امام احمد نے کہا کفار کی روحیں دوزخ میں ہوں گی اور مومین کی روحیں جنت میں ہوگی۔

٦۔ کعب نے کہا مومنین کی ارواح علیین میں ساتویں آسمان میں ہوں گی اور کافروں کی روحیں ساتویں زمین کے نیچے سجین میں ہوں گی۔

٧۔ ایک جماعت نے کہا مومنین کی روحیں حضرت آدم کی دائیں طرف ہوں گی اور کافروں کی روحیں حضرت آدم کے بائیں طرف ہوں گی۔ 

٨۔ ابن حزم نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

فاما ان کان من المقربین۔ فروح و ریحان و جنۃ نعیم۔ (الواقعہ : ٨٨، ٨٩) پس اگر مرنے والا مقربین میں سے ہو۔ تو اس کو راحت، غذائیں اور نعمت والی جنت ملے گی۔

پس تمام روحیں جنت میں رہیں گی، حتی کہ ان تمام روحوں کو ان کے جسموں میں پھونک دیا جائے، پھر یہ روحیں برزخ کی طرف لوٹ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو دوسری بار جسموں میں لوٹائے گا اور یہ دوسری زندگی ہے، اللہ تعالیٰ مخلوق کا حساب لے گا ایک فریق ہمیشہ کے لیے جنت میں جائے گا اور دوسرا فریق ہمیشہ کے لیے دوزخ میں جائے گا۔ (الروح، ص ٨٧، ٨٨، مطبوعہ دار الحدیث : م صر، ١٤١٠ ھ)

روح کا حادث اور مخلوق ہونا :

اس مسئلہ میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ روح قدیم ہے یا حادث اور مخلوق ہے، بعض علماء نے کہا روح قدیم ہے کیونکہ روح اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے اور اللہ کا امر قدیم ہے اور مخلوق نہیں ہے، اور جس طرح اللہ تعالیٰ ہے علم، قدرت، سمع اور بصر کی اپنی طرف اضافت کی ہے اسی طرح روح کی بھی اپنی طرف اضافت کی ہے۔ لہذا جس طرح یہ صفات قدیم ہیں اسی طرح روح بھی قدیم ہے۔

صحیح یہ ہے کہ روح حادث اور مخلوق ہے اور اس کی حسب ذیل وجودہ ہیں :

١۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اللہ خالق کل شیء (الانعام : ١٠٢) اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے سوا ہر چیز مخلوق ہے اور روح بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے ماسوا ہے اس لیے وہ بھی مخلوق ہے۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) سے فرمایا :

وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا (مریم : ٩) میں اس سے پہلے آپ کو پیدا کرچکا ہوں جبکہ آپ کچھ نہ تھے۔

یہ حضرت زکریا کی روح اور بدن دونوں سے فرمایا ہے، کیونکہ فقط بدن میں فہم اور عقل نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت زکریا کی روح پہلے موجود نہیں تھی۔

٣۔ واللہ خلقکم و ما تعملون۔ (الصافات : ٩٦) بیشک انسان پر ایک ایسا وقت گزر چکا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔

اگر انسان کی روح قدیم ہوتی تو وہ یقینا پہلے ایک قابل ذکر چیز ہوتا۔

٥۔ اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا، فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی۔ (الزمر : ٤٢) اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت جن کو موت نہیں آئی ان روحوں کو نیند کے وقت قبض کرلیتا ہے پھر جن روحوں کی موت کا فیصلہ ہوچکا ہے ان کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔

اس آیت میں روح کا حادث اور مخلوق ہونا بالکل واضح ہے۔ (الروح ص : ١٤٢۔ ١٤٠، ملخصا مطبوعہ دار الحدیث : مصر، ١٤١٠ ھ)

نفس اور روح ایک چیز ہیں یا الگ الگ :

اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے کہ نفس اور روح ایک چیز ہیں یا الگ الگ ہیں، اس میں تحقیق یہ ہے کہ نفس کا اطلاق ذات پر بھی ہوتا ہے یعنی روح اور بدن کے مجموعہ پر صرف روح پر بھی ہوتا ہے، روح اور بدن کے مجموعہ پر اطلاق کی یہ مثالیں ہیں :

وجاھدوا باموالکم وانفسکم۔ (التوبہ : ٤١) اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے ساتھ جہاد کرو، یعنی روح اور بدن کے مجموعوں کے ساتھ۔

فتوبوا الی برائکم فاقتلوا انفسکم۔ (البقرہ : ٥٤) اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور اپنے آپ کو خود قتل کرو (یعنی روح اور بدن کے مجموعہ کو)

اور نفس کے روح پر اطلاق کی یہ مثالیں ہیں :

ولو تری اذا الظالمون فی غمرات الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون۔ (الانعام : ٩٣) اور اگر آپ اس وقت دیکھتے جب یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ اپنی روحوں کو نکالو، آج تم کو ذلت والے عذاب کی سزا دی جائے گی۔

یا ایتھا النفس المطمئمۃ، ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ (الفجر : ٢٧، ٢٨) اے مطمئن روح ! تو اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو وہ تجھ سے راضی۔

ونھی النفس عن الھوی۔ (النزاعات : ٤٠) اور جس نے روح کو خواہش سے روکا۔

ان النفس لامارۃ بالسواء۔ (یوسف : ٥٣) بیشک روح تو برائی پر ہی ابھارنے والی ہے۔

نفس کا اطلاق تو صرف روح اور روح اور بدن کے مجموعہ پر ہوتا ہے، لیکن روح کا اطلاق نہ صرف بدن پر ہوتا ہے اور نہ نفس اور بدن کے مجموعہ پر۔ (الروح ص ٢٠٨، ٢٠٩، مطبوعہ دار الحدیث : مصر ١٤١٠ ھ)

نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کی تعریفات :

علامہ میر سید شریف جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

نفس امارہ وہ روح ہے جو طبعیت بدنی کی طرف مائل ہوتی ہے اور لذتوں اور شہوات حسیہ کا حکم دیتی ہے اور دل کو سفلی جانب کی طرف کھنچتی ہے یہ تمام برائیوں کا ماوی اور اخلاق مذمومہ کا منبع ہے۔

نفس لوامہ وہ روح ہے کہ جب اس کی جبلت ظلمانی کی وجہ سے کوئی برا کام صادر ہوجاتا ہے یا غفلت میں مستغفرق ہونے کی وجہ سے اس سے کوئی برائی سرزد ہوجاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرتی ہے اور اس برائی سے توبہ کرتی ہے۔

نفس مطمئمہ یہ وہ روح ہے جو عقل کے نور سے پوری طرح منور ہوتی ہے اور مذموم صفات سے مجرد ہوتیے ہ اور اخلاق محمودہ سے متصف ہوتی ہے۔

علامہ میر سید شریف جرجانی نے مطلقا نفس کی یہ تعریف کی ہے :

یہ وہ لطیف جوہر بخاری ہے جو حیات، حس اور حرکت ارادی کی قوت کا حامل ہے اور اس کا نام روح حیوانی ہے یہ وہ جوہر ہے جو بدن کو روشن کرتا ہے اور موت کے وقت بدن کے ظاہر اور باطن سے اس کی روشنی منقطع ہوجاتی ہے اور نیند کے وقت فقط ظاہر بدن سے اس کی روشنی منقطع ہوتی ہے نہ کہ بدن کے باطن سے، کیونکہ موت انقطاع کلی ہے اور نیند انقطاع ناقص ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جوہر نفس کو بدن کے ساتھ تین طرح متعلق کیا ہے۔ (١) نفس کی روشنی تمام اجزاء بدن پر ہو خواہ ظاہر ہوں یا باطن، اور یہ بیدار ہے۔ (٢) نفس کی روشنی صرف ظاہر بدن سے منقطع ہو یا باطن سے منقطع نہ ہو یہ نیند ہے۔ (٣) نفس کی روشنی بدن کے ظاہر اور باطن دونوں سے منقطع ہوجائے، یہ موت ہے۔ (التعریفات ص ١٦٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٨ ھ)

عالم خلق اور عالم امر :

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک کھیت میں جارہا تھا آپ ایک شاخ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس وقت وہاں سے کچھ یہود گزرے، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ان سے روح کے متعلق سوال کرو، اس نے کہا تمہیں ان سے سوال کرنے کی کیا ضرورت ہے، دوسرے نے کہا وہ تم کو ایسا جواب نہ دیں جو تم کو ناپسند ہو، پھر انہوں نے کا ان سے سوال کرو، سو انہوں نے آپ سے سوال کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا، میں سمجھ گیا کہ آپ کی طرف وحی کی جارہی ہے میں اپنی جگہ کھڑا رہا، پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی :

ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور تم کو محض تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٢١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٤١، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١٢٩٩)

میرے رب کے امر سے مراد یہ ہے کہ روح عالم ملکوت سے ہے، عالم خلق سے نہیں ہے جو عالم الغیب والشہادت ہے۔

علامہ قرطبی نے لکھا ہے یعنی روح اس امر سے ہے کہ جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، بعض علماء نے کہا عالم خلق وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مادہ سے پیدا فرماتا ہے اور عالم امروہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کسی چیز کو صرف لفظ کن سے پیدا فرماتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کا علم تھا یا نہیں ؟

حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن جریر طبری نے حضرت ابن عباس سے اس قصہ میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ روح کو کس طرح عذاب دیا جائے گا جبکہ وہ جسم میں ہے اور روح تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی، بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو مطلع فرمایا اور آپ کو یہ حکم نہ دیا ہو کہ آپ ان کو مطلع فرمائیں۔ (فتح الباری، ج ٨ ص ٤٠٣، مطبوعہ لاہور، ١٤٠ ھ)

علامہ سیوطی اور علامہ قسطلانی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (شرح الصدور ص ٣١٩، ارشاد لساری ج ٧ ص ٢٠٣)

علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ آپ کو روح کا علم نہ ہو اور یہ کیونکر ممکن ہے جبکہ آپ اللہ کے محبوب ہیں اور تمام کائنات کے سردار ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ احسان فرمایا ہے کہ آپ کو وہ سب کچھ بتادیا جس کا آپ کو علم نہ تھا اور یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔ (عمدۃ القادری ج ٢ ص ٢٠١، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر، ١٣٤٨ ھ)

امام محمد بن غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں :

عقل سے روح کا علم نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کا علم ایک اور نور سے حاصل ہوگا جو نور عقل سے اعلی اور اشرف ہے اور یہ نور صرف عالم نبوت رسالت میں ہوتا ہے اور اس نور کی نسبت عقل کے ساتھ ایسی ہے جیسی عقل کی نسبت وہم اور خیال کے ساتھ ہے۔ (احیاء العلوم ج ٤ ص ١١٢، مطبوعہ مصر)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

عام فلاسفہ اور متکلمین بھی روح کو جانتے ہیں پس اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرمائیں کہ میں روح کو نہیں جانتا تو یہ آپ کی شان کے خلاف ہے اور لوگوں کو آپ سے دور کرنے کا باعث ہے، بلکہ روح کا مسئلہ سے لاعلمی تو ایک عام انسان کے لیے بھی باعث تحقیر ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو تمام علماء سے بڑھ کر عالم اور تمام فضلاء سے بڑھ کر فاضل ہیں انہیں مسئلہ روح کا علم نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : رحمن نے قرآن کا علم دیا۔ (الرحمن : ١، ٢) اور آپ جو کچھ نہیں جانتے تھے وہ آپ کو بتلا دیا اور یہ آپ پر اللہ کا فضل عظیم ہے (النساء : ١١٣) اور فرمایا آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کے علم میں زیادتی فرمائے۔ (طہ : ١١٤) اور قرآن کی صفت میں فرمایا ہر خشک و تر چیز کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ (الانعام : ٥٩) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! ہمیں تمام چیزوں کی حقیقت بتلا، سو جس شخص کریم کی یہ شان ہو ان کے متعلق یہ کیسے متصور ہوسکتا ہے کہ انہیں روح کا علم نہ ہو جبکہ یہ مسائل مشہورہ سے ہے بلکہ ہمارے نزدیک مختاریہ ہے کہ یہود نے آپ سے روح کے متعلق سوال کیا اور آپ نے ان کو بہترین طریقہ سے جواب دیا۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٣٩٢، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا اور آپ کو روح کا علم نہیں تھا، اور شاید اس (عبداللہ) کا یہ زعم تھا کہ روح کا علم ممتنع ہے، ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح کو اس وقت تک قبض نہیں کیا گیا حتی کہ آپ کو ہر اس چیز کا علم دے دیا گیا جس کا علم دیاجانا ممکن تھا، جیسا کہ امام احمد اور امام ترمذی کی اس روایت میں ہے اور امام بخاری نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت معاز بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک رات کو میں اٹھا اور جتنی نماز میرے مقدر میں تھی وہ میں نے پڑھی، مجھے نماز میں اونگھ آگئی میں نے اپنے رب عزوجل کو حسین صورت میں دیکھا، فرمایا اے محمد ! یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا اے میرے رب ! میں نہیں جانتا، پھر فرمایا اے محمد ! یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا اے میرے رب ! میں نہیں جانتا۔ پھر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی حتی کہ میں نے اپنے سینے کے درمیان ان پوروں کی ٹھنڈک محسوس کی اور میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لیا۔ (روح المعانی جز ١٥، ص ٢٢٢، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں :

حق یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا بلکہ جائز ہے کہ مطلع کیا ہو اور لوگوں کو بتلانے کا آپ کو حکم نہ دیا ہو، اور بعض علماء نے علم قیامت کے متعلق بھی یہی لکھا ہے اور بندہ مسکین (اللہ تعالیٰ اس کو نور علم اور یقین کے ساتھ خاص فرمائے) یہ کہتا ہے کہ کوئی مومن عارف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روح کے علم کی نفی کیسے کرسکتا ہے، وہ جو سید المرسلین اور امام العارفین ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کا علم عطا فرمایا اور تمام اولین اور آخرین کے علوم آپ کو عطا کیے ہیں ان کے سامنے روح کے علم کیا کیا حقیقت ہے آپ کے علم کے سمندر کے سامنے روح کے علم کی ایک قطرہ سے زیادہ کیا حقیقت ہے۔ (مدار النبوت ج ٢ ص ٤٠، ٤١، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر، ١٣٩٧ ھ)

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

قرآن کریم نے اس سوال کا جواب مخاطب کی ضرورت اور فہم کے مطابق دے دیا، حقیقت روح کو بیان نہیں فرمایا مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ روح کی حقیقت کو کوئی انسان سمجھ ہی نہیں سکتا، اور یہ کہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کی حقیقت معلوم نہیں تھی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت نہ اس کی نفی کرتی ہے نہ اثبات۔ اگر کسی نبی و رسول کو وحی کے ذریعہ کسی ولی کو کشف والہام کے ذریعہ اس کی حقیقت معلوم ہوجائے تو اس آیت کے خلاف نہیں۔ (معارف القرآن ج ٥ ص ٥٢٨، مطبوعہ ادارہ المعارف کراچی، ١٤١٢ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 85