أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ نَدۡعُوۡا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمۡ‌ۚ فَمَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ فَاُولٰۤئِكَ يَقۡرَءُوۡنَ كِتٰبَهُمۡ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، سو جن لوگوں کو ان اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنے اعمال ناموں کو پڑھیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، سو جن لوگوں کو ان اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنے اعمال ناموں کو پڑھیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : ٧١)

قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا، امام سے کیا مراد ہے ؟

امام کا معنی ہے جس کی لوگ اقتدا کریں خواہ وہ لوگ ہدایت پر ہوں یا گمراہی پر، پس نبی اپنی امت کا امام ہے اور خلیفہ اپنی رعیت کا امام ہے اور قرآن عظیم مسلمانوں کا امام ہے اور مسجد کا امام وہ شخص ہے جو مسلمانوں کو نماز پڑھائے۔

اس آیت میں امام کی تفسیر حسب ذیل اقوال ہیں :

١۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ امام سے مراد عام ہے خواہ وہ امام ہدایت ہو یا امام ضلالت۔ 

٢۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا اس سے مراد ان کے اعمال ہیں۔

٣۔ حضرت انس بن مالک نے کہا اس سے مراد ان کے نبی ہیں۔۔

٤۔ عکرمہ نے کہا اس سے مراد ان کی کتاب ہے۔

پہلے قول کی بنا پر کہا جائے گا کہ : اے موسیٰ کے متبعین ! اے عیسیٰ کے متبعین ! اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبعین اور کہا جائے گا اے گمراہوں کے متبعین ! اور دوسرے قول کی بنا پر کہا جائے گا : اے وہ لوگو ! جنہوں نے فلاں فلاں کام کیے اور تیسرے قول کی بنا پر کہا جائے گا : اے امت موسیٰ ! اے امت عیسیٰ ، اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور چوتھے قول کی بنا پر کہا جائے گا : اے اہل التوراۃ، اے اہل الانجیل، اے اہل القرآن۔ (زاد المسیر، ج ٥ ص ٦٤، ٦٥، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

٥۔ اس سے مراد ہر شخص کا اعمال نامہ ہے اس کی تائید میں یہ حدیث ہے : 

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ایک شخص کو بلایا جائے گا اور اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم ساٹھ ہاتھ کا کردیا جائے گا، اور اس کا چہرہ سفید کردیا جائے گا اور اس کے سر پر چمکتے ہوئے موتیوں کا تاج پہنایا جائے گا، وہ اپنے اصحاب کے پاس جائے گا وہ اس کو دور سے دیکھ کر کہیں گے، اے اللہ ! ہم کو بھی ایسا کردے، اور ہم کو اس میں برکت دے، حتی کہ وہ شخص ان کے پاس پہنچ کر کہے گا، خوش خبری لو، تم میں سے ہر شخص کو یہ درجہ ملے گا، اور رہا کافرو تو اس کا چہرہ سیاہ کردیا جائے گا اور اس کا جسم حضرت آدم کی صورت کے مطابق ساٹھ ہاتھ کا کردیا جائے گا اور اس کو (ذلت کا) ایک تاج پہنایا جائے گا، اور اس کے اصحاب اس کو ور سے دیکھ کر کہیں گے، ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، اے اللہ اس کو ہمارے پاس نہ لانا، جب وہ ان کے پاس آئے گا وہ کہیں گے اے اللہ ! اس کو ذلیل کر وہ کہے گا اللہ تم کو دور کردے تم میں سے ہر شخص کو یہ درجہ ملے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٣٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٤٩، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦١٤٤، المستدرک ج ٢ ص ٢٤٢، حلیۃ الاولیاء ج ٩ ص ١٥)

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطبی نے مزید چند اقوال کا ذکر کیا ہے :

٦۔ حضرت علی نے فرمایا اس سے ہر زمانہ کا امام مراد ہے، ہر شخص کو اپنے زمانہ کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا اور اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے ساتھ، پس کہا جائے گا : آؤ اے براہیم کے متبعین، آؤ اے موسیٰ کے متبعین، آؤ اے عیسیٰ کے متعبین، آؤ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبعین، پس اہل حق اپنے اعمال نامے اپنے دائیں ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوں گے اور کہا جائے گا : اے شیطان کے متبعین آؤ، اے گمراہوں کے متبعین، امام ہدایت اور امام ضلالت۔

(اس حدیث کا کتب معتمدہ میں کوئی نام و نشان نہیں ہے)

٧۔ ابو عبیدہ نے کہا امام سے مراد ائمہ مذاہب ہیں، لوگوں کو اس امام کے ساتھ پکارا جائے گا جس کے مذہب کی وہ دنیا میں پیروی کرتے تھے، کہا جائے گا اے حنفی ! اے شافعی ! اے معتزلی، اے قدری، وغیرہ وغیرہ۔ 

٨۔ ابو سہیل نے کہا یہ کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں، نمازی کہاں ہیں، دف بجانے والے کہاں ہیں، چغل خور کہاں ہیں۔

٩۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا، اہل الصدقہ کو صدہ کے باب سے پکارا جائے گا اور اہل جہاد کو باب جہاد سے۔

١٠۔ محمد بن کعب نے کہا بامامھم کا معنی ہے بامھاتم اور امام، ام کی جمع ہے، یعنی لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ بلایا جائے گا اور اس کی تین حکمتیں ہیں۔ (١) حضرت عیسیٰ کی وجہ سے (ب) حضرت حسن اور حضرت حسین کے شرف کو ظاہر کرنے کے لیے۔ (ج) اولاد الزنا کو رسوائی سے بچانے کے لیے۔

یہ قول اس حدیث صریح کے خلاف ہے۔

حضرت ابو الدرداء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قیامت کے دن اپنے ناموں اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے تو اپنے اچھے نام رکھو۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٩٤٨، امام ابو داؤد نے کہا یہ حدیث مرسل ہے )

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین اور آخرین کو جمع فرمائے گا اور ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا پھر کہا جائے گا یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦١٧٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٣٥)

یہ پوری بحث تبیان القرآن ج ٤ ص ٤٩٥ میں مذکور ہے۔

امام کی تفسیر میں صحیح محمل :

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا ان تمام اقوال میں ہمارے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ امام سے مراد ہے جس کی لوگ دنیا میں اقتدا کرتے تھے اور جس کی پیروی کرتے تھے کیونکہ عربی میں امام کا غالب استعمال اسی کے لیے ہوتا ہے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے اور جو لفظ جس معنی میں زیادہ مشہور ہو کلام اللہ کی توجیہ اسی کے ماطبق کرنی چاہیے۔ (جامع البیان، جز ١٥، ص ١٥٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

مصنف کے نزدیک امام کی وہی تفسیر صحیح ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کی ہے امام سے مراد اعمال نامہ ہے، جس کو ہم نے سنن ترمزی کے حوالے سے بیان کردیا ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر کے بعد کسی قول کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 71