أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰى تِسۡعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ‌ فَسۡــئَلۡ بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّىۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰى مَسۡحُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو نو واضح احکام دیے، سو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیے جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ سے کہا اے موسیٰ ! میں تم کو ضرور جادو کیا ہوا گمان کرتا ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو نو واضح احکام دیے، سو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیے جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ سے کہا اے موسیٰ ! میں تم کو ضرور جادو کیا ہوا گمان کرتا ہوں۔ موسیٰ نے کہا تم خوب جانتے ہو کہ ان (معجزات) کو اس نے نازل کیا ہے جو تمام آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے، (یہ معجزے) بصیرت افروز ہیں اور اے فرعون ! میں تم کو ضرور ہلاک کیے جانے والا گمان کرتا ہوں۔ پس فرعون نے بنو اسرائیل کو اس سرزمین سے نکالنے کا ارادہ کیا، سو ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ایک ساتھ غرق کردیا۔ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم اس سرزمین میں رہو پھر جب آخرت کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم تم سب کو سمیٹ لائیں گے۔ (بنی اسرائیل : ١٠٤۔ ١٠١)

حضرت موسیٰ کو نو احکام دیئے گئے تھے یا نو معجزات :

ان نو آیات کی تفسیر میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد نو احکام ہیں اور اکثر مفسرین نے یہ کہا کہ س سے مراد نو معجزات ہیں۔

ان آیات سے بھی کفار مکہ کو ان کے فرمائشی معجزات کے مطالبہ کا جواب دینا ہے کہ ہم نے تمہارے فرمائشی معجزات سے بھی قوی معجزے قوم فرعون کے سامنے پیش کیے سو واضح ہوگیا کہ ایسے قوی معجزے نازل کرنا ہماری قدرت سے باہر نہیں ہے، سو اگر ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ تمہارے لیے بھی ان معجزات میں کوئی مصلحت ہے تو ہم تمہارے لیے بھی ایسے معجزات نازل کردیتے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بکثرت ان معجزات کا ذکر کیا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ پر نازل کیے تھے، ان کی تفصیل یہ ہے :

١۔ حضرت موسیٰ کی زبان میں گرہ پڑگئی تھی جس کی وجہ سے وہ روانی سے بات نہیں کرسکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ گرہ کھول دی اور وہر وانی سے بات کرنے لگے

(٢) حضرت موسیٰ کی لاٹھی کو اللہ تعالیٰ اژدھا بنا دیتا تھا اور جب وہ اس پر ہاتھ ڈالتے تو وہ پھر لاٹھی بن جاتا تھا۔

(٣) حضرت موسیٰ کا اژدھا فرعون کے جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا۔

(٤) حضرت موسیٰ جب اپنے ہاتھ کو بغل میں ڈالتے تو وہ سفید اور روشن ہوجاتا تھا اور دوبارہ پھر اسی طرح ہوجاتا تھا۔

(٥) قبطیوں پر طوفان کا آنا

(٦) ان پر جوؤں کی کثرت

(٧) ان پر مینڈکوں کی کثرت

(٨) ان پر خون کی کثرت

(٩) ان پر ٹڈیوں کی کثرت

(١٠) بنی اسرائیل کے سمندر کو چیر دینا، (البقرہ : ١٥٠)

(١١) پتھر پر لاٹھی ماری تو اس سے چشمے پھوٹ نکلے، (الاعراف : ١٦٠)

(١٢) ان پر پہاڑ کو بطور سائبان کھڑا کردیا (الاعراف : ١٧١)

(١٣) حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر من وسلوی کو نازل کرنا

(١٥) آل فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کرنا (الاعراف : ١٣٠)

(١٦) فرعون اور اس کی قوم کے اموال اور طعام وغیرہ کو خراب اور برباد کردینا

(١٧) بنی اسرائیل پر بادلوں کا سایہ کرنا۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا اس آیت میں جن نو معجزات کا ذکر فرمایا ہے اس سے مرادیہ معجزات ہیں :

١۔ عصا (٢) ید بیضا (٣) قبطیوں پر قحط (٤) سمندر کو چیرنا (٥) قبطیوں پر طوفان بھیجنا (٦) ان پر ٹڈیاں بھیجنا (٧) ان پر جوئیں بھیجنا (٨) ان پر مینڈک بھیجنا (٩) ان پر خون بھیجنا۔

محمد بن کعب نے کہا پانچ معجزات تو وہ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے :

فارسلنا علیھم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم ایت مفصلت۔ (الاعراف : ١٣٣) پھر ہم نے ان پر طوفان بھیج اور ٹڈیاں ور جوئیں اور مینڈک اور خون یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے۔

چھٹا وہ ہے جو حضرت موسیٰ نے ان کے خلاف دعا ضرر کی تھی ربنا اطمس علی اموالھم اے ہمارے رب ان کے اموال کو تباہ و برباد کردے، ساتواں ید بیضا ہے آٹھواں عصا اور نواں سمندر کو چیر دینا ہے۔

حضرت ابن عباس سے دوسری روایت ہے اور مجاہد، عکرمہ، شعبی اور قتادہ کا بھی قول ہے کہ وہ نو معجزات یہ ہیں :

١۔ ید بیضا (٢) عصا (٣) قحط (٤) پھلوں کی کمی (٥) طوفان (٦) ٹڈیاں (٧) جوئیں (٨) مینڈک (٩) خون۔

حافظ ابن کثیر نے کہا یہ قول ظاہر، جلی حسن اور قوی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٧٤، ٧٥، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٩ ھ)

یہ تمام اقوال اس بنا پر ہیں کہ نو آیات سے مراد نو معجزات ہوں لیکن حدیث میں ان نو آیات سے مراد نو احکام ہیں۔ حافظ ابن کثیر اور بعض دیگر مفسرین نے ان اقوال کو ترجیح دی ہے لیکن ہمارے نزدیک نو آیات کی وہی تفسیر صحیح ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے وہ تفسیر یہ ہے :

صٖوان بن عسل بیان کرتے ہیں کہ دو یہودیوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا چلو اس نبی کے پاس جاکر ان سے سوال کرتے ہیں، دوسرے نے کہا ان کو نبی نہ کہو اگر انہوں نے سن لیا کہ تم ان کو نبی کہتے ہو تو ان کی آنکھیں چار ہوجائیں گی، پھر وہ دونوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت۔ (بنی اسرائیل : ١٠١) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (وہ نو آیات یہ ہیں) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، زنا نہ کرو، جس کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بےقصور کو بادشاہ کے پاس نہ لے جاؤ کہ وہ اس کے قتل کردے، اور سود نہ کھاؤ اور کسی پاک دامن کو تہمت نہ لگاؤ اور میدان جنگ میں پیٹھ نہ دکھاؤ، اور خصوصا تم اے یہود ہفتہ کے دن حد سے بڑھو، پھر ان دونوں نے آپ کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا اور کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں، آپ نے پوچھا پھر تم مسلمان کیوں نہیں ہتے، انہوں نے کہا حضرت داؤد نے اللہ سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ نبوت رہے ہمیں یہ خطرہ ہے کہ اگر ہم مسلمان ہوگئے تو یہود ہم کو قتل کر ڈالیں گے۔ (سنن الترمزی رقم الحدیث : ٣١٤٤، مسند احمد ج ٤ ص ٢٣٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٠٥، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٣٩٦، المستدرک ج ١ ص ٩، حلیۃ الاولیا ج ٥ ص ٩٧، سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٦، دلائل النبوت ج ٦ ص ٢٦٨ )

بنی اسرائیل سے سوال کرنے کی توجیہ :

آیت ١٠١ میں فرمایا ہے : سو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیے، اس سوال کا یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ بنی اسرائیل سے سول کر کے ان سے کسی چیز کا علم حاصل کیجیے بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ علما یہود اور ان کے عوام پر ظاہر کیا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ فرمایا ہے وہ صحیح ہے اور صداقت پر مبنی ہے، اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ آپ بنی اسرائیل سے سوال کیجیے کہ وہ آپ پر ایمان لے آئیں، اور اعمال صالحہ کریں اور آپ کے ساتھ تعاون کریں۔ اس کی تیسری توجیہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جو بنی اسرائیل موجود ہیں یہ ان ہی کی اولاد ہیں جن کے پاس حضرت موسیٰ گئے تھے اور وہ ان واقعات کو مانتے تھے اور ان کی تصدیق کرتے تھے، جو حضرت موسیٰ کو فرعون کے ساتھ پیش آئے تھے۔

مسحور، بصائر، استفزاز اور لفیف کے معانی :

فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا میرا گمان ہے کہ آپ مسحور ہیں، اس آیت میں مسحور بہ معنی ساحر ہے یا اس کا مطلب یہ تھا کہ لوگوں نے آپ پر سحر کر کے آپ کی عقل کو زائل کردیا ہے اس لیے آپ نے نبوت کا دعوی کیا ہے۔

حضرت موسیٰ کے معجزات کے متعلق فرمایا یہ بصیرت افروز ہیں کیونکہ معجزہ اس خلاف عادت کام کو کہتے ہیں جس کو نبی کی تصڈیق کے لیے ظاہر کیا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ لاٹھی کا اژدھا بن جانا، اور جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کو کھا جانا اور پھر ویسی ہی لاٹھی بن جانا یہ کام خلاف عادت تھا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کام پر قدرت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس کام کو حضرت موسیٰ کے لیے ظاہر فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔

جب فرعون نے کہا اے موسیٰ ! میں تم کو مسحور گمان کرتا ہوں تو حضرت موسیٰ نے جواب میں فرمایا : اے فرعون ! میں تم کو مثبور گمان کرتا ہوں، ثبور کا معنی ہلاکت ہے، حضرت موسیٰ کو علم تھا کہ فرعون ہلاک ہوجائے گا، اس کے بعد فرمایا فرعون نے اس کے استفزاز کا ارادہ کیا، استفزاز کے معنی ہیں کسی کو ہلکا جاننا، ذلیل سمجھنا، مضطرب کردینا، گھر سے باہر نکال دینا، نکال لانا، قتل کرنا، نکالنا۔ اس آیت میں مراد یہ ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو اس سرزمین یعنی مصر سے نکال دینے کا ارادہ کیا۔

پھر فرمایا آخرت کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم تم سب کو سمیٹ لائیں گے، اس آیت میں لفیف کا لفط ہے، لف کا معنی ہے لپیٹنا، ملانا، جمع کرنا، لفیف کا عمنی ہے مختلف آدمیوں کا گروہ وہ بڑی جماعت جس میں ہر قسم کے لوگ ہوں، مومن، کافر، نیک اور بد اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم تمہیں تمہاری قبروں سے نکال کر سمیٹ کرلے آئیں گے یعنی تمام مخلوق کو مسلمان ہوں یا کافر، نیک ہوں یا بد۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 101