أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ وَّجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعًا ۞

ترجمہ:

اور آپ انہیں ان دو مردوں کا قصہ سنایئے جن میں سے ایک شخص کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے تھے جن کے چاروں طرف ہم نے کھجور کے درختوں کی باڑ لگا دی تھی، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیت پیدا کئے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ انہیں ان دو مردوں کا قصہ سنایئے جن میں سے ایک شخص کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے تھے جن کے چاروں طرف ہم نے کھجور کے درختوں کی باڑ لگا دی تھی اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیت پیدا کئے تھے، دونوں باغ خوب پھل لائے اور پیداوار میں کوئی کمی نہیں کی اور ہم نے ان کے درمیان دریارواں کردیئے تھے، جس شخص کے پاس پھل تھے، اس نے اپنے ساتھی سے بحث کرتے ہوئے کہا میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اور میرے پاس بہت آدمی ہیں، وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا مجھے یہ خطرہ نہیں ہے کہ یہ باغ کبھی برباد ہوگا، اور نہ مجھے اس پر یقین ہے کہ کبھی قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میں لوٹنے کی جگہ اس سے بھی بہتر (مال) حاصل کروں گا۔ (الکھف :32-36)

مال دار کافر اور مومن کی مثال کا شان نزول 

اس قصے کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ مال دار کافر اور مال دار مومن دونوں کے دنیا میں گزران اور ان کے طور طریقوں میں کیا فرق ہوتا ہے، کیونکہ کفار اپنے مال و متاع اور اپنے دنیاوی مددگاروں کی وجہ سے فقراء مسلمین کے سامنے فخر اور تکبر کرتے ہیں اور مسلمان کو جو مال و متاع ملے وہ اس کو محض اللہ کا فضل سمجھتا ہے۔

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی 450 ھ اس کے شان نزول میں لکھتے ہیں :

اس کے شان نزول میں دو قول ہیں :

(١) مقاتل بن سلیمان نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی خبر دی جو اپنے باپ کی طرف سے مال کثیر کے وارث ہوئے تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بتایا کہ وہ آٹھ ہزار دینار کے وارث ہوئے تھے۔ میں سے ایک مومن تھا اس نے اپنا حق وصول کیا اور اس کو اللہ تعالیٰ کا تقریب حاصل کرنے کے لئے اس کی راہ میں خرچ کردیا۔ دوسرا بھائی کافر تھا اس نے اپنا حق وصول کیا اور اس سے دو باغ بنا لئے اور اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے کچھ خرچ نہیں کیا پھر بعد میں ان دونوں بھائیوں کو جا حال ہوا، اس کا اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ذکر فرمایا ہے۔

(٢) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے مثال دی ہے اور پچھلی امت کے کسی شخص کے حال کی خبر نہیں دی تاکہ آپ کی امت دنیا میں بےرغبتی کرے اور آخرت میں رغبت کرے اور ان آیتوں کو بہ طور نصیحت بین فرمایا ہے۔ 

جنت اور اس کے مقلوب کا معنی 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے دو مردوں میں سے ایک کو انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے باغ کے لئے جنت کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ علامہ ابن سیدہ متوفی 458 ھ لکھتے ہیں :

جنت کا مادہ ج ن ن ہے اس کا معنی ہے، ستر باغ کو جنت اس لئے کہتے ہیں کہ گھنے درختوں اور ان کے سائے کی وجہ سے اس میں چیزیں چھپ جاتی ہیں، جب رات کا اندھیرا بہت زیادہ ہوجائے تو کہتے ہیں جن اللیل، جنون بھی ایک خفیہ بیماری ہے۔ دل کو جنان کہتے ہیں وہ بھی سینے میں مخفی ہوتا ہے۔ قبر کو الجنن کہتے ہیں کیونکہ اس میں مردہ چھپا ہوا ہوتا ہے، کفن کو بھی الجنن کہتے ہیں، روح کو بھی جنان کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ جسم میں چھپی ہوئی ہوتی ہے، بچہ جب تک پیٹ میں ہوا اس کو الجنین کہتے ہیں کیونکہ وہ پیٹ میں چھپا ہوا ہوتا ہے، ڈھال کو جن اور مجثہ کہتے ہیں کیونکہ وہ حملہ کے لئے ستر ہے، بچانے والے ہتھیاروں کو الجنہ کہتے ہیں، دوپٹہ کو بھی الجنہ کہتے ہیں کیونکہ وہ سر کے بالوں کو چھپا لیتا ہے۔ الجن، اللہ کی ایک مخلوق ہے جو انسان کی آنکھوں سے چھپی رہتی ہے، الجان جنات کے باپ کو کہتے ہیں۔ الجان سانپ کی ایک قسم ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہیں، جس جگہ کھجور کے درخت ہوں اور دیگر درخت ہوں اس کو الجنتہ کہتے ہیں۔

ج ن ن کو اگر الٹ دیا جائے تو یہ لفظ نج ہے، نجت القرحۃ اس کا معنی ہے زخم رسنے لگا اور نج الشی من فیہ اس کا معنی ہے منہ سے کلی کردی اور نجج فی رایہ اس کا معنی ہے اس کی رائے مضطرب ہے۔ (المحکم و المحیط الاعظم ج ٧ ص 211-220 ملحضاً مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1421 ھ)

دو باغوں کی صفات 

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باغوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ ان کو کھجور کے درختوں نے گھیر ہوا تھا، ان کے لئے حففنا ھما بنخل کے الفاظ ہیں۔ الخفاف کے معنی ہیں ایک شے کی جانب۔ الاحفۃ اس کی جمع ہے اور حف بہ القوم کا معنی ہے، قوم اس کی متام جانبوں میں آگئی یعنی اس کو ہر طرف سے گھیر لیا اور اس کا احاطہ کرلیا اور ان باغوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ :

ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے کھیت پیدا کئے تھے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ زمین ہر قسم کی روزی کی جامع ہوجائے۔ اس میں غلہ اور سبزیاں بھی پیدا ہوں اور پھل اور میوہ جات بھی پیدا ہوں اور سال کے دوران ہر وقت اس زمین سے فائدہ حاصل ہو، کسی وقت اناج پیدا ہو رہا ہو اور کسی وقت پھل اور میوے پیدا ہو رہے ہوں، اور تیسری فت یہ بیان فرمائی کہ دونوں باغ خوب پھل لائے اور پیداوار میں کوئی کمی نہیں کی، اور چوتھی صفت یہ بیان کی کہ ہم نے ان کے درمیان دریا جاری کردیئے اور پانچویں صفت یہ بیان کی کان لہ ثمر، عاصم وغیرہ نے اس کو ث اور م کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ ثمار اور ثمرۃ کی جمع ہے اور ابوعمرہ نے اس کو کوٹ کپیش اور میم کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے، اور دوسروں نے ث اور میم کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کا معنی ہے، سونا، چاندی اور دوسری اجنسا کا مال۔ مجاہد نے کہا اس کے پاس ان باغوں کے علاوہ دیگر تمام اجناس کا بہت مال تھا۔

کافر کا اپنے مال پر فخر کرنا اور مسلمان کو حقیر جاننا 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کے پاس مال تھا، اس نے اپنے ساتھی سے بحث کرتے ہوئے کہا میں تم سے زیاہ مالدار ہوں اور میرے پاس بہت آدمی ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو مسلمان تھا، وہ اس کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا رہتا تھا اور قیامت پر یقین رکھنے کے لئے اور نیک کام کرنے کے لئے وعظ اور نصیحت کرتا رہتا تھا۔ المحاورہ کا معنی ہے رجوع کرنا اور کسی بات کا جواب دینا۔ وہ جواب میں کہتا تھا میرے پاس تم سے زیادہ مال ہے اور بہت نفر ہیں۔ نفر کے معنی ہیں کسی شخص کے قبیلہ کے لوگ اور اس کے حمایی، پھر اس شخص نے مسلمان کو اپنا مال دکھاتے ہوئے کہا کہ اسے اس باغ کے فنا ہونے کا خطرہ نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو اس کو وہاں بھی بہت مال مل جائے گا۔ اس کے اس شبہ کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس دنیا میں اسی وجہ سے مال عطا کیا ہے کہ وہ اس مال کا مستحق ہے تو اس استحقاق کی بناء پر اس کو آخرت میں بھی مال عطا فرمائے گا۔ اس کی دلیل کی پہلی بنیاد ہی غلط تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں مال کسی استحقاق کی وجہ سے نہیں عطا فرمایا تھا بلکہ استدراج کے طور پر عطا فرمایا، اور جتنے کافروں کو جو نعمتیں دیتا ہے، وہ بہ طور استدراج ہی ہوتی ہیں۔ یعنی وہ نعمتیں ان کے لئے آزمائش ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ اس کافر کو مسلمان نے کیا جواب دیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 32