أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰٮهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا ۞

ترجمہ:

پھر جب وہ دونوں اس جگہ سے آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ہمارا ناشتہ لائو، ہمیں اس سفر سے تھکاوٹ پہنچی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب وہ دونوں اس جگہ سے آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ہمارا ناشتہ لائو، ہمیں اس سفر سے تھکاوٹ پہنچی ہے، اس نے کہا بھلا دیکھیے جب ہم اس چٹان کے پاس آ کر ٹھہرے تھے تو بیشک میں مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور اس مچھلی کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا اور اس مچھلی نے سمندر میں عجیب طریقہ سے راستہ بنا لیا تھا۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ چیز ہے جس کو ہم ڈھونڈ رہے تھے تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں کی پیروی کرتے ہوئے پیچھے لوٹے۔ (الکھف :62-64)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھولنے کی نسبت کرنے کی توجیہ 

حضرت حضرت یوشع بن نون مچھلی کا ذکر کرنا بھولے تھے اور قرآن مجید میں ہے وہ دونوں بھول گئے تھے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت یوشع، حضرت موسیٰ کو بتلانا بھول گئے اور دونوں کی طرف بھولنے کی نسبت اس لئے کی کہ حضرت یوشع حضرت موسیٰ کے مصاحب تھے۔ قرآن مجید میں ہے :

یخرج منھما اللولو والمرجان و (الرحمن : ٢ ہ) ان دونوں پانیوں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔

یعنی کھاری اور شیریں دونوں پانیوں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں حالانکہ موتی اور مونگے صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں لیکن چونکہ دریائوں کا شیریں پانی بھی سمندر میں جا کر گرتا ہے اس لئے دونوں کی طرف نسبت کردی۔

بعض روایات میں ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت یوشع سے کہا تھا میں تمہیں صرف اس بات کا پابند کر رہا ہوں کہ جب یہ مچھلی تم سے جدا ہو تو تم مجھے بتادینا۔ ابن جریج نے کہا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ایک چٹان کے سائے میں سوئے ہوئے تھے تو وہ مچھلی مضطرب ہو کر اس ٹوکری سے نکل گئی۔ حضرت یوشع نے دل میں کہا میں ابھی ان کو بیدار نہیں کرتا جب وہ بیدار ہوں گے تو ان کو بتادوں گا اور پھر وہ بتانا بھول گئے اور مچھلی مضطرب ہو کر ٹوکری سے نکل کر سمندر میں داخل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے سمندر کے پہنے کو روک لیا اور مچھلی اس میں اس طرح نشان بناتی ہوئی چلی گئی جس طرح پتھر میں نشانات ہوتے ہیں پھر جب حضرت موسیٰ بیدار ہوئے اور اس چٹان سے آگے روانہ ہوئے تو حضرت موسیٰ نے کہا ہمارا ناشتہ لائو ہمیں اس سفر سے تھکاوٹ ہوگئی ہے اور ان کو اسی وقت تھکاوٹ ہوئی تھی جب وہ اس چٹان سے روانہ ہوئے تھے۔ تب حضرت یوشع نے کہا بھلا دیکھئے جب اس چٹان کے پاس آ کر ٹھر رہے تھے تو بیشک میں مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور اس مچھلی کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا۔

سفر میں زادراہ لینا توکل کے خلاف نہیں بلکہ سنت انبیاء ہے 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوران سفر ناشتہ طلب کیا اس سے معلوم ہوا انسان کو چاہیے جب سفر میں جائے تو کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے جائے۔ اس میں ان جاہل صوفیوں کا رد ہے جو سفر میں کھانے پینے کی چیزوں کو ساتھ لے جانا تو کل کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان کا زعم یہ ہے کہ کسی چیز کو ساتھ نہ لے جانا یہی اللہ عزو جل پر توکل ہے اور دیکھیے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم نبی اور اس کے کلیم ہیں اور انہوں نے سفر میں اپنے ساتھ زاد راہ لیا حالانکہ انہیں ان سے اور سب لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت تھی۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن حج کرتے تھے اور زاد راہ ساتھ نہیں لیتے تھے اور کہتے تھے توکل کرنے والے ہیں پھر جب وہ مکہ میں آتے تو لوگوں سے سوال کرنے لگتے تو اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی :

وتزود و افان خیر الزاد التقویٰ (البقرہ :197) اور سفر خرچ ساتھ لو، بہترین سفر خرچ سوال سے بچنا ہے۔ ) صحیح البخاری رقم الحدیث : 1523)

اسی طرح رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کئی کئی راتوں کے لئے غار حرا میں جاتے تو اپنے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں لے جاتے تھے۔ پھر حضرت خدیجہ کے پاس لوٹ آتے اور جب دوبارہ جاتے تو پھر کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے جاتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣ صحیح مسلم رقم الحدیث :160، مسند احمد رقم الحدیث :25717)

بیماریوں اور مصائب کے بیان کرنے کا جواز 

حضرت موسیٰ کے زاد راہ اور ناشتہ میں اختلاف ہے کہ وہ کیا تھا ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا ان کے تھیلے میں ایک نمکین مچھلی تھی اور وہ دونوں صبح اور شام اسی مچھلی کو کھاتے تھے۔ ابوالفضل جوہری نے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ جب مناجات کے لئے جاتے تھے تو چالیس دن تک کھانا نہیں کھاتے تھے اور جب لوگوں کے پاس آتے تھے تو ان کو بھوک اور پیاس لگتی تھی۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہمیں اس سفر سے تھکاوٹ پہنچی ہے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ انسان کو جو درد اور مرض لاحق ہو یا کسی کام سے کوئی تھکاوٹ ہو اس کی خبر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ اللہ کی رضا کے خلاف نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہے جب یہ کلمات بےصبری، اللہ سے شکایت اور چیخ و پکار کے طور پر نہ صادر ہوں۔ اسی طرح انسان پر جو ناگہانی آفات اور مصائب آتے ہیں اور مال اور جان کا نقصان ہوجاتا ہے، بچے گم ہوجاتے ہیں، چوری ہوجاتی ہے اور طرح طرح کے حادثات پیش آتے ہیں ان کی بھی خبر دینا جائز ہے اور یہ صبر اور ضبط کے خلاف نہیں ہے اور نہ تسلیم رضا کے خلاف ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت یوسف (علیہ السلام) گم ہوگئے تو وہ ان کو یاد کرتے رہے اور رنج اور افسوس کرتے رہے۔ حضرت عائشہ (رض) کا ایک سفر میں ہار گم ہوگیا تو انہوں نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دی اور تمام قافلہ والوں نے مل کر اس کو تلاش کیا۔ ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرزند حضرت ابراہیم (رض) فوت ہوگئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابراہیم ! ہم تمہارے فراق پر غم زدہ ہیں۔

حضرت انس (رض) کرتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر زخمی کردیا گیا۔ آپ نے فرمایا : وہ قوم کیسے صلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کردیا۔ (صحیح البخاری تفسیر آل عمران)

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا آپ کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ میں نے آپ کو چھو کر دیکھا تو آپ کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ آپ کو تو بہت شدید بخار ہے۔ آپ نے فرمایا : ہاں ! جتنا بخار تم دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔ مجھے اکیلے کو اتنا بخار ہوتا ہے۔ میں نے کہ کا آپ کو دگنا اجر ہوگا فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے روئے زمین پر جس مسلمان کو بھی کسی مرض سے یا کسی اور وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5667 صحیح مسلم رقم الحدیث :2571، مسند احمد رقم الحدیث :3618 دارالفکر)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہاتھ رکھا پھر کہا آپ کے بخار کی شدت سے میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم گروہ انبیاء پر اس طرح دگنی مصیبتیں آتی ہیں جس طرح ہمیں دگنا اجر دیا جاتا ہے۔ بیشک انبیاء میں سے ایک نبی کو جوں کے ساتھ مبتلا کیا گیا تو انہوں نے اس کو مار دیا اور ایک شخص کو سردی میں مبتلا کیا جاتا تو وہ اٹھ کر کپڑے پہن لیتا اور بیشک وہ تنگی اور مصائب میں اس طرح خوش ہوتے تھے جس طرح وہ فراخی اور عیش میں خوش ہوتے تھے۔ (البدایہ و النایہ ج ٤ ص 204، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1418 ھ)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر اور حضرت بلال کو بخار چڑھ گیا پس حضرت ابوبکر کو جب بخار آیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا :

(ترجمہ) ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے اور موت جوتی کے ت سمہ سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ اور حضرت بلال (رض) کا جب بخار اتر گیا تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے : 

سنو ! کاش مجھے معلوم ہوتا کیا میں ایک رات اس وادی میں گزاروں گا جس کے گرد اذخر اور جلیل (نامی گھاس) ہیں۔ 

اور کیا میں کسی دن مجنہ (مکہ کا ایک مقام) کے پانی پر جائوں گا اور کیا مجھے شامہ اور طفیل (پہاڑ) دکھائی دیں گے۔ اے اللہ شبیہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت کر جنہوں نے ہمیں ہمارے وطن سے اس وبائوں کی زمین کی طرف نکال دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 1889، صحیح مسلم رقم الحدیث :1376، موطا امام مالک رقم الحدیث :55، مسند حمیدی رقم الحدیث :223، مسند احمد ج ٦ ص 56) 

امام احمد ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو آپ کے اصحاب بیمار ہوگئے۔ حضرت ابوبکر عامر بن فہیرہ اور حضرت بلال بھی بیمار ہوگئے۔ حضرت عائشہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے کر ان کی عیادت کے لئے گئیں حضرت ابوبکر سے پوچھا آپ کی طبیعت کیسی ہے تو انہوں نے کہا : 

ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے اور موت جوتی کے تسمے سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔

حضرت عامر بن فہیرہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا :

میں نے موت کو چکھنے سے پہلے اس کو پا لیا بیشک بزدل کی طبعی موت اس کے اوپر سے آتی ہے۔

اور حضرت بلال نے وہی شعر پڑھا۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دی تو آپ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! ہماری طرف مدینہ بھی اس طرح محبوب کر دے جس طرح تو نے ہماری طرف مکہ محبوب کیا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ محبوب کر دے۔ الحدیث (مسند احمد رقم الحدیث :26771, 26381, 24864 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :5600, 3724)

ان حدیثوں میں صحابہ کرام نے اپنی بیماری کی بھی خبر دی اور مکہ مکرمہ سے جدائی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیماریوں، آفتوں اور مصائب کی خبر دینا اور ان پر غم اور افسوس کا اظہار کرنا انبیاء (علیہم السلام) اور صحابہ کرام کا طریقہ ہے اور یہ تسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے اور اگر کوئی شخص مصائب پر رنج اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور ان کے ازالہ کے لئے دعائیں نہیں کرتا بلکہ الٹا خوش ہوتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی جرأت اور قوت کا اظہار ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور ہم ہرحال میں راضی ہیں اور کسی حال کی شکایت نہیں کرتے۔

مصائب اور بیماریوں کے بیان سے صوفیا کا منع کرنا 

مشہور صوفی محمد بن علی بن عطیہ المشہور ربابی طالب مکی المتوی 376 ھ لکھتے ہیں :

جو شخص علاج نہیں کرتا اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ اپنی بیماریوں کو مخفی رکھے کیونکہ یہ عمل نیکیوں کے خزانے میں ہے اور اس لئے کہ یہ اس کے اور اس کے خالق کے درمیان معاملات سے ہے اس لئے ان کو چھپانے میں زیادہ سلامتی اور زیادہ فضیلت ہے، ہاں اگر اظہار کرنے میں وہ مخلص ہو یا وہ امام ہو اور اس کا قول سنا جاتا ہو یا وہ معرفت میں ماہر وہ اپنی بیماری کی خبر دے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہو، یا وہ شخص مصیبتوں کو نعمت سمجھتا ہوں اور مصائب کی خبر دینے سے اس کا مقصود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان کرنا ہو، ورنہ جو آدمی علاج نہیں کرتا اس کا بیماریوں کی خبر دینا اس کے حال کا نقص ہے اور اپنے مولا کی شکایت میں داخل ہے، کیونکہ شکایت کرنے میں نفس کو اس طرح راحت پہنچانا ہے جس طرح بیماری کا علاج کر کے نفس کو راحت پہنچائی جاتی ہے، اور کوئی عالم ایسا نہیں کرے گا کیونکہ جس دوا کو اس کے مولا نے اس کے لئے مباح کیا ہے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا بندہ اس کی شکایت کرے۔ علاوہ ازیں جب وہ اپنی بیماری کی خبر دے گا تو وہ اس سے مامون نہیں ہے کہ وہ بیماری کو زیادہ بیان کرے یا اس میں تصنع کرے، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ قول بیان کیا ہے فصبر جمیل (یوسف 18) پس صبر کرنا بہت اچھا ہے۔ اس میں کوئی شکایتن ہیں ہے اور بعض صوفیا نے کہا جس شخص نے اپنی شکایت کو پھیلایا اس نے صبر نہیں کیا۔ کسی نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا آپ کی بینائی کس سبب چلی گئی انہوں نے کہا بہت نے کہا اے میرے رب میں تیری طرف توبہ کر رہا ہوں۔ طائوس اور مجاہد سے مروی ہے کہ مریض تکلیف سے جو ہائے ہائے کرتا ہے اس کو لکھ لیا جاتا ہے اور صوفیا مریض کے کر اہنے کو مکروہ جانتے تھے کیونکہ یہ بھی مصنوعی طور پر شکایت کا اظہار ہے اور کہا گیا ہے کہ ابلیس حضرت ایوب (علیہ السلام) کے مرض میں صرف ان کے کر اہنے کو حاصل کرسکا اور حدیث میں ہے کہ جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کی طرف وحی فرماتا ہے میرے بندے کی طرف دیکھو وہ اپنے عیادت کرنے والوں سے کیا کہتا ہے ؟ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور کلمہ خیرکہتا ہے تو اس کے لئے دعا کرو اور اگر وہ شکایت کرتا ہے اور برے کلمات کہتا ہے تو پھر اس طرح نہ کرنا۔ بعض عیادت گزاروں نے اس خوف سے عیادت کرنے سے منع کیا ہے کہ مریض شکایت کرے گا، بلکہ مریض سے ملنے سے بھی منع کیا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی بیماری سے زیادہ بتلائے گا اور یہ اللہ کی اس نعمت کا کفر ہے جو اس نے اس کو بیماری کی صورت میں عطا کی ہے اور بعض صوفیا جب بمیار ہوتے تو اپنے گھر کا دروازہ بند کردیتے تھے اور جب تک وہ صحتمند نہ ہوجاتے ان کے پاس کوئی نہیں آتا تھا ان میں فضیل، وہیب اور بشر ہیں وہ کہتے تھے کہ میں عیادت کرنے والوں کے بغیر مرض کے ایام گزاروں گا۔ فضیل نے کہا میں بیماری کو صرف عیادت کرنے والوں کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں اور بیماری کی خبر دینا توکل کے خلاف نہیں بشرطیکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہو اور وہ قضاء و قدر پر راضی ہو اور بیماری کی خبر دے کر وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے عجز اور اقتقار کو ظاہر کر رہا ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کی دعا میں رغبت کر رہا ہو یا اس حال کے نعمت ہونے کی گواہی دے رہا ہوتا کہ اس پر شکر ادا کرے۔

حکایت ہے کہ بشر بن حارث نے طبیب عبدالرحمٰن کو اپنے دردوں کی خبر دی اور کہا گیا کہ امام احمد نے اپنے امراض کی خبر دی اور کہا کہ میں اس خبر سے اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان کر رہا ہوں اور حسن بصری سیر وایات ہے کہ جب کوئی مریض اللہ عزوجل کی حمد کرے پھر اپنی بیمار کو بیان کرے تو یہ شکایت نہیں ہے اور امام احمد بن حنبل سے جب تک کوئی شخص ان کی بیماری کے متعلق نہیں پوچھتا تھا وہ اس کو اپنی بیماری نہیں بتاتے تھے۔ روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سے ان کی بیماری کے متعلق پوچھا کہ آپ کیسے ہیں ڈ بشر نے کہا حاضرین نے اس سوال کو ناپسند کیا پس حضرت علی نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کر رہے ہو، گویا کہ انہوں نے یہ پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کو ظاہر کیا جائے، نیز ان کا یہ ارادہ تھا کہ اپنی بیماری کی خبر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور حضرت علی (رض) کا ارادہ یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تادیب کو ثابت کریں۔ آپ نے حضرت علی (رض) کو قوت کے اظہار کرنے سے منع فرمایا تھا، کیونکہ روایت ہے کہ حضرت علی (رض) بیمار ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ ! مجھے مصائب پر صبر کرنے والا بنا مطرف نے کہا اگر میں عافیت پر شکر کروں تو وہ میرے نزدیک مصائب پر صبر کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ مصائب پر صبر کرنا تو قوی لوگوں کا طریقہ ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں نے القوی کے سامنے قوت اور حوصلہ کا اظہار کرنا مکروہ جانا۔ حکایت ہے کہ امام شافعی مصر میں بہت بمیار ہوئے تو انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ ! اگر اس بیماری میں تیری رضا ہے تو اس بیماری کو زیادہ کر دے تو ادریس بن یحییٰ المعا فری نے ان کو خط لکھا کہ اے ابو عبداللہ تم رجال بلاء (اصحاب مصائب) میں سے نہیں ہو اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو۔ پھر امام شافعی نے اپنے قول سے رجوع کیا اور اس پر توبہ کی۔ (قوت القلوب ج ٢ ص 47، 46 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)

مصائب اور بیماریوں کے بیان کرنے کے جواز میں قرآن مجید اور احادیث سے استدلال

صوفی ابو طالب مکی نے آخر میں جو لکھا ہے کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بیماری کے ازالہ اور صحت کی دعا کرنی چاہیے اور بیماریوں اور مصائب پر خوشی کا اظہار کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی قوت اور طاقت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی احتیاج ظاہر کر کے اپنی بیماری کا اظہار کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، یہ صحیح اور برحق ہے۔ لیکن انہوں نے شروع میں جو لکھا ہے کہ کسی کے سامنے اپنی بیماری اور اپنے مصائب کا اظہار نہیں کرنا چاہیے، یہ درست نہیں۔ قرآن مجید میں ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنی بھوک اور اپنے مصائب کا ذکر کیا :

(یوسف :88) پھر جب وہ لوگ یوسف کے دربار میں داخل ہوئے تو کہنے لگے اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے خاندان کو مصیبتیں پہنچی ہیں، پس ہم یہ حقیر پونجی لائے ہیں لہٰذا آپ ہمیں پورا غلہ ناپ کے دے دیجیے اور ہم پر صدقہ کیجیے بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو اچھی جزا دیتا ہے۔

اور حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کا اللہ تعالیٰ سے ذکر کیا :

اایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر وانت ارحم الرحمین فاستجبنا لہ فکشفنا مائہ من ضر و اتینہ اھلہ ومثلھم معھم رحمۃ من عندنا وذکری للعبدین (الانبیاء :83-84) اور ایوب کو یاد کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے بیماری آ لگی ہے اور تو تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے تو ہم نے ان کی فریاد سن لی اور ان سے اس بیماری کو دور کردیا اور ہم نے ان کو ان کے اہل عطا کئے اور اتنے ہی ان کے ساتھ اور بھی اپنے پاس سے رحمت فرما کر یہ یہ عبادت کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔

حضرت اسامہ بن زید (رض) بین کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی نے آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا فوت ہونے کے قریب ہے آپ ہماری پاس آئیں۔ آپ نے کسی کے ہاتھ سلام بھیجا اور فرمایا اللہ ہی کے لئے ہے جو اس نے لے لیا اور عطا کیا اور ہر شخص کی اجل اس کے پاس مقرر ہے۔ پس اس کو چاہیے کہ وہ صبر کرے اور ثواب کو طلب کرے۔ انہوں نے پھر کسی کو قسم دے کر آپ کے پاس بھیجا کہ آپ ضرور آئیں۔ آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور دوسرے اصحاب (رض) بھی تھے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس بچہ کو اٹھا کر لایا گیا اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ حضرت اسامہ نے کہا اس بچہ کا جسم سوکھی ہوئی مشک کی طرح تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت سعد نے پوچھا یا رسول اللہ یہ کیا ؟ آپ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر رحم فرماتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :1284، صحیح مسلم رقم الحدیث :922، سنن ابو دائود رقم الحدیث :3125 سنن النسائی رقم الحدیث :1868 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1588)

قرآن مجید کی نصوص صریحہ اور صحیح بخاری کی اس حدیث سے واضح ہوگیا اور جو احادیث اور نص قرآن ہم نے پہلے ذکر کی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوگیا کہ اپنی بیماریوں اور اپنے مصائب کا بیان کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) اور صحابہ کرام کی سنت ہے اور صوفی ابوطالب مکی کے اقوال میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ قرآن مجید کے نصوص صریحہ اور احادیث صحیہ کے مزاحم ہو سکیں۔

عیادت کرنے کے ثبوت میں احادیث 

نیز صوفی ابوطالب مکی نے عیادت کرنے کی بھی مخالفت کی ہے اور کہا فضیل، وھیب اور بشر وغیرہ عیادت کرنے والوں کی وجہ سے بیماری کو ناپسند کرتے تھے، میں کہتا ہوں کہ عیادت کرنے کے ثبوت میں بہت احادیث صحیحہ ہیں :

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری آنکھوں میں تکلیف تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :3102، مسند احمد ج ٤ ص 375)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کرنے آئے اس وقت میں بیمار تھا ہوش میں نہیں تھا، آپ نے وضو کیا اور وضو کے بچے ہوئے پانی کو میرے اوپر ڈالا تو میں ہوش میں آگیا۔ الحدیث 

(صحیح البخاری رقم الحدیث :194: سنن ابو دائود رقم الحدیث :2886، سنن الترمذی رقم الحدیث :2097، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2728، سنن النسائی رقم الحدیث 138، صحیح مسلم الحدیث 1616)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کرنے آئے آپ کس خر یا ٹٹو پر سوار نہیں تھے۔ صحیح البخاری، سن ابودائود (جامع الاصول رقم الحدیث :4893)

حضرت عائشہ بنت سعد بن مالک (رض) فرماتی ہیں اور وہ ان کی اولاد میں سب سے بڑی تھیں وہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد (رض) نے کہا کہ میں مکہ میں بہت سخت بیمار ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لئے آئے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مال چھوڑ رہا ہوں اور میری صرف ایک بیٹی ہے۔ آیا میں دو تہائی مال کی وصیت کر دوں ؟ اور ایک تہائی چھوڑ دوں ۔ آپ نے فرمایا نہیں میں نے پوچھا آیا میں نصف مال کی وصیت کر دوں اور نصف چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں، میں نے پوچھا آیا میں ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں اور دو تہائی مال چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : تہائی مال، تہائی فرمایا نہیں، میں نے پوچھا آیا میں ایک تہائی بہت ہے، پھر آپ نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا پھر میرے چہرے اور پیٹ پر پھیرا، پھر کہا اے اللہ ! سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو پورا کر، سعد نے کہا میں آخر وقت تک آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک اپنے جگر پر محسوس کرتا رہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5659، سنن ابودائود رقم الحدیث :3104، مسند احمد ج ١ ص 171، الادب المفرد رقم الحدیث :499)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جنگ خندق کے دن ایک شخص نے حضرت سعد بن معاذ کے بازو کی ایک رگ پر تیر مارا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لئے مسجد میں ایک خیمہ لگوا دیا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرسکیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :463، سنن ابو دائود رقم الحدیث :3101، سنن النسائی رقم الحدیث، 710، مسند احمد ج ٦ ص 56)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا تو آپ نے اس کی عیادت کی اور اس پر اسلام پیش کیا سو وہ مسلمان ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5657، سنن ابو دائود رقم الحدیث :3095، مسند احمد ج ٣ ص 175، الادب المفرد رقم الحدیث :524)

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اس مریض کی عیادت کی جو موت کے قریب نہیں تھا اور اس نے سات مرتبہ یہ دعا کی : میں اللہ العظیم سے سوال کرتا ہوں، رب عرش عظیم سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفا دے دے تو اللہ اس کو اس بیماری سے شفا دے دے گا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :3106، سنن الترمذی رقم الحدیث :2083، مسند احمد ج ١ ص 239)

ان احادیث صحیحہ کی بنا پر مریض کی عیادت کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کی سنت ہے، اور فضیل، وہیب اور بشر وغیرہ نے جو عیادت کرنے کو مکروہ کہا تو ان احادیث و افرہ کے مقابلہ میں ان کے قول کا کیا اعتبار ہوگا۔ نیز صوفی ابو طالب نے کئی باتیں بےسند لکھی ہیں مثلاً یہ کہ کسی نے حضرت یعقوب سے یہ کہا کہ آپ کی بینائی کس سبب سے چلی گئی ؟ انہوں نے کہا بہت عرصہ گزرنے سے اور غم کے طویل ہونے کی وجہ سے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم میری مخلوق سے میری شکایت کر رہے ہو، پھر انہوں نے کہا اے میرے رب میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں، صوفی ابو طالب کو کس ذریعہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کی طرف یہ وحی کی ؟ اسی طرح انہوں نے بغیر کسی سند اور بغیر کسی حوالے کے مریض کے کر اہنے اور شدت مرض کی وجہ سے اس کے ہائے ہائے کرنے کو بھی مکروہ لکھا ہے حالانکہ مرض کی شدت کی وجہ سے اس سے بےاختیار کراہنا صادر ہوتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اس کتاب کے ایک اور باب میں علاج کرنے کو بھی عزیمت کے خلاف لکھا ہے۔ ہم اس پر اس سے پہلے بحث کرچکے ہیں۔ ہم نے تبیان القرآن ج ٦ النحل :69 کی تفسیر میں اس بحث کو تفصیل سے لکھا ہے۔

وما انسانیہ میں ضمیرہ، پر پیش لگانے کی توجیہ 

عربی زبان کا اصول ہے کہ ضمیرہ سے پہلے زیر یا ی آجائے تو اس ضمیر کے نیچے ہمیشہ زیر پڑھی جائے گی مثلاً بہ اور الیہ اور یہی اسلوب پورے قرآن مجید میں رہا لیکن دو مقام پر اس کے خلاف آیا۔

ومآ انسانیہ (الکھف :63) علیہ اللہ (الفتح 10)

حالانکہ قانون وما انسانیہ اور علیہ اللہ کا تقاضا کرتا ہے اس کا ایک جواب یہ ہے کہ صرف امام حفص کی قرأت ضمہ کے ساتھ ہے باقی ائمہ نے دونوں جگہ کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ قاعدہ ہے (اتحاف فصلاء البشر فی القرأت الاربعۃ عشر ص 369) اور دوسرا جواب اس مقام پر میرے شیخ حضرت علامہ احمد سعید کا ظمی (رح) نے فرمایا کہ وما انسانیہ کا ذکر قرآن مجید کے اس واقع میں ہے جو خلاف قانون اور خلاف عادت ہے۔ تو یہاں پر بھی ضمیرہ کے بجائے خلاف عادت اور خلاف قاعدہ ہ کو ذکر کیا گویا اس سے واقعہ کے عجیب ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (اور یہاں یہی اصل قرار پایا)

واقعہ اس طرح ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) حضرت یوشع بن نون کے ساتھ پتھر کی چٹان پر پہنچے جہاں چشمہ حیات تھا تو ان کی زنبیل میں بھونی ہوئی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں گری پھر اس نے وہاں سرنگ بناتے ہوئے راہ لی۔ دریا کا بہائو اس پر رک گیا۔ یہ واقعہ حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کرنا بھول گئے اور سفر آ گے جاری رکھا۔ جب انہیں یہ یاد آیا تو فرمایا وما انسانیہ الا الشیطن کہ مجھے یہ شیطان ہی نے بھلایا ہے۔

علیہ اللہ اس آیت کریمہ میں وعدے کا ذکر ہے اور خصوصاً اس جملہ میں وعدہ وفائی کا بیان ہے اور وعدے کی اصل یہی ہے کہ اسے پورا کیا جائے تو علیہ اللہ میں بھی ضمیر کو اس کی اصل پر برقرار رکھا گیا یعنی عارضہ کی بنا پر زیر نہیں دی گئی گویا اس سے وعدہ وفائی کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ (تفریظ برعلم تفسیر اور مفسرین از صاحبزادہ علامہ ارشد سعید کا ظمی مدظلہ ص 6-7)

پکی ہوئی مچھلی کا زندہ ہو جانا 

صحیح بخاری میں ہے حضرت موسیٰ نے علامت پوچھی تو فرمایا تم ایک مردہ مچھلی لو جس جگہ وہ مچھلی زندہ ہوگی وہیں خضرت ہوں گے۔ انہوں نے اس مچھلی کو ٹوکری میں ڈال دیا اور اپنے شاگرد سے کہا میں تم کو صرف اس بات کا پابند کرتا ہوں کہ جس جگہ وہ مچھلی تم سے جدا ہو تو مجھے بتادینا۔ اس نے کہا آپ نے مجھے کسی مشقت والے کام کا پابند نہیں کیا، جس وقت حضرت موسیٰ چٹان کے سائے میں سوئے ہوئے تھے وہ مچھلی ٹوکری میں مضطرب ہوئی اور سمندر میں داخل ہوگئی۔ حضرت یوشع نے سوچا کہ حضرت موسیٰ سوئے ہوئے ہیں میں ان کو بیدار نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے بہائو کو روک لیا اور وہ مچھلی پانی میں راستہ بناتے ہوئے جانے لگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4726)

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس مچھلی نے سمندر میں عجیب طریقہ سے راستہ بنایا۔ حضرت یوشع بن نون کو اس پر تعجب ہوا کہ اس مچھلی نے سمندر میں راستہ کیسے بنا لیا۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ تعجب کی وجہ تھی کہ وہ مچھلی پکی ہوئی تھی اور وہ اس کی بائیں جانب کھاچکے تھے وہ پھر اس کے بعد زندہ ہوگئی۔ حضرت ابن عباس نے اس قصہ میں بیان کیا وہ مچھلی اس لئے زندہ ہوگئی کہ اس پر اس چشمہ کا پانی لگ گیا تھا جس میں آب حیات تھا اور وہ اپنی جس سے بھی مس کرجاتا تھا وہ زندہ ہوجاتا تھا اور حضرت خضر سے ملاقات کی علامت یہ تھی کہ وہ مچھلی زندہ ہوگی۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ سفر کی تھکاوٹ کے بعد جب ایک چٹان پر بیٹھے تو ان کے پہلو میں آب حیات تھا۔ اس پانی کے کچھ چھینٹے اس مچھلی پر پڑگئے تو وہ زندہ ہوگئی۔ امام ترمذی کی حدیث میں ہے سفیان نے کہا لوگوں نے کہا اس چٹان کے پاس آب حیات تھا اور جس چیز کے ساتھ بھی اس کا پانی لگ جاتا تھا وہ چیز زندہ ہوجاتی تھی۔ اس مچھلی کا کچھ حصہ کھایا جا چکا تھا اور جب اس مچھلی پر اس پانی کا ایک قطرہ پڑگیا تو وہ زندہ ہوگئی (سنن الترمذی رقم الحدیث :3149، مسند احمد ج ٣ ص ٢ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4308 المسند الجامع رقم الحدیث :4639) اور کتاب العروس میں (سنن الترمذی رقم الحدیث 3149، مسند احمد ج و ص ٢ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4308، المسند الجامع رقم الحدیث :4639) اور کتاب العروس میں مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چشمہ آب حیات سے وضو کیا تھا تو اس مچھلی پر بھی اپنی کا ایک قطرہ پڑگیا تھا، واللہ اعلم 

حضرت موسیٰ کی حضرت خضر سے ملاقات 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اس چیز کو تو ہم ڈھونڈ رہے تھے یعنی اس جگہ ہم اس شخص سے ملاقات کے لئے آئے تھے، پھر وہ دونوں اپنے پیروں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور صحیح بخاری میں ہے ان دونوں نے وہاں حضرت خضر کو سمندر کے وسط میں ایک سرسبز جزیرہ پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ سعید بن جبیر نے کہا وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اس کا ایک پلو ان کے سر کے اوپر تھا اور ایک پلو ان کے پیروں کے نیچے تھا۔ حضرت موسیٰ نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے چادر سے اپنا چہرہ نکال کر کہا ہماری سر زمین میں سلامتی کہاں ہے ؟ پھر اپنا سربلند کر کے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور کہا اے بنی اسرائیل کے نبی و علیک السلام۔ حضرت موسیٰ نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اس لئے بھجیا ہے کہ میں اس شرط پر آپ کی اتباع کروں کہ آپ مجھے اللہ کا دیا ہوا علم سکھا دیں پھر وہ دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4726)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 62