أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَجَدَاعَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا‏۞

ترجمہ:

پس ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو واں پایا جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو علم (لدنی) عطا کیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو وہاں پایا جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو علم (لدنی) عطا کیا تھا۔ (الکھف :65)

حضرت خضر کو خضر کہنے کی وجہ 

جمہور کے قول کے مطابق اس بندے سے مراد حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں اور احادیث صحیحہ کا بھی یہی تقاضا ہے جیسا کہ ہم پہلے صحیح بخاری کے حوالے سے ذکر کرچکے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :74، سنن ابودائود رقم الحدیث :4707، سنن الترمذی رقم الحدیث 3149 صحیح مسلم رقم الحدیث 2380 بعض غیر معتبر لوگوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس سے ملنے گئے تھے وہ خضر نہیں تھے کوئی اور عالم تھے اور بعض لوگوں نے کہا وہ ایک عبادت گزار بندے تھے اور صحیح یہی ہے کہ وہ حضرت خضر تھے۔ مجاہد نے کہا ان کو خضر اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب وہ نماز پڑھتے تھے تو اردگرد کی چیزیں سرسبز ہوجاتی تھیں۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو خضر اس لئے کہتے ہیں کہ جب وہ سفید پوستین (جانور کی کھال کی قمیص، چغہ) پر نماز پڑھتے تو اس کے نیچے سے سبزہ اگنے لگتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3151، مسند احمد ج ٢ ص 312، المسند الجامع رقم الحدیث :14715 علامہ خطابی وغیرہ نے کہا ہے اس حدیث میں سفید پوستین سے مراد روئے زمین ہے۔ 

جمہور کے قول کے مطابق حضرت خضر نبی ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے نبی نہ تھے اور قرآن مجید کی آیتیں یہ شہادت دیتی ہیں کہ وہ نبی تھے کیونکہ بواطن امور کو نبی کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ نیز انسان اسی سے علم حاصل کرتا ہے اور اس کی اتباع کرتا ہے جو متربہ میں اس سے بڑھ کر ہو اور یہ جائز نہیں ہے کہ نبی سے بڑھ کر وہ شخص ہو جو نبی نہ ہو اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ایک فرشتہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے علم باطن حاصل کرنے کا حکم دیا تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن ج 10 ص 391، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت خضر کے نبی ہونے کی تحقیق 

حضرت خضر کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ وہ ولی ہیں یا نبی۔ قشیری کا قول یہ ہے کہ وہ ولی ہیں اور صحیح یہ ہے کہ خضر نبی ہیں، یہ ایک جماعت کا معتمد ہے، ثعلثی اور ابن جوزی وغیرہ کا بھی یہی مختار ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت خضر نے ایک لڑکے کو قتل کردیا اور فرمایا ’ ’ وما فعلتہ عن امری “ میں نے اپنی رائے سے یہ کام نہیں کیا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ انہوں نے وحی سے اس کو قتل کیا ہے اور وحی کا تعلق نبوت سے ہے۔ کسی شخص کو ناحق قتل کرنا حرام ہے اور یہ حرمت صرف دلیل قطعی سے اٹھ سکتی ہے۔ اگر حضرت خضر ولی ہوتے اور الہام کی بنا پر اس کو قتل کرتے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ الہام دلیل ظنی ہے اور دلیل ظنی کی بنا پر کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز تکوینی امور میں حضرت خضر کا علم حضرت موسیٰ سے زیادہ تھا اور یہ جائز نہیں ہے کہ ولی کا علم نبی سے زیادہ ہو۔

سید ابوالاعلی مودودی کا حضرت خضر انسان کے بجائے فرشتہ قرار دینا 

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس پر دلائل قائم کئے ہیں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کا نبی ہونا یا ولی ہونا تو الگ رہا وہ سرے سے انسان ہی نہیں تھے بلکہ فرشتے تھے، پہلے ہم ان کے دلائل ذکر کریں گے۔ پھر انکے شبہات کا جواب دیں گے پھر دلائل سے یہ ثابت کریں گے کہ حضرت خضر انسان اور نبی تھے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی 1399 ھ لکھتے ہیں :

اس قصے میں ایک بڑی پیچیدگی ہے جسے رفع کرنا ضروری ہے۔ حضرت خضر نے یہ تین کام جو کئے ہیں ان میں سے تیسرا کام تو خیر شریعت سے نہیں ٹکراتا مگر پہلے دونوں کام یقینا ان احکام سے متصاد ہوتے ہیں جو ابتدائے عہد انسانیت سے آج تک تمام شرائع الہیہ میں ثابت رہے ہیں۔ کوئی شریعت بھی کسی انسان کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی مملوکہ چیز کو خراب کر دے اور کسی متنفس کو بےقصور قتل کر ڈالے۔ حتی کہ اگر کسی انسان کو برطیق الہام بھی یہ معلوم ہوجائے کہ ایک کشتی کو آگے جا کر ایک غاصب چھین لے گا اور فلاں لڑکا بڑا ہو کر سرکش اور کافر نکلے گا، تب بھی اس کے لئے خدا کی بھیجی ہوئی شریعتوں میں سے کسی شریعت کی رو سے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اس الہامی علم کی بنا پر کشتی میں چھید کر دے اور ایک بےگناہ لڑکے کو مار ڈالے۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ حضرت خضر نے یہ دونوں کام اللہ کے حکم سے کئے تھے، فی الواقع اس پیچیدگی کو کچھ بھی رفع نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ حضرت خضر نے یہ کام کس کے حکم سے کئے تھے۔

ان کا حکم الٰہی سے ہونا تو بالیقین ثابت ہے کیونکہ حضرت خضر خود فرماتے ہیں کہ ان کے یہ افعال ان کے اختیاری نہیں ہیں بلکہ اللہ کی رحمت ان کی محرک ہوئی ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ خود فرما چکا ہے کہ حضرت خضر کو اللہ کی طرف سے ایک علم خاص حاصل تھا۔ پس یہ امر تو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہ کام اللہ کے حکم سے کئے گئے تھے، مگر اصل سوال جو یہاں پیدا ہوتا 

؎ بےقصور لکھنا چاہیے تھا، بےگناہ تو صرف انبیاء (علیہم السلام) اور فرشتے ہیں۔ سعیدی غفرلہ 

ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ان احکام کی نوعیت کیا تھی ؟ ظاہر ہے کہ یہ تشریعی احکام نہ تھے، کیونکہ شرائع الہیہ کے جو بنیادی اصول قرآن اور اس سے پہلے کی کتب آسمانی سے ثابت ہیں ان میں کبھی کسی انسان کے لئے یہ گنجائش نہیں رکھی گئی کہ وہ بلا ثبوت جرم کسی دوسرے انسان کو قتل کر دے۔ اس لئے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ یہ احکام اپنی نوعیت میں اللہ تعالیٰ کے ان تکوینی احکام سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے تحت دنیا میں ہر آن کوئی بیمار ڈالا جاتا ہے اور کوئی تندرست کیا جاتا ہے، کسی کو موت دی جاتی ہے اور کسی کو زندگی سے نوازا جاتا ہے، کسی کو تباہ کیا جاتا ہے اور کسی پر نعمتیں نازل کی جاتی ہیں۔ اب اگر یہ تکوینی احکام ہیں تو ان کے مخاطب صرف فرشتے ہی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں شرعی جواز وعدم جواز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنے ذاتی اختیار کے بغیر صرف اوامر الٰہیہ کی تعمیل کرتے ہیں۔ رہا انسان، تو خواہ وہ بلا ارادہ کسی تکوینی حکم کے نفاذ کا ذریعہ بنے اور خواہ الہاماً اس طرح کا کوئی غیبی علم اور حکم پا کر اس پر عملدرآمد کرے، بہرحال وہ گناہگار ہونے سے نہیں بچ سکتا اگر وہ کام جو اس نے کیا ہے کسی حکم شرعی سے ٹکراتا ہو۔ اس لئے کہ انسان بحیثیت اس کے کہ وہ انسان ہے، احکام شرعیہ کا مکلف ہے اور اصول شریعت میں کہیں یہ گنجائش نہیں پائی جاتی کہ کسی انسان کے لئے محض اس بنا پر احکام شرعیہ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی جائز ہو کہ اسے بذریعہ الہام اس خلاف ورزی کا حکم ملا ہے اور بذریعہ علم غیب اس خلاف ورزی کی مصلحت بتائی گئی ہے۔

یہ ایک ایسی بات ہے جس پر نہ صرف تمام علماء شریعت متفق ہیں بلکہ اکابر صوفیہ بھی بالا اتفاق یہی بات کہتے ہیں۔ چناچہ علامہ آلوسی نے تفصیل کے ساتھ عبدالوہاب شعرانی، محی الدین ابن عربی، مجدد الف ثانی، شیخ عبدالقادر جیلانی، جنید بغدادی، سری سقطی، ابو الحسنین النوری، ابو سعید الخراز، ابوالعباس احمد الدنیوری اور امام غزالی جیسے نامور بزرگوں کے اقوال نقل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اہل تصوف کے نزدیک بھی کسی ایسے الہام پر عمل کرنا خود صاحب الہام تک کے لئے جائز نہیں ہے جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ (روح المعانی ج 16 ص 18-16)

اب کیا ہم یہ مان لیں کہ اس قاعدہ کلیہ سے صرف ایک انسان مستثنیٰ کیا گیا ہے اور وہ ہیں حضرت خضر ؟ یا یہ سمجھیں کہ خضر کوئی انسان نہ تھے بلکہ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے جو مشیت الٰہی کے تحت (نہ کہ شریعت الٰہی کے تحت) کام کرتے ہیں ؟

پہلی صورت کو ہم تسلیم کرلیتے اگر قرآن بالفاظ صریح یہ کہہ دیتا کہ وہ ” بندہ “ جس کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس تربیت کے لئے بھیجے گئے تھے، انسان تھے۔ لیکن قرآن اس کے انسان ہونے کی تصریح نہیں کرتا بلکہ صرف عبدامن عبادنا (ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ) کے الفاظ بولتا ہے جو ظاہر ہے کہ اس بندے کے انسان ہونے کو مستلزم نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ اسعتمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة انبیاء، آیت 26 اور سورة زخرف آیت 19 پھر کسی صحیح حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کوئی ایسا ارشاد منقول نہیں ہے جس میں صراحت کے ساتھ حضرت خضر کو نوح انسانی کا ایک فرد قرار دیا گیا ہو۔ اس باب میں مستند ترین روایات وہ ہیں جو عن سعید بن جبیر، عن ابن عباس، عن ابی بن کعب، عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سند سے ائمہ حدیث کو پہنچی ہیں۔ ان میں حضرت خضر کے لئے صرف رجل کا لفظ آیا ہے جو اگرچہ مرد انسانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر انسانوں کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ چناچہ خود قرآن میں یہ لفظ جنون کے لئے مستعمل ہوچکا ہے جیسا کہ سورة جن میں ارشاد ہوا ہے وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن نیز یہ ظاہر ہے کہ جن یا فرشتہ یا کوئی اور غیر مرئی وجود جب انسانوں کے سامنے آئے گا تو انسانی شکل ہی میں آئے گا اور اس حالت میں اس کو بشر یا انسان ہی کہا جائے گا۔ حضرت مریم کے سامنے جب فرشتہ آیا تھا تو قرآن اس واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے کہ فتمثل لھا بشرا سویا۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد کہ ” وہاں انہوں نے ایک مرد کو پایا “ حضرت خضر کے انسان ہونے پر صریح دلالت نہیں کرتا۔ اس کے بعد ہمارے لئے اس پیچیدگی کو رفع کرنے کی صرف یہ ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم ” خضر “ ‘ کو انسان نہ مانیں بلکہ فرشتوں میں سے، یا اللہ کی کسی اور ایسی مخلوق میں سے سمجھیں جو شرائط کی مکلف نہیں ہے بلکہ کارگاہ مشیت کی کارکن ہے۔ متقدمین میں سے بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے جسے ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ماوردی کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ (تفہیم القرآن ج و ص 42-40، مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور، مارچ 1983 ء)

حضرت خضر کے فرشتہ ہونے کا رد 

متقدمین میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت خضر فرشتہ تھے، اسی طرح علامہ ماوردی نے بھی بعض لوگوں کا یہ قول نقل کیا ہے اور حافظ ابن کثیر نے بھی یہ قول نقل کیا ہے لیکن ان میں سے کسی کا بھی یہ مختار نہیں کہ حضرت خضر فرشتہ تھے، ان سب کا یہی مختار ہے کہ حضرت خضر نبی تھے علامہ قرطبی کی رائے ہم نقل کرچکے ہیں۔ علامہ ماوردی متوفی 450 ھ کی بھی یہی رائے ہے اور اسی پر انہوں نے دلائل دیئے ہیں وہ لکھتے ہیں :

دوسرا قول یہ ہے کہ وہ انسانوں میں سے بشر تھے اور وہ بشر نبی تھے، کیونکہ انسان اسی سے علم حاصل کرتا ہے جس کا رتبہ اس سے بلند ہو اور یہ جائز نہیں ہے کہ نبی کے اوپر ایسا انسان ہو جو نبی نہ ہو۔ (النکت و العیون ج ٦ ص 325، موسس الکتب الثقافیہ بیروت) اور حافظ ابن کثیر متوفی 774 ھ لکھتے ہیں :

حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا وما فعلتہ عن امری (الکھف :82) یہ کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کئے۔ یعنی مجھے ان کاموں کا حکم دیا گیا اور میں ان پر واقف ہوگیا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے اور دوسروں نے کہا وہ رسول تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ فرشتے تھے۔ اس قول کو علامہ ماوردی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے اور بہت سے لوگوں نے یہ کہا ہے کہ وہ نبی نہ تھے اللہ کے ولی تھے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ١١١ مطبوعہ دارالفکر بیروت 1419 ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ اگر بعض لوگوں نے حضرت خضر کو فرشتہ کہا ہے تو بعض لوگوں نے ان کو رسول اور ولی بھی کہا ہے لیکن یہ سب ساقط الاعتبار قول ہیں، جمہور کی تحقیق یہی ہے کہ وہ نبی ہیں اور ساقط الاعتبار اقوال سے استدلال کرنا انصاف سے بعید ہے۔ علامہ محمد بن یوسف ابوحیان اندلسی متوفی 754 ھ لکھتے ہیں :

اور جمہور اس پر متفق ہیں کہ حضرت خضر نبی ہیں اور ان کو بواطن کی معرفت کا علم دیا گیا تھا، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ظاہر شریعت کا علم تھا۔ (البحر المحیط ج ٧ ص 204، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1412 ھ)

حضرت خضر کے انسان ہونے پر دلائل 

سید ابوالاعلی مودودی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ احادیث میں حضرت خضر (علیہ السلام) کے لئے (رج) مرد کا لفظ آیا ہے لیکن مرد کا لفظ صریحاً انسان ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ ہم کہتے ہیں کہ احادیث میں کم از کم حضرت خضر کے لئے مرد کا لفظ تو آیا ہے لیکن قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ صراحت نہیں آئی کہ حضرت خضر انسان نہیں فرشتے تھے۔ علاوہ ازیں جنات کے لئے جو رجل کا لفظ ہے وہ مطلق نہیں ہے بلکہ برجال من الجن ہے اور حضرت جبریل کے لئے بشر کا لفظ تمثل کے ساتھ ہے بغیر قرینہ کے رجل کا لفظ صرف آدمی کے لئے ہوتا ہے۔ پھر بغیر کسی تصریح کے جمہور کے موقف کے خلاف یہ کیسے مان لیا جائے کہ وہ نبی نہیں فرشتہ تھے۔ باقی رہا یہ شبہ کہ بلا قصور ایک لڑکے کو قتل کرنا اور کشتی کو عیب دار کرنا گناہ ہے یہ حضرت خضر کے لئے کیسے جائز ہوگیا۔ ہم کہتے ہیں کہ کوئی کام گناہ اس وقت ہوتا ہے جب اس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا قصد کیا جائے انہوں نے تو یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کئے تھے جیسا کہ انہوں نے فرمایا وما فعلتہ عن امری (الکھف :82) آپ دیکھیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شریعت میں سجدہ تعظیمی جائز تھا۔ ہماری شریعت میں حرام اور گناہ ہے۔ اسی طرح بنو اسرائیل کی شریعت میں مال غنیمت سے کھانا گناہ تھا ہماری شریعتم میں جائز ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ کی شریعت میں یہ کام گناہ تھا اور حضرت خضر کے نزدیک یہ کام جائز تھے کیونکہ ان کو اسی طرح حکم دیا گیا تھا۔ باقی رہا سید مودودی کا یہ کہنا کہ تکوینی امور فرشتوں کے سپرد کئے جاتے ہیں۔ نبیوں کے سپرد نہیں کئے جاتے، میں کہتا ہوں کہ یہ قاعدہ قرآن مجید کی کس آیت میں یا کس حدیث میں لکھا ہے اور بہ فرض محال اگر کہیں یہ قاعدہ لکھا ہوا بھی ہے تو یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اس قاعدہ سے کوئی استثناء نہیں ہوسکتا، جبکہ امام شافعی تو فرماتے ہیں مامن عام الاو قدخص عنہ البعض ہر عام قاعدہ سے کوئی نہ کوئی فرد مستثنیٰ ہوتا ہے۔

باقی رہا یہ کہ آپ کے پاس اس پر کیا دلیل ہے کہ حضرت خضر فرشتہ نہیں تھے انسان تھے تو ہماری دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے۔

فانطلقا حتی اذا اتیا اھل فریۃ استطعما اھلھا (الکھف :77) پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے اور بستی والوں سے ان دونوں نے کھانا طلب کیا۔

امام مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں حتی اذا اتیا اھل فریۃ لناما فطافا فی المجالس فاستطعما اھلھا فابوا ان یضیفوھما وہ دونوں کم ظرف لوگوں کی بستی میں آئے اور ان کی تمام مجالس میں گھومے اور ان دونوں نے ان سے کھانا مانگا لیکن بستی والوں نے ان دونوں کو کھانا دینے سے انکار کردیا۔ (صحیح مسلم، فضائل خضر رقم الحدیث :172)

قرآن مجید کی اس آیت اور اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر دونوں نے اس بستی کی مجلسوں میں پھر پھر کر کھانا مانگا، اور ظاہر ہے کہ کھانے کی احتیاج انسانوں کو ہوتی ہے فرشتوں کو نہیں ہوتی، بلکہ فرشتوں کے سامنے حضرت ابراہیم نے کھانا رکھا انہوں نے پھر بھی کھانا نہیں کھایا اور حضرت ابراہیم ان سے اجنبیت محسوس کر کے ان سے ڈرنے گے (ھود :70) پس حضرت خضر (علیہ السلام) کا کھانا طلب کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) انسان تھے فرشتے نہ تھے۔

حضر خضر کے نبی ہونے کا ثبوت علماء دیوبند سے۔

شیخ امین احسن اصلاحی بھی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی طرح عقلی شہادتوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں لیکن انہوں نے بھی یہ تصریح کی ہے کہ حضرت خضر نبی تھے وہ لکھتے ہیں :

حضرت خضر (علیہ السلام) بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی تھے۔ اس کا اول قرینہ تو یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر نبی بلکہ رسول کو ان کے پاس حصول علم اور حصول تربیت کے لئے بھیجا گیا۔ اگر حضرت خضر (علیہ السلام) نبی نہیں تھے تو ایک نبی کا غیر نبی کے پاس حصول عم و تربیت کے لئے بھیجا جانا بالکل ناموزوں سی بات ہے۔ اگرچہ اس نام کے کسی نبی کا ذکر قرآن یا تورات میں نہیں ملتا لیکن یہ چیز کچھ اہمیت رکھنے والی نہیں ہے۔ قرآن میں خود اس کی اپنی تصریح کے مطابق بہت سے انبیاء کا ذکر نہیں ہے۔ یہی حال تورات کا بھی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ قرآن میں صریح ہے اپنے ہر نبی کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت دی ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کو بھی ایک خاص پہلو سے فضیلت حاصل تھی اور اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی فضیلت حاصل تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان سے کچھ باتیں سیکھنا اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر مطلق فضیلت حاصل تھی۔

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ ان کے جو اوصاف اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں وہ حضرات انبیاء ہی سے مناسبت رکھتے ہیں مثلاً یہ کہ وہ ہمارے بندوں میں سے ایک خاص بندہ تھا، ہم نے اپنی طرف سے اس پر خاص فضل کیا تھا۔ ہم نے اس کو اپنے پاس سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔ علی ہذا القیاس انہوں نے خود اپنے کاموں سے متعلق فرمایا کہ میں نے کوئی کام بھی خود اپنی رائے سے نہیں کیا بلکہ خدا کے حکم سے کیا ہے۔ یہ سب باتیں دلیل ہے کہ وہ صاحب وحی نبی تھے اور ان کو یہ خاص امتیاز بھی حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے بعض ارادوں کے راز کھول دیئے تھے۔ (تدبر قرآن ج ٦ ص 606 مطبوعہ فاران فائونڈیشن لاہور)

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ جمہور امت کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) بھی ایک نبی اور پیغمبر ہیں مگر ان کے کچھ تکوینی خدمتیں منجانب اللہ سپرد کی گئی تھیں انہی کا علم دیا گیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی اطلاع نہ تھی۔ اس لئے اس پر اعتراض کیا۔ تفسیر قرطبی، بحر محیط، ابوحیان اور اکثر تفاسیر میں یہ مضمون بعنوانات مختلفہ مذکور ہیں۔ (معارف القرآن ج ٥ ص 612، مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی، 1412 ھ) 

حضرت خضر کی حیات کے متعلق علماء امت کی آراء 

علامہ بد رالدین عینی لکھتے ہیں : جمہور علماء کی یہ رائے ہے کہ حضرت خضر زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت آدم نے ان کی لمبی زندگی کے لئے دعا کی تھی، ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے آب حیات پی لیا تھا۔ علامہ ابن الصلاح نے کہا ہے کہ جمہور علماء اور صالحین اور عام لوگوں کے نزدیک حضرت خضر زندہ ہیں اور بعض محدثین نے ان کی حیات کا انکار کیا اور یہ قول شاذ ہے، صحیح مسلم میں حدیث دجال میں ہے کہ وہ ایک شخص کو قتل کر کے پھر اس کو زندہ کرے گا اور مسلم کے راوی ابراہیم بن سفیان نے کہا اس شخص کو خضر کہا جائے گا اسی طرح معمر نے بھی اس حدیث کو سند میں بیان کیا ہے امام بخاری، ابراہیم حزبی، ابن مناوی، ابن الجوزی وغیرہ نے حضرت خضر کی حیات کا انکار کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢ ص ٦ مطبوعہ ادارۃ الطباعتہ المنیر یہ مصر، 1348 ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں :

جمہور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر زندہ ہیں اور ہمارے ہاں موجود ہیں۔ یہ امر صوفیہ اور عرفاء کے درمیان متفق علیہ ہے اور صوفیا کی حضرت خضر کو دیکھنے، ان سے ملاقات کرنے ان سے علم حاصل کرنے اور ان سے سوال و جواب کے متعلق حکایات مشہور ہیں اور مقدس مقامات اور مواضع خیر میں ان کے موجود ہونے کے متعلق بیشمار واقعات ہیں۔ (شرح مسلم ج ٢ ص 269، مطبوعہ کراچی 1375 ھ)

علامہ ابی مالکی لکھتے ہیں :

لمبی زندگی ممکن ہے اور حضرت خضر کی حیات کے متعلق بکثرت حکایات ہیں جیسا کہ عنقریب حضرت ام سلمہ کی حدیث میں آئے گا کہ حضرت خضر حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ بتلایا کہ یہ حضرت خضر ہیں اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ ان کی دو بیویاں ہیں ایک سفید اور ایک سیاہ اور وہ رات اور دن ہیں، میرے شیخ نے یہ بیان کیا کہ ایک شخص کی خضر سے ملاقات ہوئی تھی میں نے اس سے کہا حضرت خضر سے ان کی زوجہ کے متعلق سوال کرنا، انہوں نے سوال کیا تو حضرت خضر نے کہا ان کی دو بیویاں ہیں ایک سفید اور ایک سیاہ اور اس میں رات اور دن کا ذکر نہیں ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٦ ص 172، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

حیات خضر کی نفی پر دلائل 

علامہ سید آلوسی لکھتے ہیں :

حضرت خضر کی حیات میں اختلاف ہے ایک جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ حضرت خضر اب زندہ نہیں ہیں۔ امام بخاری سے حضرت خضر اور حضرت الیاس کی حیات کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے کہا وہ کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے وصال سے تھوڑا عرصہ پہلے فرمایا جو لوگ اب روئے زمین پر زندہ ہیں ایک سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٢) اور صحیح مسلم میں حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موت سے پہلے فرمایا جو لوگ اب زندہ ہیں سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا “ (اس حدیث میں چونکہ روئے زمین کی قید نہیں ہے اس لئے اس حدیث میں یہ تاویل نہیں ہوسکتی کہ جب حضور نے یہ فرمایا اس وقت حضرت خضر پانی یا ہوا پر تھے۔ سعیدی غفرلہ) اور یہ حدیث تاویل کی گنجائش نہیں رکھتی، امام بخاری کے علاوہ دیگر ائمہ سے حضرت خضرت کی حیات کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی : وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد ” ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے دوام نہیں کیا۔ شیخ ابن تیمیمہ سے حیات خضر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا اگر حضرت خضر زندہ ہوتے تو ان پر واجب تھا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے اور آپ کے ساتھ جہاد کرتے اور آپ سے علم حاصل کرتے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن یہ فرمایا تھا کہ اے اللہ ! اگر آج یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہیں ہوگی، وہ جماعت تین سو تیرہ افراد پر مشتمل تھی جن کے اسماء اور اس کے آبائو اجداد اور قبائل کے اسماء معروف تھے اس وقت حضرت خضر کہاں تھے ؟ ابراہیم حربی سے حضرت خضر کی بقا کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا حضرت خضر کی حیات کا شوشہ شیطان نے لوگوں میں چھوڑ دیا ہے۔ ” البحر “ میں شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی الفضل مرسی کا قول بھی حضرت خضر کی موت کے متعلق نقل کیا گیا ہے اور علامہ ابن الجوزی نے علی بن موسیٰ رضا (رض) کا حضرت خضر کی موت کے متعلق قول نقل کیا ہے اور ابو الحسین ابن المناوی اس شخص کی مذمت کرتے تھے جو حضرت خضر کو زندہ کہتا تھا۔ 

قاضی ابولیلیٰ نے بعض اصحاب محمد سے حضرت خضر کی موت کو نقل کیا ہے اور حضرت خضر کی زندگی کس طرح معقول ہوگی جبکہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی جمعہ پڑھا، نہ کسی جماعت میں شریک ہوئے، نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی جہاد میں گئے، جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ اشراد ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کے لئے اور کوئی چارہ کار نہ تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :

(آل عمران 81) اور یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا کہ (عظیم) رسول آئے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہو، تو تم ضرور بہ ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور بہ ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا ؟ اور میرے اس بھاری عہد کو قبول کرلیا ؟ سب نے کہا ہم نے اقرار کیا، فرمایا پس گواہ رہنا اور میں خود تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔

اور یہ بات حدیث سے ثابت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمین پر نزول ہوگا تو وہ اس امت کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے، جو شخص حضرت خضر (علیہ السلام) کی زندی کا قائل ہے وہ یہ کیسے بھول جاتا ہے کہ ان کو زندہ ماننے سے یہ لازم آتا ہے کہ انہوں نے اس شریعت سے اعراض کر کے قرآن اور حدیث کی ان نصوص کی مخالفت کی ہے۔ ہمارے نزدیک معقول بات یہ ہے کہ اب خضر (علیہ السلام) زندہ نہیں ہیں کیونکہ جو لوگ ان کی حیات کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت خضر آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے ہیں اور یہ قول دو وجہ سے فاسد ہے :

اول اس لئے کہ اس بنا پر اب ان کی عمر چھ ہزار سال یا اس سے زیادہ ہوگی اور انسانوں کی اتنی لمبی عمر عادۃ بعید ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر وہ حضرت آدم کے صلبی بیٹے ہوں یا چوتھے درجے کے بیٹے ہوں (جیسا کہ بعض دوسروں کا قول ہے) تو ان کی خلقت عجیب و غریب ہوگی اور ان کا طول و عرض غیر معمولی ہوگا، کیونکہ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کا طول ساٹھ ذراع (تیس گز) تھا پھر مخلوق کا قد بہ تدریج کم ہوتا گیا اور جو لوگ حضرت خضر کی حیات کے قائلین ہیں اور ان سے ملاقات کے مدعی ہیں ان میں سے کسی نے ان کی غیر معمولی قامت کا ذکر نہیں کیا، دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر حضرت خضر، حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے تھے تو وہ ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوتے اور یہ کسی نے نقل نہیں کیا۔ (اس دلیل میں ضعف ہے)

تیسری دلیل یہ ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کشتی سے نکلے تو ان کے ساتھ والے سب فوت ہوگئے اور حضرت نوح کی نسل کے سوا کوئی باقی نہیں بچا۔

چوتھی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی بشر کا حضرت آدم کے زمانہ سے لے کر قیامت تک زندہ رہنا صحیح ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ایک عظیم آیت تھی اور قرآن مجید میں اس کا متعدد جگہ ذکر کیا جاتا کہ یہ آیات ربوبیت میں سے ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے جس کو ساڑھے نو سو سال زندہ رکھا اس کا ذکر کیا ہے تو جو اس سے کئی گنا زیادہ زندہ ہے اس کا بہ درجہ اولیٰ ذکر کرنا چاہیے تھا۔

پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی حیات کا قول کرنا، بغیر دلیل شرعی کے اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک قول کرنا ہے اور یہ نص قرآن سے حرام ہے کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو اس پر قرآن مجید، سنت و اجماع امت کی دلالت ہوتی۔

چھٹی دلیل یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) کی حیات پر زیادنہ سے زیادہ جو دلیل دی جاتی ہے وہ چند حکایات منقولہ ہیں کہ فلاں شخص نے حضرت خضر کو دیکھا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ دیکھنے والے نے کس علامت سے یہ پہچان لیا کہ یہ خضر ہیں اور بہت سے دیکھنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں خضر ہوں، لیکن دیکھنے والے نے کس دلیل شرعی سے اس کے قول کی تصدیق کی ؟

ساتویں دلیل یہ ہے کہ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ساتھ مصاحبت نہیں کی اور کہا ھذا فراق بینی وبینک تو جب وہ حضرت موسیٰ ایسے اولوالعزم نبی کے ساتھ مصاحبت پر راضی نہیں تھے تو عوام کے ساتھ ملاقات اور ان کے ساتھ مصاحبت پر کیسے راضی ہوں گے جن میں سے اکثر لوگ غیر متشرع ہوتے ہیں اور طریقت اور معرفت کے دعویدار ہوتے ہیں۔

آٹھویں دلیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی آدمی کہے کہ میں خضر ہوں، اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تو اس کے اس قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا اور وہ حدیث شریعت میں حجت نہیں ہوگی اور جو شخص حیات خضر کا قائل ہے وہ اس حدیث کو یا تو اس وجہ سے نہیں مانے گا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں گیا اور نہ آپ سے بیعت کی یا یہ کہے گا کہ آپ اس کی طرف مبعوث نہیں ہیں اور یہ کفر ہے۔

نویں دلیل یہ ہے کہ اگر خضر زندہ ہوتے تو ان کا کفار کے ساتھ جہاد کرنا اور اسلام کی سرحدوں پر پہرہ دینا، با جماعت نماز پڑھنا اور جمعہ پڑھنا اور امت کے ان پڑھ لوگوں کو عظ کرنا، جنگلوں، صحرائوں اور میدانوں کی سیر و سیاحت سے کئی درجہ افضل ہوتا۔

حیات خضر کے ثبوت پر دلائل 

حضرت خضر (علیہ السلام) کی حیات پر جو دلائل دیئے جاتے ہیں ان میں سے ایک وہ روایت ہے جس کو حاکم نے مستدرک میں حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا اور صحابہ کرام جمع ہوئے اس وقت ایک شخص داخل ہوا جس کی رنگ دار داڑھی تھی وہ گورے رنگ کا ایک جسم آدمی تھا۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا اور رونے لگا پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ہر مصیبت سے اللہ تعالیٰ کی تعزیت ہے اور ہر فوت ہونے والی چیز کا عوض ہے اور ہر ہلاک ہونے والی چیز کا خلیفہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرو اور اللہ تعالیٰ تم کو آزمائش میں دیکھتا ہے اور دیکھو مصیبت زدہ شخص وہ ہے جس پر جبر کیا جائے، حضرت ابوبکر اور حضرت علی (رض) نے کہا ہے خضر (علیہ السلام) تھے۔

ابن عسا کرنے بیان کیا ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس ہر ماہ رمضان میں بیت المقدس میں روزے رکھتے ہیں اور ہر سال حج کرتے ہیں اور زمزم سے اتنا پانی پی لیتے ہیں جو انہیں آنے والے سال تک کے لئے کافی ہوتا ہے۔

ابن عساکر، عقیلی اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت خضر اور الیاس کی ہر سال موسم (حج) میں ملاقات ہوتی ہے اور ہر ایک دور سے کا سرمونڈتا ہے اور پھر وہ یہ کلمات کہہ کر جدا ہوجاتے ہیں : ماشاء اللہ لایسوق الخیر الا اللہ ماشاء اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ 

ابن عسا کرنے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن الخطاب ایک جنازہ کی نماز پڑھا رہے تھے اچانک ایک ہاتف نے پیچھے سے آواز دی اللہ تم پر رحم کرے ہم سے پہلے نماز نہ پڑھنا۔ حضرت عمر نے انتظار کیا حتی کہ وہ شخص صف اول میں آ کر کھڑا پیچھے سے آواز دی اللہ تم پر رحم کرے ہم سے پہلے نماز نہ پڑھنا۔ حضرت عمر نے انتظار کیا حتی کہ وہ شخص صف اول میں آ کر کھڑا ہوگیا۔ حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا اور لوگوں نے اللہ اکبر کہا، ہاتف نے کہا ” اگر تو اس کو عذاب دے تو بہت لوگوں نے تیری نافرمانی کی ہے اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے “ حضرت عمر اور ان کے اصحاب نے اس شخص کی طرف نافرمانی کی ہے اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے “ حضرت عمر اور ان کے اصحاب نے اس شخص کی طرف نافرمانی کی ہے اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے ‘ حضرت عمر اور ان کے اصحاب نے اس شخص کی طرف نافرمانی کی ہے اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے “ حضرت عمر اور ان کے اصحاب نے اس شخص کی طرف نافرمانی کی ہے اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے “ حضرت عمر اور ان کے اصحاب نے اس شخص کی طرف دیکھا، جب میت کو دفن کر کے قبر پر مٹی ڈال دی گئی تو اس نے کہا اے قبر والے ! اگر تو راستہ میں گری ہوئی چیز کا اعلان کرنے والا یا ٹیکس وصول کرنے والا یا خازن یا کاتب یا سپاہی نہیں تھا تو تیرے لئے خوشی ہو، حضرت عمر نے کہا اس شخص کو بلائو ہم اس کی نماز اور اس کے اس کلام کے متعلق اس سے سوال کریں۔ اچانک وہ شخص غائب ہوگیا انہوں نے اس کے قدموں کے نشانات دیکھے تو وہ ایک ایک ہاتھ کے تھے۔ حضرت عمر نے کہا بخدا یہ شخص وہ تھا جس کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بتایا تھا اور یہ استدلال اس پر مبنی ہے کہ جس کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا تھا وہ حضرت خضر تھے۔

اس قسم کی روایات سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت خضر اب بھی زندہ ہیں اگرچہ ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں زندہ تھے اور اس وقت زندہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اب بھی زندہ ہوں، البتہ خصم کا رد کرنے کے لئے یہ روایات کافی ہیں کیونکہ وہ جس طرح اب زندہ نہیں مانتا، اس وقت بھی زندہ نہیں مانتا، ہاں اگر کوئی شخص اس وقت حضرت خضر کو زندہ مانتا ہو اور اب زندہ نہ مانتا ہو تو اس کے لئے یہ روایات کافی نہیں ہیں، لیکن اس قسم کا نظریہ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں (یا وہ لوگ ہیں جو مطلقاً زندہ نہیں مانتے یا وہ ہیں جو مطلقاً زند مانتے ہیں) تابعین اور صوفیا کی حضرت خضر سے ملاقات اور ان سے فیض حاصل کرنے کے متعلق ہر دور میں اس قدر زیاندہ حکایات ہیں جو بیان اور شمار سے باہر ہیں۔ ہاں جو محدثین حضرت خضر کی حیات کے قائل ہیں ان کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت خضر کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی روایت نہیں ہے، جیسا کہ علامہ عراقی نے احیاء العلوم کی احادیث کی تخریج میں تصریح کی ہے اور یہ چیز صوفیہ کے نظریہ کے خلاف ہے کیونکہ شیخ علائو الدین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حضرت خضر سے بلا واسطہ احادیث حاصل کی ہیں۔

حیات خضر کے حق میں اور اس کے خلاف دلائل پر بحث و نظر 

سہروردی نے ” السر المکتوم “ میں ذکر کیا ہے کہ خضر (علیہ السلام) نے ہم کو تین سو احادیث بیان کیں جن کو انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بالمشافہ سنا تھا۔ حیات خضر کے بعض قائلین نے استصحاب سے استدلال کیا ہے، کیونکہ حضرت خضر کی حیات پہلے دلیل سے ثابت ہے اس لئے جب تک دلیل سے اس کا خلاف ثابت نہ ہو حیات ثابت رہے گی، اور امام بخاری کی حدیث (جو لوگ اب روئے زمین پر زندہ ہیں ایک سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا) کا یہ جواب دیا ہے کہ جس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا اس وقت حضرت خضر زمین پر نہیں تھے بلکہ پانی پر تھے نیز یہ حدیث ان لوگوں کے متعلق ہے جن کا عام مشاہدہ ہوتا تھا کیونکہ ملائکہ اور شیطان اس حدیث کے عموم سے خارج ہیں اور اس کا خلاصہ قرن اول ہونا ہے۔ ہاں یہ حدیث ان لوگوں کے رد میں نص ہے جنہوں نے لمبی عمر کا دعویٰ کیا جیسا کہ رتن بن عبداللہ ہندی تبریزی جو ساتویں صدی میں ظاہر ہوا اور اس نے صحابیت کا دعویٰ کیا۔

اس جواب پر یہ اعتراض ہے کہ ” روئے زمین پر “ سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ عرفاً زمین پر رہنے والے ہوں اور یہ معنی ان کو بھی شامل ہے جو اس وقت پانی پر تھے اور اگر یہ معنی مراد نہ لیا جائے تو پھر اس حدیث سے رتن ہندی پر بھی رد نہیں ہوگا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی اس وقت پانی پر ہو، اور دوسرے جواب پر یہ اعتراض ہے کہ اگر حضرت خضر موجود ہوتے تو ان کا مشاہدہ ہوتا جیسا کہ دوسرے انسانوں کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

شیخ ابن تیمیہ نے جو کہا ہے کہ اگر حضرت خضر ہوتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتے اور جہاد کرتے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت اویس قرنی جو خیر التابعین ہیں وہ بھی اس زمانہ میں تھے لیکن وہ حضور کے ساتھ نماز اور جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ اسی طرح نجاشی (رض) کو بھی آپ کی خدمت میں آنا میسر نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت خضر آپ کے پاس آتے تھے اور آپ سے پوشیدہ طور پر علم حاصل کرتے تھے کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کی وجہ سے ظاہر ہونے کا حکم نہیں تھا اور حضرت عبد اللہ بن مبارک بیان کرتے ہیں کہ میں ایک جہاد میں تھا میرا گھوڑا گر کر مرگیا، پھر میں نے ایک حسین و جمیل شخص کو دیکھا جس سے خوشبو آرہی تھی اس نے کہا کیا تم اپنے گھوڑے پر سوار ہونا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں اس نے گھوڑے پر ہاتھ پھیرا اور کچھ دعائیہ کلمات پڑھے اللہ تعالیٰ کے اذن سے وہ گھوڑا اٹھ کر کھڑا ہوگیا، اس شخص نے میری رکاب پکڑ کر کہا اب سوار ہو جائو، میں سوار ہو کر اپنے ساتھیوں سے مل گیا، دوسرے دن ہم نے دشمن پر فتح حاصل کرلی تو میں نے اس شخص کو اپنے سامنے دیکھا، میں نے پوچھا کیا تم کل والے شخص نہیں ہوڈ اس نے کہا کیوں ! میں نے کہا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں بتائو تم کون ہوڈ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اس کے نیچے جو زمین تھی اس پر سبزہ پیدا ہوگیا۔ اس نے کہا میں خضر ہوں، اس روایت سے صراحتہً معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر جہاد کے معرکوں میں شریک ہوتے تھے۔

شیخ ابن تیمیہ نے جو یہ کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن دعا کی تھی ” اے اللہ ! اگر آج یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہیں ہوگی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ظہور، غلبہ اور قوت کے ساتھ تیری عبادت نہیں ہوگی ورنہ مدینہ منورہ وغیرہا میں کئی مسلمان تھے جو جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔

یہ بات واضح ہے کہ حضرت خضر کو اویس قرنی اور نجاشی وغیرہ کی سلک میں منسلک کرنا انصاف سے بعید ہے۔ اگرچہ حضرت خضر پر آپ کے پاس آنا واجب نہیں تھا لیکن جو شخص شب معراج کو تمام انبیاء کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھنامانتا ہے اس کے لئے حضرت خضر کا باوجود کسی ظاہری مانع کے نہ ہونے کے آپ کے پاس نہ آنا بعید از فہم ہے اور یہ دعویٰ کرتا کہ وہ کسی حکمت کی بنا پر خفیہ طریقے سے آتے تھے بلا دلیل ہے اور اگر کوئی حکمت ہوتی تو حضور بتا دیتے۔ جب حضرت جبرائیل وحیہ کلبی کی شکل میں حضور کے پاس آسکتے تھے تو حضرت خضر کے آنے میں کیا اشکال تھا ؟ جب وہ عبداللہ بن مبارک کے ساتھ جہاد میں شریک ہوسکتے تھے اور ان پر اپنے آپ کو ظاہر کرسکتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے جہاد میں شریک ہوئے اور ظاہر ہونے میں کیا اشکال تھا جنگ بدر میں فرشتے شریک ہوئے اور حضور نے ان کی خبر دی تو اگر حضرت خضر شریک ہوئے تو حضو را ن کی خبر بھی بیان کرتے۔

وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد سے جو حیات خضر کی نفی پر استدلال کیا گیا ہے اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ خلد کا معنی دوام ابدی ہے، لیکن اس جواب پر یہ اعتراض ہے کہ خلد کا معنی حقیقت میں مکت طویل ہے اور اس اعتراض کا یہ جواب ہے کہ حضرت نوح کے لئے مکت طویل ثابت ہے۔ بہرحال حیات خضر کی نفی پر اس آیت سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔

حیات خضر کے سلسلہ میں حرف آخر 

تمام بحث و تمحیص کے بعد یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث صحیحہ اور دلائل عقلیہ سے ان علماء کے نظریہ کی تائید اور تقویت ہوتی ہے۔ جو حضرت خضر کی وفات کے قائل ہیں اور ان احادیث کے ظاہر سے عدول کرنے کا کوئی مقتضی نہیں ہے۔ ماسوا ان احکایات کے جو بعض صالحین سے منقول ہیں جن کی صحت کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (روح المعانی ج ١٥ ص ٤٧٤-٤٦١ دارالفکر ١٤١٧ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی حیات خضر پر طویل بحث کی ہے اور جن روایات سے حیات خضر پر استدلال کیا جاتا ہے ان کی اسانید پر جرح کی ہے اور یہ ذکر کیا ہے کہ جمہور علماء حیات کے قائل ہیں اور ان کے دلائل کو رد کیا ہے لیکن اپنا مختار ذکر نہیں کیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت خضر نے آب حیات پی لیا تھا اس لئے وہ عرصہ دراز سے زندہ ہیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا کہ یہ سب اسرائیلی روایات ہیں اور علامہ ابوجعفر مناوی نے ایک کتاب لکھ کر یہ بیان کیا ہے کہ اس قسم کی نقول پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی نقشبندی متوفی 1225 ھ لکھتے ہیں :

یہ اشکال صرف حضرت مجدد الف ثانی (رض) کے کلام سے حل ہوسکتا ہے جب آپ سے حضرت خضر (علیہ السلام) کی حیات اور وفات کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں متوجہ ہوئے اور اس مسئلہ کے انکشاف کی درخواست کی تو آپ نے دیکھا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے۔ حضرت مجدد نے ان سے ان کے حال کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے کہا میں اور الیاس زندوں میں سے نہیں ہیں بلکہ اللہ سبحانہ نے ہماری روحوں کو ایسی قوت عطا فرمائی ہے کہ ہم اجسام میں متشکل ہوجاتے ہیں اور زندہ لوگوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ گم کردہ راہ لوگوں کو راستہ دکھاتے ہیں اور اللہ کی اجازت سے مظلوم کی داد رسی کرتے ہیں اور علم لدنی کی تعلیم دیتے ہیں اور جس کے لئے اللہ چاہتا ہے اس کو نسبت عطا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں الویاء اللہ میں سے اس قطب مدار کا مددگار بنادیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس جہان کا مدار بنادیا ہے اور اس جہان کی بقا اس کے وجود کی برکت اور اس کے فیضان سے ہے، اور اس زمانہ کا قطب یمن کے ملک میں فقہ شافعی کا مقلد ہے اور ہم اس قطب کی اقتدا میں مذہب شافعی کے مطابق نماز پڑھتے ہیں۔

قاضی ثناء اللہ لکھتے ہیں اس کشف صحیح کی وجہ سے تمام اقوال میں تطبیق ہوجاتی ہے اور اشکال دور ہوجاتا ہے وللہ الحمد۔ (التفسیر المظہری جز ٦ ص ٦٢، مطبوعہ بلوچستان بک ڈپو کوئٹہ)

علم لدنی کی تعریف 

اس کے بعداللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو علم (لدنی) عطا فرمایا۔

علم لدنی کی تعریف میں ملا علی قاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

علم ایک نور ہے جو اللہ تعالیٰ مومن کے قلب میں ڈال دیتا ہے۔ یہ علم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال آپ کے افعال اور آپ کے احوال سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اس کے افعال اور احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ علم کسی بشر کے واسطے سے حاصل ہو تو علم کسبی ہے اور اگر یہ علم کسی واسطے کے بغیر حاصل ہو تو یہ علم لدنی ہے اور وحی الہام اور فراست علم لدنی کی اقسام ہیں۔ (مرقات ج ١ ص 264، مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ملتان، 1390 ھ)

علامہ آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

یہ آیت علم لدنی کے اثبات میں اصل ہے۔ علم لدنی کو علم الحقیقتہ اور علم الباطن بھی کہتے ہیں۔ (روح المعانی جز ١٥ ص 476 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ) 

امام محمد بن محمد غزالی متوفی 505 ھ علم المکاشفہ اور علم باطن (علم لدنی) کی تعریف میں لکھتے ہیں :

ہم علم المکاشفہ سے یہ مراد لیتے ہیں حق اس طرح جلی اور واضح ہوجائے گویا کہ ہم اس کا آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب انسان کے دل پر دنیا کے میل کچیل کا زنگ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے احکام کی معرفت پر دل کے آئینہ میں خبیث چیزوں کے جو حجابات ہیں وہ زائل ہوجائیں اور یہ اس وقت ہوگا جب انسان اپنے آپ کو شہوات کی اتباع سے روک لے اور اپنے تمام احوال میں انبیاء (علیہم السلام) کی اقتداء کرے، پھر اس کے دل میں حق روشن ہوجائے گا اور اس پر حقائق منکشف ہوجائیں گے۔ (احیاء العلوم ج ١ ص 26-27، ملحضاً ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1419 ھ)

امام فخر الدین حمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے ان کو اپنے پاس سے علم (لدنی) سکھایا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ علوم ان کو اللہ تعالیٰ سے بغیر واسطہ کے حاصل ہوئے۔ یہ علوم جو بہ طریق مکاشفہ حاصل ہوتے ہیں صوفیاء ان علوم کو علوم لدنیہ کہتے ہیں۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ بعض علوم ہم کو کسب سے حاصل ہوتے ہیں ان میں سے بعض علوم ہم کو بغیر غور و فکر کے حاصل ہوتے ہیں جیسے ہم کو درد اور لذت کا علم ہوتا ہے اور بعض علوم ہم کو غور و فکر سے حاصل ہوتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کا علم اور قیامت کے برحق ہونے کا علم۔

اور بعض علوم وہ ہیں جو ہم کو ریاضت اور مجاہدہ کرنے سے حاصل ہوتے ہیں بایں طور کہ قوت حسیہ اور قوت خیالیہ ضعیف ہوجاتی ہیں اور جب یہ قوتیں ضعیف ہوجاتی ہیں تو قوت عقلیہ قوی ہوجاتی ہے اور انوار الٰہیہ عقل میں روشن ہوجاتے ہیں اور بغیر کسی واسطہ کے اور غیر سعی اور طلب کے علوم اور معارف حاصل ہوجاتے ہیں اور ان کو علوم لدنیہ کہتے ہیں۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ نفوس ناطقہ ماہیت کے اعتبار سے مختل ہوتے ہیں، بعض نفوس انوار الٰہیہ سے روشن ہوتے ہیں۔ ان کا بدنی لذتوں سے بہت کم تعلق ہوتا ہے اور وہ کسی قسم کے گناہ سے بھی ملوث نہیں ہوتے اور ان میں ہر وقت فیضان قدسیہ اور انوارز الٰہیہ کے حصول کی استعداد اور صلاحیت ہوتی ہے۔ پس عالم الغیب سے ان پر علوم اور معارف اور انوار قسدیہ کا مکمل فیضان ہوتا ہے اور علم لدنی اسی کو کہتے ہیں اور سورة کہف کی اس آیت سے بھی یہی مراد ہے اور جو نفوس ناطقہ گناہوں کی آلوگدی سے صاف نہیں ہوتے اور بدنی لذتوں میں ڈوبے رہتے ہیں ان پر علوم اور معارف کا بلاواسطہ فیضان نہیں ہوتا ان کو علوم و معارف کے حصول کے لئے کسی انسان کے واسطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 482-483 ملحضاً ، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ) ہیں تمام ملائکہ، انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کا ملین علوم لدنیہ کے حامل ہیں لیکن ان کے درجات اور مراتب مختلف ہیں۔ اسی طرح علوم لدنیہ کی انواع بھی مختلف ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عالم تشریح کا علم لدنی حاصل تھا اور حضرت خضر (علیہ السلام) کو عالم تکوین کا علم لدنی حاصل تھا۔ عالم تشریع سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ احکام ہیں جن کا انسان مکلف ہے اور جن کا اسے اختیار دیا اور زنا نہ کرنا اور جھوٹ نہ بولنا وغیرہ اور عالم تکوین سے مراد وہ امور ہیں جن میں انسان کا دخل اور اختیار نہیں ہے جیسے قدرتی آفات اور قدرتی انعامات، بارشوں، طوفانوں، زلزلوں، قحط زمین کی زرخیزی وغیرہ کا ہونا یا نہ ہونا، موت، حیات، مرض، صحت اور حادثات وغیرہ کا ہونا یا نہ ہونا۔ یہ تکوینی امور ہیں ان کا علم حضرت خضر کو دیا تھا اور ان کی حکمتوں کا علم بھی دیا گیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شریعت کا علم دیا گیا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے وہ احکام جن پر عمل کر کے انسان دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور یہ دونوں علوم لدنیہ ہیں۔

حضرت خضر (علیہ السلام) کو علم غیب دیئے جانے کی تصریحات 

امام ابوجعفر محمد بن جریر متوفی 310 ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : وکان رجلا یعلم علم الغیب۔ حضرت خضر ایسے شخص تھے جو علم الغیب جانتے تھے۔ (جامع البیان جز ١٥ ص 347، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

امام علی بن احمد نیشا پوری متوفی 450 ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :

قال ابن عباس (رض) عنھما اعطیناہ علما من علم الغیب۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہم نے اس کو علم غیب سے علم عطا فرمایا۔ (الوسیط ج ٣ ص ١٥٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ) 

علامہ ابن عطیہ اندلسی متوفی 546 ھ نے لکھا ہے حضرت خضر کو باطن کا علم دیا گیا تھا۔ (المحرر الوجیز ج 10 ص 425، مطبوعہ المکتبتہ التجاریہ مکہ مکرمہ، 1407 ھ)

علامہ قرطبی مالکی اندلسی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے : ہم نے ان کو علم الغیب کی تعلیم دی تھی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 10 ص 391، مطبوعہ دارالفکر، 1415 ھ) قاضی بیضاوی متوفی 685 لکھا ہے۔ ان کو ان علوم کی تعلیم دی تھی جو ہمارے ساتھ مخص ہیں اور جن کا علم ہماری توفیقف کے بغیر نہیں ہوتا اور وہ علم الغیوب ہے۔ (تفسیر البیضاوی مع عنایتہ القاضی ج ٦ ص 205-206 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1412 ھ)

علامہ ابوالسعود محمد بن محمد عمادی حنفی متوفی 982 ھ لکھتے ہیں : یعنی وہ علم سکھایا جس کی کنہ کو جانا نہیں جاسکتا نہ ان کی مقدار کا اندازہ ہوسکتا ہے اور وہ علم الغیوب ہے۔ (تفسیر ابی السعود ج ٤ ص 203، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1416 ھ) 

شیخ محمد بن علی بن محمد شوکافی متوفی 1250 ھ لکھتے ہیں : اللہ سبحانہ نے ان کو اس علم غیب سے تعلیم دی جو اس کے ساتھ خاص ہے۔ (فتح القدیر ج ٣ ص 412-413، مطبوعہ دار الوفا بیروت، 1418 ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ نے لکھا ہے وہ علم الغیوب اور اسرار العلوم الحنفیہ ہیں۔ (روح المعانی جز ١٥ ص 475، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

نواب صدیق حسن خاں متوفی 1307 ھ لکھتے ہیں :

ہم نے ان کو اس غیب سے تعلیم دی جو ہمارے ساتھ مختص ہے (الی قولہ) حضرت موسیٰ کو احکام شرعیہ اور ظاہر قضا کا علم دیا گیا تھا اور حضرت خضر کو بعض غیب کا علم دیا گیا تھا اور بواطن کی معرفت کا۔ (فتح البیان جز ٨ ص 81-80 مطبوعہ المکتبہ العصریۃ 1415 ھ)

شریعت طریقت اور حقیقت کی تعریفیں 

علامہ ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے جو احکام مقرر کئے وہ شریعت ہے۔ (النہایہ ج ٢ ص 413، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ) 

زیادہ بہتر تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو احکام مقر کئے وہ شریعت ہے، پس حلال حرام، فرض، واجب، سنن اور مستحبات، اسی طرح مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ یہ سب شریعت ہیں۔ شرع کا معنی ہے راستہ، اللہ اور اس کے رسول نے بندوں کے عمل کرنے اور بعض اعمال سے رکنے کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے وہ شریعت ہے۔ 

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی 716 ھ لکھتے ہیں :

جوسیرت ان لوگوں کے ساتھ مختص ہے جو اللہ کی طرف چلتے ہیں، منازل طے کرتے ہیں اور مقامات میں تریق کرتے ہیں وہ طریقت ہے۔ (التعریفات ص 101، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)

اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی شیخ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے وہ اس سے پچھلے گناہوں پر توبہ کراتا ہے اور آئندہ کے لئے اس سے اس پر بیعت لیتا ہے کہ وہ دائماً گناہوں سے مجتنب رہے گا۔ تمام فرئاض اور واجبات ادا کرے گا، جو فرائض اور واجبات چھوٹ گئے ہیں ان کو قضا کرے گا اور ان کلمات کے ساتھ استغفار کرے گا اور اس طرح اور اند اور وظائف پڑھے گا اور اس طرح اور اتنے نوافل پڑھے گا ذکر بالسریا ذکر بالجبر کرے گا اس کو سلوک کہتے ہیں اور اس پر عمل کرنے والے کو سالک کہتے ہیں۔ اس سلوک پر عمل کرنے سے اس کے دل سے گناہوں کا زنگ اتر جاتا ہے اور غفلت کے حجابات زائل ہوجاتے ہیں اور وہ دن بہ دن اس راہ میں ترقی کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کو معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ معرفت کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ کرتا ہے حتیٰ کہ اس دنیا میں جو بھی واقعہ یا حادثہ رونما ہو وہ اس کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے جوڑ لیتا ہے اور اس پر منکشف ہوجاتا ہے کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی فلاح صفت کا ثمرہ ہے۔ سو سالکین کی اس سیرت کو طریقت کہتے ہیں۔

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں :

حقیت کا باطن شریعت اور طریقت میں ہے جیسا کہ مکھن کا باطن دودھ میں ہے جس طرح جب تک دو جھ کو بلویا نہ جائے اس سے مکھن حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح جب تک شریعت اور طریقت پر عمل نہ کیا جائے اس وقت تک حقیقت تک رسائی نہیں ہوسکتی۔ (روالمختارج ٦ ص 289-290 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

ملا علی قاری متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

ظاہر احکام پر عمل کرنا شریعت ہے اور یہ عام لوگوں کے لئے ہے اور شریعت کے باطن پر عمل کرنا طریقت ہے اور یہ خاص لوگوں کے لئے منہاج ہے اور شریعت کا خلاصہ حقیقت ہے اور یہ اخص الخواص کی معراج ہے۔ شریعت کا تعلق ابدان اور اجسام سے ہے اور طریقت کا تعلق دلوں سے ہے، یعنی دلوں میں علوم اور معرفت کا حصول اور حقیقت کا تعلق ارواح سے ہے یعنی حق کو دیکھنا اور اس کا مشاہدہ کرنا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حقیقت مشاہدہ ربوبیت ہے۔ (مرقات ج ١ ص 248، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، 1390 ھ) 

علامہ ابن حجر ھیتمی مکی متوفی 974 ھ لکھتے ہیں : حقیقت اسرار ربوبیت کے مشاہدہ کو کہتے ہیں۔ (فتاویٰ حدیثیہ ص 408، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت 1419 ھ) 

امام ابو القاسم عبدالکریم بن ھوازن قشیری متوفی 465 لکھتے ہیں :

شریعت التزام عبودیت ہے اور حقیقت مشاہدہ ربوبیت ہے، پس ہر شریعت جس کی حقیقت سے تائید نہ ہو وہ غیر مقبول ہے اور ہر حقیقت جو شریعت سے مقید نہ ہو وہ بھی غیر مقوبل ہے۔ شریعت میں مخلوق کو مکلف کرنا ہے اور حقیقت میں حق کے تصرفات کی خبر دینا ہے۔ شریعت یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کا مشاہدہ رو۔ شریعت میں ظاہر احکام پر قائم رہنا اور حقیقت میں قضا و قدر اور ظاہر اور مخفی چیزوں کا مشاہدہ کرنا ہے۔ (الرسالتہ القشیر یہ ص 118، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 65