أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِفَتٰٮهُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِىَ حُقُبًا۞

ترجمہ:

اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں مسلسل چلتا رہوں گا حتی کہ میں دو سمندروں کے سنگم پر پہنچ جائوں یا سالہا سال تک چلتا رہوں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں مسسلل چلتا رہوں گا حتی کہ میں دو سمندروں کے سنگم پر پہنچ جائوں یا سالہا سال تک چلتا رہوں گا (الکھف :60)

ربط آیات 

اصحاب کہف کے مفصل قصہ کے بعد یہ دوسرا قصہ ہے جس کو اس سورت میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس قصہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس علم حاصل کرنے گئے ہرچند کہ یہ ایک مفصل قصہ ہے لیکن اس کا گزشتہ آیات کے ساتھ ربط ہے۔ گزشتہ آیات میں ان متکبرین قریش کا رد کیا گیا تھا جو فقراء مسلمین کے ساتھ بیٹھنے میں اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بہت برگزیدہ اور اولوالعزم بنی تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت علم عطا فرمایا تھا، کثیر معجزات دیئے تھے اور بہت عزت اور جاہت عطا فرمائی تھی اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حصول علم کی غرض سے حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس جانے میں عار نہیں سمجھا اور اس کو اپنی شان اور فضیلت کے خلاف نہیں گردانا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنا مذموم ہے اور امراء قریش نے تکبر کی وجہ سے فقراء مسلمین کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر کے اپنا ہی نقصان کیا کیونکہ اس تکبر کی وجہ سے وہ اسلام قبول کرنے سے محروم ہوگئے۔

اس آیت میں حضرت موسیٰ اور ان کے شاگرد یوشع بن نون کا ذکر ہے اور حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کے لئے مجمع البحرین جانے کا ذکر ہے۔ اس لئے ہم پہلے حضرت موسیٰ کا تعارف پیش کریں گے۔ پھر حضرت یوشع بن نون کا تعارف پیش کریں گے۔ پھر حضرت خضر (علیہ السلام) کا ذکر کریں گے اور مجمع البحرین کا مصداق بیان کریں گے۔ پھر اس ملاقات کی غرض اور غایت کو بیان کریں گے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعارف 

حضرت موسیٰ کا نام و نسب اور عمر کا بیان 

علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب یہ ہے : موسیٰ بن عمران بن صیر بن قابت بن لادی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام، جب حضرت موسیٰ پیدا ہوئے تو ان کے والد عمران کی عمر ستر سال تھی اور وہ ایک سو سینتیس سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی۔ فربری کا قول ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو ساٹھ سال تھی۔ آپ کی وفات میدان تیہ میں ہوئی، جب بنو اسرائیل مصر سے نکلے اس وقت حضرت موسیٰ کی عمر اسی سال تھی، جب ریان بن ولید فوت ہوگیا جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر کے خزانوں کا والی مقرر کیا تھا وہ حضرت یوسف کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا تھا، اس کے بعد قابوس بن مصعب بادشاہ ہوا۔ حضرت یوسف نے اس کو اسلام کی دعوت دی اس نے انکار کردیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) فوت ہوگئے۔ آپ کے کافی عرصہ بعد وہ مرگیا اور اس کا بھائی ولید بن مصعب بن ریان بادشاہ ہوا۔ اس کی حکومت کافی عرصہ رہی اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون کا زمانہ آیا اس سے زیادہ لمبی عمر کا کوئی فرعون نہیں گزرا۔ اس کی عمر چار سو سال تھی۔ (عمدۃ القاری ج ٢ ص 60، مطبوعہ ادارۃ الطباعتہ المنیر یہ مصر، 1338 ھ)

حضرت یوشع بن نون کا تعارف 

حافظ ابن کثیر و مشقی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں، حضرت یوشع بن نون کا نسب یہ ہے۔ یوشع بن نون بن افرایم بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل علیہم السلام۔ قرآن مجید میں ان کا کئی جگہ ذکر ہے : اذ قال موسیٰ لفتہ (الکھف :60) فلما جاوزا قال فتہ (الکھف :62) جب ان دونوں نے اس جگہ سے تجاوز کیا تو موسیٰ نے اپنے فتی (شاگرد) سے کہا ان دونوں آیتوں میں فنی سے مراد حضرت یوشع بن نون ہیں جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ یو شع بن نون کی نبوت پر تمام اہل کتاب کا اتفاق ہے کیونکہ ان کی ایک جماعت جس کا نام السامرہ ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یوشع بن نون کے سوا کسی نبی کی نبوت کا اقرار نہیں کرتی، کیونکہ ان کی نبوت کی تورات میں تصریح ہے۔ وہ ان کے علاوہ دوسرے انبیاء کی نبوت کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے رب کی جانب سے برحق نبی ہیں۔ سو قیامت تک ان پر مسلسل لعنت ہوتی رہے گی۔ (البدایہ و النہلیۃ : ج ١ ص 421) (مسند احمد رقم الحدیث :10904 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انبیاء میں سے ایک نبی جہاد کو جانے لگے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جس کی ابھی شادی ہوئی ہو اور وہ شب زفاف گزارنا چاہتا ہو اور نہ وہ شخص جائے جو مکان بنا رہا ہو اور ابھی اس نے مکان کی چھت بلند نہ کی ہو اور نہ وہ شخص جائے جس کی بکریاں ہوں یا حاملہ اونٹٹنیاں ہوں اور وہ ان کے بچے پیدا ہونے کا منتظر ہو، پھر وہ جہاد کے لئے گئے۔ نماز عصر کے وقت وہ بستی کے قریب پہنچ گئے تو انہوں نے سورج سے کہا تم بھی حکم کے پابند ہو اور میں بھی حکم کا پابند ہوں۔ اے اللہ ! تو سورج کو تھوڑی دیر روک لے سو، سورج کو روک لیا گیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کردی۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1747، صحیح البخاری رقم الحدیث :3144)

اس حدیث میں جو فرمایا ہے کہ انبیاء میں سے ایک نبی جہاد کے لئے گئے اس سے مراد حضرت یوشع بن نون ہیں۔

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے رد شمس کی حدیث پر حافظ ابن حجر کی تحقیق 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

یہ نبی یوشع بن نون ہیں جیسا کہ امام حاکم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سورج کو صرف حضرت یوشع بن نون کے لئے روکا گیا تھا جن راتوں میں انہوں نے بیت المقدس کی طرف سفر کیا تھا۔ (مسند احمد رقم الحدیث :8322، مطبوعہ دارالفکر بیروت)

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوگا کہ مغازی ابن اسحاق میں ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کو یہ خبر دی کہ صبح کو وہ قافلہ آجائے گا جس کو آپ نے شب معراج دیکھا تھا۔ سورج طلوع ہوگیا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے سورج کو ٹھہرا لیا حتیٰ کہ قافلہ آگیا، لیکن اس کی سند منقطع ہے اور امام طبرانی کی معجم اوسط میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج کو حکم دیا تو وہ ایک گھنٹہ تک ٹھہرا رہا اور ان میں تطبیق اس طرح ہے حضرت یوشع بن نون کی حدیث میں انبیاء سابقین کے اعتبار سے حصر ہے یعنی انبیاء سابقین میں حضرت یوشع بن نون کے سوا اور کسی کے لئے سورج کو نہیں ٹھہرایا گیا اور اس میں اس کی نفی نہیں ہے کہ بعد میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سورج ٹھہرایا جائے اور امام طحاوی اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بیہقی نے دلائل النبوت میں اور امام حاکم نے حضرت اسماء بنت عمیس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام صہباء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر حضرت علی کو کس کام سے بھیجا۔ حضرت علی جب واپس آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھ چکے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی کے زانو پر سر رکھ کر سو گئے۔ حضرت علی (رض) نے آپ کو بلایا نہیں حتی کہ سورج غروب ہوگیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی اے اللہ ! بیشک تیرا بندہ لعی اپنے نبی کی خدمت میں مشغول تھا تو اس پر سورج لوٹا دے۔ تو اللہ نے ان پر سورج لوٹا دیا۔ حضرت اسماء نے کہا پھر سورج طلوع ہوا حتیٰ کہ پہاڑوں اور زمین پر بنلد ہوگیا۔ حضرت علی اٹھے اور انہوں نے وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی پھر سورج غروب ہوگیا۔ یہ صہباء (خیبر کے قریب ایک جگہ) کا واقعہ ہے۔ (المعجم الکبیر : ج 24 ص 144-45، رقم الحدیث :382، مشکل الآثار جز ٤ ص 268-269 رقم الحدیث :3850, 3851 مجمع الزوائد ج ٨ ص 297، اتحاف ج ٧ ص 191، الشفاء ج ١ ص 215، دارالفکر)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کو حاکم اور بیہقی کی دلائل النبوت کے حوالے سے بھی کلھا ہے لیکن ان کتابوں میں یہ حدیث نہیں ہے۔ حافظ عسقلانی لکھتے ہیں یہ بہت عظیم معجزہ ہے اور ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کر کے خطا کی ہے اور ابن تیمیہ نے بھی اس حدیث کو کتاب الرد علی الروافض میں درج کر کے اس کو موضوع لکھا یہ اس کی بھی خطا ہے۔ (اسی طرح حافظ ابن کثیر نے بھی اس حدیث کو منکر لکھا ہے۔ لابدایہ والنہایہ ج ١ ص 426، دارالفکر بیروت اور یہ ان کی بھی خطا ہے۔ ) (فتح الباری ج ٦ ص 247، 246 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1420 ھ)

حدیث رد شمس پر حافظ سیوطی اور حافظ سخاوی کی تحقیق 

حافظ سیوطی متوفی 911 ھ نے اس حدیث کو نوسندوں سے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں پر اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں۔ (اللالی المصنوعہ ج ١ ص 312، 310، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)

علامہ محمد بن ابراہیم السخاوی متوفی 902 ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

امام احمد نے کہا اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ امام ابن جوزی نے بھی ان کی پیروی کی اور اس حدیث کو موضوعات ابن شاہین نے اس حدیث کو حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے روایت کیا ہے اور امام ابن مندہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح نبی اللہ تعالیٰ کے لئے اس وقت بھی سورج کو لوٹایا گیا تھا جب آپ نے اپنی قوم کو شب معراج ان کے اقفلے کے آنے کی خبر دی تھی اور یہ کہ وہ قافلہ فلاں دن آجائے گا پس اس صبح قریش اس قافلے کو دیکھ رہے تھے۔ دن چڑھ گیا اور قافلہ نہ آیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تو دن میں ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا اور سورج کو روک دیا گیا۔ اس حدیث کے راوی نے کہا ہے کہ اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سورج کو روکا گیا تھا اور کسی کے لیء سورج کو سورج ڈھلنے لگا اور ان کو یہ خطرہ ہوا کہ ان کے جنگ سے فارغ ہونے سے پہلے سورج غروب ہوجائے گا اور ہفتہ کا دن داخل ہوجائے گا اور پھر ان کے لئے جبارین سے قتال کرنا ج ائز نہیں رہے گا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر سورج کو لٹوا دیا۔ (المقاصد الحسنتہ ص 236، رقم الحدیث :519، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1407 ھ)

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی متوفی 1162 ھ نے کچھ اضافے کے ساتھ یہی لکھا ہے۔ (کشف الخفا و مزیل الالباس، ج ١ ص 220 مکتبتہ الغزالی دمشق)

حدیث رد شمس پر علامہ زبیدی کی تحقیق 

علامہ سید محمد بن محمد الزبیدی الخفی المتوفی 1205 ھ لکھتے ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشہور معجزات میں سے یہ ہے کہ آپ کے لئے سورج کو لوٹایا گیا۔ حافظ ابوجعفر طحاوی نے مشکل الآثار میں اور امام ابن مندہ اور امام ابن شاہین نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسناد حسن کے ساتھ حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صہباء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر حضرت علی (رض) کو کسی کام سے بھیجا وہ کام کر کے آگئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماپز ڑھ چکے تھے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ بیشک تیرا بندہ لعی اپنے نبی کی خدمت میں مشغول تھا پس اللہ نے اس پر سورج لوٹا دیا حتیٰ کہ سورج پہاڑوں اور زمین پر ٹھہر گیا۔ حضرت علی اٹھے انہوں نے وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی اور سورج غروب ہوگیا، یہ صہباء کا واقعہ ہے۔ اس حدیث کا دوسرا متن یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوتی تو آپ اپنے اوپر کپڑا اوڑھ لیتے۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی اس وقت آپ نے حضرت علی کے زانو پر سر رکھا ہوا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے کہا کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ان پر سورج لوٹا دیا حتی کہ حضرت علی نے عصر کی نماز پڑھ لی۔ حضرت اسماء کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سورج غروب ہونے کے بعد طلوع ہوگیا۔ امام طحاوی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور قاضی عیاض نے ان سے اس حدیث کو الشفاء میں نقل کیا ہے اور امام طحاوی کی تصحیح کو برقرار رکھا ہے اور کہا ہے یہ سب معجزات نبوت سے ہیں۔ امام طحاوی نے لکھا ہے کہ امام احمد بن صالح یہ کہتے ہیں کہ جس شخص کا مقصد علم ہو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت اسماء کی حدیث کو حفظ کرے کیونکہ یہ نبوت کی علامات میں سے ہے۔

امام ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے تخریج رافعی میں امام احمد سے یہ نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور ابن تیمیمہ نے ان کی پیروی کی ہے اور روافض کے رد میں جو رسالہ لکھا ہے اس میں یہ تصریح کی ہے کہ یہ موضوع ہے اور ابن جوزی نے یہ کہا ہے کہ اس کی سند میں احمد بن دائود ہے۔ دارقطنی نے اس کے متعلق کہا ہے وہ متروک الحدیث ہے اور کذاب ہے، اور ابن حبان نے کہا ہے وہ حدیث وضع کرتا تھا، پھر ابن الجوزی نے کہا یہ حدیث باطل ہے اور جس نے اس کے موضوع ہونے سے غفلت کی اس نے اس میں محض فضیلت کی صورت کو دیکھا۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور سورج غروب ہونے کے بعد نماز قضا ہوجائے گی اور سورج کے لوٹ آنے سے وہ نماز ادا نہیں ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ابن الجوزی کی غلطی ہے، اس پر حافظ سیوطی اور حافظ سخاوی رد کرچکے ہیں اور اہل علم کو معلوم ہے کہ ابن الجوزی احادیث صحیحہ کو احادیث موضوعہ میں درج کردیتے ہیں اور اس پر ان کے معاصر اور ان کے بعد کے بکثرت علماء نے رد کیا ہے۔ جیسا کہ حافظ عراقی نے نکت ابن الصلاح میں نقل کیا ہے اور اس حدیث کو متعدد حفاظ نے صحیح کہا ہے حتیٰ کہ حافظ سیوطی نے کہا ہے کہ اس حدیث کا متعدد اسانید کے ساتھ مروی ہونا اس کی صحت پر شاہد ہے اس لئے ابن الجوزی کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اور ابن حدیث کا متعدد اسانید کے ساتھ مروی ہونا اس کی صحت پر شاہد ہے اس لئے ابن الجوزی کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور ابن الجوزی کا یہ کہنا کہ اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ سورج کے لوٹنے سے الجوزی کا یہ کہنا کہ اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں فائدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سورج کے لوٹنے سے الجوزی کا یہ کہنا کہ اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں فائدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سورج کے لوٹنے سے الجوزی کا یہ کہنا کہ اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں فائدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سورج کے لوٹنے سے وقت لوٹ آتا ہے اور رہا اس کا یہ کہنا کہ سورج کا لوٹ آنا قضا نماز کو ادا نہیں بناتا اس کا حافظ ابن حجر نے شرح ارشاد میں یہ جواب دیا ہے کہ جب سورج غروب ہو اور پھر لوٹ آئے تو اس کے لوٹ آنے سے وقت بھی لوٹ آئے گا اور اس کی دلیل یہ جواب دیا ہے کہ جب سورج غروب ہوا اور پھر لوٹ آئے تو اس کے لوٹ آنے سے وقت بھی لوٹ آئے گا اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے، اور شہاب الدین خفا جی نے شرح الشفاء میں لکھا ہے کہ اگر سورج کے لوٹنے کے بعد بھی یہ نماز قضا ہی رہتی تو پھر سورج کے لوٹانے کا کیا فائدہ تھا، کیونکہ یہ نماز ایک عذر کی بنا پر قضا ہوئی تھی اور وہ عذر یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند میں خلل نہ ڈالا جائے اور یہ فضیلت ہے اور جب وہ نماز لوٹائی گی تو وہ فضیت حاصل ہوگئی اور دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ یہ نماز ادا ہوئی تھی۔ عالمہ نے معجم اوسط میں حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج کو حکم دیا تو وہ ایک گھنٹہ مئوخر ہوگیا۔

اور یونس بن بکیر نے زیادۃ المغازی میں ان اسحاق سے روایت کیا ہے کہ جب نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج کرائی گئی اور آپ نے اپنی قوم کو اس کی علامتوں کی خبردی تو انہوں نے پوچھا اور قافلہ کب آئے گاڈ آپ نے فرمایا، بدھ کے دن، جب وہ دن کی مقدار میں ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا اور سورج کو محبوس (ٹھہرا) کردیا گیا اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں ہے کہ حضرت یو شع بن نون کے سوا کسی کے لئے سورج کو نہیں ٹھہرایا گیا جب انہوں نے جمعہ کے دن جبار بن سے قتال کیا تھا، کیونکہ یہ جواب دیا جائے گا کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ انبیاء سابقین میں سے حضرت یوشع بن نون کے سوا کسی کے لئے سورج کو نہیں ٹھہرایا گیا۔ (اتحاف ج ٧ ص 191-192، مبطوبعہ دارالحیاء التراث العربی الحدیث 1414 ھ)

حدیث رد شمس پر علامہ ابن جوزی کے اعتراضات کے جوابات 

حضرت اسماء بنت عمیس کی حدیث کی سند پر علامہ ابن جوزی نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کے حسب ذیل جوابات ہیں۔

علامہ ابو الحسن علی بن محمد بن عراقی الکنانی المتوفی 963 ھ لکھتے ہیں :

علامہ ابن جوزی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند میں فضیل بن مرزوق ہے اور اس کو یحییٰ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ دوسری سند میں ابن عقدہ ہے اور راضی ہے اس پر کذب کی تہمت ہے، نیز اس سند میں عبدالرحمٰن بن شریک ہے اس کے متعلق ابو حاتم نے کہا ہے کہ یہ ضعیف الحدیث ہے نیز یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے بھی مرو ہے اس کی سند میں دائود بن فراھیج ہے۔ اس کو شعبہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

علامہ ابن جوزی کے ان اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ فضیل بن مرزوق ثقہ اور بہت زیادہ سچا راوی ہے۔ صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے مصنفین نے اس سے استدلال کیا ہے اور عبدالرحمان بن شریک کی ابو حاتم کے علاوہ دوسررے ائمہ نے توفیق کی ہے اور امام بخاری نے کتاب الادب میں اس سے روایت کیا ہے، اور ابن عقدہ بہت بڑے حفاظ میں سے ہیں اور ان کی جرح اور تعدیل میں لوگوں کا اختلاف ہے، اور جن لوگوں نے ان پر حدیث وضع کرنے کی تہمت لگائی ہے ان کی امام دار قطعنی نے تکذیب کی ہے۔ حمزہ السھی نے کہا ان پر واضح کی تہمت کوئی طبلچی ہی لگا سکتا ہے اور دائود بن فراھیج کی ایک قوم نے توثیق کی ہے۔ پھر اس حدیث کو ائمہ اور حفاظت کی ایک جماعت نے صحیح کہا۔ ان میں سے امام طحاوی ہیں اور امام سیوطی نے اس حدیث کی اسانید کے تتبع میں ایک راسلہ لکھا ہے جس کا نام کشف اللبیس فی حدیث رد الشمس ہے اور اس رسالہ کو اور امام شافعی کے اس قول پر ختم کیا جا ہے کہ جس نبی کو بھی کوئی معجزہ دیا گیا ہمارے نبی کو اس جیسا یا اس سے بڑا معجزہ دیا گیا۔ (علامہ کتانی نے بہت طویل بحث کی ہے لیکن ہم نے ان کا جتنا کلام نقل کیا ہے کہ وہ بحث کو سمجھنے کے لئے ہے۔ ) (تنزیہہ الشریعتہ الرفوعۃ ج ١ 378-369 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1401

حدیث رد شمس پر حرف آخر 

ہم نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سورج کو ٹھہرانے یا لوٹنانے کے متعلق بہت طویل اور مفصل گفتگو کی ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں بھی بعض متشدد علماء ان جوزی، ابن تیمیہ اور ابن کثیر کی اتباع میں معجزہ ردا الشمس کا انکار کرتے ہیں چناچہ سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں :

حضرت علی کے متعلق جو روایات سے بیان کی جاتی ہے ان کے تمام طریق اور جال پر بحث کر کے ان تییمیہ نے اس کو 

حضرت علی کے متعل جو روایات بیان کی جاتی ہیں ان کے تمام طرق اور جال بحث کر کے واپسی والی روایت بھی بعض محدثین کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک موضوع ہے۔ (اتفہیم القرآن ج ٤ ص 334، مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور، مارچ 1983 ء )

البتہ جسٹس تقی عثمانی نے اس بحث میں انصاف سے کام لیا ہے وہ لکھتے ہیں :

اور رہے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو امام طحاوی نے مشکل الآثار میں اور امام طبرانی نے کبیر میں اور حاکم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت اسماء بنت عمیس سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) کے گھٹنے پر سر رکھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے اور ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی سو، سورج کو لوٹا دیا گیا حتیٰ کہ حضرت علی (رض) نے نماز پڑھ لی پھر سورج غروب ہوگیا۔ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا ہے اور ابن تیمیمہ نے کتاب الردعلی الروافض میں لیکن حافظ ابن حجر نے اسے ان دونوں کی خطا قرار دیا ہے۔ (تکملہ فتح الملھم ج ٣ ص 47، مطبوعہ مکتبہ دارالعلوم کراچی 1414 ھ)

جسٹس تقی عثمانی نے صرف حافظ ابن حجر کی عبارت نقل کرنے پر اکتفاء کی ہے خود تتبیع نہیں کیا ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ حاکم اور بیہقی نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔

حضرت یوشع بن النون کو فتیٰ فرمانے کی توجیہ 

اس آیت میں فرمایا ہے جب موسیٰ نے اپنے فتیٰ سے کہا، ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ فتیٰ سے مراد حضرت یوشع بن نون ہے۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : اس لفظ کا معنی ہے نوجوان لڑکا یا لڑکی، غلام اور باندی کو بھی فتیٰ کہا جاتا ہے۔ (المفردات ج ٢ ص 482، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1418 ھ)

علماء کے اس کے متعلق تین قول ہیں :

(١) حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تھے اور ان کی خدمت کرتے تھے اور کلام عرب میں فتیٰ جوان آدمی کو کہتے ہیں اور چونکہ عام طور پر خدمت جوان آدمی کرتے ہیں اس لئے بہ طور ادب خادم کو فتیٰ کہتے ہیں۔ شریعت میں بھی خادم پر فتیٰ کا اطلاق مستحب ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص میرا بندہ یا میری بندی ! نہ کہے تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں، لیکن تمہیں کہنا چاہیے میرا غلام یا میری کنیز یا میرا فنی یا میری فتاۃ (میرا خادم بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں، لیکن تمہیں کہنا چاہیے میرا غلام یا میری کنیز، یا میرا فنی یا میری قتاۃ (میرا خادم یا میری خادمہ) (صحیح مسلم رقم الحدیث :2249، سنن ابودائود رقم الحدیث :4975)

اس سے پہلے سورة یوسف کی تفسیر میں بھی یہ بحث گزر چکی ہے اور اس آیت میں فتیٰ سے مراد یوشع بن نون بن افراثیم بن یوسف (علیہا السلام) ہیں۔

(٢) حضرت یوشع کو حضرت موسیٰ کا فتیٰ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے ان کی خدمت میں لازماً حاضر رہتے تھے۔ ہرچند کہ وہ اصل میں آزاد تھے۔

(٣) ان کو فتیٰ اس لئے فرمایا کہ وہ غلام کے قائم مقام تھے قرآن مجید میں ہے :

وقال لیفتینہ اجعلوا بضاعتھم فی رجالھم (یوسف 62) اور یوسف نے اپنے نوکروں سے فرمایا ان کی پونجی ان کی بوریوں میں رکھ دو ۔

حضرت خضر کا نام، لقب اور کنیت 

ابن قتیبہ نے معارف میں وہب بن منبہ کی روایت کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت خضر کا نام بلیا ہے۔ ابو حاتم سجستانی نے کہا ہے کہ ان کا نام خضرون ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام ارمیاہ ہے۔ مقاتل نے کہا ان کا نام الیسع ہے کیونکہ حضرت خضر کا علم سات آسمانوں اور سات زمینوں کو محیط ہے، لیکن پہلا قول مشہور ہے۔ یہ لفظ خضر اور خضر دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔ ان کو جو خضر کا لقب دیا گیا ہے اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ جب یہ زمین پر بیٹھتے تو اس زمین پر سبزہ اگ جاتا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کے بیٹھنے سے خشک گھاس ہری ہوجاتی تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ جب یہ نماز پڑھتے تو اردگرد سبز ہوجاتا تھا۔ ان کی کنیت ابوالعباس ہے۔

حضرت خضر کا نسب یہ ہے : بلیا بن ملکان بن فالغ بن عابربن شالخ بن ارفحشد بن سام بن نوح (علیہ السلام) ۔

مجمع البحرین کا مصداق 

اس آیت میں فرمایا ہے حضرت موسیٰ نے کہا میں مسلسل چلتا رہوں گا حتیٰ کہ میں مجمع البحرین (دو سمندروں کے ملنے کی جگہ) پہنچ جائوں۔ مجمع البحرین کے متعلق مفسرین کی حسب ذیل آراء ہیں :

امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ نے لکھا ہے کہ قتادہ اور مجاہد سے مروی ہے یہ دو مسندر ہیں بحر فارس اور بحر روم۔ بحر روم مغرب کے قریب ہے اور بحر فارس مشرق کے قریب ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :17462، 17461، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1315 ھ)

امام رازی نے لکھا ہے مجمع البحرین، بحر فارس اور بحر روم کے ملنے کی جگہ ہے اور بعض علماء نے کہا ہے اس سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے ملنے کی جگہ ہے کیونکہ حضرت موسیٰ بحر شریعت تھے اور حضرت خضر بحر طریقت تھے اور مجمع البحرین ان دونوں کے ملنے کی جگہ تھی۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 479 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس مقام کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے نہیں ہوسکی تاہم قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے مراد صحرائے سینا کا وہ جنوبی راس ہے جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویس دونوں آ کر ملتے ہیں اور بحر احمر میں ضم ہوجاتے ہیں۔

حقبا کے معنی 

علامہ حسن بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :

حقبا کا معنی ہے دہر ایک قول یہ ہے کہ حقب اسی (80) سال کو کہتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ زمانہ کی غیر معینہ مدت کے حقب کہتے ہیں۔ (المفردات ج ۃ س 166، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک میں مجمع البحرین نہیں پہنچ جائوں گا چلتا ہی رہوں گا اور اپنا سفر جاری رکھوں گا خواہ کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے۔

مجمع البحرین کی طرف سفر کا سبب اور حضرت خضر اور حضرت موسیٰ کی تعیین 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کی اور حربن قیس فزاری کی اس میں بحث ہوئی کہ حضرت موسیٰ کس سے ملنے گئے تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا وہ خضر تھے۔ ان کے پاس سے حضرت ابی بن کعب گزرے۔ حضرت ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا میری اور میرے اس ساتھی کی اس میں بحث ہوئی کہ حضرت موسیٰ کا وہ کون صاحب تھا جس سے ملاقات کا انہوں نے سوال کیا تھا، کیا آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں تھے تو ایک شخص نے سوال کیا، کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے بڑا عالم ہو ؟ حضرت موسیٰ نے اللہ سے ان کی ملاقات کی سبیل کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مچھچلی کو نشانی بنادیا اور فرمایا جب تم سے مچھلی گم ہوجائے تو تم لوٹ آنا وہیں تمہاری خضر سے ملاقات ہوگی۔ حضرت موسیٰ سمندر میں مچھلی کے نشان ڈھونڈتے رہے پھر حضرت موسیٰ سے ان کے شاگرد نے کہا : بھلا دیکھیے جب ہم اس چٹان کے پاس آ کر ٹھہرے تھے تو بیشک میں مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور مچھلی کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا اور اس مچھلی نے سمندر میں عجیب طریقہ سے راستہ بنا لیا تھا۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ چیز ہے جسے ہم ڈھونڈ رہے تھے تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے پیچھے لوٹے (الکھف :63-64) پھر ان دونوں نے خضرت کو پا لیا۔ پھر ان دونوں کا وہی قصہ ہے جس کو اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :74، سنن ابودائود رقم الحدیث :4707، سنن الترمذی رقم الحدیث :3149، صحیح مسلم رقم الحدیث :2380، مسند احمد رقم الحدیث :21426، عالم الکتب)

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا کہ نوف البکالی کا یہ زعم ہے کہ حضرت خضر کے ساتھ جس موسیٰ کا قصہ ہے یہ بنو اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے یہ اور موسیٰ تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے۔ ہمیں حضرت ابی بن کعب نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں خطبہ دے رہے تھے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ حضرت موسیٰ نے کہا میں سب سے بڑا عالم ہوں، تب اللہ عزو جل نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف علم کو نہیں لوٹایا، تو اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں وہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی ؟ فرمایا ایک ٹوکری میں مچھلی رکھ لو پس جب وہ مچھلی گم ہوگی وہیں وہ بندہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ اور ان کا شاگرد یوشع بن نون دونوں چل پڑے اور انہوں نے ایک ٹوکری میں مچھلی رکھ لی تھی حتی کہ ان دونوں نے ایک چٹان پر سر رکھا اور وہ دونوں سو گئے۔ وہ مچھلی ٹوکری سے نکلی اور سمندر میں سرنگ کی طرح راستہ بناتی ہوئی چلی گئی اور یہ صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا ہمارا ناشتہ لائو ہمیں اس سفر سے تھکاوٹ پہنچی ہے۔ (الکھف : 62) اس نے کہا بھلا دیکھیے جب ہم اس چٹان کے پاس آ کر ٹھہرے تھے تو بیشک میں مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور اس مچھلی کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا (الکھف :63) اور اس مچھلی نے سمندر میں عجیب طریقہ سے راستہ بنا لیا تھا۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ چیز ہے جس کو ہم ڈھونڈ رہے تھے تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے پیچھے لوٹے (الکھف :64) جب وہ دونوں اس چٹان پر پہنچے تو دیکھا وہاں ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے موجود ہے۔

حضرت موسیٰ نے اس کو سلام کیا۔ حضرت خضر نے کہا تمہاری زمین میں سلامتی کہاں ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے کہا بنو اسرائیل کے موسیٰ ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں، حضرت موسیٰ نے کہا آیا میں آپ کی اشرط پر پیروی کروں کہ آپ کو جو رشد و ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس علم کی مجھے بھی تعلیم دیں۔ حضرت خضر نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے (الکھف :66-67) اے موسیٰ میرے پاس اللہ کے علم سے ایسا علم ہے جو اس نے مجھے سکھایا ہے وہ آپ کے پاس نہیں ہے اور آپ کے پاس ایسا علم ہے جو اس نے آپ کو سکھایا ہے اس کو میں نہیں جانتا۔ موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا (الکھف :69) پھر وہ دونوں سمندر کے کنارے کنارے چلنے لگے ان کے پاس کشتی نہیں تھی۔ ان کے پاس سے ایک کشتی گزری انہوں نے ان سے کہا کہ وہ ان کو سوار کر کے لے جائیں۔ انہوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا اور بغیر اجرت کے ان کو سوار کرلیا، پھر ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ گئی اور اس نے سمندر میں ایک یا دو چونچیں ماریں۔ پس خضر نے کہا مجھے اور تمہیں علم دینے سے اللہ کے علم میں سے صرف اتنی کمی ہوتی ہے جتنی اس چڑیا کے سمندر میں چونچ مارنے سے کمی ہوتی ہے۔ پھر حضرت خضر نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔ حضرت موسیٰ نے کہا ان لوگوں نے بغیر اجرت کے ہم کو کشتی میں سوار کیا اور آپ نے کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا تاکہ آپ اس میں بیٹھنے والوں کو غرق کردیں۔ حضرت خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا آپ اس چیز پر میری گرفت نہ کریں جو میں بھول گیا ہوں (الکھف :72-73) پس پہلی بار حضرت موسیٰ سے بھول ہوگئی پھر وہ دونوں چل پڑے پس انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکا لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ حضرت خضر نے اوپر سے اس کے سر کو پکڑا اور اپنے ہاتھوں سے اس کا سر الگ کردیا۔ حضرت موسیٰ نے کہا آپ نے ایک بےقصور شخص کو کسی جان کے حق کے بغیر قتل کردیا (الکھف :74) حضرت خضر نے کہا کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کریں گے (الکھف :75) ابن عینیہ نے کہا اس جملہ میں پہلے جملہ سے زیادہ تاکید ہے۔ پھر وہ دونوں چلتے رہے حتیٰ کہ وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے اور ان بستی والوں سے کھانا مانگا۔ پس انہوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ ان دونوں نے اس بستی میں ایک دیوار کو گرتے ہوئے دیکھا تو ان دونوں نے اس دیوار کو کھڑا کردیا (الکھف :77) آپ نے فرمایا : حضرت خضر نے اس دیوار کو اپنے ہاتھ سے کھڑا کردیا۔ پھر حضرت موسیٰ نے ان سے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام پر ان سے اجرت لے لیتے۔ حضرت خضر نے کہا اب ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے (الکھف :77-78) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے ہماری خواہش تھی کہ حضرت موسیٰ کچھ دیر اور صبر کرتے حتیٰ کہ ان دونوں کے مزید واقعات بیان کئے جاتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 122، سنن الترمذی رقم الحدیث :3149، صحیح مسلم رقم الحدیث :238، سنن ابو دائود رقم الحدیث :4707، مسند احمد رقم الحدیث :21436، عالم الکتب)

ان دونوں حدیثوں کے بیان کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ جس شخص سے ملاقات کرنے مجمع البحرین گئے تھے وہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے جو شخص آئے تھے وہ بنو اسرائیل کے حضرت موسیٰ بن عمران تھے، کیونکہ پہلے معاملہ میں حضرت ابن عباس سے حربن قیس بن حصص فزاری نے اختلاف کیا اور کہا وہ حضرت خضر نہیں تھے کوئی اور شخص تھے اور دوسرے معاملے میں حضرت ابن عباس سے نوف بکالی نے اختلاف کیا اور کہا کہ وہ بنو اسرائیل کے موسیٰ بن عمران نہیں تھے کوئی اور موسیٰ تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 60