أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنۡ ذِى الۡقَرۡنَيۡنِ‌ ؕ قُلۡ سَاَ تۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡهُ ذِكۡرًا۞

ترجمہ:

اور آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ میں عنقریب تمہارے سامنے ان کا کچھ ذکر کروں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ میں عنقریب تمہارے سامنے اس کا کچھ ذکر کروں گا بیشک ہم نے ان کو زمین میں اقتدار عطا کیا تھا اور بیشک ہم نے ان کو ہر چیز کا ساز و سامان بھی عطا کیا تھا (الکھف :83-84)

ربط آیات 

ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ مشرکین نے یہود سے کہا ہمارے ہاں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، ہم ان پڑھ لوگ ہیں تم اہل کتاب ہو تم ہم کو کچھ سوالات بتائو جن کے ذریعہ ہم معلوم کرسکیں کہ وہ اپنے دعویٰ نبوت میں صادق ہیں یا کاذب ہیں۔ تب یہود نے کہا تم ان سے روح کے متعلق سوال کرو اور ان نوجوانوں کے متعلق سوال کرو جو غار میں جا کر سو گئے تھے اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کرو۔ روح اور اصحاب کہف کے متعلق تفصیل گزر چکی ہے، اور ان آیات میں ذوالقرنین کا ذکر ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے میں عنقریب تمہارا سامنے اس کا کچھ ذکر کروں گا۔ یعنی قرآن مجید نے ذوالقرنین کی مکمل سوانح نہیں بیان کی کیونکہ قرآن مجید تاریخ اور جغرافیہ کی کتاب نہیں ہے، بلکہ اس کی زندگی کے وہ اہم واقعات بیان فرمائے ہیں جن کے ضمن میں رشد و ہدایت کا پہلو ہے۔

ذوالقرنین کا مصداق اور اس کی وجہ تسمیہ 

قرآن مجید نے ذوالقرنین کی جو صفات بیان کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ایسا بادشاہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درے پر پہنچ اجس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے، اس نے وہاں یاجوج اور ماجوج کا راستہ بند کرنے کے لئے نہایت مضبوط بند تعمیر کیا۔ وہ اللہ کو ماننے والا اور آخرت پر یقین رکھنے والا نہایت نیک شخص تھا وہ نفس پرست اور دولت کا حریص نہیں تھا، ان خصوصیات کا حالم صرف وہ شخص ہے جو فارس کا حکمران تھا۔ جسے یونانی سائرس، عبرانی خورس اور عرب کیخسرو کے نام سے پکارتے ہیں اس کا دور حکم رانی تقریباً 539 قبل مسیح ہے۔

حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی 774 ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں امام ابن جریر نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہی شخص سکندر ومی ہے یہ درست نہیں ہے۔ سمندر رومی ابن فیلیس المقدونی ہے اس کا ظہور بعد میں ہوا ہے اور ذوالقرنین کے متعلق ازرقی وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے ساتھ کعبہ کا طواف کیا ہے اور یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا اور اس نے آپ کی اتباع کی تھی اور اس کے وزیر حضرت خضر (علیہ السلام) تھے اور سکندر بن جیلیس المقدونی الیونانی بعد کا ایک شخص تھا اور اس کا وزیر مشہور فلسفی ارسطا طالیس تھا اور وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تقریباً تین سو سال پہلے گزرا ہے اور ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں گزرا۔ وھب بن منبہ نے لکھا ہے کہ یہ بادشاہ تھا اس کو ذوالقرنین اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے سر کی دونوں جانبوں میں سینگ کے مشابہ کوئی چیز تھی۔ بعض نے کہا اس کو ذوالقرنین اس لئے کہتے ہیں کہ یہ روم اور فارس کا بادشاہ تھا اور بعض نے کہا اس کو ذوالقرنین اس لئے کہتے تھے کہ فتوحات کرتا ہوا مشارق اور مغارب میں پہعنچ گیا تھا یعنی جہاں سے سورج کا قرن طلوع ہوتا ہے اور جہاں پر سورج کا قرن غروب ہوتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص 112، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1419 ھ)

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطبی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ اس کو ذوالقرنین اس لئے کہتے تھے کہ اس کے بالوں کی دو مینڈھیاں تھیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے اپنے ملک میں خواب دیکھا تھا کہ اس نے سورج کے دو سینگوں پر قبضہ کرلیا ہے اس نے اس خواب کو بیان کیا تو اس کی یہ تعبیر بیان کی گئی کہ وہ تمام دنیا کو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے سرے تک فتح کرے گا اسی وجہ سے اس کا نام ذوالقرنین پڑگیا۔ وھب بن منبہ نے کہا اس کے عمامہ کے نیچے دو سینگ تھے۔ ابن الکواء نے حضرت علی (رض) سے پوچھا کہ ذوالقرنین نبی تھا یا بادشاہ تھا حضرت علی نے فرمایا وہ نبی تھا نہ بادشاہ تھا بلکہ وہ اللہ کا ایک نیک بندہ تھا۔ اس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی تو انہوں نے کنپٹی کے پاس سے اس کا سر پھاڑ دیا۔ اس نے دوبارہ قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی تو انہوں نے دوسری طرف سے اس کا سر پھاڑ دیا تو اس کا نام ذوالقرنین پڑگیا۔ اس میں بھی اتخلاف ہے کہ ذوالقرنین کس زمانہ میں تھے ؟ ایک قوم نے کہا وہ حضرت موسیٰ کے بعد تھے۔ دوسری قوم نے کہا وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد زمانہ فترت میں تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے وقت میں تھے اور حضرت خضر (علیہ السلام) ان کے علم بردار تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اقتدار عطا کیا تھا اور بادشاہ بنادیا تھا اور تمام بادشاہوں کو ان کا تابع کردیا تھا۔ روایت ہے کہ ایسے چار شخص گذرے ہیں جو تمام دنیا کے بادشاہ بنے۔ دو مومن اور دو کافر تھے۔ جو دو مومن تھے وہ حضرت سلیمان بن دائود اور سکندر (ذوالقرنین) تھے اور جو دو کافر تھے وہ نمرود اور بخت نصر تھے اور پانچویں شخص اس امت سے ہوں گے وہ حضرت مہدی ہیں۔ (امام قرطبی کا یہ کہنا درایتاً صحیح نہیں ہے کہ یہ آدمی ساری دنیا کے بادشاہ تھے) سکندر کو جو ذوالقرنین کہا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ماں اور باپ دونوں بہت نیک اور شریف تھے اور کریم الطرفین تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کی زندگی میں دو قرن یعنی دو صدیاں گزر گئیں اس لئے ان کو ذوالقرنین کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب یہ قتال کرتے تھے تو دونوں ہاتھوں اور دونوں رکابوں سے قتال کرتے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو علم ظاہر اور علم باطن وہ علم دیئے گئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ظلمت اور نور دونوں میں داخل ہوئے تھے یہ دنیا کی دو طرفوں تک پہنچ گئے تھے۔ (الجامع لا حکام القرآن ج ١٠ ص 419، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

تورات میں ذوالقرنین کی طرف اشارے

ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ ذوالقرنین وہی بادشاہ ہیں جن کو عبرانی میں خورس کہتے ہیں چناچہ یہودی ان کو خورس کہتے ہیں اور تورات میں بھی اسی نام کا ذکر ہے۔

قرآن مجید میں دو بار بنی اسرائیل کے شر اور فساد کرنے اور دو بار ان کو اس فساد کی سزا دینے کا ذکر ہے۔

وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب لتفسدن فی الارض مرتبین و لتعلن علوا کبیرا (نبی اسرائیل : ٤) ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم ضرور زمین میں دوبارہ فساد کرو گے اور تم ضرور بہت بڑی سرکشی کرو گے۔

جب انہوں نے پہلی بار فساد اور سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے تقریباً چھ سو سال قبل مسیح بابل کے حکمران بخت نصر کے ہاتھوں ان کو سزا دی جس نے بےدریغ یہودیوں کو قتل کیا اور ان کی بہت بڑی تعداد کو غلام بنا لای۔ پھر بخت نصر کے قتل ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ عزت اور آزادی دی اور انہوں نے پھر دوبارہ سرکشی کی پھر اللہ تعالیٰ نے رومی بادشاہ ٹیٹس کو ان پر مسلط کردیا اور ان کے ہاتھوں دوبارہ ان پر ہلاکت اور ذلت مسلط کی گئی۔

ایک روایت یہ ہے کہ بخت نصر کو قتل کرنے والا اور بنو اسرائیل کو ان کی قید سے چھڑانے والا یہی بادشاہ ہے جس کو عرب کی خسرو اور یہودی خورس کہتے ہیں۔ یہود پر اس بادشاہ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے ان کو بابل کی قید سے نجات دلائی اور اس کی مدد سے بیت المقدس اور ہیکل کی از سر نو تعمیر ہوئی۔ یہود کے انبیاء نے ان کی پیش گوئی بھی کی تھی بائبل میں مذکور ہے۔

خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس کا دہنا ہاتھ پکڑا، کہ امتوں کو اس کے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اور دروازوں کو اس کے لئے کھول دوں اور پھاٹک بند نہ کئے جائیں گے میں تیرے آگے آگے چلوں گا اور ناہموار جگہوں کو ہم وار بنا دوں گا، میں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروں گا اور لوہے کی بینڈوں کو کاٹ ڈالوں گا اور میں ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دوں گا تاکہ تو جانے میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لے کر بلایا (کتاب مقدس (پرانا عہد نامہ) یسعیاہ باب :45 آیت :1-3 بائل ص 697، مطبوعہ لاہور، 1992 ء)

اس پیش گوئی میں خورس سائرس کی بدلی ہوئی شکل ہے اور یہ کی خسرو نام کا یونانی تلفظ ہے۔

اسی طرح تورات میں دانیال نبی کے ایک خواب کا ذکر ہے :

تب میں نے آنکھ اٹھا کر نظ رکی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑا ہے جس کے دو سینگ ہیں۔ دونوں سینگ اونچے تھے لیکن ایک دوسرے سے بڑا تھا اور بڑا دور سے کے بعد نکلا تھا میں نے اس مینڈھے کو دیکھا کہ مغرب و شمال و جنوب کی طرف سینگ مارتا ہے یہاں تک کہ نہ کوئی جانور اس کے سامنے کھڑا ہوسکا نہ کوئی اس سے چھڑا سکا پردہ وہ جو کچھ چاہتا تھا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بہت بڑا ہوگیا۔ (کتاب مقدس (پرانا عہد نامہ) دانی ایل باب :8 آیت 3-4 بائل ص 841، مطبوعہ لاہور 1992 ء) 

اس خواب کی کی یہ تعبیر بتائی گئی کہ دو سینگوں سے مراد ماوا (Media) اور فارس کی دو بادشاہتیں ہیں جن کو یہ بادشاہ فتح کرے گا اور یہ واقعہ ہے کہ خسرو نے یہ دونوں حکومتیں مسخر کرلیں۔

ذوالقرنین کا تصرف اور اس کا اقتدار 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بیشک ہم نے اس کو زمین میں اقتدار عطا کیا تھا اور بیشک ہم نے اس کو ہر چیز کو ساز و سامان عطا کیا تھا اس آیت کا معنی ہے ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا اور ایک بادشاہ کو اپنی سلطنت قائم کرنے کے لئے جس قدر چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ہم نے وہ چیزیں اس کو عطا کی تھیں اور ہم نے اس کو تمام اطراف مملکت میں تصرف کرنے کی قدرت عطا کی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے آلات حرب، اسباب اور وسائل عطا کئے تھے جن کی وجہ سے وہ تمام مشارق اور مغارب کا حکمران ہوگیا تھا اور تمام ممالک اس کے تابع ہوگئے تھے اور عرب اور عجم کے تمام بادشاہ اس کے اطاعت گزار ہوگئے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 83