أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كٓهٰيٰـعٓـصٓ‌ ۞

ترجمہ:

کاف ھایا عین صاد

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کاف ھایا عین صاد یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے جو اس کے بندہ زکریا پر تھی (مریم 1-2)

کھیعص کی تفسیر 

کھیعص حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی مکمل تفسیر سورة البقرہ : ١ میں گزر چکی ہے۔ مختصر یہ ہے کہ کہ ک سے مراد ہے کافی، ہ سے مراد ہے ہادی، ی سے مراد ہے حکیم، عین سے مراد ہے علیم اور ص سے مراد ہے صادق اس کو ابن عزیز قشری نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے یعنی وہ اپنی مخلوق کے لئے کافی ہے، اپنے بندوں کے لئے ہادی ہے، ان کے ہاتھوں پر اس کا ہاتھ ہے وہ ان کا عالم ہے اور اپنے وعدہ میں صادق ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ کھیعص، اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور حضرت علی (رض) سے بھی یہی قول مروی ہے، حضرت علی (رض) کہتے تھے یا کھیعص اغفرلی اے کھیعص ! مجھے بخش دے، امام عبدالرزاق نے معمر سے روایت کیا ہے کہ فتاوہ نے کہا یہ قرآن مجید کے اسماء میں سے ایک اسم ہے، قشیری نے کہا سورت کے اوائل میں جو حروف مقطعات ہوتے ہیں وہ اس سورت کا اسم ہوتے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 4-5)

حضرت زکریا پر رحمت کی توجیہ 

اس کے بعد فرمایا یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے جو اس کے بندہ زکریا پر تھی۔ اس کے معنی میں تین اقوال ہیں : (١) جس چیز کا تم پر بیان کیا جائے گا وہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ (ب) جو تم پر تلاوت کیا جائے گا وہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ (ج) یہ تمہارے رب کی رحمت کا ذکر ہے۔

یہ رحمت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ زکریا پر کی تھی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حضرت زکریا کی امت پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کی ہدایت دی، ایک قول یہ ہے کہ یہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت پر رحمت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ حضرت زکریا نے کس طرح تواضح، عاجزی اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی سو اللہ تعالیٰ سے جو مراد بھی مانگنی ہو اس سے اسی طرح دعا مانگنا چاہیے اور دعا کا یہ طریقہ بتانا آپ پر اور آپ کی امت پر رحمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 1