أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اۨسۡمُهٗ يَحۡيٰى ۙ لَمۡ نَجۡعَلْ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ۞

ترجمہ:

اے زکریا بیشک ہم تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں، اس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے زکریا بیشک ہم تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں اس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا (مریم : ٧)

حضرت زکریا کو اللہ نے بشارت دی تھی یا فرشتوں نے 

اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ حضرت زکریا کو یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے دی تھی یا فرشتوں نے اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت زکریا کو یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے دی تھی کیونکہ اس سیپ ہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ حضرت زکریا نے اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا تھا اور اس سے سوال کیا تھا اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بشارت دی ہو اور جو علماء یہ کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ کو یہ بشارت فرشتوں نے دی تھی ان کی دلیل یہ آیت ہے :

(آل عمران :39) جب زکریا حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے تو فرشتوں نے ان کو نداء کی کہ بیشک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے۔

امام رازی نے اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ ہوسکتا ہے دو مرتبہ بشارت دی گئی ہو، ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہو اور دوسری بار فرشتوں نے بشارت دی ہو۔

سمی کا معنی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے اس سے پہلے ان کا سمی نہیں بنایا۔ سمی کے دو معنی ہیں ہم نام اور مثل اور نظیر یعنی ہم نے اس سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھایا ہم نے اس سے پہلے کوئی اس جیسی صفات کا نبی نہیں بنایا۔

اگر یہ معنی ہو کہ ان جیسی صفات کا پہلے کوئی نبی نہیں بنایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے متعلق فرمایا سیدا و حصوراً (آل عمران :39)

حافظ ابن کثیر نے حصور کے معنی میں لکھا ہے ان میں عورتوں کی طرف رغبت اور شہوت رکھی گئی تھی لیکن وہ اپنی عفت اور پاکدامنی کی بناء پر عورتوں سے اجتناب کرتے تھے اور یہ ان میں حضرت عیسیٰ کی طرح مجاہدہ تھا اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی کے کام بالک نہیں کرتے تھے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص 409، دارالفکر، 1419 ھ) امام رازی نے لکھا ہے کہ نہ انہوں نے کبھی معصیت کی اور نہ کبھی معصیت کا ارادہ کیا کیونکہ حضرت زکریا نے دعا میں یہ درخواست کی تھی اے میرے رب اس کو پسندیدہ بنا دے۔ (مریم :6) حضرت یحییٰ کے عدیم النظیر ہونے کی دوسری وجہ یہ ہوے کہ ہر شخص کا نام اس کے پیدا ہونے کے بعد رکھا جاتا ہے اور حضرت یحییٰ کا نام اللہ تعالیٰ نے ان کے پیدا ہونے سے پہلے رکھ دیا، فرمایا، ہم تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں اس کا نام یحییٰ ہوگا (مریم :7) تاہم زیادہ ظاہر یہی ہے کہ سمی کا معنی ہم نام ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کسی شخص کو حضرت یحییٰ کا ہم نام نہیں بنایا اور یہ حضرت یحییٰ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام نامی بھی آپ کی ولادت سے بہت پہلے رکھا گی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے آپ کے نام احمد کی بشارت دی ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (الصنف : ٦)

حضرت یحییٰ کا نام یحییٰ رکھنے کی وجوہ 

یحییٰ کا لفظ حیات سے بنا ہے اور حضرت یحییٰ کا نام یحییٰ رکھنے کی حسب ذیل وجوہات ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی وجہ سے ان کی ماں کا بانجھ پن دور کردیا گویا وہ مکمل خاتون ہوگئیں۔

(٢) فتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کا دل ایمان اور اطاعت سے زاندہ کردیا کیونکہ اللہ تعالیٰ مومن اور اطاعت گزار کو زندہ اور کافر اور عاصی کو مردہ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایمان اور اطاعت کو زندگی سے تعبیر فرمایا :

(الانفال : ٢٤) اے ایمان والو ! جب اللہ اور رسول تمہارے حیات آفریں کاموں کے لئے تمہیں بلائیں تو حاضر ہو جائو۔

اور کافر کو مردہ فرمایا :

انک لاتسمع الموتیٰ (النمل :80) بیشک آپ مردوں کو نہیں سناتے۔

(٣) حضرت یحییٰ کو اللہ کی راہ میں ظلماً شہید کردیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے شہداء کو زندہ فرمایا ہے :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 7