أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالسَّلٰمُ عَلَىَّ يَوۡمَ وُلِدْتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا‏ ۞

ترجمہ:

اور مجھ پر سلام ہو جس دن میں پیدا کیا گیا اور جس دن میری وفات ہوگی اور جس دن میں (دوبارہ) زندہ اٹھایا جائوں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (عیسی نے کہا) اور مجھ پر سلام ہو جس دن میں پیدا کیا گیا اور جس دن میری وفات ہوگی اور جس دن میں (دوبارہ) زندہ اٹھایا جائوں گا (مریم :33)

اس شبہ کا جواب کہ یہود اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کے بچپن میں کلام کرنے کو کیوں نقل نہیں کیا ؟

اس سے پہلے حضرت یحییٰ پر سلام کا ذکر تھا وہ بغیر الف لام کے تھا وسلام علیہ اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ پر سلام کا ذکر ہے اور یہ الف لام کے ساتھ ہے اور یہ لام عہد ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو سلام حضرت یحییٰ پر کیا گیا تھا وہی سلام حضرت عیسیٰ پر ہو۔

سلام کا معنی ہے نعمتیں سلامت رہیں اور آفات اور بلیات سے امان حاصل ہو، گویا حضرت عیسیٰ نے یہ دعا کہ جو سلامتی اور امان حضرت یحییٰ پر نازل کی گئی تھیں وہی سلامتی اور امان ان پر نازل کی جائے۔ یوم ولادت، یوم وفات اور یوم بعث ان تین دنوں میں انسان اللہ تعالیٰ کی سلامتی کا بہت زیادہ محتاج ہوتا ہے اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خصوصیت کے ساتھ ان تین دنوں میں سلامتی کے حصول کی دعا کی۔

یہود اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن میں کلام کرنے کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت عجیب و غریب واقعہ اور کمالات کو سب سے زیادہ بیان کرنے والے ہیں اور سب سے زیادہ ان سے محبت کرنے والے ہیں اور جب انہوں نے اس واقعہ کو بیان نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ ثابت نہیں ہے، اسی طرح یہود اس وقت سے حضرت عیسیٰ سے عداوت رکھتے ہیں جس وقت سے حضرت عیسیٰ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر حضرت عیسیٰ نے ماں کی گود میں کلام کیا ہوتا تو اس وقت وہ ان کے قتل کرنے کے در پے ہوجاتے اور جب دونوں میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تو معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ نے ماں کی گود میں کلام نہیں کیا اور مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ نے ماں کی گود میں کلام نہ کیا ہوتا تو ان کی ماں کی زنا سے برأت ثابت نہ ہوتی اور پھر یہود ضرور ان کو رجم کردیتے اور جب یہود نے ان کو سنگسار نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ اس تہمت سے ان کی برأت ثابت ہوگئی تھی اور اس تہمت سے ان کی برأت کا یہی طریقہ ہے اور رہا یہ کہ نصاریٰ نے باوجود حضرت عیسیٰ سے شدید محبت کے اس واقعہ کو بیان نہیں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نصاریٰ کا تو اس وقت وجود ہی نہ تھا۔ حضرت عیسیٰ السلام کے بڑے ہونے اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کے بعد ان کے متبعین اور نصاریٰ وجود میں آئے تھے اور یہود نے ان کو اس وقت اس لئے قتل نہیں کیا کہ وہ ماں کی گود میں بچے کے کلام کرنے سے بہت مبہوت اور خوف زدہ تھے اور حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ اس وقت حضرت زکریا کے سایہء عاطف میں تھے اس لئے اس وقت وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 33