أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کو بلند جگہ پر اٹھا لیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ اس کتاب میں ادریس کا ذکر کیجیے، بیشک وہ بہت سچے نبی تھے اور ہم نے ان کو بنلد جگہ پر اٹھا لیا (مریم :57-58)

حضرت ادریس (علیہ السلام) کی سوانح 

حضرت ادیرس (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں یہ پہلے شخص ہیں جن کو حضرت آدم اور شیش (علیہما السلام) کے بعد نبوت ملی۔ امام ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم سے خط کھینچا، انہوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی حیات سے تین سو اٹھارہ سال پائے۔

حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ادریس، سفید رنگ کے طویل القامت تھے اس کا سینہ چوڑا تھا اور جسم پر بال کم تھے اور سر پر بڑے بڑے بال تھے، جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر الہ زمین کا ظلم اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹی آسمان کی طرف اٹھا لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ورفعنا، مکانا علیا (مریم :57) (المستدرک ج ٢ ص 549، مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

حضرت ادریس، حضرت نوح سے پہلے نبی بنائے گئے تھے، المستدرک میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ان کے درمیان ایک ہزار سال کا عرصہ تھا، ان کا نام اخنوخ بن یردبن مھلاییل بن انوش بن قینان بن شیث بن آدم (علیہم السلام) ہے۔ وھب بن منبہ سے روایت ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دادا ہیں اور مشہور یہ ہے کہ یہ ان کے باپ کے دادا ہیں کیونکہ حضرت نوح لمک بن متوشلخ بن اخنوخ کے بیٹے ہیں۔ حضرت ادیرس وہ پہلے شخص ہیں جس نے ساتروں اور حساب میں غور و فکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے معجزات میں رکھا، جیسا کہ البحر المحیط میں مذکور ہے اور وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے قلم کے ساتھ خط کھینچا۔ کپڑے سیئے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے اور وہ درزی تھے اور آپ سے پہلے لوگ جانوروں کی کھالوں سے جسم پوشی کرتے تھے اور حضرت آدم کے بعد ان کو سب سے پہلے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر تیس صحیفے نازل کئے تھے اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے اور تولنے کے آلات اور ہتھیار بنئاے اور بنو قابیل سے قتال کیا، حضرت ابن مسعود سے ایک روایت ہے کہ وہ حضرت الیاس ہیں اور اعتماد پہلے قول پر ہے اور ادریس کا لفظ سریانی ہے اور یہ درس سے مشتق نہیں ہے کیونکہ غیر عربی کو عربی سے مشتق کرنے کا کسی نے قول نہیں کیا اور اگر یہ عربی سے مشتق ہوتا تو پھر غیر منصرف نہ ہوتا حالانکہ یہ غیر منصرف ہے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ سریانی زبان میں اس کا معنی عربی کے قریب ہوا اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ان کا نام ادریس اس لئے ہے کہ یہ درس تدریس بہت کرتے تھے۔ (روح المعانی، جز 16 ص 153-154، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

معاویہ بن الحکم سلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رمل کے خط کھینچنے کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا : ایک نبی خط کھینچتے تھے پس جس کا خط ان کے خط کے مافق ہوجائے سو وہ درست ہے۔ (مسند احمد رقم الحدیث :23823، دارالفکر، 24164، عالم الکتب، صحیح مسلم رقم الحدیث :537 سنن ابودائود رقم الحدیث 930، سنن النسائی رقم الحدیث 1218 سنن الدارمی رقم الحدیث :1502)

رمل (زائچہ بنانے) کی تعریف اور اس کا شرعی حکم 

رمل ایک علم ہے جس میں ہندسوں اور خطوط وغیرہ کے ذریعہ غیب کی بات دریافتک رتے ہیں۔ نجوم، جوتش (فیروز اللغات ص 718) زائچہ بنانے کو بھی رمل کہتے ہیں : زائچہ اس کا غذ کو کہتے ہیں جس کو نجومی بچے کی پیدائش کے وقت تیار کرتے ہیں، اس میں ولادت کی تاریخ، وقت، ماہ و وسال وغیرہ درج ہوتا ہے اور وقت پیدائش کے مطابق اس کی ساری عمر کے نیک و بد کا حال بتلایا جاتا ہے، کنڈلی، جنم پتر، رمل کی شکلیں جو مال قرعہ ڈال کر بناتے ہیں، لگن کنڈلی کھینچنا، جنم پتری بنانا۔ (قائد اللغات ص 551) 

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی 544 ھ لکھتے ہیں :

یہ وہ خطوط ہیں جن کو نجومی کھینچتے تھے اور اب لوگوں نے ان کو ترک کردیا ہے، نجوم نرم زمین پر جلدی جلدی خطوط کھینچتا تاکہ ان کو گنا نہ جاسکے پھر واپس آ کردو دو خط مٹاتا اگر دو خط باقی رہ جاتے تو یہ کامیابی کی علامت تھی اور اگر ایک خط باقی رہ جاتا تو یہ ناکامی کی علامت تھی۔ مکی نے اس کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ وہ نبی اپنی انگشت شہادت اور انگشت وسطی سے ریت پر خط کھینچتے تھے، اب ان کی نبوت منقطع ہوچکی ہے اس لئے اب یہ جائز نہیں ہے حضرت ابن عباس کے ظاہر قول کا معنی بھی یہ ہے کہ ہماری شریعت میں یہ منسوخ ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٢ ص 464، مطبوعہ دارالوفاء بیروت 1419 ھ)

علامہ ابوسلیمان خطابی متوفی 388 ھ لکھتے ہیں :

ابن الاعربای نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ ایک شخص نجومی کے پاس جاتا اس کے سامنے ایک لڑکا ہوتا وہ اس کو کہتا کہ ریت میں بہت سے خطوط کھینچو، پھر کچھ کلمات پڑھ کر اس سے کہتا کہ ان خطوط میں سے دو دو خط مٹائو، پھر دیکھتا اگر آخر میں دو خط بچ گئے تو وہ کامیابی کی علامت ہوتی اور اگر آخر میں ایک خط بچتا تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے جس کا خط اس نبی کے خط کے موافق ہوگیا اس میں اس سے منع کرنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس نبی کی نبوت منقطع ہوچکی ہے اور ان کے خط کھینچنے کے طریقہ کو جاننے کا اب کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ (معالم السنن ج ١ ص 437 مع مختصر سنن ابو دائود ج ١ ص 437، دارالمعرفتہ بیروت)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676 ھ نے لکھا ہے کہ آپ کا مقصود یہ ہے کہ رمل حرام ہے کیونکہ موافقفت کے یقین کے بغیر یہ جائز نہیں ہے اور ہمارے پاس اس یقین کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النوادی ج و ص 1807، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ) 

ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس نبی کا ذکر کیا ہے وہ حضرت ادریس یا دانیال (علیہما السلام) تھے۔ (المرقات ج ٣ ص ٤ مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ملتان، 1390 ھ)

علامہ ابوالسعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزرری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

میں کہتا ہوں جس خط کی طرف حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مشہور و معروف علم ہے اور لوگوں کی اس میں بہت تصافیف ہیں اور اس علم پر اب بھی عمل کیا جاتا ہے۔ ان کی اس میں بہت سی اصطلاحات اور بہت سے نام ہیں اس علم سے وہ دل کے حلا ات وغیرہ معلوم کرلیتے ہیں اور بعض اوقات وہ صحیح بات معلوم کرلیتے ہیں۔ (النہایہ ج ٢ ص 45-46 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ) زئاچہ اور مل کی تعریف اور احکام بیان کرنے کے بعد ہم پھر حضرت ادریس (علیہ السلام) کی سوانح کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

حضرت ادریس کا چوتھے یا چھٹے آسمان پر فوت ہونا 

اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ہم نے ان کو بلند جگہ پر اٹھا لیا (مریم :57) صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوتھے آسمان کے پاس سے گزرے تو وہاں حضرت ادریس (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی۔ 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ھلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے میرے سامنے کعب سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حضرت ادریس کے متعلق فرمایا ہے ورفعناہ مکانا علیا ہم نے ان کو بلند جگہ پر اٹھا لیا اس کا کیا مطلب ہے ؟ کعب نے کہا حضرت ادریس کی طرف اللہ نے یہ وحی کی کہ میں ہر روز تمہارے اتنے عمل بلند کروں گا جتنے تمام بنو آدم کے اعمال ہیں تو تم زیادہ عمل کرنے سے محبت رکھو، پھر فرشتوں میں سے حضرت ادریس کے ایک دوست ان کے پاس آئے تو حضرت ادریس نے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اس طرح وحی کی ہے تو تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری روح قبض کرنے کو مئوخر کر دے تاکہ میں اور زیادہ عمل کروں، وہ فرشتہ حضرت ادریس کو اپنے پروں پر بٹھا کر آسمان پر چڑھ گیا جب وہ چوتھے آسمان پر پہنچا تو ملک الموت نیچے اتر رہے تھے تو اس فرشتہ نے ملک الموت سے وہ بات کہی جو حضرت ادریس نے اس سے کہی تھی ملک الموت نے کہا ادریس کہاں ہیں ؟ اس فرشتہ نے کہا وہ میری پیٹھ پر ہیں۔ ملک الموت نے کہا حیرت کی بات ہے مجھے ادریس کی روح قبض کرنے کے لئے چوتھے آسمان پر بھیجا گیا ہے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں ان کی روح چوتھے آسمان پر کیسے قبض کروں گا وہ تو زمین پر ہیں، پھر انہوں نے چوتھے آسمان پر حضرت ادریس کی روح قبض کرلی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :17917، مطبوعہ بیروت 1415 ھ)

حافظ ابن کثیر نے اس حدیث کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ یہ حدیث اسرائیلیات سے ہے اور اس کی بعض عبارت میں نکارت ہے (یعنی ناقابل یقین باتیں ہیں) مجاہد سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا حضرت ادریس کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ان کو موت نہیں آئی جیسے حضرت عیسیٰ کو اٹھا لیا گیا۔ اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ان کو ابھی تک موت نہیں آئی تو یہ محل نظر ہے اور اگر اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور پھر وہاں ان کی روح قبض کرلی گئی تو پھر یہ کعب کی روایت کے منافی نہیں ہے۔

عوفی نے حضرت ابن عباس سیر وایت کیا ہے کہ حضرت ادیرس کو چھٹے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور وہیں ان کی روح قبض کرلی گی اور جو حدیث متفق علیہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ چوتھے آسمان میں ہیں، حسن بصری نے کہا وہ جنت میں ہیں۔

امام بخای نے حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس سیر وایت کیا ہے کہ الیاس ہی ادریس ہیں اور معراج کی حدیث میں بیان کیا ہے کہ جب آپ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا نیک بھائی اور نیک نبی کو مرحبا ہو، اور جس طرح حضرت آدم اور حضرت ابراہیم نے کہا تھا نیک بیٹے کو مرحبا ہو اس طرح نہیں کہا اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ادریس آپ کے اجداد میں سے نہیں ہیں، لیکن یہ کوئی قطعی دلیل نہیں ہے ہوسکتا ہے انہوں نے تواضعاً آپ کو بھائی کہا ہو اور بیٹا نہ کہا ہو۔ (البدایہ والنہایہ ج ۃ ص 158, 160، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)

امام ابن جریر نے مجاہد اور حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ادریس چوتھے آسمان میں ہیں۔ حضرت انس اور قتادہ سے بھی یہی روایت ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی اسی طرح ہے۔ (جامع البیان جز 16 ص 121-122 مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

حضرت ادریس (علیہ السلام) کا جنت میں زندہ ہونا 

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

زید بن اسلم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے آپ نے فرمایا : جیسے اور بنو آدم کے اعمال اوپر چڑھائے جاتے ہیں اسی طرح حضرت کے اعمال بھی اور چڑھائے جاتے تھے۔ ملک الموت کو ان سے محبت ہوگئی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ان کی دوستی کی اجازت لی اور آدمی کی صورت میں زمین پر آگئی اور ان کے ساتھ رہنے لگے، جب حضرت ادریس کو معلوم ہوگیا کہ یہ عزرائیل ہیں تو ایک دن ان سے کہا مجھے آپ سے ایک کام ہے، پوچھا کیا کام ہے، کہا مجھے موت کا ذائقہ چکھائیں، میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی شدت کا پتا چلے تاکہ میں اس کی تیاری کروں، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ان کی روح ایک ساعت کے لئے قبض کرلو، پھر چھوڑ دینا۔ ملک الموت نے اسی طرح کیا، پھر ملک الموت نے پوچھا آپ نے موت کو کیسا پایا۔ تو انہوں نے کہا میں نے موت کے متعلق جتنا سنا تھا اس سے زیادہ سخت پایا۔ پھر ان سے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے دوزخ دکھائیں، ملک الموت ان کو لے کر گئے اور ان کو دوزخ دکھا دی، پھر کہا میں چاتہا ہوں کہ آپ مجھے جنت دکھائیں، انہوں نے جنت دکھا دی، حضرت ادریس جنت میں داخل ہو کر گھومنے لگے، پھر ملک الموت نے کہا اب آپ باہر نکلیں، حضرت ادریس نے کہا اللہ کی قسم ! میں باہر نہیں نکلوں گا حتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے باہر نکلنے کا حکم دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھیجا اس نے ملک الموت سے پوچھا آپ کیا کہتے ہیں تو انہوں نے پورا قصہ بیان کیا۔ پھر حضرت ادریس نے کہا آپ کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران :185) ، ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے اور میں نے موت کو چکھ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وان منکم الاواردھا (مریم :171) ” تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہوگا “ اور میں دوزخ پر وارد ہوچکا ہوں، اور اللہ تعالیٰ نے اہل جنت سے فرمایا : وما ھم منھا بمخرجین (الحجر :48) ’ دوہ جنت سے نکالے نہیں جائیں گے “ پس اللہ کی قسم میں جنت سے باہر نہیں نکلوں گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت سے باہر نکلنے کا حکم دے۔ پھر اوپر سے ایک ہاتف کی آواز آئی یہ میرے اذن سے داخل ہوا ہے اور اس نے جو کچھ کیا ہے وہ میرے حکم سے کیا ہے اس کا راستہ چھوڑ دو ۔

امام ابن جوزی فرماتے ہیں اگر یہ اعتراض ہو کہ حضرت ادریس کو ان آیات کا کیسے علم ہوا یہ تو و ہماری کتاب میں ہیں تو ابن الانباری نے بعض علماء سے اس کا یہ جواب ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو ان باتوں کا علم دے دیا تھا جو قرآن میں ہیں کہ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہر شخص کا دوزخ سے گزر ہوگا اور اہل جنت کو جنت سے نکالا نہیں جائے گا۔ (زاد المسیرج ٥ ص 241-242، معالم المتنزیل ج و ص 167، الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 43-44، الدرا المنثورج ٥ ص 519-521 روح المعانی جز ١١ ص 155-156 تفسیر ابوالسعود ج ٤ ص 246)

حضرت ادریس کو اوپر اٹھانے اور ان کی زندگی میں علماء اور مفسرین کا اختلاف 

قرآن مجید میں ہے ورفعناہ مکانا علیا (مریم :57) ” ہم نے ادریس کو بلند جگہ پر اٹھا لیا “ بعض علماء نے کہا اس سے کسی جگہ پر اٹھانا مراد نہیں ہے حتیٰ کہ حضرت ادیرس کا آسمان پر ہونا لازم آئے بلکہ اس سے مراتب کی بلندی مراد ہے یعنی ان کے درجات کو بلند کیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے یہی معنی کیا ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ قرآن مجید میں ہے ہم نے ان کو بلند جگہ پر اٹھا لیا اور یہ درجات کی بلندی کے منفای ہے۔

کعب کی روایت میں ہے کہ حضرت ادریس کی روح چھٹے آسمان پر قبض کرلی گئی۔ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول بنے مجاہد اور حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ وہ چوتھے آسمان پر ہیں اور زید بن اسلم نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ حضرت ادریس جنت میں زندہ ہیں۔

امام الحسین بن مسعود بغوی متوفی 516 ھ لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ حضرت ادریس آسمان پر ندہ ہیں یا فوت شدہ ہیں، بعض نے کہا وہ فوت شدہ ہیں اور بعض نے کہا وہ زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا چار نبی زندہ ہیں دو زمین پر ہیں خضر اور الیاس اور دو آسمان میں ہیں ادریس اور عیسیٰ علیہم السلام۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص 167، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1414 ھ)

امام رازی متوفی 606 ھ اور علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی 754 ھ نے لکھا ہے کہ ایک فرشتہ ان کا دوست تھا وہ ان کو چوتھے آسمان پر لے گیا وہاں ان کی روح قبض کرلی گئی۔ (تفسیر کبیرج ج ٧ ص 550، البحر المحیط ج ٧ ص 276)

قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ مکانا علیا سے مراد ہے ان کو شرف نبوت اور مقام قرب عطا کیا گیا، ایک قول یہ ہے کہ وہ جنت میں ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ چھٹے آسمان میں ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چوتھے آسمان میں ہیں۔ (تفسیر البیضاوی مع عنایتہ القاضی ج ٦ ص 285-286، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)

حضرت ادریس کے متعلق قول فیصل 

ہمارے نزدیک یہ بات تو حتمی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو بلند جگہ پر اٹھانے سے ان کے درجات کی بلندی مراد نہیں ہے۔ انہیں زمین سے اوپر اٹھا کرلے جایا گیا تھا اور صحیح بات یہی ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں، رہا یہ کہ ان کو موت کس جگہ آئی زمین پر یا آسمان پر اور یہ کہ وہ اب جنت میں ہیں یا نہیں، سو اس بارے میں مختلف روایات ہیں اور اس سلسلہ میں ہمارے لئے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 57