أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنِّىۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَـعۡلَيۡكَ‌ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًىؕ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک میں ہی آپ کا رب ہوں، سو آپ اپنے جوتے اتار دیجیے بیشک آپ مقدس میدان طویٰ میں ہیں

نعلین (جوتیاں) اتارنے کے حکم کی توجیہات 

طہ : ١٢ میں ہے بیشک میں ہی آپ کا رب ہوں، سو آپ اپنے جوتے اتار دیجیے۔ الایتہ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نعلین کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے کلام کیا اس دن انہوں نے اون کی چادر اور اون کا جبہ پہنا ہوا تھا اور اس کی آستینیں بھی اون کی تھیں اور شلوار بھی اون کی تھی اور ان کی نعلیں مردہ گدھے کے اون کی تھیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1734، مسند ابویعلی رقم الحدیث :4983، الکامل لابن عدی ج ٢ ص 688 المستدرک ج ١ ص 28، ج ٢ ص 739، المسند الجامع رقم الحدیث :9355)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وادی میں نعلین اتارنے کا حکم دیا اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) حضرت علی (رض) ، مقاتل، ضحاک اور قتادہ وغیرہ نے کہا ہے کہ جو تیاں ایک مردار گھے کی کھال کی بنی ہوئی تھیں اور مردار نجس ہوتا ہے اور وادی طویٰ مقدس سر زمین تھی جیسا کہ اس کے بعد والے جملہ میں تصریح ہے۔

(٢) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو تایں اتارنے کا حکم اس لئے دیا کہ آپ کے پیروں کو اس مقدس سر زمین کی مٹی لگے اور اس کی برکت آپ تک پہنچے۔

(٣) اس میں یہ تنبیہ کی ہے کہ مقدس جگہ پر جوتی اتار کر جاتے ہیں جیسے مسجد حرام، مسجد نبوی میں اور دیگر مساجد میں اور یہ عمل مقدس اور مبارک سر زمین کی عزت اور کر اتم کو اور اس کے ادب اور احترام کو ظاہر کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور خصوصاً اس لئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہونے والے تھے تو یہاں پر زیادہ ادب اور احترام محلوظ تھا۔

(٤) جب لوگ بادشاہوں کے پاس جاتے ہیں تو ادب کے تقاضے سے جوتے اتار دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے وقت یہ زیادہ چاہیے تھا کہ جوتے اتار دیئے جاتے۔

(٥) حضرت امام مالک (رح) جب مدینہ منورہ میں چلتے تھے تو سواری پر سوار نہیں ہوتے تھے اور یہ مدینہ منورہ کی سر زمین کی تعظیم اور تکریم کی وجہ سے تھا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بھی اس مقدس سر زمین میں نعلین اتارنے کا حکم دیا۔

(٦) نعلین سے بیوی اور بچوں کو بھی کنایہ کیا جاتا ہے، اگر کوئی شخص خواب میں نعلین کو دیکھ لے تو یہ اس سے کنایہ ہے کہ اس کی شادی ہوگی اور یہاں نعلین اتارنے کے حکم میں یہ اشارہ ہے کہ آپ اب اپنے رب کے سامنے حاضر ہو رہے ہیں تو اپنے ذہن سے بیوی اور بچوں کا خیال نکال دیں۔

(٧) اللہ تعالیٰ نے اس راستہ میں حضرت موسیٰ کے لئے نور اور ہدات کا فرش بچھا دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے بچھائے ہوئے فرش کو جوتیوں سے روندنا نہیں چاہیے۔

(٨) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پہلا حکم دیا گیا تھا وہ یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نعلین اتار دو ، جیسا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ابتدائی احکام دیئے تھے وہ یہ تھے :

قم فانذر وربک فکبر وثیابک قطھر والرجز فاھجر (المدثر 2-5) اٹھیے اور لوگوں کو اللہ سے ڈرایئے اور اپنے رب کی کبریائی بیان کیجیے اور اپنے لباس کو پاک رکھئے اور بتوں کو چھوڑ رہئے 

(٩) اب آپ وادی مقدس میں پہنچ گئے ہیں تو اپنے دل کو دنیا اور آخرت سے خالی کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت میں مستغرق ہوجائیں۔

(١٠) انسان خالق پر اس دلیل سے استدلال کرتا ہے کہ یہ جہان حادث اور ممکن ہے اور ہر حادث اور ممکن کا کوئی پیدا کرنے والا ہوتا ہے سو اس جہان کا بھی پیدا کرنے والا ہے، اور جب آپ خالق تک پہنچ گئے تو اب اس دلیل کو بھی ذہن سے نکال دیں اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوں۔

کلام الٰہی کے قدیم ہونے پر ایک اعتراض کا جواب 

معتزلہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو قدیم نہیں مانتے انہوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ کا کلام قدیم ہو تو ازل میں بھی یہ کلام ہوگا اے موسیٰ اپنی نعلین اتار دیجیے حالانکہ حضرت موسیٰ میں تھے نہ وادی مقدس تھی تو پھر ازل میں یہ کلام کس طرح معقول ہوگا، اسی کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ ازل میں اللہ تعالیٰ کا کلام تھا مگر اس کی تعبیر اس وقت امر اور نہی کے ساتھ نہیں تھی بلکہ اس کی تعبیر اس طرح تھی کہ موسیٰ کو یہ حکم دیا جائے گا کہ اپنی نعلین اتارو۔ اس کا نظیر یہ ہے کہ معتزلہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم کو قدیم مانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے واغرقنا ال فرعون (البقرۃ :50) ہ نے آل فرعون کو غرق کر یا، اب ازل میں اللہ تعالیٰ کو کیا علم تھا ؟ آپ فرعون کو غرق کردیا ! ازل میں تو نہ فرعون تھا نہ مسندر تھا سو یہ علم تو واقع کے خلاف ہے اور اگر یہ علم تھا کہ ہم فرعون کو غرق کریں گے اور بعد میں یوں علم ہوگیا کہ ہم نے فرعون کو غرق کردیا تو پھر یہ علم متغیر ہوگیا اور ہر متغیر حادث ہوتا ہے سو اللہ کا علم حادث ہوگیا۔ اس لئے کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کو فرعون کے غرق ہونے کا علم تھا اور ازل میں اس علم کی تعبیر تھی وہ غرق ہوگا، اور اب اس کی تعبیر یوں ہے کہ وہ غرق ہو چکایا ہم اس کو غرق کرچکے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کلام کی تعبیر وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے اگرچہ نفس کلام میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔

جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق احادیث 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وادی مقدس سے پہلے جوتیاں اتار دی تھیں، ابوالاحوص نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی زیارت کرنے ان کے گھر گئے، اسی اثنا میں اذان ہوگئی حضرت ابو موسیٰ نے اقامت کہی اور حضرت عبداللہ سے کہا آپ نماز پڑھیے، حضرت عبداللہ نے کہا نہیں یہ آپ کا گھر ہے آپ نماز پڑھائیں۔ حضرت موسیٰ آگے بڑھے اور انہوں نے اپنی جوتیاں اتار دیں۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ یہ وادی مقدس ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا ہاں ! (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 94)

سعید بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نعلین کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٥٥ صحیح البخاری رقم الحدیث :386، سنن الترمذی رقم الحدیث :400، سنن النسائی رقم الحدیث :575)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے آپ نے اچانک اپنی نعلین اتار دیں اور اپنی بائیں جانب رکھ دیں۔ جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کرنے کے بعد فرمایا تم کو جو تایں اتارنے پر کسی چیز نے برانگیختہ کیا۔ اصحاب نے کہا ہم نے آپ کو نعلین اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی جوتیاں اتار دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس ابھی ابھی جبرائیل آئے تھے اور انہوں نے یہ بتایا کہ ان نعلین پر گندگی لگی ہوئی ہے۔ اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب مسجد میں آئے تو جوتیوں کو دیکھ لے اگر ان میں کوئی گندگی ہو تو ان کو رگڑ لے اور پھر ان میں سے نماز پڑھ لے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :628، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1431)

جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق مذاہب فقہاء 

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ اس مسئلہ میں لکھتے ہیں :

جب جوتیوں پر نجاست نہ لگی ہو تو ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر ان میں نجات ہو تو اس کو رگڑ کر صاف کرلے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے، ایک جماعت نے کہا ہے اگر جوتیوں پر گیلی نجاست لگی ہو تو اس کو مٹی سے رگڑ کر صاف کرلے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ اور امام مالک اور امام ابوحینفہ نے کہا گیلی نجاست بغیر دھونے کے پاک نہیں ہوگی اور اگر خشک ہو تو اس کو رگڑنا کافی ہے اور امام شافعی نے کہا اگر جوتیوں پر نجاست لگی ہو تو خواہ وہ خشک ہو یا تر جوتیاں پانی سے دھوئے بغیر پاک نہیں ہوں گی۔

ابن دقیق العید نے کہا جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھنا رخصت ہے مستحب نہیں ہے۔ (علامہ عینی فرماتے ہیں :) میں کہتا ہوں یہ مستحب کیوں نہیں ہے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہے یہود کی مخالفت کرو کیونکہ وہ اپنی جوتیوں اور موزوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے (سنن ابودائود رقم الحدیث :652، شرح السنتہ رقم الحدیث :534، صحیح ابن حبان رقم الحدیث، 2186 المعجم الکبیر رقم الحدیث :7164، سنن کبریٰ ج ٢ ص 434، المستدرک رقم الحدیث :995، یہ حدیث حسن صحیح ہے) سو جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھنا یہود کی مخالفت کے سبب سے مستحب ہے اور یہ سنت نہیں ہے کیونکہ جو تویں میں نماز پڑھنا مقصود بالذات نہیں ہے۔ نیز امام ابو دائود نے عمرو بن شعیب کے والد اور ان کے دادا سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ننگے پائوں اور جو تویں کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :653) اور اس میں یہ دلیل ہے کہ جوتیوں کے ساتھ نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔ (عمدۃ القاری جز ٤ ص 110 مطبوعہ ادارۃ الطباعتہ المنیریہ مصر، 1348 ھ)

حضرت صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی متوفی 1367 ھ لکھتے ہیں :

انگریزی بوٹ جوتے پر مسح جائز ہے جبکہ وہ ایسے ہوں کہ ان سے ٹخنے چھپے ہوں کہ ان پر موزہ کی تعریف صادق آتی ہے، رہا یہ امر کہ ان کے ساتھ نماز جائز ہے یا نہیں، اگر ان کے پنجے اتنے نرم ہوں کہ سجدہ میں انگلیاں قبلہ رو ہوسکتی ہوں اور دبتی ہوں تو نماز ہوجائے گی اور اگر انگلیاں بالکل کھڑی رہتی ہوں تو سجدہ نہ ہوگا اور نماز بھی نہ ہوگی کہ سجدہ میں ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط فرض ہے اور اگر بعد مسیح وہ جوتا اتار لیا تو مسح جاتا رہا پائوں دھونا فرض ہوگا یہ حکم نفس نماز کا ہے مگر جوتا پہن کر مسجد میں جانا بہرحال مکرہ ہے کذافی العالمگیریہ۔ (فتاویٰ امجدیہ ج ١ ص 189، مطبوعہ دارالعلوم امجد یہ کراچی، 1419 ھ)

سجدہ کی تعریف ہے پیشانی کو زمین پر رکھنا، امام ابوحنیفہ کے نزدیک ناک کا بھی رکھنا ضروری نہیں ہے اور صاحبین کے نزدیک ناک کا رکھنا ضروری ہے (ھدایہ اولین ص 98 مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان) اور پیشانی کو سہولت کے ساتھ زمین پر رکھنا پر موقف ہے اس لئے ان کا زمین پر رکھنا بھی فرض ہے سجدہ کی ادائیگئی میں پیروں کی انگلیوں کے قبلہ رو ہونے کا کوئی دخل نہیں ہے۔ البتہ پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رو رکھنا ہمارے فقہاء کی تصریح کے مطابق سنت یا مستحب ہے، صرف صاحب الدرا المتخار نے زاہدی معتزلی کی اتباع میں اس کو فرض کہا ہے۔ الدرا المختار کے متن تنویر الابصار میں علامہ محمد بن عبداللہ تمرتاشی متوفی 1004 ھ نے زاہدی معتزلی کی اتباع میں اس کو فرض کہا ہے۔ الدرالمختار کے متن تنویر الابصار میں علامہ حمد بن عبداللہ تمرتاشی متوفی 1004 ھ نے بھی جسدہ میں انگلیوں کے قبلہ رو نہ رکھنے کو مکروہ کہا ہے، اور الدرالمختار کے محشی علامہ شامی متوفی 1252 ھ نے لکھا ہے : ہمارے نزدیک انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرنا سنت ہے اور یہی ایک قول ہے اس کے برخلاف صاحب ردالمختار عالمہ المصلفی المتوفی 1088 ھ نے اس کو فرض لکھا ہے۔ (ردا المختارج ٢ ص 186 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

اس مسئلہ کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم ج ١ ص 1299-1301 میں کردی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

البتہ مسجد میں جوتی پہن کر جانا جائز نہیں ہے عالمگیری میں ہے مسجد میں جوتی پہن کر جانا جائز نہیں ہے، اسی طرح سراجیہ میں مذکور ہے۔ (عالمگیری ج ٥ ص 321، مطبوعہ مطبعہ بولاق مصر، 1310 ھ)

نقش نعل پاک پر آیات اور اسماء مبارکہ لکھنے کا شرعی حکم 

بعض علماء نے یہ کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعلین مبارکین پر قرآن مجید کی آیات، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء اور الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ لکھنا جائز ہے بلکہ انہوں نے کہا کہ خود عین نعلین پر بھی یہ لکھنا جائز اور ثابت ہے تو نعلین کے عکس اور نقش پر یہ لکھنا تو بہ طریق اولیٰ جائز ہوگا اور اس کے جواز پر انہوں نے دو دلیلیں قائم کی ہیں، مجوزین کی پہلی دلیل یہ ہے کہ بعض فقہاء نے یہ روایت نقل کی ہے :

وقدروی انہ کان مکتوبا علی افخاذ افراس فی اصطبل الفاروق (رض) حبیس فی سبیل اللہ۔ روایت ہے کہ حضرت فاروق (رض) کے اصطبل میں گھوڑوں کی رانوں پر حبیس (وقف) فی سبیل اللہ لکھا ہوا تھا۔ (الجزازیہ علی ھامش الھندیہ ج ٦ ص 380، ردا المختارج ٣ ص 146، طبع جدید)

مجوزین کہتے ہیں کہ گھوڑوں کی رانیں سخت بےاحتیاطی کے محل میں ہوتی ہیں، یعنی ان پر ان کے پیشاب اور لید کا لگ جانا وقوع پذیر ہوتا ہے تو جب ایسی گندگی جگہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھنا جائز ہے تو پاک اور صاف جوتی پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھنا بہ طریق اولیٰ جائز ہوگا۔

میں کہتا ہوں کہ یہ روایت ابن بزاز کر دری متوفی 827 ھ نے ذکر کی ہے اور ان کے حوالہ سے علامہ شامی متوفی 1252 ھ نے ذکر کی ہے اور کسی فقیہ کی کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں ہے اور نہ حدیث کی کسی کتاب میں اس کا وجود ہے، احادیب کا سب سے بڑا مجموعہ حافظ جلال الدین سیوطی کی جمع الجوامع ہے اس میں کل پینتالیس ہزار پانچ سو پچاسی (45585) احادیث ہیں اور اس میں حضرت عمر فاروق (رض) کی تین ہزار ایک سو بیانوے (3192) روایات ہیں، آپ کے اقوال، احوال، افعال تقریرات اور معمولات، ان سب کے متعلق روایات ہیں، میں نے اس کو تفصیل سے پڑھا، اس میں یہ روایت نہیں ہے، نہ حدیث کی کسی اور کتاب میں ہے۔ نہ صرف یہ کہ روایت ثابت نہیں بلکہ یہ روایت چونکہ اللہ تعالیٰ کے اسم جلالت کی اہانت کو مستلزم ہے اس لئے اس روایت کا رد کرنا واجب ہے، کوئی انسان یہ گوارہ نہیں کرے گا کہ اس کا نام گھوڑوں کی رانوں پر لکھا جائے، جن لوگوں نے اس عمل کو جائز کہا ہے کیا ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر و منزلت بھی نہیں ہے جتنی اپنے پیرو مرشد یا خود اپنی ہوتی ہے۔

ماقدروا اللہ حق قدرہ (الانعام :91) انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ایسی قدر نہیں کی جیسی اس کی قدر حق تھا۔

فقہاء کرام سے بعض اوقات احادیث کو نقل کرنے میں تسامح ہوجاتا ہے : علامہ علاء الدین الحصکفی الحنفی المتوفی 1088 ھ نے امام اعظم کے فضائل میں ان احادیث کو ذکر کیا ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے : بیشک آدم کو مجھ پر فخر ہے اور فرمایا تمام انبیاء مجھ پر فخر کریں گے اور میں ابوحنیفہ پر فخر کروں گا، (الدرالمختار علی ھامش روالمختارج ١ ص 135، بیروت) علامہ شامی نے حافظ سیوطی سے نفل کیا ہے کہ ان احادیث کی سند میں کذاب اور وضاع ہیں، (ردا المختارج ١ ص 137)

خود علامہ شامی نے یہ حدیث نفل کی ہے : جس نے متقی عالم کی اقتداء میں نماز پڑھی گویا اس نے نبی کی اقتداء میں نماز پڑھی (ردا المختارج ٢ ص 258) ملا علی قاری نے لکھا : اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (الاسرار المرفوعہ فی الاحدیث الموضعتہ رقم الحدیث :926، ص 235، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1405 ھ) 

اس لئے جب فقہاء کسی حدیث کو بغیر کسی حوالے کے لکھ دیں اور کتب معروفہ میں اس کی شہادت نہ مل سکے تو صرف ان کا نقل کردینا حدیث کے معاملہ میں سند اور حجت نہیں ہے۔

عالمگیری میں لکھا ہے :

کتابۃ القران علی مایفترش ویبسط مکروھۃ (فتاوی الہندیہ ج ٥ ص 323، مطبوعہ مصر، 1310 ھ) جو پکاڑ بچھایا جائے یا پھیلایا جائے اس پر قرآن مجید لکھنا مکروھۃ (فتاوی الہندیہ ج ٥ ص 323، مطبوعہ مصر، 1310 ھ) جو کپڑا بچھایا جائے یا پھیلایا جائے اس پر قرآن مجید لکھنا مکروہ ہے۔

زمین پر بچھائے جانے والے کپڑے پر قرآن مجید کی آیات لکھنا مکروہ ہے تو گھوڑوں کی غیر محتاط رانوں پر اللہ کا نام لکھنا کیسے جائز ہوگا جب کہ قرآن مجید کی آیات کا احترام بھی اللہ تعالیٰ کے کلام ہونے کی وجہ سے ہے۔

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد عمر الحنفاجی الحنفی المتوفی 1069 ھ لکھتے ہیں :

جس شخص نے مصحف کو یقینی قرآن مجید کے الفاظ کی لکھی ہوئی صورتوں کو نجاست یا گندی جگہ میں پھینک دیا تو وہ تمام اھل علم کے نزدیک بالا جماع کافر ہے۔

(فضلہ نسیم الریاض ج ٤ ص 554-555 مطبوعہ دارالفکر بیروت، و نسیم الریاض ج ٦ ص 417-418، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1421 ھ)

سوگھوڑوں کی رانوں پر حبیس فی سبیل اللہ لکھنا حضرت عمر (رض) سے کب تصور ہوسکتا ہے، جب کہ گھوڑوں کی رانوں پر ان کی لید اور پیشاب کا گرنا وقوع پذیر ہوتا رہتا ہے تو گندگی کے محل میں اللہ کا نام لکھنا حضرت عمر ایسے عظیم صحابی سے متصور نہیں ہے اور اس سے یہ استدلال کرنا کہ پھر جوتیوں پر بھی اللہ کا نام لکھنا جائز ہے، اللہ تعالیٰ کے اسم جلات کی زیادہ توہین ہے اور ہم ایسے استدلال سے اللہ تعالیٰ کی پنا ہمیں آتے ہیں۔

ان مجوزین نے جوتیوں پر اللہ کا نام اور قرآن مجید کی آیات لکھنے کے جواز پر دوسری دلیل یہ پیش کی ہے :

امام دارمی متوفی 244 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عن جعفر بن ابی المغیرۃ عن سعید بن جبیر قال کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ واکتب فی نعلی (سنن دارمی رقم الحدیث :504) جعضر بن ابی المغیرہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے کہا، میں حضرت ابن عباس کے پاس ایک کاغذ میں لکھتا تھا اور اپنی جوتیوں میں لکھتا تھا۔

حدثنی جعفر بن ابی المغیرہ، عن سعید بن جبیر قال کنت اجلس الی ابن عباس فاکتب فی الصحیفۃ حتی تمتلی ثم اقلب نعلی فاکتب فی ظھورھما (سنن دارمی رقم الحدیث :505) امام دارمی کہتے ہیں مجھے جعفر بن ابی ملغیرہ نے سعید بن جبیر سے روایت کر کے یہ حدیث بیان کی کہ صسعید بن جبیر) حضرت ابن عباس کے پاس بیٹھ کے ایک کاغذ پر حدیث لکھتا تھا حتیٰ کہ وہ کاغذ بھر جاتا پھر میں اپنی جوتیوں کو الٹا کر کے ان کی پشت پر لکھتا تھا۔

مجوزین یہ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) کے لکھوانے سے جوتیوں پر لکھتے تھے پس ثابت ہوا کہ جوتیوں پر قرآن مجید اور احادیث کا لکھنا جائز ہے۔

مجوزین کا یہ استدلال بھی باطل ہے اول تو یہ حدیث ضعیف ہے۔

حافظ شمس الدین حمد بن احمد ذہبی متوفی 748 ھ اور حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی 855 ھ نے لکھا ہے کہ جعفر بن ابی المغیرہ، سعید بن جبیر سے روایت میں قوی نہیں ہے۔ (میزان الاعتدال ج ٢ ص 147-148، دارالکتب العلمیہ بیروت، تہذیب التہذیب ج ہ ص 98، دارالکتب العلمیہ بیروت) 

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ جعفر بن ابی المغیرہ سچا تھا لیکن وہمی تھا۔ (تقریب التہذیب ج ١ ص 164، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

لہٰذا اول تو یہ روایت ضعیف ہے اور ضعیف روایت سے کسی چیز کی حلت یا حرمت کو ثابت کرنا حرام ہے، ثانیاً ہمارا کلام اس میں ہے کہ جوتیوں پر قرآن مجید کی آیات اور اللہ اور اس کے رسول کا نام لکھنا، ادب کے خلاف ہے اور جائز نہیں ہے اور اس ضعیف روایت میں بھی یہ تصریح نہیں ہے کہ سعید بن جبیر اپنی جوتیوں پر قرآن مجید کی آیات اور اللہ اور اس کے رسول کا نام لکھتے تھے، ہوسکتا ہے کہ حضرت ابن عباس کچھ دنیاوی امور لکھواتے ہوں، یا خریدنے کے لئے ساز و سامان لکھواتے ہوں، اور سعید بن جبیر ایسے جلیل القدر تابعی کے حال سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ جوتیوں پر قرآن مجید کی آیات یا حادیث لکھتے ہوں اور مجوزین کا مدعا اس وقت تک ثابت نہیں ہوگا جب تک یہ نہ ثابت ہو کہ سعید بن جبیر جوتیوں پر آیات اور احادیث لکھتے تھے اور یہ ثابت نہیں ہے وبدرونہ خرط القتاد۔

نزی فقہاء نے لکھا ہے کہ مسجد میں جوتیاں پہن کر جانا مکروہ ہے، عالمگیری میں ہے :

دخول المسجد متنعلا مکروہ جوتی پہن کر مسجد میں داخل ہونا مکروہ ہے۔ (فتاویٰ الھندیہ ج ٥ ص 321، مطبوعہ مصر، 1310 ھ)

صدر الشریعہ مولانا امجد علی متوفی 1376 ھ لکھتے ہیں :

جوتا پہن کر مسجد میں جانا بہرحال مکروہ ہے۔ (فتاویٰ امجد یہ ج ١ ص 189، مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی، 1419 ھ)

اور مسجد کے فرش کی بہ نسبت قرآن مجید کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسماء اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء کہیں زیادہ محترم اور مکرم ہیں اور جب مسجد کے فرش کے ساتھ جوتیوں کا الصاق اور اتصال مکروہ ہے تو جوتیوں کے اوپر ان مقدس اسماء اور آیات کا لکھنا کیوں کر جائز ہوگا اور کیونکر ادب کے خلاف نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعل مبارک کا نقش عین نعل تو نہیں ہے بلکہ اصل نعل کا عکس اور اس کا نقش ہے اس لئے اس پر لکھنا عین نعل پر لکھنے کی طرح نہیں ہوگا، ہم کہتے ہیں کہ تعظیم اور توقیر میں مثال بھی اصل کے حکم میں ہوتی ہے، قرآن مجید کی آیات جو مصحف میں اوراق پر چھپی ہوئی ہوتی ہیں بھی عین کلام اللہ نہیں ہیں بلکہ وہ نقوش ہیں جو کلام اللہ پر دلالت کرتے ہیں اور ان کے نقوش ہونے کی وجہ سے ان کی تعظیم اور توقیر میں ج کوئی کمی نہیں آتی، قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر عزت و احترام کے ساتھ دفاتر میں آویزاں کی جاتی ہے اور اس کی بےحرمتی کو پاکستان کے ساتھ بےوفائی اور غداری کے مترادف قرار دیا جاتا ہے، مجوزین جن بزرگوں کا احترام کرتے ہیں ان بزرگوں کی تصاویر کو پائوں تلے روندا جائے تو یقیناً اس فعل سے ان کی دل آزایر ہوگی اور وہ اس فعل کو ان بزرگوں کی توہین قرار دیں گے۔

اس تمہید کے بعد ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعل مبارک یا اس کا نقش ہمارے سروں کا تاج ہے۔

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں 

لیکن قرآن مید کی آیات اگر اس نقش پر لکھی جائیں یا اس نقس پر اللہ اور اس کے رسول کا نام لکھا جائے تو بہرحال یہ نعل پاک کا نقش ہے اور وہ قرآن مجید کی آیات ہیں، اور یہ دونوں نقوش پر اللہ اور اس کے رسول کا نام لکھا جائے تو بہرحال یہ نعل پاک کا نقش ہے اور وہ قرآن مجید کی آیات ہیں اور یہ دونوں نقوش ہیں نہ وہ عین نعل ہے اور نہ یہ عین کلام اللہ ہے، ایک فعل کا نقش ہے اور دوسرا اللہ کے کلام کا نقش ہے اور اللہ کے کلام کے نقش کو نعل کے نقش پر لکھنا یا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء کے نقش کو نعل کے نقش پر لکھنا بہرحال ادب کے خلاف ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم کی ایک گونہ توہین ضرور ہے اور عامتہ المسلمین کی دل آزاری ہے۔

وادی طویٰ کا مصداق 

اس کے بعد فرمایا بیشک آپ مقدس میدان طویٰ میں ہیں۔ ارض سیناء میں طور کے قریب ایک وادی کا نام طویٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس وادی کو مقدس فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین سے کفار کو نکال کر یہاں مومنوں کو آباد کردیا تھا، حضرت ابن عباس اور مجاہد وغیرہ نے کہا طویٰ ایک وادی کا نام ہے، ضحاک نے کہا یہ پتھریلے کنوئیں کی طرح گہری اور گول وادی ہے، ابن طویٰ ” کا معنی پتھروں سے چنا ہوا کنواں ہے، جوہری نے کہا یہ وادی شام میں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 12